واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعروں کا تعارف




عبد الحمید عدم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-12-08, 07:35 PM   #1
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,888
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default عبد الحمید عدم

عبد الحمید عدم

عبد الحمید عدم


عبدالحمید 10 اپریل 1910ء کو گوجرانوالہ کے ایک گاؤں تلونڈی موسیٰ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی ۔ اسلامیہ ہائی اسکول بھاٹی گیٹ لاہور سے میٹرک پاس کیا۔ پھر پرائیوٹ طور پر ایف اے کیا اور ملٹری اکاونٹس میں ملازم ہو گئے۔ 1939ء میں 10 سال ملازمت کرنے کے بعد عراق چلے گئے۔ وہاں جا کر عراقی لڑکی سے شادی کر لی۔ 1941ء میں ہندوستان آگئے۔ اور ایس اے ایس کا امتحان امتیازی پوزیشن میں پاس کیا۔ پھر ملٹری اکاونٹس میں ملازمت پر بحال ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ کا تبادلہ پنڈی کر دیا گیا آپ 1948ء میں ملٹری اکاونٹس میں ڈپٹی اسسٹنٹ کنٹرولر مقرر ہوئے۔ اور اپریل 1966ء میں اس عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یعسوب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ عدم نے اپنی شاعری کا آغاز ان دونوں کیا تھا جب اردو شاعری کے آسمان پر اختر شیرانی ، جوش ملیح آبادی اور حفیظ جالندھری جیسے روشن ستارے جگمگا رہے تھے۔ عدم نے بھی ان کی راہ پر چلتے ہوئے صرف رومانی شاعری کی اور بے حد مقبول ہوئے۔ اردو زبان کے اس رومانی شاعر نے 1981ء میں وفات پائی ۔ اور قبرستان ڈرائی پورٹ مغل پورہ کے صدر دروازے کے پاس دفن ہوئے۔


* 1 شاعری
* 2 نمونہ کلام
* 3 سیاسی شعور
* 4 شخصیت
* 5 تراجم

شاعری

عدم بہت پرگو اور زود گو شاعر تھے۔ ان کے درجنوں شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جن میں سے خرابات، نگار خانہ،چارہ درد اور رم آہو وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب ان کے پاس شراب خریدنے کے پیسے ختم ہو جایا کرتے تھے تو وہ جلدی جلدی غزلیں لکھ کر اپنے پبلشر کو دے کر اس سے ایڈوانس معاوضہ لے آتے تھے۔ ان کی اکثر شاعری اسی طرح سے لکھی گئی ہے۔ تاہم جو غزلیں عدم نے اپنے لیے لکھی ہیں ان میں ان کا مخصوص انداز جھلکتا ہے، جس میں ہلکا ہلکا سوز بھی اور عشق و محبت کی دھیمی دھیمی آنچ ہے۔ انہوں نے روایتی موضوعات، خم و گیسو، گل و بلبل، شمع و پروانہ، شیشہ وسنگ کا استعمال کیا ہے۔ کوئی نیا پن نہ ہونے کے باوجود یہ سامع کو نیا ذائقہ ضرور دے جاتی ہیں اور ایک طرح سے انہوں نے روایتی غزل کو مزید آبدار کیا ہے۔


نمونہ کلام

جہاں ہم ہیں وہاں ربط و کشش سے کام چلتا ہے
سمجھنے اور سمجھانے کی گنجائش بہت کم ہے
محبت ہو گئی ہے زندگی سے اتنی بے پایاں
کہ اب گھبرا کے مر جانے کی گنجائش بہت کم ہے
گل و غنچہ کو ہے ان سے عقیدت اس لئے گہری
تیری زلفوں میں مرجھانے کی گنجائش بہت کم ہے


زمانہ ہنستا ہے ہم بے نوا فقیروں پر
یہ غفلتیں تو مناسب نہیں غریب نواز
وہ زلف ویسے تو آتش ہے اے عدم یکسر
مگر اثر کی رعایت سے ہے نسیم حجاز


اے زیست کی تلخی کے شاکی صرف ایک نصیحت ہے میری
آنکھوں کی شرابیں پیتا جا زلفوں کی پناہیں لیتا جا
اے موسم گل جاتا ہے اگر پھر اتنا تکلف کیامعنی
غنچوں کے گریباں لیتا جا پھولوں کی کلاہیں لیتا جا


ہنس کے آپ جھوٹ بولتے ہیں
دل میں کتنی مٹھاس گھولتے ہیں
دنیا کتنی حسین لگتی ہے
آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں

اسی موضوع پر عدم نے مزید طبع آزمائی کی ہے:

یہ سمجھ کے سچ جانا ہم نے تیری باتوں کو
اتنے خوب صورت لب جھوٹ کیسے بولیں گے


سیاسی شعور

عدم بعض اوقات اشعار کے پردے میں سماجی اور سیاسی معاملات پر بھی طنز کر جاتے ہیں۔ ان کا یہ شعر اپنے دور میں بے حد مشہور ہوا تھا:

کس قدر بوجھ تھا گناہوں گا
حاجیوں کا جہاز ڈوب گیا


شخصیت

عدم بھاری تن و توش کے مالک تھے۔ایک بار بھارت سے مجاز لکھنوی تشریف لائے۔ انھوں نے پہلے عدم کو نہیں دیکھا تھا، لیکن ان کی شاعری کے مداح تھے۔ جب ان کا تعارف کروایا گیا تو بے اختیار ان کے منھ سے نکلا:اگر یہی ہے عدم تو وجود کیا ہو گا؟

تراجم

عدم نے 1960ء میں عمر خیام کی رباعیات کا اردو زبان میں ترجمہ کیا تھا جسے خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ خیام اور عدم کا فلسفہٴ زندگی اور شاعری کا انداز ملتا جلتا تھا۔ اس مجموعے سے چند رباعیاں پیشِ خدمت ہیں:

سلسلہ تیری میری باتوں کا
پسِ پردہ ہے جو بھی جاری ہے
پردہ اٹھا تو آگہی ہو گی
پردہ داری ہی پردہ داری ہے


نوجوانی کے عہدِ رنگیں میں
جز مےِ ناب اور کیا پینا
ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی
تلخ ہے جام، تلخ ہے جینا
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, لڑکی, نیا ذائقہ, محبت, آبادی, امتحان, اردو, اشعار, تعلیم, تعارف, جھوٹ, جلتا, حفیظ جالندھری, زیست, زندگی, سال, ستارے, شاعری, عشق, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:38 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger