واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر > سیرت اور تاریخ




طائف کی کہانی (حضوررحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی تلخ ترین یاد)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-02-11, 10:18 AM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default طائف کی کہانی (حضوررحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی تلخ ترین یاد)

طائف کی کہانی (حضوررحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی تلخ ترین یاد)

طائف کی کہانی
(حضوررحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی تلخ ترین یاد)
یہ حضور سرور کإئنات علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی زندگی کی یادیں منانے کے دن ہیں۔حضور علیہ السلام والصلوۃ کی کالی کملی،روزے کی جالی اورسبز گنبد کی خوب مدح سرائی ہوگی،لیکن کم ہی لوگوں کو یہ خیال آئےگا کہ آپ کی حیات پاک میں طائف بھی ایک سنگِ میل تھا۔آئیےہم ایک ساعت رک کرحضور والا تبار کے ان لمحوں کو خیال میں لائیں جب طائف کے اوباش آپ پر پتھر برسا رہے تھے۔حضورکا احسان ماننے کا حق تو ادا نہیں ہوسکتا ،مگراحسان مندی کا کم از کم تقاضا یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کا ذکر ہو،ان تکلیفوں،مشقتوں اورمصیبتوں کی یاد تازہ کی جائےجو شعب ِ ابی طالب سے لے کران گنت غزوات میں جا بجا پھیلی ہوئی ہیں۔ہمارےواعظ،نعت گو اور نعت خواں کبھی مدینہ سے باہر بھی نکلیں،مکہ، طائف،بدر، احد،خندق،تبوک اورحنین کے تذکروں کے ساتھ بھی حضور کی یاد منائی جانی چاہیے:
؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎ ؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎
نبوت کا دسواں سال تھا جب ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا سفر فرمایا۔ اس سال کو ''عام الحزن'' بھی کہا جاتا ہے،اس لیے کہ آپ کےمہربان چچا ابوطالب اور ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال اسی سال ہوا تھا۔ مشرکین کی زیادتیاں حد سے بڑھ گئیں۔ حضور اقدس علیہ السلام والصلوۃ نے طائف کا رخ فرمایا جو آبادی اور خوش حالی کے اعتبار سے مکہ کے بعد دوسرے نمبر پر تھا۔ مکہ میں اللہ کا گھر تھا مگر مشرکین نے اسے ''ہبل'' کی عبادت کا مرکز بنا رکھا تھا ،دوسری طرف طائف میں ''لات'' کی پوجا ہوتی تھی۔ خاندان بنو ہاشم کی طائف میں رشتہ داریاں تھیں۔ بنو عبد یالیل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموؤں کا خاندان کہا جاتا تھا۔ طائف کا موسم خوش گوار ہے۔ مال دار اہلِ مکہ زمینیں خریدنے اور گرمی کے دن گزارنے طائف آیا کرتے تھے۔ زرخیز زمین، وافر اور شیریں پانی، خوب صورت موسم اور باغات کی کثرت کی وجہ سےطائف کا شمارآج بھی سعودی عرب کے پہاڑوں میں واقع خوش گوار آب و ہوا والے شہر کے طور پر ہوتاہے۔مکے سےنجران کی جانب90 کلومیٹر دور اورسطح سمندر سے 1,700 میٹر (5,600 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ سعودی حکومت کے بیشتر عمال آج کل بھی گرمیوں میں طائف منتقل ہو جاتے ہیں۔ شہرکی آبادی ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اس شہر میں ان سعید روحوں کی تلاش میں آئے تھے جو پیام توحید قبول کریں اور آپ کو محفوظ ٹھکانہ دے دیں، مگر طائف والوں نے آپ کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کی جرات کبھی اہل مکہ کو بھی نہیں ہوئی تھی۔
طائف پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ ثقیف کے تین سرداروں کے پاس تشریف لے گئے جو آپس میں بھائی تھے عبدیالیل ،مسعود اور حبیب ۔ آ پ نے ان تینوں کو اسلام کی مدد کرنے اور اللہ و رسول کی اطاعت کی دعوت دی ۔ جواب میں ایک نے کہا،میں کعبے کا پردہ پھاڑدوںاگر اللہ نے تمہیں رسول بنایا ہو تو ۔ دوسرے نے کہا، کیا اللہ کو تمہارے علاوہ اور کوئی نہ ملا ؟ تیسرے نے کہا : میں تم سے ہر گز بات نہ کروں گا ۔ اگر تم واقعی نبی ہو تو تمہاری بات رد کرنامیرے لیے انتہائی خطرناک ہے اور اگر تم نے اللہ پر جھوٹ گھڑ رکھاہے تو پھر مجھے تم سے بات کرنی ہی نہیں چاہیئے ۔ یہ جواب سن کر آپ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور صرف اتنا فرمایا ” تم لوگوں نے جو کچھ کیا ہے اسے اپنے تک ہی محدود رکھنا ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں دس دن قیام فرمایا ۔ اس دوران آپ ان کے ایک ایک سردار کے پاس تشریف لے گئے اور ہرایک سے گفتگو فرمائی، لیکن سب کاایک ہی جواب تھا کہ ہمارے شہر سے نکل جائو۔کچھ دن کے بعد انہوں نے اپنے اوباشوں کو شہہ دے کر آپ کے پیچھے لگا دیا ۔ چنانچہ آپ نے واپسی کاقصد فرمایا تو یہ آوارہ لوگ گالیاں دیتے ، تالیاں پیٹتے اور شور مچاتے آپ کے پیچھے لگ گئے ۔دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے راستے کے دونوں جانب لائن لگ گئی ۔ پھر گالیوں اور بدزبانیوں کے ساتھ پتھر بھی چلنے لگےجس سے آپ کی ایڑیوں پر اتنے زخم آئے کہ دونوں جوتے خون میں تربتر ہوگئے۔حضرت زیدبن حارثہ ڈھال بن کر چلتے ہوئے پتھروں کو روک رہے تھے جس سے ان کے سر میں کئی جگہ چوٹ آئی ۔اس دین کی قدر وقیمت کا کچھ اندازہ فرمائیے کہ اس کی خاطر اس کائنات کے سب سےقیمتی انسان کا سب سے قیمتی لہو بہتا ہے۔اقبال نے اس مضمون کو اپنے فارسی اشعار میں یوں باندھا ہے:
مقا مِ بند گی د یگر مقا مِ عا شقی د یگر
ز نوری سجدہ می خواہی ز خاکی بیش ازاں خواہی
چناَں خود را نگہ داری کہ با ایں بے نیازی ہا
شہادت بر وجودِ خو د ز خو نِ دوستاں خواہی
(بندگی اور ہے عاشقی اور ۔ فرشتے سے سجدہ مطلوب ہے،مگرانسان سے کچھ زیادہ چاہتا ہے۔ہے تو بے نیاز ،مگر اس بے نیازی کے ساتھ ساتھ اپنے وجودکا خیال اس قدر ہے کہ اپنی گواہی کے لیے اسے اپنے ہی دوستوں کا لہو چاہیے)
رسول اللہ جا رہے ہیں اوربدقماش تعاقب کا یہ سلسلہ برابر جاری رکھتے ہیں؛یہاں تک کہ آپ ربیعہ کے بیٹےعتبہ اور شیبہ کےباغ میں پناہ لینے پر مجبورہو جاتے ہیں۔ یہ باغ طائف سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پرواقع تھا ۔ آپ نے یہاں پناہ لے لی تو بھیڑ واپس چلی گئی ۔ آپ ایک دیوار سے ٹیک لگا کر انگور کی بیل کے سائے میں بیٹھ گئے ۔ قدرے اطمینان ہوا تو دعا فرمائی جو"دعائے مستضعفین" کے نام سے مشہور ہے ۔ اس دعا کے ایک ایک فقرے سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ طائف میں اس بدسلوکی سے دوچار ہونے کے بعد اور کسی ایک بھی شخص کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ کس قدر غم زدہ تھے اور آپ کے احساسات پر حزن و الم کا کیسا غلبہ تھا ۔
دعائے مستضعفین
اللھم اني اشکوا اليک ضعف قوتي وقلة حيلتي وھواني علي الناس برحمتک يا رب العالمين انت رب المستضعفين وانت ربي الي من تکلني الي بعيد يتجھمني او الي عدو ملکتہ امري ان لم يکن بک غضب علي فلا ابالي ولکن عافيتک اوسع لي من ذنوبي اسئلک بنور وجھک الذي اشرقت لہ الظلمت وصلح عليہ امر الدنيا والاخرة من ان يحل بي سخطک او ينزل علي عذابک لک العتبي حتي ترضي ولاحول ولا قوة الا بک ۔
بار الٰہا! میں تجھ سے اپنی کمزوری و بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ پیش کرتاہوں ۔ اے ارحم الراحمین ! تو کمزوروں کا رب ہے اور تو میرا بھی رب ہے ۔ تو مجھے کس کے حوالے کررہا ہے،کیا کسی بیگانے کے جو میرے ساتھ تندی سے پیش آئے؟یا کسی دشمن کے جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنادیا ہے ؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کسی کی پروا نہیں، لیکن تیری عافیت کی نظر کرم میرے لیے زیادہ کشادہ ہے ۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ چاہتا ہوں جس سے تاریکیاں روشن ہیں اور جس کی برکت سے دنیا و آخرت کے معاملات درست ہوتے ہیں کہ تو مجھ پر اپنا غضب نازل کرے یا تیرا عتاب مجھ پر وارد ہو۔تیری ہی رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تو خوش ہوجائے اور تیرے بغیر کوئی زور اور طاقت نہیں(ابودائود)
باغ میں پناہ گزیں
ادھر آپ کو ابنائے ربیعہ نے اس حالت زار میں دیکھا تو ان کے جذبہ قرابت میں حرکت پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنے عیسائی غلام کو جس کا نام عداس تھا ، بلا کر کہا ، انگور کا ایک گچھا لو اور اس شخص کو دے آئو ۔ اس نے انگور آپ کی خدمت میں پیش کیے تو آپ نے بسم اللہ کہہ کر ہاتھ بڑھایا اورکھانا شروع کردیا ۔ عداس نے کہا یہ جملہ تواس علاقے کے لوگ نہیں بولتے ۔حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہواور تمہارا دین کیا ہے ۔ اس نے کہا میں وادٕی نینویٰ کا رہنے والا ہوں اور عیسائی ہوں ۔ آپ نے فرمایا اچھاتوتم مرد صالح یونس بن متی کی بستی کے رہنے والے ہو ۔ تو اس نے پوچھا آپ یونس بن متی کو کیسے جانتے ہیں ؟ فرمایا وہ میرے بھائی تھے ۔ وہ نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں ۔ یہ سن کر عداس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک پڑا اور آپ کے سر ، ہاتھوں اورپائوں کو بوسہ دیا ۔ یہ دیکھ کر ربیعہ کے دونوں بیٹوں نے آپس میں کہا لو ،اب اس شخص نے ہمارے غلام کو بھی بگاڑ دیا ۔ اس کے بعد جب عداس واپس گیا تو دونوں نے اس سے کہا ۔ یہ کیا معاملہ تھا ۔ اس نے کہا میرے آقا روئے زمین پر اس شخص سے بہترکوئی اور نہیں ۔ اس نے مجھے ایسی بات بتائی ہے جسے نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ ان دونوں نے کہا ۔ دیکھو عداس کہیں یہ شخص تمہیں تمہارے دین سے نہ پھیر دے ۔ کیونکہ تمہارا دین اس کے دین سے بہتر ہے ۔
مکہ روانگی
قدرے ٹھہر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ سے نکلے تو مکے کے راستے پر روانہ ہوئے ۔ غم و الم کی شدت سے طبیعت نڈھال اور دل پاش پاش تھا ۔ قرن منازل پہنچے تو اللہ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے ۔ ان کے ساتھ پہاڑوں کا فرشتہ بھی تھا ۔ وہ آپ سے یہ گزارش کرنے آیا تھا کہ آپ حکم دیں تو وہ ان مجرموں کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس ڈالے ۔صحیح بخاری میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا،کیا آپ پر کوئی ایسا دن بھی آیا ہے جو احد کے دن سے بھی زیادہ سنگین رہا ہو ؟ تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں احد سے بھی زیادہ سخت دن مجھ پر وہ تھا جب کہ (قبیلہ بنوثقیف کے سردار) عبدیالیل اور عبد کلال کو اسلام کی دعوت دی، تو انہوں نے میرے گمان کے خلاف مجھے جواب دیا، جب محزون وملول واپس ہوا، اور مقام ”قرن ثعلب“ پر پہنچا، تو میں نے سراٹھا یا، تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ بادل مجھ پر سایہ فگن ہے، پھر کچھ دیر بعد اسی بادل سے جبرئیل علیہ الصلاة السلام نے آواز دی اور کہنے لگے کہ اہلِ طائف نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا اللہ رب العزت نے اس کو دیکھا اور ملک الجبال کو آپ کی خدمت میں بھیجا ہے، آپ اس کو جو چاہے حکم دے دیں، پھر "ملک الجبال" نمو دار ہوئے اور سلام کیا اور کہنے لگے ،اللہ رب العزت نے مجھے آپ کی جانب ارسال فرمایا ہے، اگر آپ حکم دیں تو اہلِ طائف اور قبیلہٴ ثقیف کو دو پہاڑیوں کے درمیان پیس دیا جائے، مگرقربان حضور رحمة للعالمین صلى الله عليه وسلم کی شانِ رحمت اللعالمینی کے کہ آپ نے جواب دیا"ارجو أن یخرج اللّٰہ من أصلابہم من یعبد اللہَ ولایشرک بہ شیئاً" مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسلوں سے ایسے لوگوں کو پیدا فرمائے گا، جو اللہ کی عبادت کریں گے اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے"۔اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ میں پیش آنے والے اس سخت ترین دن کی اس دعانےکیساشرفِ قبول حاصل کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب میں آپ کی شخصیت کی عظمت کردار،شانِ رحمت اور ناقابل ادراک گہرائی دیکھی جا سکتی ہے۔یہ وہ حکمت و بصیرت ہے جواہلِ ایمان سے مخصوص ہے۔مومنانہ فراست سے محروم کسی شخص کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ انتقام پر قادر ہو کر بھی بدلہ نہ لے۔بہرحال اس سے آپ کا دل مطمئن ہوگیااور غم و الم کے بادل چھٹ گئے ۔ چنانچہ آپ نے مکے کی راہ پر مزید پیش قدمی فرمائی اور وادی نخلہ میں جا فروکش ہوئے ۔ یہاں دو جگہیں قیام کے لائق ہیں ۔ ایک السیل الکبیر اور دوسری زیمہ ، کیونکہ دونوں ہی جگہ پانی اور شادابی موجود ہے،لیکن کسی ماخذ سے پتہ نہیں چل سکا کہ آپ نے ان میں سے کس جگہ قیام فرمایا ۔
جن ایمان لائے
وادی نخلہ میں آپ کا قیام چند دن رہا ۔ اس دوران میں حق تعالیٰ نے آپ کے پاس جنوں کی ایک جماعت بھیجی جس کاذکر قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے ۔ ایک سورئہ الاحقاف میں اور دوسرے سورئہ جن میں ۔وادئ نحلہ میں اس رات آپ نماز میں قرآن کی تلاوت فرمارہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا ‘ انہوں نے قرآن سنا،ایمان لائے اور واپس جا کر اپنی قوم میں اسلام کی تبلیغ شروع کردی ۔اس واقعےکا ذکرسورۃ الاحقاف کی ان آیات میں ہے۔
وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا فَلَمَّا قُضِيَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ۔ قَالُوْا يٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ۔ يٰقَوْمَنَاۤ اَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ يُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ۔
اور یاد کرو! جب ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا تاکہ وہ قرآن سنیں‘ پس جب وہ اس جگہ پہنچ گئے تو آپس میں کہنے لگے خاموش ہو جاؤ ‘پھر جب وہ پڑھا جاچکاتو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لیے واپس پلٹ گئے۔ کہنے لگے اے ہماری قوم ! بے شک ہم نے وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین اور صراط مستقیم کی طرف رہبری کرتی ہے ۔اے ہماری قوم! داعی الی اللہ کی بات مانو اس پر ایمان لاؤ تو اللہ تمہارے معاف فرما دے گا اور تمہیں عذاب الیم سے پناہ دے گا اور جو شخص اللہ کے داعی کا کہا نہ مانے گا پس وہ زمین میں عاجز نہیں کر سکتااور نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مددگارہوں گے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں ۔
جنوں کی آمد اور قبول اسلام کا واقعہ فرشتوں کی آمد کے بعد اللہ کی جانب سے دوسری مددتھی جو اس نے اپنے اس لشکر کے ذریعے فرمائی جس کا علم اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں۔اس نصرت اور ان بشارتوں کے سامنے غم و الم اور حزن و مایوسی کے وہ سارے بادل چھٹ گئے جو طائف سے نکلتے وقت گالیاں اور تالیاں سننے اور پتھر کھانے کی وجہ سے آپ پر چھائے ہوئے تھے ۔ آپ نے عزم مصمم کرلیاکہ اب مکہ پلٹنااور نئے سرے سے دعوت اسلام اور تبلیغ رسالت کے کام میں چستی اور گرم جوشی کے ساتھ لگ جانا ہے۔اس موقعے پر جو آیات نازل ہوئیں ان کے بین السطور سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی کامیابی کی بشارتیں بھی ہیں اور اس بات کی وضاحت بھی کہ کائنات کی کوئی بھی طاقت اس دعوت کی کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتی ۔اللہ تعالیٰ نے اس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش خبری سنائی کہ انسان چاہے تمھاری دعوت سے بھاگ رہے ہوں، مگر بہت سے جن اس کے گرویدہ ہوگئے ہیں اور وہ اپنی جنس میں اسے پھیلا رہے ہیں ۔
۔ یہی موقع تھا جب حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ سے عرض گزار ہوئے تھے کہ آپ مکہ کیسے واپس جائیں گے جبکہ وہاں کے باشندوں نے آپ کو نکال دیا ہے ۔جواب میں آپ نے فرمایا اے زید تم حالت دیکھ رہے ہو ، اللہ تعالیٰ ضرور اس سے کشادگی اور نجات کی کوئی راہ بنائے گا ۔ اپنے دین کی مدد کرے گااور اپنے نبی کو یقینا غالب فرمائے گا ۔
حضورؐنے پناہ چاہی
حضورؐ مکہ روانہ ہوئے اور شہر کے قریب پہنچ کرکوہ حرا کے دامن میں ٹھہر گئے ۔ پھر خزاعہ کے ایک آدمی کے ذریعے بنو زہرہ کے سردار اخنس بن شریق کو پیغام بھیجا کہ وہ آپ کو پناہ دے۔ مگر اخنس نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ میں حلیف ہوں اور حلیف پناہ دینے کااختیار نہیں رکھتا ۔ اس کے بعد آپ نے سہیل بن عمرو کے پاس یہی پیغام بھیجا مگر اس نے بھی معذرت کرلی کہ بنی عامر کی دی ہوئی پناہ بنو کعب پر لاگو نہیں ہوتی ۔ اس کے بعد آپ نے مطعم بن عدی کے پاس پیغام بھیجا ۔ مطعم نےاثبات میں جواب دیااور پھر ہتھیار پہن کر اپنے بیٹوں اور قوم کے لوگوں کو بلایا اور کہا،تم لوگ ہتھیار باندھ کر خانہ کعبہ کے گوشوں پر جمع ہوجائو، کیونکہ میں نے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کو پناہ دے دی ہے ۔ اس کے بعد مطعم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ مکے کے اندر تشریف لے آئیں ۔ پیغام پانے کے بعد آپ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ تشریف لائے اور مسجد حرام میں داخل ہوگئے ۔ اس کے بعد مطعم نے اپنی سواری پر کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ قریش کے لوگو ! میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو پناہ دے دی ہے ۔ اب انہیں کوئی تنگ نہیں کرسکتا ۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے حجر اسود کے پاس پہنچے اسے بوسہ دیا ۔ پھر دو رکعت نماز پڑھی اور اپنے گھر پلٹ آئے ۔ اس دوران مطعم بن عدی اور ان کے لڑکوں نے ہتھیار بند ہوکر آپ کے گرد حلقہ باندھے رکھا تاآنکہ آپ اپنے مکان کے اندر تشریف لے گئے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطعم بن عدی کے اس حسن سلوک کو کبھی فراموش نہیں کیا ۔ چنانچہ بدر میں جب کفار کی ایک بڑی تعداد قید ہوکر آئی ۔ بعض قیدیوں کی رہائی کے لیے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا:"اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا ۔ پھر وہ مجھ سے ان بدبو دار لوگوں کے بارے میں گفتگو کرتا تو میں اس کی خاطر ان سب کو چھوڑ دیتا "۔
حق تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات پوری فرمائی ۔فتح مکہ کے بعد جب قبول اسلام کی لہر چلی تو طائف کے ان لوگوں کے دلوں میں بھی اسلام نے اپنا گھر کرلیا۔غزوہ حنین کے بعدثقیف میں سے سب سے پہلے جو شخص قبول اسلام کی غرض سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ عروہ بن مسعود ثقفی تھا ۔ یہ اپنی قوم کا سردار تھا اور صلح حدیبیہ میں کفار کا وکیل بن کر آیا تھا ۔عروہ کی اس وقت دس بیویاں تھیں۔نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار رکھنے اور باقی کو فارغ کردینے کا حکم دیا ۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا ۔ واپس ہوتے وقت اس نے اپنی قوم کو تبلیغ کرنے کی اجازت چاہی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خدشات ظاہر فرمائے تو اس نے کہا،قوم میرا بڑا احترام کرتی ہے اس لیے کوئی خدشہ نہیں؛چنانچہ انہوں نے واپس آکر تبلیغ شروع کردی ۔ ایک دن اپنے بالاخانے میں نماز ادا کررہے تھے کہ کسی شقی القلب نے تیر مارا جس سے وہ زخمی ہوگئے اور اسی وجہ سے شہید ہوگئے ،لیکن جو آواز انہوں نے قوم تک پہنچادی تھی وہ دلوں پر اثر کیے بغیر نہ رہی ۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ قوم نے اپنے چند سرداروں کو منتخب کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ اسلام کےبارے میں پوری واقفیت حاصل کریں ۔اس طرح وہ لوگ جن کو سمجھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنہ10 نبوت میں طائف کا سفر کیا تھا اورانہوں نے آپ کی بات سننے سے نہ صرف انکار کردیا تھا بلکہ اوباشوں کو آپ کے پیچھے لگادیا تھا دل وجان سے اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔داعی اعظم کی بصیرت سب کے سامنےآگئی کہ اس وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں ان کیے لیے بددعا نہیں فرمائی تھی بلکہ اس امید کااظہار کیا تھا کہ اگر یہ لوگ نہیں تو ان کی نسلیں اسلام قبول کریں گی ۔ اب وہی دشمن اسلام خود بخود اسلام کےلیے اپنے دل میں جگہ پاتے اور بخوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دے رہے تھے ۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے استدعا کی،یہ اہل ثقیف میری قوم کے لوگ ہیں،کیامیں انہیں اپنے ہاں ٹھہرا لوں ؟آپ نے فرمایا ہاں انہیں ایسی جگہ اتارو جہاں قرآن کی آواز ان کے کانوں میں پڑے ۔ تب ان کے خیمے مسجد میں لگائے گئے ۔ جہاں سے یہ لوگ قرآن بھی سنتے تھے اور لوگوں کو نماز پڑھتے بھی دیکھتے تھے ۔ اس طرح ان کے دلوں میں اسلام کی صداقت گھر کرگئی ۔صرف دس سال کے اندراندراسلام کی وہ وعوت جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرنے کے لیےے10 نبوت میں طائف تشریف لے گئے تھے،آج سارا طائف اس کی لپیٹ میں تھا ۔
برصغیر پاک و ہند کے کروڑوں مسلمان بھی رسول ِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست اور وادی طائف کے بنو ثقیف کے بالواسطہ شکر گزار ہیں کہ اگر پہاڑوں کے فرشتے کو حضور نےکہیں اجازت دے دی ہوتی کہ وہ بنو ثقیف کوکچل ڈالے،تو ہند کی ساری آبادی آج بھی کفر کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہوتی ۔اگر طائف کے بنو ثقیف مٹ گئے ہوتے تو ایک ثقفی نوجوان محمد بن قاسم کہاں ہندوستان کے لیےنورِ ایمان کا پیغام بن کر آتا؟

Last edited by عبدالہادی احمد; 12-02-11 at 01:53 PM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-02-11, 10:38 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم مکرمی عبد الہادی بھائی
نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم تو ایسا احسان عظیم ہیں ہم سب پر چاہے ہم بر صغیر کے ہوں یا طائف کے، یا دنیا کے کسی بھی کونے کے۔ ایسا احسان جسے خود رب کائنات نے جتلایا ہے
لقد منَّ اللہ علی المؤمنین اِذ بعث فیہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماشاء اللہ خوبصورت تحریر ہے۔ اللہ ہمیں سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-02-11, 10:39 AM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ربیع الاول کے حوالے سے اس تحریر کو سر ورق پر آویزاں کیا جائے ۔۔ شکریہ
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہے۔, فرمائے, کائنات, یا, وسلم, چاہے, مصطفی, اپنانے, ایسا, اللہ, السلام, احسان, بر, توفیق, تحریر, جسے, خوبصورت, خود, دنیا, رب, رحمت, سیرت, سلم, عظیم, صغیر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::::::: اپنے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مدد کیجیے ::::::: عادل سہیل عقیدہ رسالت 16 23-08-11 01:39 AM
بھروسہ فیصل ناصر قہقہے ہی قہقے 10 28-04-11 06:39 PM
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,,,,لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین آبی ٹوکول عمومی بحث 2 31-03-11 08:11 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عبداللہ حیدر عقیدہ رسالت 6 11-03-09 12:35 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:32 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger