واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعروں کا تعارف




جون ایلیا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-07-07, 11:22 PM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,349
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جون ایلیا

جون ایلیا

علامہ جون ایلیا (14 دسمبر، 1937ء – 8 نومبر، 2002ء) برصغیر ‏میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار ‏اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے ‏تھے۔ وہ معروف صحافی رئیس امروہوی اور شاعر سید محمد تقی کے ‏بھائی، اور مشہور کالم نگار زاہدہ حنا کے سابق خاوند تھے۔ جون ایلیا کو ‏عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی میں اعلی مہارت ‏حاصل تھی۔

[ترمیم] سوانح
جون ایلیا 14 دسمبر، 1937ء کو امروہہ، اتر پردیش کے ایک ‏نامور خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب ‏سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد، علامی شفیق حسن ایلیا کو فن ‏اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر ‏بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل ‏بھی انہی خطوط پر کی۔ انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 ‏سال کی عمر میں لکھا۔ اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں ‏قلم طراز ہیں:‏

‏"میری عمر کا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم ‏اور ماجرا پرور سال تھا۔ اس سال میری زندگی کے دو سب ‏سے اہم حادثے، پیش آئے۔ پہلا حادثہ یہ تھا کہ میں اپنی ‏نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ ‏لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا۔ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں ‏نے پہلا شعر کہا:‏
چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی"[1]
جون اپنے لڑکپن میں بہت حساس تھے۔ ان دنوں ان کی کل ‏توجہ کا مرکز ایک خیالی محبوب کردار صوفیہ تھی، اور ان ‏کے غصے کا نشانہ متحدہ ہندوستان کے انگریز قابض تھے۔ وہ ‏ابتدائی مسلم دور کی ڈرامائی صورت میں دکھاتے تھے جس ‏وجہ سے ان کے اسلامی تاريخ کے علم کے بہت سے مداح ‏تھے۔ جون کے مطابق ان کی ابتدائی شاعری سٹیج ڈرامے کی ‏مکالماتی فطرت کا تاثر تھی۔

ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا ‏امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے۔ یہ مدرسہ دار ‏العلوم، دیوبند سے منسلک تھا۔ سعید کہتے ہیں، "جون کو زبانوں ‏سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ ‏عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، ‏انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت ‏حاصل کر لی تھی۔"‏


[ترمیم] پاکستان آمد
اپنی جوانی میں جون کمیونسٹ خیالات رکھنے کی وجہ سے ‏ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے لیکن بعد میں اسے ایک ‏سمجھوتہ کے طور پر قبول کر لیا۔ ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ‏ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی ‏حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی ‏عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور ‏پذیرائی نصیب ہوئی۔


جون ایلیا کی کتاب شاید کا ان کی تصویر والا سرورقجون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع ‏کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‏شاید اس وقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی۔ ‏نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوے اس کتاب کے پیش ‏لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ‏ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی ‏شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں ‏شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی ‏پسند اور فوضوی تھے۔ ان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو ‏مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی ‏محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

جون ایلیا تراجم، تدوین اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی ‏مشغول رہے۔ لیکن ان کے تراجم اور نثری تحریریں آسانی سے ‏دستیاب نہيں۔ ‏

فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی ‏سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی ‏انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی ‏شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں ‏کر سکيں۔


[ترمیم] ازدواجی زندگی
جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ‏ملاقات اردو کی ایک اور انتھک مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے ‏بعد میں انہوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا ایک اپنے انداز کی ترقی ‏پسند دانشور ہیں اور اب بھی دو روزناموں، جنگ اور ایکسپریس، ‏میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے ‏زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط ‏میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی ‏حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کر ‏دی۔


وفات
جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کر ‏گئے۔

__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-07-07, 11:50 PM   #2
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,530
شکریہ: 0
561 مراسلہ میں 1,027 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جون ایلیا

ما شا ء اللہ اچھا لکھا ہے آپ نے بہت اچھا کام کر رہیں ہیں آپ اس کو جاری رکھیں
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC]
زبیر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-07-07, 03:46 AM   #3
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,192
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جون ایلیا

ماشا اللہ فوٹو ٹیک بھائی بہت اچھے
لگے رہو فوٹو بھائی
اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-07-07, 11:52 AM   #4
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,349
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جون ایلیا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زبیر
ما شا ء اللہ اچھا لکھا ہے آپ نے بہت اچھا کام کر رہیں ہیں آپ اس کو جاری رکھیں
شکریہ جناب
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-07-07, 11:52 AM   #5
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,349
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جون ایلیا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عدنان
ماشا اللہ فوٹو ٹیک بھائی بہت اچھے
لگے رہو فوٹو بھائی
اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے
شکریہ جناب
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-08-08, 12:51 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 268
کمائي: 293
شکریہ: 1
70 مراسلہ میں 92 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جون ایلیا

اچھالکھا ہے اآپ نے
عزیر سلیم
نوائے سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فوٹو, فن, کراچی, کربلا, گمان, ٹیک, پاکستانی, محبت, اللہ, اچھا کام, اردو, اسلامی, بھائی, تحریری, ترمیم, تصویر, جواب, جلد, حنا, حسن, خوش, خلاف, زندگی, شاعری, طلاق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger