واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


Read Between The Lines

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-09-09, 01:02 AM   #1
Read Between The Lines
حیدر حیدر آن لائن ہے 24-09-09, 01:02 AM

ایک چینل پر پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں معرف دانشور مجیب الحمان شامی بیٹھا ملک و قوم کا غم کھا رہا تھا ۔ سب سے زیادہ غم اسکو عید کا تھا اور چُٹکی بجاتے ان مسائل کا حل بھی بیان کر رہا تھا۔ میں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن کہ اس قدر انمول ہیرے ہمارے ملک میں ہیں تو امریکہ سے ہیرے کیوں در آمد کیے جاتے ہیں۔
ان معروف دانشور صاحب کا کہنا تھا کہ عید کے معاملہ پر اے این پی کا موقف درست ہے ۔کیا حرج ہے جو اگر عید سعودیہ کے ساتھ منا لی جائے تو۔ جب میزبان نے رویت حلال والے شرعی مسئلہ والا اعتراض کیا تو کھٹک سے جواب آیا کہ دیکھیں جب سلطنت عباسیہ ہوا کرتی تھی جس کی سرحدیں ایک طرف ایشیا میں ۔ ۔ ۔ دوسری طرف یورپ میں تھیں تب بھی تو ایک ہی عید ہوتی تھی۔ دور کیوں جائیں ۔ ۔ ۔ عثمانی خلافت کے دور میں بھی تو جس دن قسطنطنہ میں عید ہوتی تھی اسی دن سلطنت کے دوسرے کونے پر موجود قاہرہ میں بھی عید ہوتی تھی اور اسی ہی دن مکہ مدینہ میں بھی عید منائی جاتی تھی۔ اگر یہ ان دنوں جائز تھا تو آج کیسے ناجائز ہو گیا۔ اس پر میزبان لاجواب ہو گیا۔ اور اس نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو واقعی پھر مسئلہ ہی ختم ہو جاتا ہے۔

کوئی بھی شخص جو الفاظ پر ہی توجہ دیتا ہے اور حقائق کو نظر انداز کر دیتا ہے وہ انہی المیوں کا شکار ہو جاتا ہے جس کا شکار وہ میزبان ہوا تھا۔ اگر وہ ایک سادہ سا سوال کر لیتا ان دانشور صاحب سے تو شاید قوم کے کافی سارے افراد اسکی جاہلانہ گفتگو کے ثمرات سے بچ جاتے۔
سب سے پہلا سوال تو یہی ہو سکتا تھا کہ اگرآپ سچ بیان کر رہے ہیں تو اسکا مطلب ہے رویت حلال سے متعلق تمام احدایث جھوٹی ہیں؟ یا نبی پاک نے غلط فرمایا تھا؟
اور سب سے منطقی سوال کسی بحث مباحثہ میں پڑے بغیر جو کیا جا سکتا تھا وہ یہ تھا کہ "اس دور میں کون سے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پائے جاتے تھے کہ خلیفہ کا نافذ کردہ فیصلہ منٹوں میں ہزاروںً لاکھوں میل دور قاہرہ اور مکہ مدینہ میں پہنچ جاتا تھا؟ سبھی جانتے ہیں کہ وہ دور سست کمینیکیشن کا دور تھا۔مسلمان اپنی پیغام رسانی کے لیے گھوڑوں کا استعمال کرتے تھے۔ اور فاصلہ دنوں می
ں نہیں ۔ ۔ ۔ ہفتوں میں طے ہوتا تھا۔
اگر ہم فرض کر بھی لیں کہ قسطنطنیہ سے جاری کردہ فرمان ۔ ۔ ۔ سلطنت کے دوسرے کونے پر موجود قاہرہ میں محض بارہ گھنٹوں میں پہنچ گیا تھا تو کیا دانشور صاحب بتانا پسند کریں گے کہ کیا اتنی دیر میں وہاں 30 ویں روزے کی تراویح نہ پڑھی جا چکی ہوں گی؟ کیا اتنی دیر میں وہاں 30 ویں روزے کی سحری نہیں کھائی جا چُکی ہو گی؟ بلکہ اتنی دیر میں تو وہاں پر عید نماز کا وقت ہی گزر جاتا ہو گا۔ تو یہ کس طرح ممکن ہوتا ہو گا؟ ان دانشور صاحب کے الفاظ سے یہی واضح ہو رہا تھا کہ کسی طرح علما کو Degrade کر دیا جائے۔ اور یہی Read Between the lines ہے۔

ہماری قوم کا مسئلہ ہی یہی ہے کہ نہ تو ہمارے علما درست کردار ادا کرنے پر راضی ہیں نہ ہی کوئی اور ۔ ہر کوئی اپنی سوچ کے عینک میں سے جھانک کر ارد گرد کی دنیا کو دیکھتا ہے اور فیصلہ لاگو کر دیتا ہے۔ نہ جانے ہم کو نبی پاک کے فرمان پر عمل کرنے میں ایسی کیا قباحت محسوس ہوتی ہے ۔

میرا سبھی سے کہنا یہی ہے کہ کسی کے الفاظ سے زیادہ اسکی تحریر پر غور کیا کریں کہ وہ آخر کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بات ۔ ۔ ۔ الفاظ میں نہیں کہی جاتی لیکن وہ ہمارے لاشعور پر نقش کر دی جاتی ہے۔ یہی اس والے معاملے میں بھی تھا۔ ہمارے ملک میں کوئی پہلی بار دو عیدیں نہیں ہو رہیں کہ اس پر اس طرح تشویش کا اظہار کیا جاے لیکن جس طرح سے پچھلے چند سالوں میں مذہبی طبقہ کو دھکیل کر ایک طرف کیا جا رہا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ اور مجیب الرحمان شامی بھی دانستہ یا نا دانستہ اسی مہم کا حصہ بن گئے ہیں۔
اسکی ایک اور مثال یوں دوں گا کہ لاہور میں جب ایک عالم پر خؤد کش حملہ ہوا اور وہ شہید ہو گئے تو بی بی سی نے رپورٹ دی کہ بریلوی مسلمانوں کے عالم شہید ہو گئے۔ اب بات دیکھنے میں تو سادہ لیکن حقیقت میں انتہائی خوفناک تھی۔ اس فقرے نے لاشعوری طور پر اکثریت کے ذہن میں یہ مرقسم کر دیا کہ مسلمان نہیں مرا بلکہ بریلوی مسلمان مرا ہے۔ اسی طرح پچھلے کچھ عرصہ سے بی بی سی اس طرح کی رپورٹنگ کرتا تھا کہ سوات میں بریلوی مسلمانوں کے بزرگ کے مزار پر حملہ۔ تو مقصد یہی ذہن نشین کروانا تھا کہ وہ مسلمان بزرگ نہیں بلکہ بریولوی مسلمان بزرگ تھا۔

اس لیے ہم جب بھی کسی تحریر کو پڑھہیں تو اس سے کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے اس کو دوبارہ پڑھ لیا جائے۔اور پھر ارد گرد پھیلی ہوئی معلومات سے تقابل کر کے اس میں موجود باتوں کا وزن معلوم کر لیا جائے کہ آخر اس تحریر کا مقصد کیا ہے۔ غلطی انسان سے ہی ہوتئ ہے لیکن اگر ایک ہی قسم کی غلطی بار بار دہرائی جائے تو یہ غلطی نہیں ۔ ۔ ۔ دشمنی کہلاتی ہے۔ اور ہمکو اپنے دوستوں دشمنوں کی پہچان کرنے کے لیے محتاط رہنا ہوگا۔ واللہ عالم بالصواب

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,293 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 225
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-09-09), ہادی (30-04-12), محمد یاسرعلی (30-04-12), محمداسد (24-09-09), ام طلحہ (24-09-09), ابرارحسین (24-09-09), رضی (24-09-09)
پرانا 24-09-09, 07:01 AM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب میں تو عرصہ سے ہی کہتا ہوں خبر کے ساتھ ساتھ پسِ خبر بھی پڑھنا ضروری ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (30-04-12), حیدر (24-09-09)
پرانا 29-04-12, 08:58 PM   #3
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,969
شکریہ: 9,774
1,376 مراسلہ میں 4,253 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اس لیے ہم جب بھی کسی تحریر کو پڑھہیں تو اس سے کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے اس کو دوبارہ پڑھ لیا جائے۔اور پھر ارد گرد پھیلی ہوئی معلومات سے تقابل کر کے اس میں موجود باتوں کا وزن معلوم کر لیا جائے کہ آخر اس تحریر کا مقصد کیا ہے۔ غلطی انسان سے ہی ہوتئ ہے لیکن اگر ایک ہی قسم کی غلطی بار بار دہرائی جائے تو یہ غلطی نہیں ۔ ۔ ۔ دشمنی کہلاتی ہے۔ اور ہمکو اپنے دوستوں دشمنوں کی پہچان کرنے کے لیے محتاط رہنا ہوگا۔ واللہ عالم بالصواب
”نان اسٹاپ تکلیف ” یہ تھریڈ پڑھ ہی میں ارد گرد اور گرد میں اٹی تحریروں سے معلومات اکھٹی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
آخر اُس تحریر کا مقصد کیا ہے۔
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر
skjatala آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (30-04-12), حیدر (30-04-12)
جواب

Tags
فرض, پہچان, پاک, پسند, چینل, نماز, نظر, مکہ, ممکن, مسائل, آج, انٹرنیٹ, انمول, انسان, امریکہ, تحریر, جواب, حل, سحری, شخص, عید, عالم, غلط, غلطی, غم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
Inspiring Lines Inspiring Lines تجاویز اور شکایات 3 20-12-10 07:55 PM
حالا ت حا ضرہ پر ایک تنظ Must Read It 123funda گپ شپ 2 28-02-09 11:30 AM
Read if you can ابو عمار Chit Chat 7 03-11-08 11:35 AM
Funny Rikshaw lines Ashfaq Ahmed گپ شپ 2 03-10-07 10:36 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:17 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger