|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
علامہ اقبال
ادیب پیدائشی نام محمد اقبال تخلص اقبال ولادت 9 نومبر 1877ء، سیالکوٹ[1] ابتدا سیالکوٹ وفات 21 اپریل 1938ء، لاہور[1] اصناف ادب شاعری نثر ذیلی اصناف نظم غزل معروف تصانیف بانگ درا بال جبریل ضرب کلیم پیام مشرق ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ "دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام" کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی جس کو بعض مسلم ممالک میں متنازع سمجھا جاتا ہے جبکہ سعودی عرب میں اس پر پابندی عائد ہے۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ * 1 ولادت و ابتدائی زندگی * 2 تعلیم * 3 اعلیٰ تعلیم * 4 سفر یورپ * 5 تدریس اور وکالت * 6 سیاست * 7 شاعری * 8 اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ * 9 تصورات و نظریات * 10 حوالہ جات * 11 مزید دیکھیے * 12 بیرونی روابط ولادت و ابتدائی زندگی علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء (بمطابق 3 ذیقعد 1294ھ[2]) کو برطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان سرکاری طور پر 9 نومبر 1877ء کو ہی ان کی تاریخ پیدائش تسلیم کرتی ہے۔ اقبال کے آبا ؤ اجداد اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے اور محلہ کھیتیاں میں آباد ہوئے۔ تعلیم علامہ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیے۔ زمانہ طالبعلمی میں انھیں میر حسن جیسے استاد ملے جنہوں نے آپ کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ اور ان کے اوصاف خیالات کے مطابق آپ کی صحیح رہنمائی کی۔ شعر و شاعری کا شوق بھی آپ کو یہیں پیدا ہوا۔ اور اس شوق کو فروغ دینے میں مولوی میر حسن کا بڑا دخل تھا۔ اعلیٰ تعلیم ایف اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کیے یہاں آپ کو پرفیسرآرنلڈ جیسے فاضل شفیق استاد مل گئے جنہوں نے اپنے شاگرد کی رہنمائی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ سفر یورپ 1905 میں علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی ۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تدریس اور وکالت ابتداء میں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیئے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعروشاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکیوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ 1922ء میں حکومت کی طرف سے سر کا خطاب ملا۔ سیاست 1926ء میں آپ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے اور باقاعدہ علامہ اقبال کا مزار سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے آپ کا الہ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ آپ کی تعلیمات اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938ء (بمطابق 20 صفر 1357ھ[3]) میں علامہ انتقال کر گئے تھے۔ لیکن ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی۔ شاعری شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانان عالم اسےبڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔ اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔ ان کے کئی کتابوں کے انگریزی ، جرمنی ، فرانسیسی، چینی ، جاپانی اور دوسرے زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے متعرف ہیں۔ بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں۔
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ www.tariqraheel.blogspot.com |
|
|
|
| طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (11-11-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ
* شکوہ * جواب شکوہ * خصر راہ * والدہ مرحومہ کی یاد میں تصورات و نظریات * خودی * عقل و عشق * مرد مومن * وطنیت و قومیت * اقبال کا تصور تعلیم * اقبال کا تصور عورت * اقبال اور مغربی تہذیب * اقبال کا تصور ابلیس * اقبال اور عشق رسول |
|
|
|
| طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (11-11-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
شکوہ
یہ وہ شہر آفاق نظم ہے جو اپریل 1911ءکے جلسہ انجمن حمایت اسلام میں پڑھی گئی۔ لندن سے واپسی پر اقبال نے ریواز ہوسٹل کے صحن میں یہ نظم پڑھی ۔ اقبال نے یہ نظم خلاف معمول تحت اللفظ میں پڑھی۔ مگر انداز بڑا دلا ویز تھا ۔ اس نظم کی جو کاپی اقبال اپنے قلم سے لکھ کر لائے تھے اس کے لئے متعدد اصحاب نے مختلف رقوم پیش کیں اور نواب ذوالفقار علی خان نے ایک سوروپے کی پیشکش کی اور رقم ادا کرکے اصل انجمنِ پنجاب کو دے دی۔ ”شکوہ“ اقبال کے دل کی آواز ہے اس کا موثر ہونا یقینی تھا۔ اس سے اہل دل مسلمان تڑپ اُٹھے اور انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ مسلمانوں کے حوصلہ شکن زوال کے اسباب کیا ہیں۔ آخر اللہ کے وہ بندے جن کی ضرب شمشیر اور نعرہ تکبیر سے بڑے بڑے قہار و جبار سلاطین کے دل لرز جاتے تھے کیوں اس ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے؟ ۔ یہ نظم دراصل مسلمانوں کے بے عملی ، مذہب سے غفلت اور بیزاری پر طنز ہے۔ بانگ درا میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں کئی مقامات پر تبدیلی کی۔ جبکہ بانگ درا میں اشاعت سے پہلے نظم مختلف رسالوں مثلاً مخزن، تمدن اور ادیب میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہو چکے ہیں۔ * 1 فکری جائزہ o 1.1 اظہار شکوہ کی توجیہ o 1.2 امت مسلمہ کا کارنامہ o 1.3 مسلمانوں کی حالتِ زبوں o 1.4 حالت زبوں کی وجہ کیاہے؟ o 1.5 کیفیت یا س و بیم o 1.6 دعائیہ اختتام + 1.6.1 شکوہ * 2 فنی جائزہ o 2.1 لہجے کا تنوع o 2.2 نفسیاتی حربے o 2.3 تغزل o 2.4 ایجاز و بلاغت o 2.5 چند محسنات شعر o 2.6 تصویر کاری ،تشبیہ ، استعارہ o 2.7 ترنم اور نغمہ * 3 مجموعی جائزہ فکری جائزہ جرات آموز میری تاب ِ سخن ہے مجھ کو شــکوہ اللہ سے خـاکم بدہن ہے مــجھ کو اے خــدا شــکوہ اربابِ وفا بھی ســن لے خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے اس نظم کا نام ”شکوہ“ اس لئے رکھا گیا ہے کہ موضوع کے اعتبار سے شکوہ بارگاہ الہٰی میں علامہ اقبال یا دور حاضر کے مسلمانوں کی ایک فریاد ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ ہم تیرے نام لیوا ہونے کے باوجود دنیا میں ذلیل و خوار ہیں ۔ حالانکہ ہم تیرے رسول کے نام لیو ا ہیں اور اس پر طرہ یہ ہے کہ تیرے انعامات اور نوازشات کے مستحق غیر مسلم ہیں ۔ گویا علامہ اقبال نے شکوہ میں عام مسلمانوں کے لاشعوری احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ بقول سلیم احمد ، ” ایک طرف ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا اور اس کے محبوب کی سب سے چہیتی امت ہیں اور اس لئے خدا کی ساری نعمتوں کے سزاوار اور دوسری طرف یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان کا مکمل زوال ہو چکا ہے عقیدے اور حقیقت کے اس ٹکرائو سے مسلمانوں کا وہ مخصوص المیہ پیدا ہوتا ہے جو ”شکوہ “ کا موضوع ہے۔“ علامہ اقبال کےاپنے الفاظ میں ” وہی بات جو لوگوں کے دلوں میں تھی ظاہر کر دی گئی“ سلسلہ فکر و خیال کی ترتیب کے مطابق نظم کو ہم مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں، اظہار شکوہ کی توجیہ یہ حصہ نہایت مختصر اور صرف دو بندوں پر مشتمل ہے۔ یہ دو بند جن میں شکوہ کرنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ اور یہ مسلمانوں کی موجودہ بدحالی اور پستی پر اقبال کے ردعمل کا اظہار ہے۔ اقبال کے خیال میں مسلمان اب زوال و انحطاط کی اس منزل کو پہنچ چکے ہیں کہ جہاںپر خاموش رہنا نہ صرف اپنی ذات بلکہ ملت اسلامیہ کے اجتماعی مفاد سے بھی غداری کے مترادف ہے۔ اس موقع پر قصہ درد سنانا اگرچہ خلاف ادب ہے اور نالہ و فریاد کا یہ انداز گستاخانہ ہے مگر ہم ایسا کہنے پر مجبور ہیں ۔ اقبال کہتے ہیں کہ ای خدائے بزرگ و برتر ” اربابِ وفا“ کا شکوہ بھی سن لے ۔کسی لمبے چوڑے پس منظر یا غیر ضروری طویل تمہید کے بغیر اللہ تعالی سے ہم کلام ہونا اسلامی تصورات کے عین مطابق ہے۔ اسلام کو تمام مذاہب کے مقابلے میں یہ انفرادیت حاصل ہے کہ اس میں بندہ خداسے بلا واسطہ ہم کلام ہو سکتا ہے۔ جبکہ دوسرے مذاہب میں میں ایسا نہیں۔ ان کے انداز تخاطب میں شوخی اور بے ادبی نہ تھی ہاں ایک طرح کی بے تکلفی ضرور تھی جو بعض لوگوں کو کھٹکتی ہے۔ لیکن اقبال نے دانستہ طور پر یہ طرز تخاطب اختیار کیا تھا۔ دراصل اقبال ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پڑھنے والوں کو اس طرز تخاطب سے آشنا کرنا چاہتا ہے۔ گویا شکوہ کے اندازِ کلام کے لئے پڑھنے والوں کو مصنوعی طور پر تیار کر رہا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اقبال نے شکوہ کے پہلے دو بندوں ہی میں بات یا موضوع سخن کو اس منزل تک پہنچا دیا ہے کہ بعد کی شکوہ سرائی اور گلہ مندی بالکل موزوں اور مناسب معلوم ہوتی ہے۔ امت مسلمہ کا کارنامہ شکوے کا دوسرا حصہ گیارہ بندوں پر مشتمل ہے۔ تیسرے بند سے نظم کے اصل موضوع پر اظہار خیال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس حصے کا آغاز اس مصرعے سے ہوتا ہے۔ ” تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات کریم 13ویں بند تک علامہ اقبال نے امت مسلمہ کے عظیم کارناموں کا تذکرہ کیا ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کی حیثیت اور اہمیت کو اجاگر کر دیاہے۔ سب سے پہلے دنیا کی حالت اور تاریخ کا منظر پیش کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یوں تو خدا کی ذات ازل سے اپنی سچائیوں سمیت موجود تھی۔ اور بڑی بڑی قومیں مثلاً سلجوق، تورانی، ساسانی ، یونانی ، یہودی ، نصرانی آباد تھیں لیکن توحید کا وہ تصور جو تمام اقوام کے لئے نیا تھا اور جو اسلامی تعلیمات کا سرچشمہ تھا اس کی اشاعت و تبلیغ کے سلسلے میں جو کام امت مسلمہ نے کر کے دکھایا ہے وہ کام کسی سے بھی ممکن نہ تھا۔ یہاں اقبال مسلمان قوم کا ترجمان بن کر دعوی کرتا ہے کہ مسلمانوں نے بیمار اور جاہل امتوں اور مریض قوموں کے سامنے وہ علاج پیش کیا جو نکتہ توحید میں مضمر ہے۔ بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تـورانی بھی اہل چیں چین میں ، ایران میں ساسانی بھی اس معمـورے مــیں آبــاد تھے یــونـانـی بھی اسی دنیا میں یہودی بھی تھے ، نصرانی بھی پـر تــرے نــام پہ تلــوار اٹھــائی کــس نے؟ بات جوبگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے؟ اقبال بتاتے ہیں کہ ساری دنیا میں مسلمانو ں کوہی صرف یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے خدا کے پیغام کو دنیا کے دور دراز علاقوں یا کونوں تک پہنچا یا۔ روم اور ایران جیسے ملکوں کو فتح کرنا کسی حیرت انگیز کارنامے سے کم نہیں ہے۔ اُنہی کی بدولت دنیا میں حق حق کی صدا گونجی نظم کی اس حصے میں علامہ اقبال نے تاریخ اسلام کے جن ادوار اور واقعات کو مثال بنایا ہے اس کی مختصر اً وضاحت یوں ہے۔ ”دی اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائوں میں “ کا اشارہ سلطنت عثمانیہ کی اس دور کی طرف ہے جب مسلمانوں کی سلطنت یونان ، بلغاریہ، البانیہ ، ہنگری اور آسٹریا تک پھیلی ہوئی تھی۔ سپین پر بھی مسلمانوں کی حکومت تھی۔ یورپ کے ان علاقوں میں جہاں آ ج کلیسائوں میں ناقوس بجتے ہیں کبھی مسلمانوں کی وہاں پر اذانیں گونجتی تھیں۔اس طرح افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائوں کا علاقہ مصر، لیبیا ، تیونس ، مراکش اور الجزائر وغیرہ بھی مسلم سلطنت میں شامل تھے۔ ”شان آنکھوں میں نہ ججتی تھی جہانداروں کی“ کی عملی تفسیر اس واقعے سے ملتی ہے جب حضرت عمر فاروق کے دور میں مسلم وفد کے قائد ربعی ایرانی سپہ سالار رستم سے گفت و شنید کے لئے اس کے دربار میں گئے تو اپنے نیزے سے قیمتی قالین کو چھیدتے ہوئے بے پروائی سے تخت کے قریب پہنچے ۔ تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آرائوں میں ! خشکیوں میں کبھی لڑتے ، کبھی دریائوں میں دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائوں میں کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائو ں میں شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی ساتویں بند میں بت فروشی اور بت شکنی کی تلمیح اس حوالے سے ہے جب محمود غزنوی نے ہندو پجاریوں کی رشوت کو ٹھکراتے ہوئے سومنات کے بتوں کو پاش پاش کردیا تھا۔ بحر ظلمات سے مراد بحر اوقیانوس ہے۔ ”بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے“ میں اشارہ ہے اس واقعے کی طرف جب ایک مسلمان مجاہد عقبہ بن نافع نے افریقہ کے آخری سرے تک پہنچ کر گھوڑا بحر اوقیانوس میں ڈال دیاتھا۔ دشت تو دشت رہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے! بحــر ظلمــات مــیں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے! مسلمانوں کی حالتِ زبوں نظم کے اس حصے میں اقبال نے امت مسلمہ کے درخشاں ماضی کی جھلکیاں دکھاتے ہوئے نظم کا رخ مسلمانوں کی موجودہ حالت کی طرف موڑ دیا ہے۔ اقبال نے دوسری اقوام سے مسلمانوں کا موازنہ کرکے ان کی موجودہ زبوں حالی کو نمایاں کر دیا ہے۔ اقبال شکوہ کرتے ہیں کہ دنیا میں مسلمانوں جگہ جگہ غیر مسلموں کے مقابلے میں حقیر، ذلیل اور رسوا ہیں۔ جس کی وجہ سے دنیا کی دوسری اقوام ان پر خندہ زن ہیں۔ نظم کے اس حصے میں صحیح معنوں میں گلے شکوے کا رنگ پایا جاتا ہے اقبال نے مسلمانوں کی بے بسی و بے چارگی کا واسطہ دے کر خدا سے پوچھا ہے کہ توحید کے نام لیوائوں سے پہلے جیسا لطف و کرم کیوں نہیں ؟ اس کے ساتھ ہی شاعر نے ایک طرح کی تنبیہ بھی کی ہے کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو دنیا تو حید کے نام لیوائوں سے خالی ہو جائے گی۔ اور ڈھونڈنے سے بھی ایسے عُشاقانِ توحید کا سراغ نہیں ملے گا۔ امتیں اور بھی ہیں ، اُن میں گنہگار بھی ہیں عجز والے بھی ہیں ، مستِ مۓ پندار بھی ہیں ان میں کاہل بھی ہیں، غافل بھی ہشیار بھی ہیں سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر برق گرتی ہے تو بےچارے مسلمانوں پر حالت زبوں کی وجہ کیاہے؟ بند20 آغاز میں اقبال اس حالت زبوں کا سبب دریافت کرتے ہیں ۔ مسلمان آج بھی خدا کے نام لیو ا ہیں اور اُس کے رسول کے پیروکار ہیں ۔ آج بھی اُن کے دلوں میں اسلام کے بارے میں ایک زبردست جوش و جذبہ اور کیفیت عشق موجود ہے۔ اقبال متاسف ہیں کہ اس کے باوجود عنایاتِ خدواندی سے محروم ہیں۔ آگے چل کر اقبال کا لہجہ ذرا تلخ ہو جاتا ہے اور محبوب حقیقی کے سامنے فریاد کی زبان کھولی ہے کیونکہ اس نے اپنے سچے عاشقوں کو فراموش کر دیا ہے اور غیروں سے راہ رسم آشنائی پیدا کر لی ہے۔ کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہر جائی ہے نظم کے اس حصے میں اقبال نے بہت سی تلمیحات استعمال کی ہیں ۔ لیلیٰ ، قیس ، دشت وجبل، شور سلاسل اور دیوانہ نظار ہ محمل کی تراکیب و تلمیحات وغیرہ۔ وادی نجد میں وہ شور ِ سلاسل نہ رہا قیس دیوانہ نظارہ محمل نہ رہا ” سرفاراں پر کیا دین کو کامل تو نے“ سے مراد یہ ہے ای خدا تو نے دین اسلام کو فاران کی چوٹی پر مکمل کر دیا ۔ جو قرآنی آیت کی طرف ایک اشارہ ہے۔ سر فاراں پر کیا دین کو کامل کیا تو نے اک اشارے میں ہزاروں کے لئے دل تو نے کیفیت یا س و بیم اس حصے میں اقبال کا روئے سخن خاص طور پر ہندی مسلمانوں کی طرف ہے اور یہی بات اِسے دوسرے حصوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یوں تو مسلمان دنیا کے ہرگوشے میں بدحالی مایوسی اور بے چارگی کا شکار ہیں مگر برصغیر پاک و ہند میں تو اس کا انتشار گویا نقطہ عروج کو پہنچ گیا ہے چونکہ اقبال ہندوستان میں رہتے ہیں اس لئے یہیں کے مسائل سے انہیں پہلے واسطہ پڑتا ہے۔ جنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دے ہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کردے یہ بہت بلیغ شعر ہے کہ ہندوستان میں ہزاروں سال رہنے کے بعد ہند کے مسلمان بھی اسی طرح ہندی ثقافت اور فلسفے میں رنگے گئے ہیں۔ ان میں بت پرستوں ( ہندوئوں) کے ساتھ میل ملاپ کی وجہ سے ان ہی کی سی خصلتیں پیدا ہو گئی ہیں ۔ اس لئے ان کو ”دیر نشین “ کہنا کوئی غلط بات نہیں۔ علامہ اقبال نے ہمیشہ اپنی گفتگو میں یہی خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر ہندوستان کے سارے مسلمان حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائیں تو وہ ساری دنیا کو فتح کرسکتے ہیں۔ نغمے بےتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لئے طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لئے دعائیہ اختتام علامہ اقبال کی خواہش تھی کہ ہندوستان کے سارے مسلمان حقیقی معنوں میں مسلمان ہو جائیں تووہ ساری دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔۔ نظم کے آخری حصے میں شاعر کی یہ آرزو ایک دعا کی شکل میں ڈھل جاتی ہے۔ اور دعا کے یہ سلسلہ نظم کے آخری شعر تک چلتا ہے۔ اُمت مسلمہ کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے لئے اقبا ل دعا گو ہیں ”امت مرحوم“ کی ترکیب بہت معنی خیز ہے۔ مراد یہ ہے کہ مسلمان بحیثیت ایک زندہ قوم کے ختم ہو کر مرد ہ ہو چکے ہیں اب ان کی حیثیت سلیمان کے مقابلے میں ”مور بے مایہ“ کی سی ہے۔ لیکن اقبال کی خواہش ہے کہ دور حاضر کے مسلمان پھر سے جو ش و جذبہ سے لبریز ہو جائیں اور کوہ طور پر پہلے کی طرح تجلیات نازل ہوں مشکلیں امت ِمرحوم کی آساں کر دے مورِ بے مایہ کو ھمدوش ِ سلیماں کردے اقبال نے نظم کے آخری حصے میں یہ دعا ضرور کی ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل روشن اور خوش آئند ہو اور ہو نا چاہیے مگر یہ نہیں کہا کہ ”ہوگا“ ۔کیونکہ وہ ایک ایسا پر آشوب دور تھا کہ مستقبل کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا تھا۔ ایک طرف تقسیم بنگال اور پھر اٹلی کا طرابلس پر حملہ جس نے اقبال پر بڑا اثر کیا اور اسی مایوسی کے پیش نظر اقبال کو خدا سے شکوہ کرنا پڑا۔ شکوہ دراصل اسے حصے میں ختم ہو جاتا ہے۔ اور باقی تین بند قوم کی پستی پر شاعر کی اپنی طبیعت کا الجھائو، جذبات ، قوم کی ناراضگی ، نفرت اور بے اعتنائی کا آئینہ ہے۔ شاعر مایوس ہے اور مضطرب ہو کر پکار اُٹھا۔ لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزاجینے میں کچھ مزا ہے تو یہی خون جگر پینے میں مایوسی کا ایک اور انداز کچھ یوں ہے کہ، اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں آگے چل کر اقبال مایوسی کے عالم میں کہتے ہیں کہ مجھ سے دین کی جو خدمت ہو سکتی ہے اس کے بجالانے کے لئے کوشاں ہوں اگرچہ میں تنہا ہوں اور کوئی شخص میری آواز پر کان نہیں دھرتا۔ کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی اس حصے میں اقبال نے صراحت سے یہ بات بیان کر دی ہے کہ میں اگرچہ عجمی طریقے پر شعر کہتا ہوں ایرانی شاعری کی روایات کا پابند ہوں ہندی الاصل ہوں لیکن ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کی روح سے واقف ہوں اور اگر مسلمان مرے کلام کابغور مطالعہ کریں تو انہیں عجمی روایات کے پردے سے اسلام کے مطالب دقیق جھانکتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ حصہ اور ”شکوہ “ اس بلیغ اور معنی افروز شعر پر ختم ہو جاتا ہے۔ عجمی خم ہے تو کیا، مے ہے حجازی ہے مری نغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری (تدوین— شاہد محمود عطاش) شکوہ کیوں زیاں کار بنوں،سُود فراموش رہوں فکرِ فردا نہ کروں،محوِ غمِ دوش رہوں نالے بُلبُل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں جُرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے،حاکمِ بدہن ہے مجھ کو ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم قصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم ساز خاموش ہیں ،فریاد سے معمور ہیں ہم نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم اے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لے خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِلا بھی سُن لے تھی تو ازل سے ہی تری ذاتِ قدیم پُھول تھا زیب چمن پر نہ پریشان تھی شمیم شرطِ اِنصاف ہے اَے صاحبِ الطافِ عمیم بوئے گُل پھیلتی کِس طرح جو ہوتی نہ نسیم ہم کو جمعیّتِ خاطر یہ پریشانی تھی ورنہ اُمّت تیرے محبوبؐ کی دیوانی تھی؟ ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہان کا منظر کہیں مسجود تھے پتّھر،کہیں معبود شجر خُوگرِ پیکرِ محسوس تھی اِنساں کی نظر مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟ قوّتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ،تُورانی بھی اہلِ چیں چین میں،ایران میں ساسانی بھی اِس معمورے میں آباد تھے یونانی بھی اِسی دُنیا میں یہودی بھی تھے،نصرانی بھی پر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نے بات جو بگڑی ہوئی تھی،وہ بنائی کس نے تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں خشکیوں میں کبھی لڑتے ،کبھی دریاؤں میں دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی میصبت کے لئے اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لئے تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لئے سر بکف پھرتے تھے کیا،کیا دہر میں دولت کے لئے؟ قوم اپنی جو زرومالِ جہاں پہ مرتی بُت فروشی کے عِوض بُت شکنی کیوں کرتی؟ ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے پاؤں شیر کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے تجھ سے سر کش جو ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے بھی لڑ جاتے تھے نقش توحید کاہر دِل پہ بٹھایا ہم نے زیرِ حنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے تُو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا درِ خیبر کس نے شہر قیصر کا جوتھا،اُسکو کیا سَر کس نے توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے کاٹ کے رکھ دیے کفّار کے لشکر کس نے کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو؟ کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو؟ کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی اور تیرے لئے زحمت کشِ پیکار ہوئی کِس کی شمشیر جہاں گیر،جہاں دار ہوئی کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے مُنہ کے بَل گر کے "ھُوَ اللہُ اَحَد"کہتے تھے آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز قبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے محفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرے مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے کوہ میں، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے اور معلوم ہے تجھ کو،کبھی ناکام پھرے دشت تو دشت ہیں ،دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے صفحۂ دۃر سے باطل سے مٹایا ہم نے نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے پھر بھی ہم سے یہ گِلا ہے کہ وفادار نہیں ہم وفادار نہیں،تُو بھی تو دِلدار نہیں! اُمتیں اور بھی ہیں ، اُن میں گناہگار بھی ہیں عجز والے بھی ہیں، مست مئے پندار بھی ہیں ان میں کاہل بھی ہیں،غافل بھی ہیں،ہشیار بھی ہیں سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشنوں پر برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر بُت صنم خانوں مین کہتےہیں مسلماں گئے ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے منزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خواں گئ اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے خندہ زن ہے کُفر،احساس تجھے ہے کے نہیں اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں یہ شکایت نہیں، ہیں اُنکے خزانے معمور نہیں محفل میں جنھیں بات بھی کرنے کا شعور قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حُور و قصور اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور اب وہ الطاف نہیں، ہم پہ عنایات نہیں بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں کیوں مسلماں میں ہے دولتِ دنیا نایاب تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب تُو جو چاہے تو اُٹھے سینۂ صحرا سے حباب رہروِ دشت ہو سیلی زدۂ موجِ سراب طعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے،ناداری ہے کیا تیرے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟ بنی اغیار کی چاہنے والی دنیا رہ گئی اپنے لئے ایک خیالی دنیا ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے حالی دنیا ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہے کہیں ممکن ہےکہ ساقی نہ رہے، جام رہے؟ تیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئے شب کی آہیں بھی گئیں، صبح کے نالے بھی گئے دل تجھے دے بھی گئے، اپنی صِلا لے بھی گئے آ کے بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکالے بھی گئے آئے عشّاق، گئے وعدۂ فردا لے کر اب اُنھیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر دردِ لیلیٰ بھی وہی،قیس کا پہلو بھی وہی نجد کے دشت و جبل میں رَمِ آہو بھہ وہی عشق کا دل بھی وہی،خسن کا جادو بھی وہی اُمّتِ احمدِ مرسل بھی وہی، تُو بھی وہی پھر یہ آزردگیِ غیر سبب کا معنی اپنے شیداؤں یہ چشمِ غضب کیا معنی تجھ کو چھوڑا کہ رسولِ عربی کو چھوڑا؟ بُت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟ عشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟ رسمِ سلمانؓو اویس قرنیؓ کو چھوڑا؟ آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں زندگی مثلِ بلال حبشی رکھتے ہیں عشق کی خیر وہ پہلے سی ادا بھی نہ سہی جادہ پیمائیِ تسلیم و رضا بھی نہ سہی مُضطِرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہی اور پابندیِ آئینِ وفا بھی نہ سہی کبھی ہم سے، کبھی غیروں سے شناسائی ہے بات کہنے کی نہیں،تُو بھی تو ہرجائی ہے! سرِ فاران کیا دین کو کامل تُو نے اِک اشارے میں پزروں کے لئے دل تُو نے آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے پُھونک دی گرمیِ رُخسار سے محفل تُو نے آج کیوں سینے ہمارے شرر بار نہیں ہم وہی سوختہ ساماں ہیں، تجھے یاد نہیں؟ وادی نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہا قیس دیوانۂ نظّارۂ محمل نہ رہا حوصلے وہ نہ رہے،ہم نہ رہے، دل نہ رہا گھر یہ اُجڑا ہے کہ تُو رونقِ محفل نہ رہا اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی بے حجابانہ سُوئے محفلِ ما باز آئی بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لبِ جُو بیٹھے سُنتے ہیں جام بکف نغمۂ کُو کُو بیٹے سور ہنگامۂ گُلزار سے یک سُو بیٹھے تیرے دیوانے بھی ہیں مُنتظر "ھُو" بیٹھے اپنے پروانوں کی پھر ذوقِ خُود افروزی دے برقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سُوئے حجاز لے اُرا بلبلِ بے پر کو مذاقِ پرواز مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے، بُوئے نیاز تُو ذرا چھیڑ تو دے، تشنۂ مضراب ہے ساز نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نلکنے کے لئے طُور مضطر ہے اُسی آگ میں جلنے کے لئے مُشکلیں اُمّتِ مرحوم کی آساں کردے مُورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سلیماں کردے جنس نایابِ محبّت کو پھر ارزاں کر دے ہند کے دَیر نشینوں کو مسلماں کر دے جُوئے خوں می چکدا از حسرتِ دیرینہ ما می تپد نالۂ بہ نشتر کدۂ سینۂ ما بُوئے گُل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن کیا قیامت ہے کہ خود کہ خود پُھول ہیں غمّازِ چمن! عہدِ گُل ختم ہوا، ٹوٹ گیا سازِ چمن اُڑ گئے دالیوں سے زمزمہ پرداز چمن ایک بُلبل ہے کہ محو ترنّم ہے اب تک اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک قُمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں پتّیاں پُھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں ڈالیاں پیرہنِ برگ سے عُریاں بھی ہوئیں قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی کاش گُلشن سمجھتا کوئی فریاد اس کی! لُطف مرنے میں ہے، نہ مزا جینے میں کچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں کتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میں کس قدر جلواے تڑپ رہے ہیں مرے سینے میں اس گُلستان میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں داغ جو سینے میں رکھتا ہوں، وہ لالے ہی نہیں چاک اس بُلبلِ تنہا کی نوا سے دل ہوں جاگنے والے اسی بانگِ درا سے دل ہوں یعنی پھر زندہ نئے عہدِ وفا سے دل ہوں پھر اِسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوں عجمی خُم ہے تو کیا،مے تو حجازی ہے مری نغمہ ہندی ہے تو کیا،لَے تو حجازی ہے مری (تدوین— شاہد محمود عطاش) فنی جائزہ شکوہ 31 بندوں پر مشتمل ہے یہ نظم مسدس کی ہیت میں لکھی گئی ہے۔ بحر کا نام ”بحر رمل مثمن مخبون مقطوع ‘ ‘ ہے۔ بحر کے ارکان یہ ہیں۔ فَاعِلَا تُن فَاعِلَا تُن فَاعِلَا تُن فِعلن اقبال کی طویل نظم میں ”شکوہ “ فنی لحاظ سے ایک منفردمقام کی حامل ہے۔ یہی پہلی طویل نظم ہے جس میں اقبال نے اسلام کی زندہ اور فعالی قوتوں ، ماضی کے مسلمانوں کی عظمت اوج کے بعد ان کی موجودہ زبوں حالی کی داستان کو ایک ساتھ نہایت فنکارانہ انداز میں بیان کیا ہے ۔ اردو شاعری میں ایسا اندازِ بیاں کہیں نہیں ملتا۔ بقول ماہر القادری اک نئی طر نئے باب کا آغاز کیا شکوہ اللہ کا اللہ سے بصد ناز کیا نظم کا آغاز بہت systimaticہے اصل موضوع پر آنے سے پہلے اقبال نے شکوہ کرنے کی توجیہ دو بندوں میں بیان کردی ہے تاکہ نیا اور اچھوتا موضوع اچانک سامنے آنے پر قار ی کو کوئی جھٹکا محسوس نہ ہو۔ لہجے کا تنوع کسی برگزیدہ اور برتر ہستی کے سامنے شکو ہ کرنے والا اپنی مفروضات پیش کرتے ہوئے حسب ِ ضرورت مختلف انداز اختیار کرتا ہے۔ چنانچہ اقبال کے شکو ے کا لہجہ بھی متنوع ہے اور اقبال کا شکوہ اللہ جیسی بڑی ہستی سے ہے جو تمام دنیا کا مالک ہے۔ اسی لئے اقبال کے لہجے میں کہیں عجز و نیاز مندی ہے کہیں غیرت و انا کا احساس ہے کہیں تندی و تلخی ہے اور جوش ہے کہیں تاسف و مایوسی کا لہجہ ہے اور کہیں گریہ و زاری و دعا کا انداز اختیار کیا ہے۔ نفسیاتی حربے اقبال کے فن کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے نظم مےں بعض مقامات پر نفسیاتی حربوں سے کام لیتے ہوئے ایک ہی بیان سے دہرا کام لیا ہے۔ 10ویں بند کے آخری شعر سے نظم کا وہ حصہ شروع ہوتا ہے۔ جہاں پر شاعر خدا سے بے اعتنائی اور بے نیازی کا گلہ شکوہ کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں، خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہے اس طعن آمیز انداز سے مخاطب کی انا اور غیرت کو جھنجوڑ کر یہ احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کہ یہ میرا مسئلہ نہیں تمہارا مسئلہ ہے۔ ایک اور جگہ نفسیاتی حربے کو استعما ل کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں اور اسلام سے روگردانی کا اعتراف کیا ہے ۔ مگر وہ اعتراف کا اعلانیہ اظہار نہیں کرتے۔ کیونکہ علانیہ اعتراف کرنے سے ان کا اپنا موقف کمزور ہوگا۔ لہٰذا وہ اپنی کمزوری سے توجہ دوسری طرف لی جانے کے لئے فوراً نفسیاتی حربے سے کام لیتا ہے۔ اور طعنہ دیتا ہے کہ تم غیروں سے شناسائی رکھنے والے ہرجائی ہو۔ تغزل یوں تو اقبال کی پوری شاعری میں رنگ تغزل چھایا ہوا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکیمانہ نکتے بیان کرنے کے باوجود ان کی شاعری میں ساحری کا عنصر ملتا ہے۔ لیکن اس رنگ تغزل کا واضح استعمال سب سے پہلے اقبال نے ”شکوہ" میں کیاہے۔ اگرچہ اقبال ہمارے دور کے سب سے بڑے انقلاب پسند شاعر ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی بات کہنے کے لئے نہ صرف نئے پیمانے اور نئے سانچے استعما ل کئے بلکہ روایت کا پورا احترام ملحوظ رکھا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ پرانے اسلوب اورپرانے سانچے فرسودہ نہیں ہو گئے ۔ بلکہ انہیں نئے رنگ اور آہنگ اور نئے مفاہیم کے ساتھ برتا جا سکتا ہے۔ تیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئے شب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئے دل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئے آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر ایجاز و بلاغت ”شکوہ“ کے بعض حصے ، اشعار اور مصرعے ایجاز و بلاغت کے شہکار ہیں۔ تاریخ کے طویل ادوار ، اہم واقعات اور روایات اور مختلف کرداروں کی تفصیلی خصوصیات کو بڑے بلیغ انداز میں نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائوں میں کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائوں میں چند محسنات شعر ”شکوہ “ حسن زبان و بیاں کا شا ہکارہے۔ انتخاب الفاظ، صنعت گری ، بندش تراکیب ، حسن تشبیہ و استعارہ ، مناسب بحر ، موزوں قوافی، وسعت معانی اور زبان و بیان کی خوبیوں کے سبب نظم بہت ہی دلکش اور موثر ہے۔ اقبال نے نظم شکوہ میں صنعتوں کا استعمال بہت بہترین انداز میں کیا ہے۔ صنعت مراعاة النظیر:. نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں صنعت ترافق :. نقش تو حید کا ہر دل میں بٹھایا ہم نے زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے صنعت تلمیح:۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و آیاز نہ کوئی بندہ رہانہ کوئی بندہ نواز صنعت طباق ایجابی:. آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر تصویر کاری ،تشبیہ ، استعارہ ”شکوہ “کی ایک اور بڑی فنی خوبی اس کی تصویر کاری ہے شاعر نے خوبصورت الفاظ کی مدد سے اس نظم کو بہت خوبصورت تصویریں عطا کیں ہیں۔ آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز کلام اقبال کی سب سے نمایاں خوبی تشبیہ ہے۔ شکوہ میں علامہ اقبال نے کئی خوبصورت تشبیہات استعمال کی ہیں ان خوبصورت اور بلیغ تشبیہات نے اشعار کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ مثلاً اقبال نے ایک شعر میں امت مسلمہ کو ”مور بے مایہ“ سے تشبیہ دی ہے۔ جو بہت ہی بلیغ ہے۔ مشکلیں امت ِ مرحوم کی آساں کر دے مورِ بے مایہ کو ھمدوش سلیماں کر دے اقبال کی شاعری میں استعاروں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ”شکوہ“ کے یہ اشعار شعری اسلوب کا نادر نمونہ ہونے کے ساتھ استعاروں پر شاعر کی زبردست جمالیاتی گرفت کا بھی ثبوت ہے۔ مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز تو ذرا چھیڑ تو دے تشنہ مضراب ہے ساز اقبال نے ”شکوہ “ میں تشبیہ اور استعاروں کے علاوہ علامتوں کا بھی بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ جو کہ اقبال کی گہری فلسفیانہ اور حکیمانہ فکر کی غماز ہیں، اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں جبکہ اقبال نے کلام میں استفہامیہ لہجے کوبھی اپنایا ہے۔ جس سے جوش میں اضافہ ہوا ہے۔ کس نے ٹھنڈا کےا آتش کدہ ایراں کو کس نے پھر زندہ کیا تذکرہ یزداں کو ترنم اور نغمہ اقبال نے مشرق و مغرب کے خزانہ علمی سے فائدہ اٹھایا اور صنائع لفظی کی غایت سے غرض رکھی ہے۔ یعنی ترنم اور نغمہ کی تخلیق اس سلسلے میں اس نے مغرب کے انتقادی اصول کی زیادہ پیروی کی ہے۔ ترنم اور نغمہ پیدا کرنے کے لئے اقبال نے تجنیس، ترصیح وغیرہ کی بجائے حروف کی تکرار اور سلسلہ ہائے حروف کی تکرار سے بہت کام لیا ہے۔ شکوے کے پہلے بند میں ترنم بھی ہے اور نغمہ بھی اس میں مختلف حروف ِ علت کی تکرار اور ان کے تبادلے کو بڑا دخل حاصل ہے۔ کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں ؟ فکر فردا نہ کروں محوِ غم دوش رہوں ؟ مجموعی جائزہ علامہ اقبال نے ”شکوہ میں ایسا انداز اختیار کیا ہے جس میں مسلمانوں کے عظیم الشان ، حوصلہ افزا اور زندہ جاوید کارنامے پیش کئے گئے۔ لہٰذا اس نظم کے پڑھنے سے حوصلہ بلند ہوتا ہے قوت عمل میں تازگی آتی ہے۔ جو ش و ہمت کو تقویت پہنچتی ہے۔ عظیم الشان کارنامے اس حسن ترتیب سے جمع کر دئیے گئے ہیں کہ موجودہ پست حالی کے بجائے صرف عظمت و برتری ہی سامنے رہتی ہے۔ گویا یہ شکوہ بھی ہے اور ساتھ ہی بہترین دعوت عمل بھی۔ اس لحاظ سے اردو زبان میں یہ اپنی نوعیت کی بالکل یگانہ نظم ہے۔بقول تاثیر”شکوہ لکھا گیا تو اس انداز پر سینکڑوں نظمیں لکھی گئیں ملائوں نے تکفیر کے فتوے لگائے اور شاعروں نے شکوہ کے جواب لکھے لیکن شکوہ کا درست جواب خود اقبال ہی نے دیا۔“ |
|
|
|
| طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (11-11-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
جواب شکوہ
”شکوہ“ کے جواب میں نظمیں دیکھ کراقبال کو خود بھی دوسری نظم ”جواب شکوہ“ لکھنی پڑی جو1913کے ایک جلسہ عام میں پڑھ کر سنائی گئی۔ انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ”شکوہ “ پڑھی گئی تو وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت ہوئی یہ بہت مقبول ہوئی لیکن کچھ حضرات اقبال سے بدظن ہوگئے اور ان کے نظریے سے اختلاف کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ”شکوہ“ کا انداز گستاخانہ ہے۔ اس کی تلافی کے لئے او ریوں بھی شکوہ ایک طرح کا سوال تھا جس کا جواب اقبال ہی کے ذمے تھا۔ چنانچہ ڈیڑ ھ دو سال کے عرصے کے بعد انہوں نے ”جواب شکوہ“ لکھی۔ یہ 1913ءکے جلسے میں پڑھی گئی۔ جو نماز مغرب کے بعد بیرونی موچی دروازہ میں منعقد ہواتھا۔ اقبال نے نظم اس طرح پڑھی کہ ہر طرف سے داد کی بوچھاڑ میں ایک ایک شعر نیلام کیا گیا اور اس سے گراں قدر رقم جمع کرکے بلقان فنڈ میں دی گئی۔ شکوہ کی طرح سے ”جواب شکوہ“ کے ترجمے بھی کئی زبانوں میں ملتے ہیں * 1 فکری جائزہ o 1.1 شکوہ کی اثر انگیزی o 1.2 جواب شکوہ کی تمہید o 1.3 حالتِ زار کے حقیقی اسباب o 1.4 اسلاف سے موازنہ o 1.5 پر امید مستقبل o 1.6 دعوت عمل * 2 فنی تجزیہ o 2.1 انداز اور لہجہ o 2.2 ڈرامائی کیفیت o 2.3 تشبیہ ،استعارات ، تصویر کاری o 2.4 صنعت گری o 2.5 دیگر فنی محاسن * 3 مجموعی جائزہ فکری جائزہ شکوہ میں اقبال نے انسان کی زبانی بارگاہ ربانی میں زبان شکایت کھولنے کی جرات کی تھی یہ جرات عبارت تھی اس ناز سے جو امت محمدی کے افراد کے دل میں رسول پاک سے عقیدیت کی بناءپر پیدا ہوتی ہے ۔جواب شکوہ درحقیقت شکوہ کا جواب ہے۔ شکوہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی بیاں کی گئی تھی اور اس کی وجہ پوچھی گئی تھی پھر وہاں مایوسی اور دل شکستگی کی ایک کیفیت تھی ۔”جواب شکوہ“ اس کیفیت کی توجیہ ہے اور شکوہ میں اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب دیے گئے ہیں ۔ جواب شکوہ میں اسلامی تاریخ کے بعض واقعات اور جنگ بلقان کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں۔ نظم کے موضوعات و مباحث کے مطالعہ سے ہم اسے ذیل کے عنوانات میں تقسیم کرتے ہیں۔ شکوہ کی اثر انگیزی پہلے پانچ بندوں میں انسان نے اللہ تعالیٰ سے جو شکوہ کیا تھا اس کا ردعمل اور اثر انگیزی کو بیان کیا گیا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ میرا نالہ یا فریاد اس قدر بھرپور اور پرُ تاثیر ہے کہ آسمانوں پر بھی اس کی بازگشت سنی گئی۔ آسمانوں اور اس کے باسیوں میں میرے اس گستاخانہ شکوے سے کھلبلی مچ گئی اور یہی ان کا موضوع سخن ٹھہرا۔ اہل آسمان حیران تھے کہ یہ کون نادان ہے جو خدا سے شوخی کا مرتکب ہو رہا ہے پیر گردوں کچھ کہتا ہے سیارے کچھ اور چاند کچھ چاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئی کہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئی جب فرشتوں کو معلوم ہو ا کہ یہ شکوہ کرنے والا انسان ہے تو فرشتوں کو اس بات کا افسوس تھا کہ پستی کا یہ مکین بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں جانتا ہے۔ ناز ہے طاقت گفتار پر انسانوں کو بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو جہاں تک شوخی و گستاخی کا تعلق ہے علامہ مرحوم سے پہلے ہی صوفیا اپنی شطحیات (صوفیوں کی لاف زنی) میں اس سے زیادہ گستاخانہ انداز ِ تخاطب اختیار کر چکے ہیں ۔ بہر حال انسان کے اس انداز ِ شکوہ کا اثر یہ ہوا کہ خود خدا نے شکوہ کے حسن اد ا کو سراہا اور پھر جواب مرحمت فرمایا۔ شکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تونے ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تونے جواب شکوہ کی تمہید چھٹے بند میں خدا کی طرف سے ”شکوہ“ کا حوالہ دے کر جواب دیا گیا ہے۔ شکوہ میں شاعر نے مسلمانوں کی بدحالی اور بے چارگی کا سبب اللہ کو مسلمانوں پر عد م لطف و کرم کو قرار دیا تھا۔ جبکہ ”جواب شکوہ“ میں اللہ اس کا جواب دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ ہم تو عنایت و مدارات کرنے کے لئے تیار ہیں مگر کوئی سائل ہے اور نہ ہی امید وار لطف و کرم ،ہم تو انسان کی ہر خواہش پوری کرنے کے لئے تیار ہیں اور اگر مسلمان اپنی نیت میں اخلاص اور عمل میں گہرا پن لے آئے تو خاکستر سے بھی ایک نیا جہاں پیدا ہو سکتا ہے۔ ہم تومائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھلائیں کسے؟ رہرو منزل ہی نہیں ”شان کئی “سے مراد کیانی خاندان کے بادشاہوں کی طرف ہے۔ کیونکہ اس خاندان کے نام سے پہلے ”کے“ کا لفظ آتا ہے۔ مثلاً کیقباد ، کے خسرو کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں آخری مصرعے میں کولمبس کی طرف اشارہ ہے کولمبس نے محض اپنی مہم جوئی کی بدولت براعظم امریکہ دریافت کیا۔ [ترمیم] حالتِ زار کے حقیقی اسباب آگے چل کر اس نظم میں مسلمانوں کی حالت زبوں کے حقیقی اسباب کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اور اقبال کے نزدیک اس کا بنیادی سبب مذہب سے بے اعتنائی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی صفوں میں فکری اعتبا ر سے الحاد و کفر اور لادینیت کی تحریکیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ اور اس لئے ان اندر مذہب کی حقیقی روح ختم ہو گئی ہے۔ شکوہ میں مسلمانوں نے فریاد کی تھی کہ، صفحہ دہر سے باطل کو مٹا یا ہم نے نوع انسان کوغلامی سے چھڑایا ہم نے یہاں ”جواب شکوہ“ میں اس دعویٰ کی تردید کی جا رہی ہے اور تردید کا رنگ طنز کی شکل میں بدل گیا ہے۔ درحقیقت اس نظم کے اس حصے میں اقبال نے امت مسلمہ کو فکری و اعتقادی گمراہیوں ، کجرویوں اور عملی کمزوریوں کو بڑے موثر انداز میں بے نقاب کیا ہے۔ اور جب اقبال یہ کہتے ہیں تم سبھی کچھ ہو بتائو تو مسلمان بھی ہو تو پڑھنے والا یہ پڑھ کر اور سننے والا سن کر تڑپ اٹھتا ہے اس حصے میں اقبال نے بہت ہی معنی خیز اشعار کہے اور مسلمانوں کو جو بت پرست کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر“ کا فریضہ انجام دینے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ دنیاوی آقا کی خوشنودی کے لئے سب کچھ کیا جاتا ہے اور صوم و صلوة سے بے پروا ہو جاتے ہیں ۔ اس معنی میں ہم بت گر ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح بت شکن نہیں ۔ ہمارے ابا واجداد سنت ابراہیمی پر چلتے تھے اور ہم سنت آزری یا سنت بتگری پر بت شکن اُٹھ گئے ، باقی جو رہے بت گر ہیں تھا براہیم پدر ، اور پسر آذر ہیں علامہ اقبال یہاں ایک ایک اہم کام کی نشاندہی کرتے ہیں اور وہ یہ کہ مسلمانوں میں سحر خیزی بالکل ختم ہوگئی ہے اور سویرے اٹھنا ان کے لئے مشکل ہے۔ کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے! ہم سے کب پیار ہے؟ ہاں نےند تمہیں پیاری ہے یہاں اقبال تقدیر کے ناقص تصور کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ جس نے مسلمانوں کو بے عمل بنا دیا اور سب کچھ تقدیر پر چھوڑ دیا اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہتے ہیں۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو اقبال کے خیال میں مسلمان کبھی اپنی میراث سے کنا رہ کش نہیں ہوتا۔ لیکن آج کے مسلمان میں سب سے زیادہ کمزوری یہی ہے کہ وہ اپنی میراث کو بھول چکا ہے۔ کیونکہ میراث کا حقدار بننے کے لئے اپنے آبا ءکی طرح توحید کے ضابطے کی پابندی لازمی ہے اور موجودہ مسلمان تو حید کی افادیت سے نا آشنا ہو کر رہ گیا ہے۔ تھے تو آبا وہ تمہارے ہی ، مگر تم کیا ہو ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فرد ا ہو اسلاف سے موازنہ نظم کے اس حصے میں مسلمانوں کی بے چارگی اور زبوں حالی کے سلسلہ بیان میں ان کی انفرادی اور اجتماعی خامیوں کو اجاگر کیا ہے اور اقبال نے مسلمانوں کے اسلاف کا ذکر کیا ہے ۔ اقبال کا خیال ہے کہ ہمارے اسلاف اپنے اخلاق و کردار علم و فضل اور گفتار و کردار کے اعتبار سے اس قدر بلند مرتبت اور عظیم تھے کہ ہمارے اور ان کے درمیان زمین وآسمان کافرق ہے۔ بھلا ان کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے۔ علامہ اقبال نے جدید تعلیم اور اس کے زیر اثر پیدا ہونے والی معاشرتی اور مجلسی خرابیوں پر تنقید کی ہے۔ یہ صورت حال منطقی ہے توجیہ یہ پیش کی ہے کہ اگر بیٹا نکھٹو ہو تو اسے باپ کی جائیدا د سے عاق کردیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ مسلمانوں کے بزرگوں نے اسلام کی وجہ سے دنیا میں عزت پائی اور تم قرآن چھوڑ کر ذلیل و خوار ہوئے بزرگوں سے تمہیں کیا روحانی نسبت ہے ۔ ہر کوئی مست مئے ذوقِ تن آسانی ہے تم مسلمان ہو؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے؟ حیدری فقر ہے ، نے دولت عثمانی ہے تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارک ِ قرآں ہو کر لیکن اس مایوسی کے باوجود اقبال مایوس نہیں وہ اپنی قوم کو پیغام دیتے ہیں کہ ، مسلمانوں کو چاہیے کہ اس آزمائش کے کڑے دور میں اپنے ایمان میں حضرت ابراہیم کی سی پختگی عزم اور یقین پیدا کر دیں تاکہ زمانے کی برق و آتش زنی ان کے لئے گل و گلزار بن جائے۔ آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا شکوہ کی طرح جواب شکوہ میں بھی مسلمانوں کی پستی اور زبوں حالی کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جس سے مایوسی کی ایک کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن اس مایوسی کو ختم کرنے کے لئے اقبال مسلمانوں کو اطمینان دلاتے ہیں کہ ہاتھ پائوں توڑنا بھی مردانگی کے زمرے میں نہیں آتا ۔ یہاں سے امید کا پیغام شروع ہوتا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا ازسرنو عروج قریب آگیا ہے ۔ اس کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ مسلمان اور اسلام کبھی مٹ نہیں سکتے۔ رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہے یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے پر امید مستقبل جس دور میں اقبال نے یہ نظم لکھی اس وقت عالم اسلام میں مایوس کن واقعات کی بھرمار تھی۔ 1912ءمیں بلقان نے ترکی پر حملہ کر دیا۔ بلغاریہ میں شورش بپا ہوئی۔ (ہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کا) ایران میں روس نے پیش قدمی کی لیکن ایسی حالت میں اقبال نے مسلم قوم کو پیغام دیا کہ کہ انہیں ان باتوں سے شکستہ دل نہیں ہونا چاہیے قوموں کی تاریخ میں نشیب و فراز تو آتے رہتے ہیں۔ اسلام کو کوئی بھی مٹا نہیں سکتا کیوں کہ اس کے پس منظر میں سےنکڑوں برس کی جدوجہد اور طاقتور عوامل کارفرما ہیں اس کے علاوہ انسان کی ظاہر ی آنکھ احوال و واقعات کی تہہ میں چھپے ہوئے حقیقی عوامل کا پتہ نہیں لگا سکتی ۔ اقبال کے نزدیک بہت ممکن ہے کہ ظاہری آفت ان کے لئے کسی وقت باعث رحمت ثابت ہو۔ جیسے کہ کہ فتنہ تاتار کے سلسلے میں ہوا۔ پہلے تو انہوں نے اسلام کو تہس نہس کیا لیکن بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو یہی لوگ اسلام کی امین بنے اوردنیا کی کئی بڑی بڑی اسلامی سلطنتوں کی بنیاد ڈالی۔ ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے اقبال مسلمانوں کو حوصلہ دیتا ہے کہ یہ وقت ہمت ہارنے کا نہیں ہے بلکہ میدانِ عمل میں نکل کر مقابلہ کرنے کا ہے۔ اور مسلمانوں کو ان کے اہم فرائض کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے دعوت عمل آگے چل کر علامہ اقبال مسلمانوں کو دعوت عمل دیتے ہیں ۔ یہ نظم کا آخری حصہ ہے۔اقبال کہتے ہیں کہ اے مسلمانوں ہماری قوت کا راز جذبہ عشق میں مضمر ہے اور اس کا سرچشمہ حضور کی ذات گرامی ہے۔ چونکہ اُن کا مرکزی نقطہ عشق رسول ہے اس لئے ”جواب شکوہ“ کے آخری حصے میں جذبہ عشق سے سرشار وہی والہانہ کیفیت موجود ہے جو حضور کا ذکر کرتے ہوئے اقبال پر عموماً طاری ہوتی تھی۔ موذن رسول حضرت بلال عشق رسول کا مثالی پیکر تھے اور ان کا تعلق افریقہ کی سرزمین جیش سے تھا اس لئے تذکرہ رسول کے ضمن میں بلالی دنیا (جیش ) کا ذکر بھی کیاہے۔ آخری بند میں اقبال حق کے لئے جدوجہد کی تلقین کرتے ہیں اے مسلمان ، عقل تیری ڈھال اور عشق تیری تلوار ہے۔ عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تری مرے درویش ! خلافت ہے جہانگیر تری آخر ی شعر کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مسلمان آپ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں تو پھر تقدیر بھی ان کے آگے سرنگوں ہوجائے گی۔ اور کائنات ان کے تصرف میں ہوگی۔اقبال نے عمر بھر ایسے لاثانی اشعار لکھے ہیں لیکن یہ شعر اپنی جگہ منفرد ہے۔ کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں فنی تجزیہ ”جواب شکوہ “ مسدس ترکیب بند کی ہیت میں 32 بندوں پر مشتمل ہے ۔ یہ بحر رمل مثمن مخبون مقطوع میں ہے۔ بحر کے ارکان یہ ہیں۔ فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن انداز اور لہجہ ”جواب شکوہ“ چونکہ شکوہ کے جواب میں لکھی گئی اس لئے اس کا انداز دوسری طویل نظموں کے بر عکس براہ راست خطاب کا ہے۔ اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو یا پوری امت مسلمہ کو خطاب کرتے ہوئے شکوہ کا جواب دیا گیا ہے۔ براہ راست اندازِ تخاطب کی وجہ سے نظم میں علامتی اور ایمائی رنگ بہت معمولی ہے۔اس لئے ”جواب شکوہ“ میں تغزل نہ ہونے کے برابر ہے۔ نظم کا لہجہ شروع سے آخر تک یکساں نہیں ہے کئی مقامات پر لہجہ دھیما ہے جہاں مسلمانوں کی فکری اور عملی گمراہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔وہاں تنقیدی لہجہ ہے اس کے علاوہ طنزئیہ لب و لہجہ بھی اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں جلوہ طور تو موجود ہے موسی ہی نہیں قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں کچھ بھی پیغام ِ محمد کا تمہیں پاس نہیں بعض جگہوں پر تاسف کا لہجہ پایا جاتا ہے فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں آخر میں اقبال دعوت عمل دیتے ہیں اور مسلمانوں کو اسلام کا پیغام پھیلانے اور رسول کے نام کو زندہ و تابندہ کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہاں لہجہ پر جوش ہے۔ قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کردے کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں ڈرامائی کیفیت ”جواب شکوہ“ کے پہلے چھ بندوں میں ڈرامائی کیفیت موجود ہے اس میں اہل آسمان یعنی سیاروں ، کہکشاں ، چاند اور فرشتوں کی زبانی اس ڈرامے کے مختصر مکالمے کہلوائےگئے ہیں ۔ ان مکالموں اور گفتگو کی وجہ سے نظم میں ڈرامائیت آجاتی ہے۔ ڈرامے کے کلائمیکس پر ایک آواز آتی ہے جو اہل آسمان کے سوالات کا جواب ایک طویل مکالمے کی صورت میں دیتی ہے یہ آواز اس ڈرامے کا آخری اور سب سے اہم کردار ہے آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ تیرا اشک ِ بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تیرا آسماں گیر ہوا نعرہ مستانہ تیرا کس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تیرا شکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تونے ہم سخن کر دیا بندوں کوخدا سے تونے تشبیہ ،استعارات ، تصویر کاری اقبال تشبیہ و استعارہ کے بادشاہ ہیں ۔ جواب شکوہ میں اقبال نے متعدد خوبصورت تشبیہات کا استعمال کیا ہے۔ ٍ بت شکن اُٹھ گئے باقی جو رہے بتگر ہیں تھا ابراہیم پدر اور پسر آزر ہیں ”جواب شکوہ“ کے فنی بانکپن اور عظمت کے ضامن اس کے تراشیدہ استعارات ہیں جو معنویت کے پیش نظر نہایت قابل قدر ہیں۔ قیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہے شہر کی کھائے ہوا باد یہ پیمانہ رہے ”جواب شکوہ“ میں اقبال نے کئی اشعار کو ایسے خوبصورت الفاظ کا جامہ پہنایا ہے کہ تصویر کاری یا محاکات نگاری کی عمدہ مثالیں لگتی ہیں۔ کشتی حق کا زمانے میں سہارا تو ہے عصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہے صنعت گری صنعت تلمیح:۔ آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا صنعت طباق ایجابی منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک صنعت مراعا ة لنظیر: حرم پاک بھی ، اللہ بھی قرآن بھی ایک کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک حسن ِ تعلیل کچھ جو سمجھا جو مرے شکوے کو رضواں تو سمجھا مجھ کو جنت سے نکالا ہو ا انساں سمجھا دیگر فنی محاسن جس سے شکوہ کیا جائے جواب میں اس کی طرف سے بالعموم معذرت پیش کی جاتی ہے مگر جواب شکوہ کا حسن بیان دیکھیے کہ اس میں شکوہ کرنے والے پر اس کا شکوہ لوٹا دیا گیا ہے۔ گویا شکوہ کرنے والے کا منہ بند کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ اشعار قابلِ ذکر ہیں جن میں بلا کا طنز اور کاٹ موجود ہے۔ یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو بتائو تو مسلمان بھی ہو جواب شکوہ میں خوبصورت تراکیب بھی ملتی ہیں ۔ شاعر نے اپنے مطلب کی وضاحت کے لئے ایسی بلیغ اور عمدہ ترکیب سازی سے کام لیا ہے کہ نہایت مشکل بات دو تین لفظوں کی مدد سے بڑے خوبصورت انداز میں بیان کر دی ہے۔ مثلاً مردم چشم زمین، بانگ درا، برق طبعی، شعلہ مقالی ، قدسی الاصل ، دانائے رموز کم،وغیرہ، جبکہ مشکل پسندی اور فکر وخیال کی جدت کے اعتبار سے یہ نظم اقبال کا حسین و جمیل پیکر ہے۔ تاثرات کی شدت اور گہرائی نظم کے ہر حصے میں موجود ہے۔ اور اس کااختتام تو لا جواب ہے۔ کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں پوری نظم کا نچوڑ یہ شعر ہے امت مسلمہ کے شکوے کے جواب میں یہی شعر بہت ہے۔ مجموعی جائزہ ”جواب شکوہ“میں مسلمانوں کے مذہبی ، روحانی اور اخلاقی انحطاط کے اسباب نہایت دل کش انداز میں بیان کئے گئے ہیں اور مسلمانوں کی شیرازہ بندی کا علاج بھی تجویز کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے کردار سے رسول پاک کے امتی ہونا ثابت کریں اور ان کے دامن سے وابستہ رہنے کا عزم کریں۔ یہی خداوند تعالی تک رسائی کا راز ہے۔ ”شکوہ“ کو اگر مذہبی شاعری کی وسواخت کہا جائے تو وسواخت کا خاتمہ عام طور پر محبوب سے صلح صفائی پر ہوتا ہے اس لحاظ سے ”جواب شکوہ“ تعلقات کے ازسرنو خوشگوار ہونے اور اعتدال پر آنے کا اعلان ہے۔ بقول عبدالقادر سروری ” شکوہ“ ”جواب شکوہ“ میں سے کسی نظم کا جواب اردو میں نہیں ہے۔ شکوہ میں جس شاعرانہ انداز سے مسلمانوں کی پستی کا گلہ خدا سے کیا گیا ہے اور ”جواب شکوہ “ میں ابھرنے کی جو ترکیب بتائی گئی ہے اس میں الہام ِ ربانی کی شان نظر آتی ہے۔“ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
خصر راہ
”خضر راہ“نظم اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے 37 ویں سالانہ اجلاس میں جو 12 اپریل 1922ءاسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ میں منعقد ہوا تھا میں ترنم سے پڑھ کر سنائی۔ بعض اشعار پر اقبال خود بھی بے اختیار روئے اور مجمع بھی اشکبار ہو گیا۔ عالم اسلام کے لئے وہ وقت بہت نازک تھا۔ قسطنطنیہ پر اتحادی قابض تھے ۔ اتحادیوں کے ایماءپر یونانیوں نے اناطولیہ میں فوجیں اتار دی تھیں۔ شریف حسین جیسے لوگ انگریزوں کے ساتھ مل کر اسلام کا بیڑہ غرق کرنے میں پیش پیش تھے۔ خود ہندوستان میں تحریک ہجرت جاری ہوئی۔ پھر خلافت اور ترک موالات کا دور شروع ہوا۔ ادھر دنیائے اسلام کے روبرو نئے نئے مسائل آگئے۔ اقبال نے انہی میں سے بعض اہم مسائل کے متعلق حضرت خضر کی زبان سے مسلمانوں کے سامنے صحیح روشنی پیش کی۔ اور نظم کا نام خضر راہ اسی وجہ سے رکھا۔ ابتداءمیں نظم میں صرف دو عنوان تھے۔ پہلے دو بندوں کا عنوان تھا ”شاعر“ یعنی شاعر کا خضر سے خطاب باقی نو بندوں کا عنوان تھا ”جواب خضر “ نظر ثانی میں اقبال نے مختلف مسائل پر الگ الگ عنوان قائم کر دئیے۔ * 1 فکری جائزہ * 2 فنی جائزہ o 2.1 نظم کے کردار o 2.2 ڈرامائی کیفیت o 2.3 نظم کا لہجہ o 2.4 رنگ تغزل o 2.5 تراکیب، تشبہات o 2.6 صنائع بدائع کا استعمال o 2.7 مجموعی جائزہ فکری جائزہ اقبال کی یہ نظم اپنے دور میں بہت زیادہ مقبول ہوئی اس کے بارے میں پروفیسر اسلوب احمد انصار ی لکھتے ہیں، ” اس نظم کی ہر دلعزیزی کا بڑا سبب اس کے موضوع یا موضوعات کا ہنگامی اہمیت کا حامل ہوناتھا۔“ اس نظم کو فکری لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک حصہ ”شاعر“ کے عنوان سے پس منظر، خضر کی آمداور شاعر کے سوالات پر مبنی ہے جب کہ دوسرا حصہ خضر کے جواب پر مشتمل ہے۔ نظم کی ابتداءیوں ہوتی ہے کہ شاعر انتہائی پریشانی اور ذہنی کشمکش کی حالت میں سکون کی تلاش میں ساحل دریا کی جانب رخ کرتا ہے۔ شاعر کو ایک نئی صبح کی تلاش ہے۔ جہاں زندگی با معنی ہو جہاں اس کاوطن عزیز فرنگی جال سے آزاد ہو۔ جہاں عالم اسلام یورپی رخنہ گردوں کے فتنہ و فساد سے محفوظ ہو۔ یہاں پہنچ کر اقبال دو حصوں میں منقسم ہو جاتا ہے ایک شاعر اقبال اور دوسرا مفکر اقبال، شاعر اقبال سوال کرتا ہے اور مفکر اقبال جواب دیتاہے۔ پہلے بند میں منظر کشی کا بہترین نمونہ ملتاہے۔ جو کہ ایک خاص کردار خضر کے ظہور کے لئے ہے۔ یہاں ایک سکوت کی فضاءملتی ہے وہ دراصل اس انسانی ماحول کے جمود کی طرف اشارہ کرتاہے۔ جس کو توڑنے کے لئے ہی شاعر کا دل ایک جہان ِ اضطراب بناہواہے۔ جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شےر خوار موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب! منظر فطرت کا یہ طلسم پانچویں ہی شعر میں ٹوٹ جاتا ہے اور نہایت ڈرامائی طور پر خواجہ خضر کی شخصیت منظر پر اُبھرتی اور جزو ِ منظر بن جاتی ہے۔ خضر شاعر کو بتاتا ہے کہ اگر چشم و دل وا ہو یعنی انسان کی روح اپنی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ بیدار ہو جائے، دل کی آنکھ کھل جائے تو دل کے اندر وہ روشنی پیدا ہو جاتی ہے جو مظاہر حیات اور واقعات عالم کے پیچھے مضمر حقائق کے مشاہدے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ کہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے اسرار ازل چشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجاب! دوسرے بند کے پہلے دو شعروں میں قبال ”خضر “ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں کہ کائنات کے تما م سربستہ راز آپ پر منکشف ہیں اور آپ کو مستقبل کے وہ حالات بھی معلوم ہیں جو مستقبل میں ظہور پزیر ہوں گے۔ اقبال خضر کو موسیٰ کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں کہ موسی کا علم بھی آپ کے سامنے ہیچ ہے اسی لئے وہ اُن کے سامنے چند سوالات رکھتے ہیں اور سوال اُسی سے پوچھے جاتے ہیں جو صاحب ِ علم و صاحب اسرار ہو۔ سوالات کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ پہلا سوال:۔ خضر کو صحرا نوردی اس قدر عزیز کیوں ہے؟ دوسرا سوال:۔ زندگی کا راز کیا ہے؟ تیسرا سوال:۔ سلطنت کیا چیز ہے؟ چوتھا سوال:۔ سرمایہ اور محنت میں جھگڑے کی وجہ کیا ہے؟ پانچواں سوال:۔ دنیائے اسلام کی زبوں حالی کی وجہ کیا ہے؟ اقبال کا انداز نظر بالکل انسانی او ر آفاقی تھا۔ وہ سماجی انصاف کی علم برداری کرنا اپنا فرض تصور کرتے تھے۔اسی طرح کمزوروں ، مظلوموں اور محروموں کی حمایت اپنا فرض جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی ملت دوستی کو ”ایشیاءکا خرقہ دیرینہ‘ ‘سے وابستہ کر دیا ہے یعنی وہ اپنے ملی موقف میں ایک آفاقی نقطہ نظر سے پورے مشرق کو اس لئے شامل کرتے ہیں کہ اس کے خرقہ دیرینہ کو بہت ہی جابرانہ اور ظالمانہ انداز میں چاک کرکے اس کی قیمت پر مغربی اقوام نو دولت ”نوجواں“ پیرا پو ش ہو رہے ہیں۔ یہاں اقبال کی نظر انتہائی وسیع ہو جاتی ہے ۔ وہ دنیائے اسلام کو عالم مشرق کا مترادف قرار دیتے ہیں کہ ملت اسلامیہ مشرق کی نمائندگی کرتی ہوئی ایک خطرناک امتحان میں پڑ گئی ہے۔ بادشاہت و ملوکیت سے اقبال کو نفرت ہے ۔ اقبال کے خیال میں اگرچہ سکندر مر گیا ہے۔ اُس کو دوام نہیں ملا مگر فطرت اسکندری ابھی قائم ہے ۔ حکمرا ن طبقہ ابھی تک دادِ عیش دے رہا ہے۔ گرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی فطرت اسکندری اب تک ہے گرم نائو نوش دوسری طرف مسلمان ، مسلمان کا دشمن ہو گیا ہے اور ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو“ ۔ کے سنہرے اصول کو چھوڑ کر ذاتی غرض کی خاطر ایک دوسرے کا خون بہا رہا ہے۔ یہاں اقبا ل نے شریف مکہ کے حوالے سے عربوں کی ترکی سے غداری کو حضور کے دین کو بیچنے کے مترادف قرار دیا ہے، بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی خاک و خون میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش اور ایک طرف طاغوتی قوتیں ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی ہیں ۔ یہ قوتیں مسلمانوں کی قوت برداشت کا امتحان لے رہی ہیں۔ آگ ہے ، اولاد ابراہیم ہے ، نمرود ہے کیا کسی کو کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے تیسرے بند میں خضر پہلے سوال کا جواب دیتے ہیں ۔ اقبال فطرتاً صحرائیت پسند او ر بدویت پسند ہے۔ اقبال کے نزدیک جو افراد او ر قومیں مسلسل جدوجہد کرتی ہیں وہ دوام پاتی ہیں جہاں و ہ تھک کر بیٹھ جاتی ہیں موت اُن کو دبوچ لیتی ہے۔اور صحرا نوردی مسلسل حرکت کا استعارہ ہے۔ جو اس حقیقت کو روشن کرتی ہے کہ قدرت کے کارخانے میں سکون محال ہے۔ دنیا میں ہر لمحہ حرکت و تغیر کا تماشا جارہی ہے اور اس تماشے کے کسی منظر کو قیام نہیں ہے ۔ خضر اپنی مسلسل دوڑ دھوپ اور حرکت و عمل کو اصل زندگی بتاتا ہے۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ صحرا سے اقبال کو اتنی انسیت کیوں ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کا روحانی مرکز اور اصل مولد و منشا صحرائے عرب ہے۔ اسی بدولت سادہ زندگی کی وجہ سے مسلمان تما م دنیا پر چھا گئے ۔ اُن میں فاتحانہ اخلاق پیداہوئے صحرائیت میں تکلف و تصنع کا کوئی گزر نہیں۔ صحرا نشین آدمی میں بلا کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ ایک متمدن انسان جوش اور ولولے سے عاری ہوتا ہے ۔ صحرا نشین کی ضروریات زندگی بھی حد درجہ محدود ہوتی ہیں۔ فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مرد ِ کہستانی اگلے دو بندوں میں زندگی کے متعلق بحث کی گئی ہے۔ بقول اسلوب احمد انصاری ” زندگی اقبال کے نزدیک مترادف ہے ایک ایسے مظہر کے جس کی وسعتوں اور گہرائیوں کو ادراک کی گرفت میں آسانی سے نہیں لایا جا سکتا۔“ اقبال انسان کو بتاتا ہے کہ زندگی سود و زیاں ، نفع نقصان کی سوچ سے بلند تر چیز ہے۔ اس میں کبھی تواعلیٰ مقصد کے لئے جان قربان کردی جاتی ہے جس طرح حضرت امام حسین نے کربلا میں اور حضرت اسماعیل نے خدا کے حکم پر اپنی جان ِ عزیز کو قربانی کے لئے پیش کیا اور کبھی اعلیٰ مقاصد کی خاطر ہجرت کرکے جان بچائی جاتی ہے۔ برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی! انسان کو چاہیے کہ وہ آج اور کل ، ہفتوں ، مہینوں اور سالوں کے حسا ب سے زندگی کو نہ ناپے کیونکہ جاوداں ، پیہم دواں ، ہر دم جواں ہے زندگی، انسان ایک ارتقاءپذیر اکائی ہے ۔ اس میں تجدید خودی کی قوت پوشیدہ ہے۔ اسی لئے اس کا نقش مٹ مٹ کر اُبھرتا رہتا ہے۔ زندگی ہر لحظہ نئی قبا زیب تن کر لیتی ہے اور اسی تحریک میں سر آدم پنہاں ہے۔ سرِ آدم قوت تسخیر اور تعمیر کائنات ہے۔ انسان کوچاہیے کہ اپنی خدادا د صلاحیتوں سے بھر پور کام لے۔ کیونکہ اسی لئے تو انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت حاصل ہے۔ گو انسان کی تخلیق ایک مشتِ خاک کی سی ہے۔ لیکن قوت کے بدولت انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے سرِ آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی! زندگی اور آزادی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ انسان میں بے شک قوت کے خزانے موجود ہیں ۔ مگر اس کے اظہار کے لئے آزادی اولین شرط ہے۔ کیونکہ غلامی انسان کی قوت عمل کو شل کر دیتی ہے اور نمو کے سارے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں ۔ غلامی کے دور میں زندگی گھٹتے گھٹتے ایک ایسی ندی بن جاتی ہے۔ جس میں پانی کم ہوتا ہے اور معمولی بند باندھنے سے رک جاتی ہے۔ لیکن آزادی کے زمانے میں زندگی ایک ایسے سمندر کا روپ دھار لیتی ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا۔ بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اِ ک جوئے کم آب اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی ! آگے چل کر اقبال انسان کے ذوق ِ عمل اور جدوجہد کو ابھارنے کی کوشش کر رہے ہیں اُن کے خیال میں انسان کو سچائی اور صداقت کا دلدادہ ہونا چاہیے ۔ لیکن اس کے لئے پہلے اپنے جسم میں جان پیدا کرنا ضروری ہے۔ یعنی اپنے دل میں ولولہ اور عزم و جوش پیدا کرنا چاہیے۔ جو مرتبے اور عہدے ، مال و دولت انسان کو وراثت میں ملے ہیں ۔ ان پر انحصار کرنا چھوڑ دے۔ اپنی ہمت ، اپنی محنت اور اپنے خون پسینے کی کمائی سے دولت کمائے اور جاہ و مرتبہ حاصل کرے۔ اسی سے اُن کے دلوں میں وہ حوصلہ اور جرات پیدا ہوگی جو خالد بن ولید ، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے جری اور دلیر لوگوں میں تھی۔ ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے چھٹا بند سلطنت سے متعلق ہے اقبال فرماتاہے ، کہ آئوں بتائوں تجھ کو رمز آبہ ان لملوک سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری سلطنت و حکومت کو طاقت کی جادوگری کہنا ایک نہایت بلیغ بات ہے ۔ جادوگری کا لفظ ایک طرف طاقتورحکمرانوں کی ننگی جارحیت اور طاقت کے استعمال پر محیط تو دوسری طرف مدبرانہ مصلحتوں اور رعایا پروری کے ظاہر ی سلوک کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی محکوم نیند سے بیدار ہوتا ہے اور ملوکےت و شہنشاہیت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو حکمران اُسے انوکھے ہتھکنڈوں سے پھر سلا دیتا ہے۔ اُسے ایسے سہانے سپنے دکھاتا ہے کہ وہ پھر سے غلامی کا طوق گلے میں پہن لیتا ہے۔ خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر پھر سلا دیتی ہے اس کوحکمراں کی ساحری پھر اقبال مسلمانوں کو آزادی کی نعمت حاصل کرنے کے لئے زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے مسلمان تو آزاد پیدا ہوا ہے۔ تیری مثال تو شاہین جیسی ہے تو اپنی آزاد فطرت کو غلامی کی دلدل میں پھنسا کر بدنام نہ کر اگر ایسا کرے گا تو برہمن سے بھی بڑا کافر ہوگا۔ اقبال کہتا ہے کہ جمہوریت ظالم وجود کا جن ہے جو خوبصورت لباس پہن کر ناچ رہا ہے لوگ اس کے زرق برق لباس کو دیکھ کر اس کو آزادی کی نیلم پری سمجھ لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں یہ وہی مطلق العنان ملوکیت ہے۔ اقبال مسلمانوں کو خطاب کرکے کہتا ہے کہ اے ناداں انسان تو اس رنگ و بوکے دھوکے کو باغ سمجھ رہا ہے۔ اور اپنی نادانی سے اس پنجرے کو گھونسلہ سمجھ رہا ہے جبکہ حقیقت میں یہ تجھ کو تادیر غلام رکھنے کے ہتھکنڈے ہیں، اس سراب رنگ و بوکو گلستاں سمجھا ہے تو آہ ! اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو ساتواں اور آٹھواں بند سرمایہ داری سے متعلق ہے ۔ اقبال خضر راہ کی زبانی مزدور کو پیغام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کائنات کے دل سے اٹھنے والی آواز ہے ۔ یہ میرا ذاتی پیغام نہیں بلکہ قدرت اور فطرت کا ازلی پیغام ہے۔ میری آواز میں زمانے کی آواز شامل ہے۔ بندہ مزدور کو جاکر مرا پیغام دے خضر کا پیغام کیا ، ہے یہ پیام کائنات ان سرمایہ داروں نے تجھ کو غلام رکھنے کے لئے مختلف حربے ایجاد کئے ہیں ۔ تجھے کبھی ذات پات کے چکروں میں الجھایا گیا، کبھی قومیت کا سوال کھڑا کیا ہے۔ کبھی کلیسا کا چکر چلایا ہے ۔ کبھی تہذیب کا جال بچھا کر عوام کو بے وقوف بنایا گیا۔ کبھی کالے گورے کی تمیز رکھی گئی۔ اور اے مزدور تو ان حیلہ بازوں سے بے خبر رہا اور یہ تجھے طرح طرح کے خواب دکھا کر فریبوں میں الجھا کر تیرا خون چوستے رہے اور افسوس تو انہی کے لئے لڑتا رہا اور ان کے لئے محنت کر تا رہا۔ یہاں اقبال مزدورں کو بیدار کرتا ہے۔ اُٹھ کہ اَب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے آخری تین بند دنیائے اسلام سے متعلق ہیں ، یہاں اقبال نے اپنے جذبات کی تسکین کے لئے راہ نکالی ہے جو اُن کے قلب اور روح کی گہرائیوں میں نہ جانے کتنی مدت سے پوشیدہ تھے۔ مسلمانوں کے تمام اشعار او ر میراث کو عیسائی دنیا نے اپنا لیا مثلاً روایت پرستی کی جگہ تخلیقی انداز کو عیسائی دنیا نے اپنایا۔ اندھی تقلید کی جگہ اجتہاد سے کام لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سرفراز اور کامران ہوگئے اور مسلمان پستی کی عمیق گہرائیوں میں ڈوب گئے ۔ عربوں نے غداری کرکے اپنے پائوں پر خود کلہاڑی ماری ہے۔ جب تک ایک تھے مضبوط تھے جدا ہوئے تو دشمن نے ان کو ایک ایک کرکے ہڑپ کر لیا۔ اور وہ ترک جو کبھی جاہ و حشمت کے مالک تھے ۔ جو بادشاہ تھے آج وہ پوری دنیا میں رسوا ہوگئے ہیں ۔ خلافت کا تاج ان کے سر سے اتر چکا ہے جس میں کچھ مغرب کی عیاری اور سیاسی چالبازی کا کمال ہے تو بہت زیادہ مسلمانوں کا ترکِ مذہب اور اسلامی شعار سے دور ی کا نتیجہ ہے۔ ایران بھی یورپ کی طرف دیکھ رہا ہے اورمغربی تہذیب بالکل کھوکھلی ہے۔ جو آئندہ نسلوں کے لئے تباہی کا پیغام لائے گی۔ اس لئے اقبال ایرانیوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ان اثرات سے پرہیز کریں اس کے بعد اقبال خودی کا درس دیتے ہیں کہ اپنی حاجتوں کو دوسروں کے سامنے نہ لے جا۔ اپنی خودی کو قربان نہ کر اور دوسروں کے آگے ہاتھ مت پھیلا ۔اگر تو دوسروں کی محتاجی کرے گا تو اس سے تیری خودی کو ٹھیس لگے گی۔ خودی جو آئینے کی مانند نازک ہے ایسی ٹھیس سے چکنا چور ہو جاتی ہے۔ اقبال مشرق کے مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تمہارے مصائب و آلام کا حل ملت اسلامیہ کے اتحاد و اتفاق میں مضمر ہے ۔ اگر مسلمان چاہتا ہے کہ ذلت کے گھور اندھیروں سے نکل آئے تو انہیں آپس میں باہمی ربط و ضبط پیدا کرنا ہوگا۔ مگر افسوس ایشیا والے اس نکتے سے اب تک بے خبر ہیں ۔ لہٰذا جب بھی اُن پر یہ راز منکشف ہوگا تو وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لےکر تابخاک کاشغر اس کے بعد اقبال اپنے کلام میں کہتا ہے کہ میری باتوں کو غور سے سن تجھے اس میں آنے والے وقت کی دھندلی سی تصویر نظر آئے گی ۔ یعنی میری باتوں میں تجھے مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والی بہت سی باتوں کا پتہ چل سکتا ہے۔ اقبال کہتا ہے کہ آسمان کے پاس ایک سے ایک آزمایا ہوا فتنہ موجود ہے۔ اس لئے ان سے ہوشیار رہ، فنی جائزہ ”خضرراہ“ فنی لحاظ سے ایک مکمل نظم ہے ۔ اس بارے میں آل احمد سرور لکھتے ہیں، ” خضرراہ“ میں اقبال کا فن پہلی دفعہ اپنی بلندی پر نظر آتا ہے یہ وہ بلندی ہے جس میں مستی اندیشہ ہائے افلاکی کے ساتھ زمین کے ہنگاموں کو سہل کرنے کا حیرت انگیز عزم موجود ہے۔“ ”خضرراہ“ کل گیارہ بندوں پر مشتمل ہے۔ یہ نظم ترکیب و ہیئت میں ہے۔ اس میں 85 اشعار ہیں اس نظم میں کم و بیش 1400 الفاظ ہیں ۔ یہ بحر رمل مثمن مقصور میں ہے۔ اس کے ارکان یہ ہیں۔ فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن نظم کے کردار اس نظم میں دو کردار سامنے آتے ہیں ایک خود شاعر اور دوسرا خضر ، شاعر ایک بے قرار شخص ہے اُس نے اپنے آپ کو ”جویائے اسرارِ ازل“ کہا ہے۔ جو ایک ایسے انسان کو ظاہر کرتا ہے جس کے دل میں سب کچھ جاننے کی خواہش موجزن ہے۔ دوسرا کردار خضر کا ہے۔ خضر کی شخصیت کو اقبال نے اس شعر میں مکمل کر دیا ہے۔ دیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیک ِ جہاں پیما خضر جس کی پیری میں ہے مانند ِ سحر رنگ شباب پہلے مصرعے میں اُن کو ”پیکِ جہاں پیما“ کہا گیا اس لئے کہ وہ جہاں گرد مشہور ہیں دوسرے مصرعے میں ” پیری میں مانند سحر رنگ ِ شباب“ کا بیان ملتا ہے۔ اس لئے ان کی طویل عمر کی روایت خاصی مشہور ہے اور جس طرح صبح ، صدیوں سے ایک ہی طرح ہر روز طلوع ہونے کے باوجود تازگی و شادابی کا مظہر ہے۔ جیسے شباب کے ساتھ وابستہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح خضر راہ بھی صدیوں پر محیط طویل عمر کے باوجود جوانوں کی طرح مستعدی سے جہاں گردی کرتے رہتے ہیں،بقول فتح محمد ملک، ” اقبال نے خضر کا کردار مشرقی روایات اور داستاں کے بجائے براہ راست قرآن سے اخذ کیا۔“ ڈرامائی کیفیت اس نظم میں ڈرامائی کیفیت پائی جاتی ہے۔ یہ ڈرامائیت خضر کے کردار کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے۔ اس نظم کے پہلے منظر کو اگر دیکھیں تو لگتا ہے کہ ڈرامے کا پہلا سین شروع ہو گیا ہے۔ یہ سین ساحل دریا کا ہے۔ شاعر مضطرب دل کے ساتھ محو نظارہ ہے ۔ اس کے دل میں ایک طوفان مچا ہوا ہے۔ مگر بیرونی ماحول انتہائی پر سکون ہے۔ رات کا سکون پر پھیلائے ہوئے ہے۔ قاری تجسّس کا شکار ہو کر پورے انہماک سے مطالعہ شروع کرتا ہے۔ پر سکون ماحول کے پیچھے ایک طوفان چھپا ہوا ہے۔ اس لئے قاری بھی کسی طوفان کا منتظر ہے۔ اسی اثنا ءمیں اچانک خضر سٹیج پر آکر مکالمہ شروع کرتا ہے۔ کہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے اسرارِ ازل چشمِ دل وا ہو تو ہے تقدیر ِ عالم بے حجاب پھر مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح کائنات اور بین الاقوامی سیاسیات سے متعلق شاعر کو مکمل اور کافی و شافی جوا ب مل جاتا ہے۔ نظم کا لہجہ پروفیسر رفیع الدین ہاشمی کے بقول، ” بحیثیت مجموعی نظم کا لہجہ نرم و ملائم اور دھیما ہے۔“ پہلے بند میں لہجہ انتہائی دھیما اور محتاط ہے۔ اسی طرح پوری نظم میں مجموعی طور پر دھیما پن اور نرمی غالب ہے۔ کہیں کہیں لہجہ پر جوش ہو جاتا ہے۔ مگر اقبال اسے دوبارہ مدہم کر دیتا ہے۔ مثلاً دوسرے بند میں شاعر انتہائی جوش سے کہتا ہے۔ بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دین ِ مصطفی خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش یہاں جوش اور گرمی کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ ”صحرا نوردی میں “ لہجہ دھیما ہے۔ ”زندگی“ میں پھر بلند اور قدرے پر جوش ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی شاعر کے نزدیک ”گردش پیہم“ اور پیہم دواں پر دم جواں“ ہے۔ جس میں انسان کو مختلف آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ مگر اگلے ہی بند میں ، سوئے گردوں نالہ شب گیر کا بھیجے سفیر رات کے تاروں میں اپنے راز داں پیدا کرے کہہ کر پر جوش ”Tone“ کو مدہم کر دیا ہے۔ یہ اتار چڑھائو اور مدوجزر پوری نظم کا خلاصہ ہے مگر مجموعی تاثر دھیما ہے۔ اختتام ناصحانہ ہے اور نصیحت نرم لہجے میں ہوتی ہے۔ رنگ تغزل تغزل اقبال کے کلام کا خاصا ہے۔”خضر راہ“ اگرچہ ایک نظم ہے جس میں حیات و کائنات کے حقائق اور ٹھوس مسائل کو موضوع سخن بنا یا گیا ہے۔ مگر چونکہ اقبال کے مزاج میں شعریت اور تغزل رچا بسا ہے اس لئے غزلوں کے علاوہ ان کے بیشتر نظموں میں تغزل کا رنگ نمایاں ہے۔ خضر راہ کے بعض حصوں اور شعروں میں ہمیں اقبال کا یہی رنگ تغزل نظر آتا ہے۔ برتر اندیشہ سود وزیاں ہے زندگی ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم ِ جاں ہے زندگی جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ِ ایاز دیکھتی ہے حلقہ گردن میں ساز دلبری تراکیب، تشبہات اقبال نے خضر راہ میں بھی نادر تراکیب کااستعمال کیا ہے مثلاًقلزم ہستی، شہید جستجو، ضمیر کن فکاں ، شمشیر بے زنہار، ساز دلبری ، شاخ آہو وغیرہ تشبیہ کسی چیز کو کسی خاص وصف کی بناءپر کسی دوسری چیز کی مانند ظاہر کیا جائے اقبال کے ہاں نادر تشبیہات ملتی ہیں۔ بقول عابد علی عابد ” اقبال ایسی ایسی خوبصورت تشبیہہں اور استعارے استعمال کرتے ہیں کہ ان دیکھی چیزیں دیکھی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔“ جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفلِ شیر خوار موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مستِ خواب صنائع بدائع کا استعمال اقبال کے کلام میں صنائع بدائع کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ جو اقبال کی غیر شعوری فنی مہارت کا شاہکار ہے۔ صنعت ِ تلمیح:۔ بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دین مصطفی خاک و خون میں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش صنعتِ تجنیس:۔ خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو پختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنہار تو صنعت ملمع:۔ ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں حق تیرا چشمے عطا کر دستِ غافل درنگر صنعتِ مراعات النظیر:۔ آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے صنعت تضاد:۔ دیکھتا ہوں کہ وہ پیک ِ جہاں پیما خضر جس کی پیری میں ہے مانند ِ سحر رنگ شباب محاکات:۔ اس نظم میں محاکات یعنی تصویر کشی کا بہترین نمونے ملتے ہیں۔ بقول غلام رسول مہر کہ، ” خضر راہ کا موضوع منظر کشی نہ تھا۔ تاہم جہاں کہیں اتفاقیہ موقع مل گیا ہے وہاں اس کمال کرشمہ فرمائیاں بھی دیدنی ہیں۔“ مثلاً پہلا بند جس میں اقبال لفظی تصویر کشی کا بہترین نمونہ پیش کرتے ہیں، شب سکوت فزاءہوا آسودہ ، دریا نرم سیر تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آب! جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل ِ شیر خوار موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب مجموعی جائزہ نظم کی عظمت کے بارے میں عبادت بریلوی کی رائے ہی کافی ہے، ” خضر راہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں موضوع کی بصیرت ، فنی سلیقہ شعاری سے گلے ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اور اسی صورت حال نے اس کو اس سحر سے آشنا کر دیا ہے جو شاعری کی جان اور شعر کا ایمان ہے۔“ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
والدہ مرحومہ کی یاد میں
یہ نظم اقبال نے اپنی والدماجدہ کی وفات پر ان کی یاد میں لکھی ۔ اسے مرثیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اولین شکل میں اس کے گیارہ بنداور 89 اشعار تھے ۔ ”بانگ درا“کی میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں تبدیلی کی اور موجودہ شکل میں نظم کل تیرہ بندوں اور چھیاسی اشعار پر مشتمل ہے۔ علامہ اقبال کی والدہ ماجدہ کانام امام بی بی تھا۔ وہ ایک نیک دل ، متقی اور سمجھ دار خاتون تھیں۔ گھر میں انہیں بے جی کہا جاتا تھا۔ وہ بالکل اَ ن پڑھ تھیں مگر ان کی معاملہ فہی ، ملنساری اور حسنِ سلوک کے باعث پورا محلہ ان کا گروید ہ تھا۔ اکثر عورتیں ان کے پاس اپنے زیورات بطور امانت رکھواتیں۔ برادری میں کوئی جھگڑا ہوتا تو بے جی کو سب لوگ منصف ٹھہراتے اور وہ خوش اسلوبی سے کوئی فیصلہ کر دیتیں ۔ اقبال کو اپنی والدہ سے شدید لگائو تھا۔ والدہ بھی اقبال کو بہت چاہتی تھیں زیر نظر مرثیے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اقبال یورپ گئے تو والدہ ماجدہ ان کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں مانگتیں اور ان کے خط کی ہمیشہ منتظر رہتیں۔ ان کا انتقال اٹھتر سال کی عمر میں 9نومبر 1914ءکو سیالکوٹ میں ہوا۔ والدہ مرحومہ کی وفات پر اقبال کو سخت صدمہ ہوا۔ اور وہ مہینوں دل گرفتہ رہے ۔ اور انہوں نے اپنی ماں کی یاد میں یہ یادگار نظم لکھی۔ * 1 فکری جائزہ o 1.1 فلسفہ جبر و قدر o 1.2 انسانی ذہن پر فلسفہ جبر و قدر کا ردعمل o 1.3 گریہ و زاری کا مثبت پہلو o 1.4 والدہ اور بچے کا باہمی تعلق o 1.5 والدہ اور بھائی سے وابستہ یادیں o 1.6 فلسفہ حیات و ممات o 1.7 عظمت انسان o 1.8 غم و اندوہ کا ردعمل o 1.9 والدہ کے لئے دعا * 2 فنی جائزہ o 2.1 لہجے کا تنوع o 2.2 سوز و گداز o 2.3 فارسیت o 2.4 حسن بیان کے چند پہلو * 3 مجموعی جائزہ فکری جائزہ نظم یا ( مرثیہ )کا اصل موضوع والدہ ماجدہ کی وفات حسرت آیات پر فطری رنج و غم کا اظہار ہے ۔ اس اظہار کے دو پہلو ہیں، 1)فلسفہ حیات و ممات اور جبر و قدر 2) والدہ مرحومہ سے وابستہ یادیں اور ان کی وفات کا ردعمل پہلے موضوع کا تعلق فکر سے ہے اور دوسرے کا جذبات و احساسات سے ”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ اردو میں اقبال کی شاید واحد نظم ہے جس میں وہ پڑھنے والے کو فکراور جذبہ دونوں کے دام میں اسیر نظر آتے ہیں۔ فلسفہ جبر و قدر موت کے تصور سے اور خاص طور پر اُس وقت جب انسان کی کسی عزیز ہستی کو موت اُچک کر لے گئی ہو ، قلب حساس پر تقدیر کی برتری اور تقدیر کے مقابلے میں انسان کی بے بسی و بے چارگی کا نقش اُبھرنا ایک قدرتی بات ہے۔ اس لئے مرثیے کا آغاز ہی فلسفہ جبر و قدر سے ہوتاہے۔ ذرہ ذرہ دہر کا زندانی تقدیر ہے پردہ مجبوری و بےچارگی تدبیر ہے پہلے بند میں بتایا گیا ہے کہ سورج چاند ستارے ، سبزہ و گل اور بلبل غرض دنیا کی ہر شے فطر ت کے جابرانہ قوانین میں جکڑی ہوئی ہے اور قدرت کے تکونی نظام میں ایک معمولی پرزے کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کرنے پر مجبور ہے۔ انسانی ذہن پر فلسفہ جبر و قدر کا ردعمل تقدیر کے مقابلے میں اپنی بے چارگی پر رنج و غم کا احساس اور اس پر آنسو بہانا انسان کافطری ردعمل ہے ۔ مگر دوسرے بند میں اقبال کہتے ہیں کہ چونکہ جبر و قدر مشیت ایزدی ہے اس لئے گریہ و زاری اور ماتم نا مناسب ہے۔ آلام ِ انسانی کے اس راز کو پا لینے کے بعد کہ رقص ِ عیش و غم کا یہ سلسلہ خدا کے نظام کائنات کا ایک لازمی حصہ ہے، میں زندگی میں انسان کی بے بسی و بے چارگی پر افسوس کرتا ہوں اور نہ کسی ردعمل کا اظہار کرتا ہوں ۔ لیکن والدہ کی وفات ایک ایسا سانحہ ہے کہ اس پر خود کو گریہ پیہم سے بچانا اور خاموش رہنا میر ے لئے ممکن نہیں ۔ یہاں دوسرے بند کے آخری شعر میں اقبال نے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ انسان جس قدر صابر و شاکر کیوں نہ واقع ہوا ہو، زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر اس کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے اور وہ بے اختیار آنسو بہانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایسے عالم میں زندگی کے سارے فلسفے ، ساری حکمتیں اور محکم ضوابط ، دکھی دل کے ردعمل کو روکنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں اوروالدہ مرحومہ کی وفات پر مجھ پر بھی یہی بیت رہی ہے۔ یہ تری تصویر قاصد گریہ پیہم کی ہے آہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہے گریہ و زاری کا مثبت پہلو گریہ وزاری کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے زندگی کی بنیاد مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔ روح کی آلودگی اور داخلی بے قراری ختم ہونے سے قلب کو ایک گونہ طمانیت اور استحکام نصیب ہوتا ہے اور انسان ایک نئے ولولے اور عزم کے ساتھ زمانے کی سختیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ نفسیات دان بھی یہ کہتے ہیں کہ رونے سے انسان کا تزکیہ نفس ہوتا ہے۔ اقبال نے اس شعر میں جیسے کہا ہے۔ موج دو دِ آہ سے روشن ہے آئےنہ مرا گنج آب آورد سے معمرو ہے دامن مرا والدہ اور بچے کا باہمی تعلق والدہ کی یاد میں بہائے جانے والے آنسوئوں نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے۔ سارا میل کچیل آنسوئوں میں تحلیل ہو کر آنکھوں کے راستے خارج ہو گیا ہے۔ اب وہ خود کو بالکل ہلکا پھلکا اور معصوم بچے کی مانند محسوس کرتا ہے۔ شفیق والدہ کی یا د شاعر کو ماضی کے دریچوں میں لے گئی ہے۔ جب وہ چھوٹا سا تھا اور ماں اس ننھی سی جان کو اپنی گودمیں لے کر پیار کرتی اور دودھ پلاتی ۔ اب وہ ایک نئی اور مختلف دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہے علم و ادب اور شعر و سخن کی دنیا ہے۔ ایک عالم ان کی شاعری پر سر دھنتا ہے اور اب چرچے ہیں جس کی شوخی گفتار کے بے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کے علم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعور دینوی اعزاز کی شوکت ، جوانی کا غرور ماضی اور حال کی ان کیفیات میں زبردست تضاد کے باوجود ، اقبال کے خیال میں ایک عمر رسیدہ بزرگ یا عالم فاضل شخص بھی جب اپنی والدہ کا تصور کرتا ہے۔ تو اس کی حیثیت ایک طفل سادہ کی رہ جاتی ہے جو صحبتِ مادر کے فردوس میں بے تکلف خندہ زن ہوتا ہے۔ زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم صحبت مادر میں طفل ِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم والدہ اور بھائی سے وابستہ یادیں والدہ کو یاد کرتے ہوئے دور گزشتہ اور اس سے متعلق حالات و واقعات کا یا د آنا سلسلہ خیال کاحصہ ہے۔ اقبال کو وہ دور یا د آتا ہے جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے یورپ میں مقیم تھے۔ اس زمانے میں امام بی بی مرحومہ ، اقبال کی سلامتی کے لئے فکر مند رہتیں ، راتوں کو اٹھ اٹھ کر ان کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں مانگتیں اور انھیں ہمیشہ اقبال کے خط کا انتظار رہتا۔ کس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظار کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار یہاں اقبال اپنی والدہ کی عظمت کے اعتراف میں بتاتے ہیں کہ میری تعلیم و تربیت ، میری عظیم والد ہ کے ہاتھوں ہوئی، جن کی مثالی زندگی ہمارے لئے ایک سبق تھی۔ مگر افسوس جب مجھے والدہ کی خدمت کا موقع ملا تو وہ دنیا سے رخصت ہوگئیں ،البتہ بڑے بھائی شیخ عطا محمدنے ایک حد تک والدہ کی خدمت کی اور اب والدہ کی وفات پر وہ بھی بچوں کی طرح رو رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ والدہ نے اپنے پیار اور خدمت کے ذریعے اپنی محبت کا جو بیج ہمارے دلوں میں بویا تھا، غم کا پانی ملنے پر اب وہ ایک پودے کی شکل میں ظاہر ہوکر الفت کا تناور درخت بنتا جا رہا ہے۔ تخم جس کا تو ہماری کشت ِ جاں میں بو گئی شرکتِ غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئی فلسفہ حیات و ممات والدہ سے وابستہ پرانی یادوں کو یاد کرتے ہوئے شاعر کو تقدیر اور موت کی بے رحمی کا خیال آتا ہے۔ چنانچہ چھٹے بند سے سلسلہ خیال زندگی اور موت کے فلسفے کی طرف مڑجاتا ہے۔ مرثیے کے آغاز میں بھی اقبال نے فلسفہ جبر و قدر پر اظہارخیال تھا مگر یہاں موت اور تقدیر کے جبر کا احساس نسبتاً شدید اور تلخ ہے۔ کہتے ہیں دنیا میں جبر و مشیت کا پھندا اس قدر سخت ہے کہ کسی چیز کو اس سے مفر نہیں۔ قدرت نے انسانوں کی تباہی کے لئے مختلف عناصر (بجلیاں ، زلزلے ، آلام مصائب قحط وغیرہ) کو مامور رکھا ہے۔ ویرانہ ہو یا گلشن ، محل ہو یا جھونپڑی وہ اپنا کام کر جاتے ہیں بےچارہ انسان اس پر آہ بھرنے کے سوا کیا کر سکتا ہے۔ نے مجال شکوہ ہے ، نے طاقت ِ گفتار ہے زندگانی کیا ہے، اک طوقِ گلو افشار ہے اس کے بعد اقبال دوسرے رخ کو پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جبرو قدر کی یہ حکمرانی دائمی نہیں، بلکہ عارضی ہے۔ موت مستقلاً زندگی پر غالب نہیں آسکتی ۔ کیونکہ اگر موت کو زندگی پر برتری ہوتی تو پھر زندگی کا نام نشان بھی نظر نہ آتا اور یہ کارخانہ کائنات نہ چل سکتا۔ موت کے ہاتھوں سے مت سکتا اگر نقشِ حیات عام یوں اس کونہ کر دیتا نظام کائنات بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اصلاً زندگی اس قدر محبوب ہے کہ اس نے زندگی کو مغلوب نہیں غالب بنایا ہے۔ انسان کوزندگی کے مقابلے میں موت اس لئے غالب نظر آتی ہے کہ اس کی ظاہر میں نگاہیں اصل حقیقت تک پہنچنے سے قاصر رہتی ہیں۔ موت تو ایک عارضی کیفیت کا نام ہے جس طرح انسان لمحہ بھر کے لئے نیند کر کے پھر اُٹھ جاتا ہے۔ مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے یعنی آگے چلیں گے دم لے کر آٹھویں بند کے آخر میں اقبال دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کی ناپایداری کی ایک توجیہ پیش کرتے ہیں ۔ ان کے خیال میں فطر ت ایک بااختیار خلاق کی حیثیت رکھتی ہے۔ جسے بناو اور بگاڑ پر پوری قدرت حاصل ہے۔فطرت چونکہ خوب سے خوب تر کی جستجو میں رہتی ہے۔ اس لئے اپنے بنائے ہوئے نقوش خود ہی مٹاتی رہتی ہے۔ تاکہ اس تخریب سے تعمیر کا ایک نیا اور مطلوبہ پہلو برآمد ہوسکے۔اس طرح موت اور تخریب کا جواز یہ ہے کہ اس سے حیات ِ نو کی ایک بہتر بنیاد فراہم ہوتی ہے۔ فطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہو خوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہو عظمت انسان نویں بند میں اقبال نے نظام کائنات میں انسان کے مقام اور اس کی عظمت کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ آغاز ، آسمان میں چمکتے ہوئے ستاروں کے ذکر سے ہوتاہے ۔ اقبال کے خیال میں ستارے اپنی تمام تر آب و تاب ، چمک، دمک اور طوالتِ عمرکے باوجود قدرت کے تکوینی نظام کے بے بس کارندے ہیں اور نہ جانے کب سے ایک محدود دائرے میں اپنا مقررہ فرض ادا کر رہے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں انسان کے مقاصد کہیں زیادہ پاکیزہ تر، اس کی نگاہ کہیں زیادہ دور رس اور وسیع اور اس لامحدود کائنات میں اس کا مرتبہ کہیں زیا دہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ کہ نظام کائنات میں انسان کا مقام ایسا ہی ہے، جیسے نظام ِ شمسی میں سورج کا مرتبہ اس لئے موت انسان کوفنا نہیں کر سکتی۔ جومثال شمع روشن محفل ِ قدرت میں ہے آسماں اک نقطہ جس کی وسعت ِ نظر میں ہے غم و اندوہ کا ردعمل گیارہویں بند میں اقبال نے انسانی قلب و ذہن پر رنج وغم کے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ موت کے زہر کا کوئی تریاق نہیں ۔ البتہ زخمِ فرقت کے لئے وقت مرہم ِ شفا کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر اقبال کو اس سے اتفاق نہیں ہے ان کا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جب انسان کسی شدید مصیبت سے دوچار ہوا اور مصیبت بھی ناگہاں ہو تو صبر و ضبط انسان کے اختیار میں نہیں رہتا۔البتہ ایسے عالم میں انسان کے لئے تسکین کا صرف ایک پہلو نکلتا ہے اور وہ پہلو ہے جس کی طرف اقبال نے نظم کے آغاز میں ذکر کیا ہے ، کہ موت کسی دائمی کیفیت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عارضی حالت ہے۔ انسان مرتا ہے لیکن فنا نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے۔ جوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیں آنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیں اسی طرح موت کے وقفہ ماندگی کے بعد انسان پھر بیدار ہو کر اُٹھ کھڑا ہوگا۔ یہ اس کی زندگی کی نئی سحر ہوگی اور پھر وہ ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ یہ بات بارھویں بند کے آخر تک بیان ہوئی ہے۔ والدہ کے لئے دعا نظم کے خاتمے پر سلسلہ خیال والدہ مرحومہ کی جانب مڑ جاتا ہے ۔ ابتداءمیں شاعر نے والدہ کی رحلت پر جس بے قراری کا اظہار کیا وہ والدہ سے محبت رکھنے والے مغموم و متاسف بچے کے درد و کرب اور تڑپ کا بے تابانہ اظہارتھا۔ لیکن فلسفہ حیات و ممات پر غور و غوض کے بعد شاعر نے جو نتیجہ اخذ کیا ، وہ ایک پختہ کا مسلمان کی سوچ ہے۔ اقبال نے والدہ کی جدائی کے درد و غم کو اپنی ذات میں اس طرح سمو لیا ہے کہ اب جدائی ایک مقدس اور پاکیزہ کیفیت بن گئی ہے۔ یاد سے تیری دلِ درد آشنا معمور ہے جیسے کعبے میں دعائوں سے فضا معمور ہے یوں کہنا چاہیے کہ اقبال نے غم کا ترفع کر لیا ہے۔ وہ والدہ کی وفات اور جدائی پر اس لئے بھی متاسف نہیں کہ موت کے بعد آخرت بھی زندگی ہی کی ایک شکل ہے۔ آخری تین اشعار دعائیہ ہیں۔ اقبال دعا گو ہیں کہ جس طرح زندگی میں والدہ ماجدہ ایک مہتاب کی مانند تھی جن سے سب لوگ اکتساب ِ فیض کرتے تھے۔ خدا کرے ان کی قبر بھی نور سے معمور ہو۔ اور خدا ان کی لحد پر بھی اپنی رحمت کا نزول فرماتا رہے۔ سبزہ نورستہ خدا کی رحمت کی علامت ہے۔ آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے فنی جائزہ ”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ درحقیقت ایک مرثیہ ہے۔ اس کی ہیئت ترکیب بند کی ہے۔ مرثیہ بحرِ رمل مثمن مخدوف الآخر میں ہے۔ ارکان یہ ہیں فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن لہجے کا تنوع ”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ ایک مرثیہ ہونے کی بنا پر اپنے موضوع کی مناسبت سے معتدل ، نرم اور دھیما لہجہ رکھتا ہے۔ جن مقامات پر انسان کی بے بسی ، قدرت کی جبریت اور زندگی کی بے ثباتی کا ذکر ہوا ہے وہاں لہجے کاسخت اور پر جوش ہونا ممکن ہی نہیں ۔ جن حصوں میں شاعر نے اپنی والدہ سے وابستہ یادِ رفتہ کو آواز دی ہے وہاں اس کے لہجے میں درد و کرب اور حسرت و حرماں نصیبی کی ایک خاموش لہر محسوس ہوتی ہے۔اس حسرت بھری خاموشی کو دھیمے پن سے بڑی مناسبت ہے۔ شاعر کے جذبات کے اتار چڑھاو نے بھی اس کے دھیمے لہجے کا ساتھ دیا ہے۔ پھر الفاظ کے انتخاب ، تراکیب کی بندش اور مصرعوں کی تراش سے بھی یہی بات آشکار ا ہے۔ زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم صحبت مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم سوز و گداز زیر مطالعہ مرثیہ اپنے تاثرکے اعتبار سے اقبال کے تمام مرثیوں میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ غلام رسول مہر کے بقول اس کے اشعار اتنے پرتاثیر ہیں کہ الفاظ میں ان کی کیفیت بیان نہیں ہو سکتی۔ غالباً یہ مرثیہ شعر و ادب کی پوری تاریخ میں بالکل یگانہ حیثیت رکھتا ہے اور شاید ہی کوئی دوسری زبان اس قسم کی نظم پیش کر سکے ۔ اس انفرادیت اور اثر انگیزی کا سبب اس کا وہ سوز و گداز ہے جس سے نظم کے کسی قاری کا غیر متاثر رہنا ممکن نہیں۔ تجھ کو مثلِ طفلکِ بے دست و پا روتا ہے وہ صبر سے ناآشنا صبح و مسا روتا ہے وہ علامہ اقبال نے اس کی ایک نقل اپنے والد محترم شیخ نو رمحمد کو بھیجی تھی۔ روایت ہے کہ مرثیہ پڑھتے ہوئے اس کے سو ز و گداز سے ان پر گریہ طاری ہو جاتا اور وہ دیر تک روتے رہتے۔ مرثیے میں یہ سوز و گداز اس وجہ سے پیدا ہوا کہ اقبال کے پیش نظر یہ ایک جذباتی موضوع تھا۔ فارسیت یہ مرثیہ بھی اقبال کی ان نظموں میں سے ہے جن پر فارسی کا غالب اثر ہے۔ بحیثیت مجموعی پوری نظم پر ایک نظر دوڑانے سے یہی احساس ہوتا ہے ۔ مصرعوں کی تراش اور تراکیب کی بناوٹ بھی اسی پر شاہد ہے۔ خفتگانِ لالہ زار و کوہسار و رودبار ہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکنار حسن بیان کے چند پہلو خالص فنی اعتبار سے مرثیہ حسنِ بیان کا ایسا خوبصورت نمونہ ہے جس کی مثال اردو شاعری میں شائد ہی ملے گی۔ رشید احمد صدیقی کہتے ہیں، ” فن کا کمال ہی یہ ہے کہ فن کے سارے وسائل کام میں لائے گئے ہوں لیکن ان میں ایک بھی توجہ پر بار نہ ہو۔“ نظم میں زبان و بیان او ر صنائع بدائع کے وسائل غیر شعوری طور پر استعمال کئے گئے ہیں ۔حسن بیان کے چند پہلو ملاحظہ ہوں۔ تشبیہات:۔ یاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہے جیسے کعبے میں دعائوں سے فضا معمور ہے صنعت مراعاة النظیر:۔ زلزلے ہیں ، بجلیاں ہیں ، قحظ ہیں آلام ہیں کیسی کیسی دخترانِ مادرِ ایام ہیں صنعت طباق ایجابی:۔ علم کی سنجیدہ گفتاری ، بڑھاپے کا شعور دینوی اعزاز کی شوکت ، جوانی کا غرور صنعت ترافق:۔ دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات صنعت ایہام تضاد:۔ مثل ِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا نو رسے معمور یہ خاکی شبستا ں ہو ترا قافیوں کی تکرار:۔ دل مرا حیراں نہیں ، خنداں نہیں گریاں نہیں خفتگانِ لالہ زار و کوہسار و رود بار محاکات:۔ زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم صحبت مادر میں طفل ِسادہ رہ جاتے ہیں ہم مجموعی جائزہ نظم کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ جدا ہونے عزیز ہستی کے بارے میں اقبال کا طرز فکر اور پیرایہ اظہار ایک سچے مومن اور راسخ العقیدہ مسلمان کا ہے۔ جو والدہ کو خدا کے سپرد کرتے ہوئے دست بہ دعا ہیں کہ باری تعالیٰ مرحومہ کی قبر کو نور سے بھر دے اور اس پر اپنی رحمت کی شبنم افشانی کرتا رہے۔ نظم کے بارے میں سید وقار عظیم لکھتے ہیں، ” اقبال کی شخصیت دو مختلف اندازوں میں جلوہ گر ہوئی۔ ایک شخصیت تو اقبال کی وہی فلسفیانہ شخصیت ہے۔ جس کی بدولت اقبال کو اردو شاعری میں ایک منفرد حیثیت ملی ہے۔ اور دوسری حیثیت اس مجبور اور مغموم انسان کی ہے جو ماں کی یاد میں آنسو بہاتے وقت یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک مفکر اور فلسفی بھی ہے۔“ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فنی, کالج, کتابوں, پاکستان, قائداعظم, لوگ, ماں, محمد اقبال, مشعل, امتحان, اردو, اسلام, اسلامی, استاد, اعلیٰ, حسن, دل, زمانہ, سفر, شاگرد, شعر, شعر و شاعری, علامہ محمد اقبال, صدارت, صدارتی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|