واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعروں کا تعارف




اردو شاعری کی ایک روشن سحر‘‘سحر علی‘‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-07-08, 03:10 PM   #1
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,185
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,963 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Thumbs up اردو شاعری کی ایک روشن سحر‘‘سحر علی‘‘

اردو شاعری کی ایک روشن سحر‘‘سحر علی‘‘

اردو شاعری کی ایک روشن سحر‘‘سحر علی‘‘

کراچی سے یاور مہدی صاحب کا صبح صبح فون آیا کہ ‘‘صفدر میاں ‘سحر علی ‘کی کتاب تو مل گئی ہو گی اگر مناسب سمجھو تو اس پر کوئی تبصرہ کر دو‘‘۔ یاور بھائی میرے ریڈیو کے ان معدودے چند سینئر ساتھیوں میں سے ہیں جن کا میں دل سے فقط احترام ہی نہیں کرتا بلکہ انکی زندگی اور انکے ناقابل فراموش کاموں کو اپنے لیئے مشعل راہ سمجھتا ہوں۔

یاور بھائی ریڈیو پاکستان کے اُن دس بارہ افراد میں شامل ہیں جنکی لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اسی طرح عزت کرتے ہیں جیسے انکی ملازمت کے دوران کی جاتی تھی ورنہ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو میں ایسے کتنے ہی بڑے بڑے افسران کو جانتا ہوں کہ جنکی عزت انکی ملازمت کے دوران بھی نہیں ہوئی اور اسکی وجہ انکی فرعونیت اور کارکنوں سے کٹ کر صرف افسرانہ زعم میں گرفتار رہنا تھا۔

یاور مہدی کی اس بے حد عزت کی وجہ وہ آفاقی اصول ہے کہ ‘‘جو دوسرے کی عزت کرتا ہے پروردگار اسکی اپنی عزت میں بے پایاں اضافہ کرتا ہے''۔ یاور مہدی اپنے طور پر ایک الگ اور تفصیلی موضوع ہے جس پر انشااللہ اگر قسمت نے یاوری کی تو ضرور کچھ لکھنے کی جسارت کرؤں گا۔

یہاں مقصود تو عزیزم ‘‘سحر علی‘‘ کے مجموعہ کلام اورانکی شخصیت کے بارے میں گفتگو کرنا تھی لیکن آغاز کلام میں یاور بھائی کا ذکر اس مناسبت سے آیا کہ مجھے بھی ان کا شکریہ اس لیئے ادا کرنا ہے کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ مجھے سحر علی کا یہ مجموعہ کلام کراچی سے لندن بھجوایا بلکہ سب سے زیادہ شکریہ اس امر کا کہ اگر وہ یہ کتاب مجھے ارسال نہ کرواتے تو میں بلاشبہ ایک اچھی شاعرہ اور بیدار فکر فرد سے متعارف ہوئے بغیر رہ جاتا۔

شاعری میرے اپنے نظریے کے مطابق ورثہ انبیا ہے اور خلاق لوح و قلم نے قلم کاری کے لیئے جن افراد کو منتخب کیا ہوتا ہے وہ اپنی فکر اور شعور کی روشنی سے نہ صرف خود کو روشن رکھتے ہیں بلکہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو بھی منور بناتے ہیں۔ میرے نزدیک شاعری فقط فاعلاتن فاعلاتن فاعلات نہیں بلکہ اس سے بہت بڑھ کر ہے۔ شعر لکھنا اور شعر کہنا دو الگ الگ عمل ہیں اور اگر کوئی تخلیق کار ان دونوں کے درمیان فرق کر لیتا ہے تووہ اپنی فکر کا ابلاغ نہایت آسانی سے کر سکتا ہے۔

یوں تو دنیا بھر کے ادب میں عمومی طور پر لیکن اردو ادب میں خاص طور پر لکھنے والوں کے دو قبیل ہیں۔ ایک تو وہ جو تعلقات عامہ اور ریڈیو ٹی وی کے زور پر شاعر بنتے ہیں اور اسی حوالے سے انکی شناخت ہوتی ہے اور دوسرے وہ لوگ جو تخلیق کو اپنا رہبر ورہنما بناتے ہیں اور اسی تخلیق کے جوہر اپنے اشعار،نثر پاروں اور مصورانہ شہ پاروں میں اجاگر کرتے ہیں۔

میں اکثرسوچتا ہوں کہ اس بے بصر عہد میں جو لوگ شاعری کو جزو حیات سمجھ کر کرتے ہیں وہ سوائے اپنا خون جلانے کے اور آنکھوں کی بینائی کو متاثر کرنے کے اور کیا حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے معاشرے میں جہاں حقیقی یعنی جینوئن ادب اور ادیب کسی ترجیحی فہرست میں نہیں،جہاں کتاب پڑھنے کا شوق ناہید ہو گیا ہے،جہاں کتاب خریدنے کا رواج نہیں،جہاں شاعر اور ادیب کو پاگل کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے وہاں شعر لکھنے کی بجائے شعر کہنے والے لوگ خود کوکس طرح ہر وقت سولی پر لٹکائے رکھتے ہیں۔

میرے بہت قریبی احباب میرے اس رویے سے خوب خوب واقف ہیں کہ میں پیشہ ور فلیپ نگار اور مبصر نہیں ہوں جو کتاب پڑھے بغیر زیادہ اچھا تبصرہ کر لے۔ مجھ جیسے طالب علم کو تو پہلے مکمل کتاب پڑھنا پڑتی ہے اور پھر جو ایک تاثر کتاب اور صاحبِ کتاب کے بارے میں بنتا ہے اسے بلا کم و کاست سپرد قلم کر دیتا ہوں اور اس عمل میں اکثر اچھے خاصے دوستوں کو بھی دشمن بنا لیتا ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ میں اپنے تاثر کو اول تو تبصرہ کہتا ہی نہیں اور دوسرے اسے ظلم سمجھتا ہوں کہ کسی ادیب یا شاعر کی کئی کئی برس کی محنت کو چند گھنٹوں میں پرکھ کر اس پر اپنی نام نہاد علمیت کی مہر ثبت کر دوں۔

پھر تیس سالہ قلم کاری کی زندگی میں اس رویے کو بھی ادبی زندگی کا اصول بنا کر رکھا ہے کہ میں قلم کاروں اور تخلیق کاروں کی جنسی تقسیم کا قائل نہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ جزبے ایسے ہیں جن کا تعلق جنس سے ہے لیکن جنس کسی بھی فرد کا کُل نہیں ایک جزو ہے۔

میں نےسحر علی کے اس مجموعے ‘‘ تمہارے غم کے موسم میں‘‘ کے تمام 160صفحات نہایت ایمانداری سے مطالعہ کیئے ہیں اور مجھے اس مجموعے کے 80فیصد اشعار لکھے ہوئے نہیں بلکہ کہے ہوئے لگے ہیں۔ ایسے اشعار جنکے عروض و بحور سے ‘‘سحر‘‘ خود بھی گزرکر ‘‘سحرِ تابناک‘‘ بنی ہیں اور ایسے اشعار بھی جنہوں نے سحر علی کی ادبی اور فکری کوکھ سے باقاعدہ جنم لیا ہے۔

ادب کی تمام دیگر اصناف کی نسبت شاعری ہی وہ صنف ہے جسکا لگ بھگ سارا دارومدار خیال اور فکر پر ہے اور اسی خیال وفکر کی انگلی تھامے شاعر ایسی سر زمینوں کا سفر کرتا ہے کہ خود اسکے ارد گرد کی فضابھی ہر پل مسحور رہتی ہے۔

میں نے اب تک جن دوستوں اور ساتھیوں کی کتابوں پر اپنے تاثرات قلمبند کیئے ہیں ہمیشہ کتاب سے اقتباسات دینے سے اس لیئے گریز کیا ہے کہ اس طرح وہ کام جو قاری کو کرنا چاہیئے وہ اُس کے لیئے ہم کر دیتے ہیں اور قاری مطالعے کی زحمت سے بھی بچ جاتا ہے۔

لیکن مجھے اس امر کا اعتراف ہے کہ اس بار سحر علی کی اس کتاب پر اپنے تاثرات لکھتے ہوئے مجھے جیسے اپنا انداز اور حکمت عملی تبدیل کرنا ہو گی اور اسکی وجہ سحر علی کی شاعرانہ فکر کی مضبوطی اور فسوں کاری ہے اور اسی وجہ سے مجھے اس بار چند اشعار اور کم از کم اقتباسات بھی نہایت مختصر طور پر لکھنے پڑیں گے۔

مجھے اس سارے مجموعے میں مضبوط ترین اور مکمل ترین نظم جو محسوس ہوئی اور جس نے ابھی تک مجھے اپنے حصار میں جکڑا ہوا ہے وہ ہے ‘‘نظم رو پڑی‘‘۔

میرا دل چاہتا ہے کہ میں سحر علی سے کہوں کہ اگر اس مجموعے کا عنوان بھی یہی ہوتا تو کیسا ہوتا۔ 23لائنوں کی اس نظم میں ایک پورا مجموعہ پوشیدہ ہے اور اگر مجھ جیسا طابعلم چاہے تو وہ اس اک نظم پر پورا مقالہ لکھ سکتا ہے۔

اس نظم کا کمال جزبات کی گرفت ہے جو قاری کو اپنے زخموں کی بخیہ گیری کی خبر بھی نہیں ہونے دیتی اور تعلق کے موسم کو رات کی آنکھ میں سوالوں کا گھر بنائے رکھتی ہے۔ ایسے سوال جنکے جواب بھی سوالات میں ہی مضمر ہیں۔

مسرت کی طلب غم کا گلہ کیا
کہ دونوں کی حقیقت عارضی ہے

دل بہت چاہتا ہے کہ اس نظم پر اور بہت کچھ لکھوں لیکن اس تاثراتی مضمون کی طوالت کاخوف دامن گیر ہے۔ ذرا ایک لمحے کو آئیے تو میرے ساتھ اور سحر علی کی اس نظم ‘‘نظم رو پڑی‘‘کی ساحری کو محسوس کر کے دیکھیں۔

میں نے سوچا لکھوں
اپنے دل کی تھکن
اور بتاؤں اسے
اسکی فرقت کی گلیوں کا تنہا سفر
میں نے کیسے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خواب بھٹکا کیئے مدتوں در بدر
نیند کا لمس مجھکو ملا ہی نہیں
سانس احساس کا بار ڈھوتی ہوئی
ریت ہوتی گئی
میں نے چاہا کہ اک ایک پل کی دکھن
نظم لکھ کر کہوں
جوڑی ہمت مگر
آخری حرف پر
نظم خود رو پڑی

سحر علی کی اس بھرپور تاثراتی نظم کی چیخ اس کتاب کے ہر صفحے پر موجود ہے اور سچ پوچھیں تو میں اس چیخ اور اسکے پس منظر میں ایک مانوس سے سسکی کو برابر سُن رہا ہوں اور یہی وہ ساحرانہ تاثر ہے جو قاری کو بہت دیر تک اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔

اگر بات اس مجموعہ کلام پر تبصرے کی ہوتی تو شاید میں ڈاکٹر جمیل جالبی،سرشار صدیقی،خالد علیگ اور ڈاکٹر پیر زادہ قاسم کی رائے اور تبصرے میں ایک لفظ کا اضافہ بھی نہ کر پاتا لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی عار یا خوف نہیں کہ ان تمام مستند مبصرین اور صاحبان قلم نے بھی شاید وہ حق ادا نہیں کیا جسکی حقدار یہ کتاب اور اس میں شامل غزلیں اور خاص طور پر نظمیں ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سحر علی کی شاعری کامرکز انکے مرحوم شوہر کی ہستی ہے کہ جنہوں نے وقت سے بہت پہلے سحر کو دائمی فرقت دے دی

لیکن سچ تو یہ ہے کہ سحر نے اسی فرقت کو اپنے سفر کا استعارہ بنایا اور بقول خود سحر علی کے‘‘ زندگی جو کبھی پر سکون تھی منتشر ہوگئی،میری کشتی بھنور میں آ گئی۔شوہر کی جدائی کے بعد میں بیچ منجدھار میں اکیلی رہ گئی،سترہ سال کی طویل رفاقت کے بعد ایک پہاڑ جیسی زندگی کا دوبارہ آغاز کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔کبھی خود کو دیکھتی اور کبھی اپنے تین معصوم بچوں کو،گھر کے باہر سماج اپنی تمام تر درندگی کے ساتھ اپنی بانہیں پھلائے کھڑا تھا۔اب میرا مقابلہ اسی سماج سے تھا جس کے بارے میں،میں نے محض سنا تھا،پرکھا کبھی نہ تھا‘‘۔

اور پھر سحر علی نے اسی قلم کو اپنی طاقت بنایا اور حرف و لفظ کی نادیدہ طاقت کے سہارے اس معاشرے کی اس درندگی کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا جو کسی بھی اکیلی عورت کو جیتے جی زندہ در گور کر دیتی ہے۔ سحر علی نے اس قلم سے ‘‘نادِ علی‘‘ کاکام لیا اور پھر اپنے ارد گرد کے ماحول اور فضا کو اپنا ماحول اور اپنی فضا بنا لیا۔

شاعری میں نسوانی جزبے شاعری کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں لیکن شاعری کو مردانہ اور نسوانی شاعری میں تقسیم کرنا میرے نزدیک عدل کی بات نہیں اور پھر شاعر تو شاعر ہوتا ہے اسے شاعر اور شاعرہ کہنا میری سمجھ میں نہیں آج تک نہیں آیا۔ میں تو آج تک حیرت نام مسرت اور مسرت ناک حیرت کی اصطلاح کو بھی نہیں سمجھ پایا۔لیکن ہو سکتا ہے کہ اسمیں میری کم علمی دامن گیر ہو۔

سحر علی شاعر ہے،وہ شعر لکھتی نہین سعر کہتی ہے اور متعدد اشعار ایسے ہیں جنہوں نے خود کو سحر علی سے کہلوایا ہے۔اشعار اور خیال کی پختگی کو دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ شاید سحر علی پچاس ساٹھ کے پیٹے ہیں لیکن سچ جانیں ایسا ہر گز نہیں ہے۔ہاں سحر کے تجربات کی عمر ہم جیسوں سے بہت زیادہ ہے اور یہی تجربے ہیں جو انکے اشعار میں پوری توانائی اور سچائی کے ساتھ موجود ہیں۔

فقط اتنا کہا تھا نا ہمیں تم سے محبت ہے
ہماری جان لو گے کیا اب اتنی بات کے پیچھے
۔۔۔۔۔
عاشقی کوئے ملامت سے گزر جاتی ہے
دنگ رہ جاتے ہیں بہتان لگانے والے
۔۔۔۔۔
بخشا ہےسحر ذوقِ سخن مجھ کو خدا نے
دنیا کی میرے باب میں کیوں چھان پھٹک ہے

‘‘بخشا ہےسحر ذوقِ سخن مجھ کو خدا نے‘‘سحر علی کا یہ یقین اورایمان ہی دراصل انکو اس مقام پر لایا ہے کہ وہ ایک ہی جست میں دنیا کی چھان پھٹک کو رد کرتی ہیں اور میں اسی چھان پھٹک کو روایتی تنقید اور بس لکھنے کی خاطر لکھے گئے تبصرے قرار دیتا ہوں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اسی چھان پھٹک سے اجتناب کرتے ہوئے خود کو اس فہرست سے بہت دور رکھنا چاہتا ہوں۔

یہ فقط میرا ذاتی خیال ہے اور سحر علی سمیت کسی کو بھی اس سے اختلاف کا مکمل حق ہےکہ سحر علی کی غزلوں کی نسبت انکی نظمیں زیادہ طاقتور اور ڈرامائی عنصر کی حامل ہونے کے ساتھ خیال اور جزبات کا کامل ابلاغ کرتی ہیں۔ بلکہ انکی غزلوں کے کئی مصرعے ایسے ہیں جو اپنے اندر مکمل نظم لیئے ہوئے ہیں اور اسی لیئے میں سمجھتا ہوں کہ سحر کی نظموں میں سحر کاری دکھانی چاہیئے۔

ذرا یہ چند مصرعے دیکھیں کیا یہ مکمل نظم اپنے وجود میں نہیں رکھے ہوئے ہیں؟

کسی کی زندگانی میں نہیں ہوں
۔۔۔۔
تمہارا ہاتھ لگتا ہے ہماری مات کے پیچھے
۔۔۔۔
چاند ڈوبا رہا سمندر میں
۔۔۔۔
تیر بے کماں اسکا زخم بے نشاں اپنا
۔۔۔۔
سفر میں زادِ سفر کا سوال ہی نہ رہا

یہ تو صرف چند مصرعے تھے جن کا انتخاب میں نے کیا وگرنہ سحر کی ہر غزل میں کم ازکم ایسا ایک مصرعہ ضرور موجود ہے۔

ایک بات میں پوری ایمانداری سے کہنا چاہتا ہوں کہ نثری نظم سحر علی کا مزاج نہیں ہے اور میرے خیال میں اس مجموعے کا کمزور ترین حصہ یہی نثری نظمیں ہیں جن میں انکے خیال کی قوت مٹھی میں ریت کی طرح بکھر سی گئی ہے۔ سحر علی اگر اپنی غالب توجہ نظم پر رکھیں تو مجھے یقین ہے وہ ‘‘ نظم رو پڑی‘‘ جیسی کتنی ہی خوبصورت نظمیں تخلیق کریں گی۔

خلاقِ لوح و قلم انکے قلم کو سچ کی طاقت دے اور انکی فکر کو معراج فکر عطا کرے اور انکے خیال کو جدت اور شعور کی سحر خیزی بخشے کہ تمام حرف و صوت کے خزانے اسی کی ملکیت ہیں اور حاملِ قلم ہونے کا اعزاز وہ اپنے چنیدہ بندوں کو بخشتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ سحر علی خلاقِ لوح وقلم کے ایسے ہی چنیدہ بندوں میں سے ہیں کیونکہ یہ دعویٰ بھی انہیں کا ہے کہ۔۔۔۔بخشا ہےسحر ذوقِ سخن مجھ کو خدا نے۔

لاکھ تاریکیوں کے پہرے ہوں
روکنے سے سحر رُکی ہے کہیں

__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کمال, کتابوں, گمان, پاکستان, پاگل, لوگ, لندن, مکمل, مقابلہ, متعارف, محبت, مشعل, معراج, آج, اردو, بھائی, بچوں, جھوٹ, جواب, حسن, خون, خدا, ریڈیو پاکستان, سحر علی, شاعری, عورت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger