اس دور کے رسم رواجوں سے
ان تختوں سے ان تاجوں سے
جو ظلم کی کوک سے جنتے ہیں
انسانی خون سے پلتے ہیں
جو نفرت کی بنیادیں ہیں
اور خونی کھیت کی کھادیں ہیں
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
وہ جن کے ہونٹ کی جنبش سے
وہ جنکی آنکھ کی لغزش سے
قانون بدلتے رہتے ہیں
اور مجرم پلتے رہتے ہیں
ان چوروں کے سرداروں سے
انصاف کے پہرے داروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
جو عورت کونچواتے ہیں
بازار کی جنس بنواتے ہیں
پھر اسکی عصت کے غم میں
تحریکیں بھی چلواتے ہیں
ان ظالم اور بدکاروں سے
بازار کے ان معماروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
جو قوم کے غم میں روتے ہیں
اور قوم کی دولت ڈھوتے ہیں
وہ محلوں میںجو رہتے ہیں
اور بات غریب کی کہتے ہیں
ان دھوکے باز لٹیروں سے
سرداروں اور وڈیروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
مذہب کے جو بیوپاری ہیں
وہ سب سے بڑی بیماری ہیں
وہ جن کے سوا سب کافر ہیں
جو دین کا حرف آخر ہیں
ان جھوٹے اور مکاروں سے
مذہب کے ٹھیکے داروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جہاں سانسوں پہ تازیریں ہیں
جہاں بگڑی ھوئی تکدیریں ہیں
ذاتوں کے گورکھ دھندے ہیں
جہاں نفرت کے یہ پھندے ہیں
سوچوں کی ایسی پستی سے
اس ظلم کی گندی بستی سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
میرے سر پہ ظلم کاپھندا ہے
میں مرنے سے کب ڈرتا ہوں
میں موت کیخاطر زندہ ہوں
میرے خون کا سورج چمکے گا
تو بچہ بچہ بولے گا
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
__________________
عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟