واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست > سیاسی رائے شماری



سیاسی رائے شماری اس سیکشن میں اپ مختلف سیاسی موضوعات پر رائے شماری کروا سکتے ہیں


تحریک نور۔۔۔۔۔ تبصرے، تجاویز

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-09-10, 01:24 AM   #1
تحریک نور۔۔۔۔۔ تبصرے، تجاویز
شمشاد احمد شمشاد احمد آف لائن ہے 13-09-10, 01:24 AM

پاکستان کے مشہور و معروف نیوکلئر سائنٹسٹ سلطان بشیر محمود صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ انھوں نے ایک اصلاحی تحریک شروع کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس تحریک کا نام ، تحریک نور رکھا گیا ہے۔ اس کا تعارف، اور اغراض و مقاضد یہاں پیش تبصرے اور تجاویز کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں تا کہ اس تحریک میں اور بہتری پیدا کی جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
بسم اللّٰہ الرحمن الراحیم
مکرمی
السلام علیکم !
شروع دن سے پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے وہ ہر محبِ وطن پاکستانی کے لئے تشویش ناک ہیں۔ بہت سے سوالات ذہن میں اُٹھتے ہیں مثلاً ہمارا یہ مُلک جو اسلام کے نام پر بنایا گیاتھا وہ مصائب اوپر مصائب کی لپیٹ میں کیوں رہا ہے ؟کیا یہ آزمائشوں کے سلسلے ہیں یا ہمارے گناہوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب ہیں ؟ ہمارا مستقبل کیا ہوگا ؟ کیا اِن سے نکلنے کا بھی کوئی راستہ ہے ؟ کیا ہم اُمید رکھیں کہ پاکستان دُنیا کے نقشے پر کبھی ایک مُبارک ، معزز اور خیر کی قوت بن کر اُبھرے گا ؟

1971 میں مُلک کا دو ٹکڑے ہوجانا ، اُس کے بعد روزِ افزوں بَد امنی ، بڑھتی ہوئی غُربت ، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی ابتری ، 2005کا قیامت خیز زلزلہ اور حالیہ سیلاب ، اس کے بعد بھی اگر ہم اِن سوالات کا صحیح جواب نہیں ڈھونڈپاتے اور عملی طور پر کچھ نہیں کرتے ، تو تاریخ شاہد ہے کہ ایسی قوموں کے لئے جینے کا حق ختم ہوجاتا ہے ۔ آپ سے درخواست ہے کہ اپنی مومنانہ و حکیمانہ بصارت کی مدد سے اِن سوالات کا حل تلاش کریں تاکہ مجموعی فراست سے ہم کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں ۔

ایک عرصہ پر محیط سوچ وبچار ، تاریخی جائزوں اور قرآن فہمی کے بعد میں خود اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جن مصائب سے ہم گُزر رہے ہیں یہ مادی وجوہ کی بنا پر نہیں بلکہ ہماری اخلاقی بُرائیوں اور باہمی ظُلم پر قدرت کا ردِّ عمل ہیں ۔ ہماری سب سے بڑی غلطی اپنے وطن کے نعرہ تخلیق ’’پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔۔ لَا اِلہ اِلاَّ اللّٰہ‘‘سے غداری ہے ۔ علامہ اقبال ؒ اورقائداعظم ؒ کے مطابق جس مُلک نے ایک مثالی ریاست بن کر دُنیا کو اسلام کے نُور سے روشن کرنا تھا وہ اخلاقی گراوٹ اور بے دینی میں سیکولر ملکوں سے بھی آگے ہے۔ چنانچہ ہمارے کرتوت اسباب کی دُنیا میں مختلف عذابوں کی شکل میں ظاہر ہورہے ہیں شاید کہ لوگ عبرت پکڑیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور بچ جائیں ۔ اس ضمن میں قرآنِ کریم پُرانی قوموں کے عروج وزوال کے حوالہ سے بتاتا ہے کہ جو قوم ایسی عبرت ناک آزمائشوں سے سبق نہیں سیکھتی اور بُرائیوں سے باز نہیں آتی بالآخراس کو جڑ سے کاٹ کر رکھ دیا جاتا ہے ۔

ہوسکتا ہے کہ میرے اس تجزیہ پر کچھ لوگ کہیں کہ یہ کیسا سائنس دان ہے جو ملّاؤں کی باتیں کررہا ہے لیکن مجھے میری سائنس اور قرآن فہمی نے اس نتیجہ پر پہنچنے کے لئے مجبور کردیا ہے ۔ وسائل کے لحاظ سے پاکستان میں کوئی کمی نہیں لیکن روحانی طور پریہ دیوالیہ ہوچُکا ہے ۔ اگر کہیں دین ہے بھی تو وہ رواجی ہے ۔ اصل رُوح مرچُکی ہے ۔ ایسے میں ہمارا علاج IMFیا ورلڈ بینک اور غیروں کی مالی امداد میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے میں ہے جس کے لئے وطنِ عزیز میں اسلامی روحانی قدروں کا احیاء اور اِن شہداء سے وفاداری ہے جنہوں نے اسلام کے نام پر اپنا خون پاکستان کی بنیادوں میں ڈالا تھا ۔ یعنی اپنے پاکستان کو واقعی پاکستان ( پاک جگہ ) بنادیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں: ’’ تم میری مدد کر و میں تمہاری مدد کرونگا ‘‘ ۔ اللہ تعالیٰ جس کام میں مدد کے لئے فرماتے ہیںیہ وہی کام ہے جس کے لئے اس نے اپنے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اور خاتم النبیین سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس ہدایت کی تکمیل فرمائی ۔ یہ کام نہ کرنے کی وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم ہوچُکے ہیں اور اسباب کے سامنے لاچار ہیں ۔ اگر ہم خالص نیتوں کے ساتھ اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی طرف لگ جائیں تو ربِ کائنات کی مدد ہمارے شاملِ حال ہوگی اورمصائب سے بھی جان چھوٹ جائے گی ۔

اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے پیشِ نظر زندگی کی آخری سیڑھی پر بیٹھا میں آپ سے تعاون کی اُمید پر تحریکِ نُور کا آغاز کررہا ہوں ۔ جس کے سامنے مندرجہ ذیل مشن ہے ۔

’’ ظُلمت کی جن راہوں پرانسانیت آج ٹھوکریں کھارہی ہے اُن راہوں کو اسلام کی روشنی سے منور کردیا جائے ۔ تاکہ انسان جہنم میں گرنے سے بچ جائے اور اس صدی کے آخر تک، زیادہ نہیں تو کم ازکم دُنیا کا ہر دوسرا آدمی اس نعمت کو پالے ‘‘۔

اس کا م کاآغاز آپ مؤثر اسلامی کتابوں اور لٹریچر کو خرید کر دوسروں کو گفٹ کرنے سے کرسکتے ہیں ۔ تبلیغی نقطہ نظر سے اسلامی کتابوں کی طباعت سپانسر کرنا ، درس وتدریس کے مراکز قائم کرنا ، بیرونی ممالک میں جو لوگ تبلیغ کا کام کررہے ہیں اُنہیں تبلیغی لٹریچر مہیا کرنا، اس ضمن میں کچھ دوسرے ضروری کام ہیں۔ اِن کے علاوہ ہر وہ طریقہ ہماری تدابیر (Strategic Planning)کا حصہ ہوگا جس سے اللہ تعالیٰ کا نام بلند تر ہو اور اس کا پیغام آگے بڑھایا جاسکے ۔ جب آپ داعی الی اللہ بن جائیں گے تو ہمارا مہربان مالک خودہی اپنی راہیں کھولتا جائے گا ۔

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد جب ذرا امن ہوا تو بذاتِ خود اس دور کے رؤساء ، امراء اور سلاطین کو تقریباً 156دعوتی خطوط بھیجے ( حوالہ ڈاکٹر حمید اللہ ، خطباتِ بہاولپور ) افسوس کہ اسلام کی دعوت کا یہ طریقہ بعد کے ادوار میں مسلمانوں میں کمزور ہوتا گیا جب کہ عیسائی مشنیریوں نے اس پر عمل کرکے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور آج بھی اربوں ڈالر خرچ کرکے کل دُنیا میں عیسائیت کی تبلیغ میں مصروف ہیں بلکہ یورپی اور امریکی ممالک ، سیکولر دعوے دار ہونے کے باوجود اس کام میں اِن کی مالی اور سیاسی اعانت بھی کرتے ہیں ۔ اِن کی کوششوں کا خاطر خواہ اثر بھی ہورہا ہے ۔ خصوصی طور پر جاپان ، کوریا ، روس ، چین ، فلپائن ، تھائی لینڈ وغیرہ اور براعظم افریقہ کی زیادہ تر آبادی عیسائی ہوچُکی ہے ۔ مسلمان ممالک میں بھی وہ اپنے فلاحی اداروں اور لٹریچر کی تقسیم کے ذریعہ آہستہ آہستہ لوگوں کو عیسائی بنانے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ افسوس ! کہ مسلمان حکومتیں بھی اسلام کی تبلیغ کے کام سے بیگانہ ہیں اور ہمارے اہلِ ثروت لوگ بھی اپنے مالی ذرائع کو اس طرف شاذونادر ہی انوسٹ کرتے ہیں ۔
اب جب کہ خود اسلام کا عملی نمونہ کسی جگہ نہیں تو اشد ضرورت ہے کہ تحریری ذرائع کی مدد سے اصل اسلام سے دُنیا کو متعارف کروایا جائے ۔ اس کام کی ضرورت غیر مسلم کو ہی نہیں بلکہ ہمارے اپنے نوجوانوں کو اِن سے بھی زیادہ ہے ۔ تحریکِ نُور اس کمی کو پورا کرنے کی طرف ایک بھرپور جدوجہد ہے ۔ جس میں شامل ہوکر آپ انسانیت کی بہت بڑی خدمت کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ ’ فَاِ نّما عَلَیْکِ الْبَلَغَ وَعَلَیْنَا الْحِسَابَ ‘‘ پس تحقیق تم پر لازم ہے ( میرا پیغام )پہنچادینا اور ہمارے اوپر حساب لینا ہے ‘‘ ۔ ہماری یہ انتہائی خوش قسمتی ہوگی کہ اس عمل میں حصہ دار کے طور پر ہمارا بھی نام لکھا جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریکِ نُور
کچھ ضروری بنیادی کام


تحریک نُور ایک رضاکارانہ کام ہے ۔ کسی کے لئے مجبوری نہیں ۔ آپ نے اپنے رب تعالیٰ کی رضا کی خاطر مندرجہ بالا مقاصد کی تکمیل کے لئے صرف ارادہ بنانا ہے باقی کام اس کے ہاتھ میں ہے ۔ہم نے مسلسل دُعائیں کرنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے کام کے لئے استعمال کرلے اور ہماری نیتوں کو قبول فرمائے ۔ وہی کام جس کے لئے اس نے اپنے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے ۔ اِس ضمن میں اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ حسبِ ذیل بنیادی کام ہیں جن کے کرنے سے اسلام کی گاڑی چلنے لگے گی ۔

تعلیمی کام :۔

(1) اس نُوری کام کا آغاز اسلام کے متعلق محققانہ منتخب کتابوں کو دوسروں کو گفٹ کرنے سے شروع کیا جاسکتا ہے ۔ کسی کو دینے کے لئے کتاب سے بہتر کوئی گفٹ نہیں ۔ آپ کے تعلق اور محبت کا پائیدار اظہار بھی ہے اور مستقل دعوتی ذریعہ بھی ہے ۔( تحریکِ نُور کی کتابوں کی لسٹ حاضر ہے۔ دعوتی تبلیغی مقاصد کے لئے آپ کو یہ کتابیں لاگت قیمت پر مہیا کردیا جائیں گی)

(2) کتابوں اور مضامین کے علاوہ دعوت کا کام ای میل اور انٹرنیٹ کے ذریعہ بھی رہا ہے ۔ اس کے لئے سافٹ کاپیاں درکار ہو ں تو لاگت قیمت پر بھیج دی جائیں گی ۔اس لئے ایک مخصوص شعبہ قائم کرنا ضروری ہے ۔ آپ اس کو سپانسر بھی کرسکتے ہیں ۔

(3) اگر اللہ تعالیٰ استطاعت فرمائے تو کسی منتخب کتاب کی ہزاروں کی تعداد میں پبلیشنگ کو سپانسر کریں ۔یہ آپ کی طرف سے صدقہ جاریہ ہوگا ۔ والدین کے نام پر بھی یہ صدقہ جاریہ کیا جاسکتا ہے ۔ کتابوں کی تقسیم کا کام آپ خود بھی کرسکتے ہیں اور آپ کی جگہ تحریک نُور اسلام آباد ہیڈ کواٹر سے بھی ہوسکتا ہے ۔

(4) اگر آپ کاروبار کے متعارف کرانے کے لئے ڈائریاں ، کیلنڈر یا دوسرے قیمتی گفٹ دیتے ہیں تو اِن کی بجائے کسی اچھی اسلامی کتاب کا انتخاب کیا جائے اور اپنی کمپنی کے لوگو کے ساتھ چھپوا کرمتعلقہ لوگوں کو گفٹ کی جائیں ۔ آپ خود دیکھیں گے کہ کاروبار کی ترقی کے لئے انشاء اللہ یہ کام بہت بابرکت ثابت ہوگا ۔

(5) اگر آپ سکالر ہیں تو تحریک نُور کے ساتھ مل کر علمی خدمات کا کام کریں تاکہ ٹھوس بنیادوں پر اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا جائے ۔مشترکہ تحقیقی پراجیکٹس شروع کریں ۔ تحقیق کے کاموں کی حوصلہ افزائی کے لئے مقامی اور مُلکی سطح پر سمینار ، ورکشاپ اور انعامات کا انتظام کیا جائے ۔

(6) اگر آپ کسی غیر مُلکی زبان میں دسترس رکھتے ہیں تو ترجمہ کا کام کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے نُور کو دُنیا بھر کی زبانوں میں منتقل کردیا جائے ۔ بہت ضروری ہے کہ دُنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں اسلام کے متعلق بہترین کتابوں کے تراجم کئے جائیں تاکہ ہر آدمی تک حق کا پیغام واضح کردیا جائے ۔آپ ترجمہ کے کام کو سپانسر کرسکتے ہیں ۔

بنیادی خلافت کے کام:۔

(7) مساجد کو محلہ کا مرکز بنانے کے لئے تحریکِ نُور کے ممبران مقامی انتظامیہ اور امام صاحب کا ساتھ دیں۔ہر طرح کے فتنے سے بچتے ہوئے محبت اور پیار سے مساجد کے انتظامات میں حصہ لیں اورنظامِ صلوٰۃ و زکوۃٰ قائم کرنے اور اسلامی معاشرہ میں مسجد کے مرکزی کردار کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی جائے ۔ آئمہ کرام کو وہ عزت دی جائے جس کے وہ حق دار ہیں ۔

( نمازیوں میں باہمی رابطے استوار کرنے کی طرف توجہ فرمائیں ۔ ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوں اگر کوئی نمازی کچھ دنوں سے مسجد نہیں آتا تو اُس کے گھر سے اُسکی خیریت کا پتہ کیا جائے ۔مسجد مسلمانوں کا مرکزی گھر ہے ۔ اس گھر کے ماحول کو باہمی شناسائی ، پیار، محبت سے بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش جاری رہنا چاہیے ۔
(9) مسجدوں میں بغیر تالہ لائبریریاں قائم کریں تاکہ پڑھنے کا رجحان ترقی پائے ۔مقامی تحریکِ نُور کے ارکان لوگوں میں اسلامی کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کرنے کے لئے کتابوں کی نمائش لگائیں اور اہلِ توفیق کا تعاون حاصل کریں ۔
(10) مسجدوں کے ساتھ ملحقہ ڈسپنسریاں بنائیں تاکہ غریب غُرباء کا مفت علاج ہوسکے اور مسجد کے لوگوں کو بھی ہنگامی طبی امداد مل سکے ۔

(11) مسجد کی انتظامیہ اور امام صاحب کے تعاون سے پرائمری سکولنگ کا مسجد میں انتظام کرناچاہیے تاکہ بچے اسلامی ماحول میں ابتدائی تعلیم پالیں ۔مقامی سکول کے نصاب کو بھی پڑھایا جائے ۔ سٹینڈرڈ اعلیٰ ہو تاکہ امیر لوگ اپنے بچوں کو مسجد پرائمری سکول میں بھیجنے پر تیار ہوں ۔

(12) مسجد انتظامیہ کے ساتھ مل کر زکوۃٰاور صدقات کا نظام قائم کریں ۔غُربت مکاؤ (Poverty Elimination)کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں جہاں سے ضرورت مندوں کی مالی امداد ہوسکے۔

تنظیمی کام :۔

(13) اپنے علاقے میں تحریکِ نُور کا دفتر قائم کرکے مندرجہ بالا کاموں کے لئے ساتھیوں کو تیار کیا جائے ۔

(14) زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تحریک کے کام سے آگاہ کیا جائے اور ممبر بنایا جائے ۔فعال تنظیمی ڈھانچہ قائم کیا جائے ۔

(15) درس وتدریس سے لوگوں میں اسلام کے متعلق علمی شوق پیدا کیا جائے ۔


(16) مُلکی سطح پر علمی ورکشاپیں ، سمینار ، علمی انعامی مقابلے منعقد کئے جائیں ۔بین الاقوامی سطح پر علمی طریقوں سے اسلام کو متعارف کروایا جائے ۔

غرض بہت سے طریقے ہیں جو استعمال کرتے ہوئے آپ اللہ تعالیٰ کے نُور سے دُنیا کو منور کرسکتے ہیں ۔ جب خالص نیت اور پختہ ارادہ سے آپ کام شروع کردیں گے تو اللہ تعالیٰ خود آپ کوسمجھائے گا کہ کیا کرسکتے ہو اور کس طرح کیا جائے ۔جیسے پہلے بھی کہا گیا ہے کہ تحریک نُور کے کاموں کا بدلہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ شریف ہے فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ’’تم میرا ذکر کر و ، میں تمہارا ذکر کروں گا ۔ تم میری مدد کرو ، میں تمہاری مدد کروں گا ‘‘ ۔سبحان اللہ ! کہاں ہم اور کہاں مالک کون ومکاں کی شان ۔ اگر اس کی مدد شاملِ حال ہو اور وہاں آپ کا ذکر بھی ہو تو اور کیا چاہیے ۔ اگر ایک آدمی بھی آپ کی کوششوں سے راہ ہدایت پاگیا تو آپ کا جنت میں بینک اکاؤنٹ کُھل گیا ۔ ساری دُنیا کے پہاڑ اگر سونا بن کر آپ کے پاس آجائیں یہ اس سے بھی بہتر سودا ہے ۔

سب سے بڑھ کر فائدہ ذاتی ہے ۔ موت کی وادیوں میں جب ہر طرف اندھیرا ہوگا ، عالمِ برزخ اور حشر کے میدان میں تاریکی ہوگی تو دُنیا میں کفر اور جہالت کے اندھیروں کو دُور کرنے کی کوششوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ آپ کے دائیں، بائیں آگے ، پیچھے جنت کو جانے والی شاہراہ روشن کردے گا ۔سبحان اللہ ! ایسا کیوں نہ ہو ؟ جب کہ خود اس کا فرمان ہے ۔ھَلْ جَزَاءُ الْاِ حْسَانِ اِلَّاالّاِحْسَان (سورۃ الرحمٰن، آیت نمبر 60) ’’احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے‘‘ ؟

مندرجہ بالا مقاصد کے حوالہ سے تمام مسلمان بھائی ، بہنوں کو تحریکِ نُور میں شمولیت کی دعوت ہے ۔ صرف خالص نیت ، پختہ ارادہ ، اللہ تعالیٰ اور خیر ابشر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کے لئے زبردست خواہش ہونا چاہیے۔ توفیق صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔اس کا حکم ہے ’’فَاسْتَبِقُو الْخَیْرَات ‘‘ ’’نیکی میں سبقت لینے کی کوشش کرو ‘‘۔ اس لئے تحریک کا ممبر بننے میں دیر نہ کریں ۔
ممبر شب فارم۔ (ذاتی کوائف سے متعلقہ شقیں حذف کر دی گئی ہیں۔ )

تحریک نُور کے مقاصد اور طریقہ کار سے متفق ہو ں ۔ اس میں رضاکارانہ طور پر شامل ہوکر دینِ اسلام کے نُور کو دُنیا بھر میں پھیلانے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ میں حسبِ ذیل طریقوں سے اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنا چاہتا ہوں ۔
(1) اپنی ذاتی اصلاح اور علمی ترقی کے لئے قرآنِ کریم ، احادیثِ پاک ، سیرتِ طیبہ اور اسلام کے متعلقہ اپنی واقفیت بڑھانے کے لئے روزانہ کچھ نہ کچھ وقت نکالنا اور سنجیدگی سے علم حاصل کرنے کی کوشش کرنا ۔
(2) تحریک نُور کی منتخب شُدہ کتابیں تبلیغ کے لئے رعایتی قیمت پر خرید کر خود پڑھنا اور دوسرے لوگوں میں گفٹ کرنا ، فری تقسیم کے لئے طباعت کو سپانسر کرنا اور تحریکِ نُور کی حسبِ توفیق باقاعدگی سے مالی امداد کرتے رہنا ۔
(3) اسلام کے حوالہ سے جدید دور کے تقاضوں اور مسائل کے حل کے لئے خصوصی موضوع پر تحقیق وتصنیف کا کام کرنا ، سکالرز کے باہمی رابطے قائم کرنا اور مل جُل کر تحقیق کے کام کو آگے بڑھانا ۔
(4) مقامی اور عالمی سطح پر ای میل اور انٹرنیٹ کے ذریعے تبلیغ اسلام کا کام کرنا ۔
(5) فری تقسیم کے لئے منتخب شدہ کتابوں اور مضامین کو پبلیشنگ کرنے کے لئے مالی تعاون کرنا ۔
(6) اللہ تعالیٰ کے دین کو دُنیا بھر میں پھیلانے کے کام کی تقویت کے لئے ماہانہ مالی تعاون پیش کرنا ۔
(7) اپنے علاقہ میں تحریک نُور کا دفتر کھول کر تحریک کے مقاصد کی تکمیل کے لئے کام کرنا ۔درس وتدریس ، سمینار ، ورکشاپ اور علمی مجالس شروع کرنا ۔ نشاط ثانیہ کے لئے مساجدکو معاشرہ میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لئے تیار کرنا ۔
( مساجد کو محلہ کا معاشرتی مرکز بنانے کے لئے انتظامیہ اور امام صاحب کے ساتھ مل کر کام کرنا ۔
(9) نمازیوں میں باہمی رابطے استوار کرنے کی طرف توجہ کرنا ۔ ایک دوسرے کا تعارف حاصل کریں اور خوشی غمی میں بھی شامل ہوں ۔
(10) مسجدوں میں بغیر تالہ لائبریریاں قائم کرنا تاکہ پڑھنے کا رجحان ترقی پائے ۔
(11) مسجدوں کے ساتھ ملحقہ ڈسپنسریاں بنانا تاکہ غریب غُرباء کا مفت علاج ہوسکے اور مسجد کے فلاحی پہلو اُجاگر ہوں ۔
(12) مسجد کی انتظامیہ اور امام صاحب کے تعاون سے پرائمری سکولنگ کا مسجد میں انتظام کرنا تاکہ بچے اسلامی ماحول میں ابتدائی تعلیم پالیں ۔
(13) مسجد انتظامیہ کے ساتھ مل کر زکوۃ اور صدقات کا نظام قائم کرنا جہاں سے ضرورت مندوں کی مالی امداد ہوسکے ۔
(14) مساجد میں نکاح کی رسم کی حوصلہ افزائی کرنا ۔ اس طرح کے اور کئی معاشرتی کام جو ہوسکتے ہیں اور بغیر جھگڑے کے کئے جاسکتے ہیں ۔اِن کے لئے کوشش کرنا ۔
(15) نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کی مسجدِ نبوی کے نمونہ پر کوشش کرنا کہ خواتین باپردہ مسجدوں میں نماز کے لئے آئیں ، خصوصاً جمعہ اور عیدین پر ، عورتوں کی مسجدوں میں آکر نماز پڑھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔
نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دستخط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امید ہے۔۔۔ ساتھی ڈاکٹر صاحب کی اس محنت پر توجہ دیں گے اور اس تحریک کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے مذکورہ بالا امور اور طریقہ کار کے حوالے سے اپنی رائے ضرور دیں گے۔۔۔ شکریہ۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

 
شمشاد احمد's Avatar
شمشاد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2157
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), نورالدین (04-04-12), مرزا عامر (13-09-10), wajee (13-09-10), حیدر (13-09-10), عبداللہ آدم (15-09-10)
پرانا 13-09-10, 10:59 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,161
شکریہ: 52,552
11,192 مراسلہ میں 35,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ مقاصد تو اچھے ہیں اور بنیادی سٹریٹیجی بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ لیکن معذرت کے ساتھ میں سب سے بنیادی نقطے پر بشیر صاحب سے اختلاف رکھتا ہوں۔ اور وہ نقطہ ہے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد علحدہ بنانے کا۔ علحدہ تنظیم بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ کسی بھی موجودہ تنطیم میں رہ کر جدو جہد کریں ۔وہاں پر لوگوں کو اپنے موقف کا ہمنوا بنائیں۔ جب اینٹ کے ساتھ اینٹ ملے گی تو دیوار خود ہی قائم ہو جائے گی۔ لیکن اگر ہر اینٹ علحدہ پڑی رہے اور کہے کہ تم ہی آ کر مجھ سے جُڑ جاؤ تو دیوار کبھی نہ بن پائے گی۔ امید ہے میں جس دیوار کی طرف اشارہ کر رہا ہوں وہ آپ سمجھ رہے ہوں گے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), فیصل ناصر (13-09-10), ھارون اعظم (13-09-10), محمد عاصم (15-09-10), مرزا عامر (13-09-10), wajee (13-09-10), اویسی (14-09-10), شمشاد احمد (13-09-10), عبداللہ آدم (15-09-10)
پرانا 13-09-10, 01:22 PM   #3
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انشاء اللہ دوستوں کے یہ تبصرے اور تجاویز ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچ جائیں گی۔۔ اس لئے مزید دوستوں سے بھی گذارش ہے کہ وہ یہاں ضرور تبصرہ کریں۔۔۔ کیوں کہ بہر حال ایک نیک کام شروع ہونے جا رہا ہے تو ہمیں ایک مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے اپنی رائے اور تبصرہ نیک نیتی سے دینا ضروری ہے تا کہ اس میں بہتری پیدا کی جا سکے۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), مرزا عامر (13-09-10)
پرانا 13-09-10, 01:41 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ ڈاکٹر صاحب اور آپ کو کامیاب و کامران کرے اور تمام منسلک افراد کو انکے خلوص کا اجر عطا فرمائے
مجھے ڈر ہے کے مساجد پر قابض افراد و تنظمیں آپ کو مسجد کو اپنا مرکز بنانے کی اجزت نہیں دیں گے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), مرزا عامر (13-09-10), شمشاد احمد (13-09-10), عبداللہ آدم (15-09-10)
پرانا 13-09-10, 02:20 PM   #5
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا مقصد کوئی ڈیڑھ انچ کی مسجد کی بنیاد رکھنا نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر کو قران پر جمع ہونے کی دعوت دینا ہے ۔اور قران کے اصولوں کو اپنانے کی کوشش کرنا ہے۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), حیدر (13-09-10), شمشاد احمد (13-09-10)
پرانا 13-09-10, 03:22 PM   #6
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ تحریک اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ بھائی

عالم کفر کو فتح کرنے کے بجائے ان کو مسلمان کر لو۔۔۔ سارے مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), فیصل ناصر (13-09-10), نورالدین (04-04-12), مرزا عامر (13-09-10), حیدر (13-09-10)
پرانا 13-09-10, 05:03 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,161
شکریہ: 52,552
11,192 مراسلہ میں 35,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
یہ تحریک اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ بھائی

عالم کفر کو فتح کرنے کے بجائے ان کو مسلمان کر لو۔۔۔ سارے مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے۔
تبلیغی جماعت کا بھی یہی کہنا ہے۔ میرا خیال ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), فیصل ناصر (13-09-10), مرزا عامر (13-09-10), شمشاد احمد (13-09-10), عبداللہ آدم (15-09-10)
پرانا 13-09-10, 05:16 PM   #8
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
یہ تحریک اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ بھائی

عالم کفر کو فتح کرنے کے بجائے ان کو مسلمان کر لو۔۔۔ سارے مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے۔
عالم کفر کو مسلمان کر کے کیا ان پر عذاب لانے ہیں ؟؟؟؟؟؟
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), ناصحی (13-09-10)
پرانا 13-09-10, 08:43 PM   #9
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,991
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلطان بشیر نیوکلئر سائنٹسٹ ہیں تو جس میدان میں انہیں مہارت ہے اسی میں اپنے جوہر دکھاہیں۔ پاکستان کو بجلی پیدا کرنے کیلیے ایٹمی پلانٹس کی شدید ضرورت ہے اس مسئلے کیلیے ملک کی مدد اور راہنمائی کریں!

چونکہ یہ نیوکلئر سائنٹسٹ ہیں اسلیے سادہ لوح لوگوں کو بیوقوف بنانے کیلیے انہیں تو تحریک شروع کرنے کیلیے کسی صفائی یابہانے کی ضرورت بھی نہیں Name:  irrt 1.gif
Views: 37
Size:  34.1 KB
__________________
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), کنعان (15-09-10), مرزا عامر (13-09-10), اویسی (14-09-10), شمشاد احمد (13-09-10)
پرانا 13-09-10, 09:15 PM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نیوکلر سائنسدان تو ہیں۔۔ لیکن حکومت پاکستان کی اپنی ترجیحات ہیں وہ ان اور ڈاکٹر عبد القدیر خان سمیت دوسرے بہت سے اہل ہنر سے ان کے میدان میں ملک و قوم کے لئے بوجوہ خدمات نہیں لینا ‌چاہتی تو اس میں ڈاکٹر صاحب یا دوسرا کوئی کیا کر سکتا ہے سوائے انا للہ وانا الیہ راجعون کہنے کے۔

باقی دین کی دعوت اور نشر و اشاعت کا کام ایسا ہے جو ہر مسلمان پر فرض ہے۔۔۔ اور ‏آج کے سائنسی دور میں ڈاکٹر صاحب جیسے دانشور جن کو سائنس پر عبور کے ساتھ ساتھ ا‌چھا خاصا قر‏آن و سنت پر بھی عبور ہو خال خال ہی ملتے ہیں اور ‏آج کی زبان میں دین کی تبلیغ وہ بہتر انداز میں کر سکتے ہیں

اس حوالے سے ان کی بہت سے کتب مارکیٹ میں ‏آ ‌چکی ہیں۔۔۔ جن کے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے۔۔۔

اس لئے میرا خیال ہے تعمیری تنقید کے ساتھ ساتھ مفید مشوروں کی بھی ان کو بہت ضرورت ہے۔۔۔۔اسی لئے ‏آپ کے تبصروں اور ‏آراء کی سخت ضرورت ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), ھارون اعظم (13-09-10), مرزا عامر (13-09-10), حیدر (14-09-10)
پرانا 13-09-10, 11:49 PM   #11
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرے خیال میں نئی تحریک شروع کرنے کی بجائے موجودہ تحاریک میں سے کسی کے ساتھ مل کر کام کرنے سے زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔ نئی ٹیم بنانا، ترجیحات متعین کرنا، پلاننگ کرنا، وغیرہ ایک ہمت طلب اور طویل منصوبہ بندی والے کام ہیں۔ اس کی بجائے جو لوگ پہلے سے اسی طرز پر کام کررہے ہیں، اگر ان کو مضبوط کیا جائے تو ایک اور ایک گیارہ کے مصداق اچھے نتائج نکلیں گے۔ انشاء اللٰہ
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), حیدر (14-09-10), شمشاد احمد (13-09-10), عبداللہ آدم (15-09-10)
پرانا 13-09-10, 11:57 PM   #12
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اب تک میرا خیال ہے تین اہم باتیں سامنے ‏آئی ہیں۔
(1)۔۔۔۔ نیا کام شروع کرنے کے بجائے جو حضرات پہلے سے اس طرز پر کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔۔ اور ان کو مضبوط کیا جائے۔
(2)۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب سائنسدان ہیں اور ان کو ا پنی فلیڈ میں رہ کر کام کرنا ‌چاہے ملک و ملت کو پانی بجلی جیسے بہت سے مسائل ہیں۔ ان کو حل کریں۔
(3)۔۔۔۔ مساجد پر قابض جماعتیں اور لوگ ڈاکٹر صاحب کو مساجد کو مرکز بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

میں انشاء اللہ ان تینوں امور سے متعلق ڈاکٹر صاحب کی رائے ‏آپ تک جلد سے جلد پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-09-10), نورالدین (04-04-12), عبداللہ آدم (15-09-10)
پرانا 14-09-10, 12:43 AM   #13
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,662
کمائي: 254,785
شکریہ: 53,124
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ڈاکٹر صاحب کی نیت یقینا اچھی ہے، ورنہ اس قسم کی تنظیمیں‌تو پہلے ہی موجود ہیں جو محض دعووں‌سے آگے نا بڑھ سکیں۔

اس مشن میں‌آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہوں!!!
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (04-04-12), حیدر (14-09-10), شمشاد احمد (15-09-10), عبداللہ آدم (15-09-10)
پرانا 15-09-10, 02:29 AM   #14
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اور ساتھیوں کی ‏آرا سامنے ‏آنا ‌چاہے۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-09-10), عبداللہ آدم (15-09-10)
پرانا 15-09-10, 09:32 AM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,161
شکریہ: 52,552
11,192 مراسلہ میں 35,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

After the Pakistan's atomic tests, Mehmood became an outspoken opponent of the Prime minister Nawaz Sharif's government, as he was against signing of the Nuclear Nonproliferation Treaty by Pakistan[4]. He also publicly opposed prime minister Sharif as the prime minister show some willingness to signing of the Comprehensive Nuclear-Test-Ban Treaty (CTBT). Due to his open-public protest, he was asked to resigned from his position by the prime minister Sharif. Later, he was transferred to the Nuclear Engineering Division of PAEC. Mahmood opted for early retirement from PAEC in 1999 as he was transferred to a non-technical position by the Prime minister Nawaz Sharif.

After his early retirement, Mehmood is reported to be attended the Dr. Israr Ahmad's preaching classes and private sessions on a regular basis. Dr. Israr Ahmed, one of the most important Islamic figure in Pakistan, is believed to be played an important and influential role in his later life[5]. Thereafter, he, along with his close retired PAEC scientists, founded the Ummah Tameer-e-Nau ("Reconstruction for the Islamic Community"), a Pakistani based Islamic charity active in Afghanistan during the Taliban regime. The Ummah Tameer-e-Nau (UTN) focused on educational institutions, hospitals, demining operations, and Islamism.[6]

In August 2001, Mahmood and one of his colleagues at Mahmood's Ummah Tameer-e-Nau charity met with Osama bin Laden and his deputy, Ayman al-Zawahiri, in Afghanistan. "There is little doubt that Mahmood talked to the two Qaeda leaders about nuclear weapons, or that Al Qaeda desperately wanted the bomb", the New York Times reported.[6]

Mahmood was arrested in Lahore in the night of 19 October 2001 by Pakistan's Inter-Services Intelligence because of his suspected connections with the Taliban.[7] George Tenet, then the head of the Central Intelligence Agency (C.I.A.), later described intelligence reports of his meeting with Al Qaeda as “frustratingly vague.” [6] He, however, told the ISI intelligence officials in very clear terms that he had nothing to do with the Al-Qaeda or any other terrorist organization and he was only working on humanitarian issues like food, health and education. Even though he was considered innocent and released on 22 December 2001 but was declared a terrorist by U.S. President George W. Bush in his televised address on 23 December 2001. Despite clear indications from CIA that he is not involved with any terrorist outfit.[2][verification needed]

During his debriefing, his son Dr. Asim Mahmood, who's a family medicine doctor told ISI officials that: My father [Mahmood] did meet with Osama bin Laden and Osama Bin Laden seemed interested in that matter but my father only showed mild interest in the matter as he met him for food, water matter issues that he was sent there for official work.

Due to an immense public pressure from the Pakistani civil society, he was placed into house arrest in the late of December 2001 and has been strictly monitored closely by Government of Pakistan and Pakistani federal agencies. In the late of 2001, his family said that, he has been released from the intelligence agencies and placed into house arrest and is still not allowed to meet anyone. In 2006, Mahmood suffered a heart attack and underwent angioplasty in Islamabad. Pakistan's Government has placed him on the "Exit Control List (ECL)" in which he is not allowed to travel out of Pakistan and since his release, Mehmood has been out of the public eye and lives a very quiet life in Islamabad, Pakistan.

Dr. Bashir Syed, former president of the Association of Pakistani Scientists and Engineers of North America (APSENA), said: "I know both of these persons and can tell you there is not an iota of truth that both these respected scientists and friends will do anything to harm the interest of their own country.[8]"

Some beliefs
In his writings and speeches, Mahmood has advocated sharing Pakistan's nuclear weapons technology with other Islamic nations which he believed would give rise to Muslim dominance in the world.[12] He has also written a Tafseer of the Quran in English.

Mahmood is reported to be fascinated "with the role sunspots played in triggering the French and Russian Revolutions, World War II and assorted anticolonial uprisings."[6][13] According to his book "Cosmology and Human Destiny" [2], Mahmood argued that sunspots have influenced major human events, including the French Revolution, the Russian Revolution, and World War II. He concluded that governments across the world "are already being subjected to great emotional aggression under the catalytic effect of the abnormally high sunspot activity under which they are most likely to adapt aggression as the natural solution for their problems". In this book which was first published in 1998, he predicts that the period from 2007 to 2014 would be of great turmoil and destruction in the world. Other books written by him include a biography of the Islamic prophet Muhammad titled "First and the Last", while his other books are focused more on the relation between Islam and science like Miraculous Quran, Life After Death and Doomsday, and Kitab-e-Zindagi (in Urdu).

One passage of the book reportedly states: "At the international level, terrorism will rule; and in this scenario use of mass destruction weapons cannot be ruled out. Millions, by 2002, may die through mass destruction weapons, hunger, disease, street violence, terrorist attacks, and suicide."

Mahmood's life-long friend, Parliamentarian Farhatullah Babar, who is currently serving as a spokesperson of President of Pakistan, while talking to media, said: Mahmood predicted in Cosmology and Human Destiny that "the year 2002 was likely to be a year of maximum sunspot activity. It means upheaval, particularly on the South Asia, with the possibility of nuclear exchanges."

Mahmood has published papers concerning djinni, which are described in the Koran as beings made of fire. He has proposed that djinni could be tapped to solve the energy crisis.[7] I think that if we develop our souls, we can develop communication with them, Mr. Bashiruddin Mahmood said about djinni in The Wall Street Journal in an interview in 1998. Every new idea has its opponents, he added. But there is no reason for this controversy over Islam and science because there is no conflict between Islam and science. [11]

بشکریہ ویکی پیڈیا انسائکلو پیڈیا
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-09-10), شمشاد احمد (15-09-10), عبداللہ آدم (15-09-10)
جواب

Tags
کتابوں, پاکستان, پاکستانی, قرآن, لوگ, چین, نظر, مفت, موت, منتقل, محبت, مسائل, مسجد, معاشرہ, آبادی, آج, انٹرنیٹ, بچوں, تلاش, خواتین, راستہ, زلزلہ, سودا, سائنس, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انتخابات کے بعد وزیر اعظم کیلئے پرویز الٰہی کا نام تجویز کیا جائیگا،شجاعت خرم شہزاد خرم خبریں 2 28-01-11 03:29 PM
صدر پرویز استعفیٰ نہیں دینگے،پارٹی بدلنے والے نااہل ہوجائیں گے،پرویز الٰہی عبدالقدوس خبریں 0 26-02-08 02:29 AM
اقتدار سے رخصتی کی تجویز بلاجواز ہے،صدر پرویز کو امریکی سینیٹروں نے نہیں پاکستانی پارلیمنٹ نے منتخب کیا،صدارتی ترجمان عبدالقدوس خبریں 0 26-02-08 02:26 AM
شجاعت، پرویز الٰہی اور گورنر سندھ کی صدر پرویز سے ملاقات عبدالقدوس خبریں 0 21-02-08 03:45 AM
میں،پرویز مشرف اور شوکت عزیز نشانہ بنے،شجاعت ،پرویز الٰہی اور اعجاز الحق پر حملے کیوں نہیں ہوئے،بینظیر خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 10:55 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:58 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger