![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 525
کمائي: 32,846
شکریہ: 321
427 مراسلہ میں 1,230 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہفت افلاکِ سُخن کا دُم دار ستارہ ۔۔۔۔۔ استاد امام الدین گجراتی ایک تعارف افلاکِ عالم کی بے حد و کنار فضائے بسیط میں لاکھوں کروڑوں کہکشائیں پھیلی ہوئی ہیں جن میں سے ہر ایک اپنے دامن میں ستاروں کے جہان اندر جہان سمیٹے ہوئے ہے ۔اور ستاروں کا یہ جہاں اپنی ضو فشانی سے ایک عالم کو مسحور کئے رکھتا ہے لیکن اس دنیائے نُور میں کبھی کبھار ایک ایسا مظہر نمودار ہوتا ہے جو اپنی ہیئت ، انفرادیت اور بے مثل ضو فشانی کے سبب ایک طرف ستارہ شناسانِ عالم کو مبہوت کر دیتا ہے تو دوسری جانب عامیانِ جہاں اشتیاق و اضطراب کے عالم میں دم سادھے اس یکتائے روزگار نظارے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ ماہرینِ فلکیات و نجوم انہیں " دُم دار ستارے" کے نام سے پہچانتی ہے اور چرخِ نیلی فام کے یہ آوارہ گرد صدیوں میں کبھی کبھار اس عالمِ خاکی کو اپنے جلووں اور ضو فشانیوں سے نوازتے ہیں ۔ 2 ۔ ہفت افلاک سُخن بھی صدیوں محوِ گردش رہے تو بطونِ افلاک سے ایک انتہائی روشن و تاباں دُم دار ستارے نے جنم لیا جسے دنیائے شعر و سخن نے استاد امام الدین کے نام سے جانا اور پہچانا ۔ اس نادرِ روزگار ستارے نے برصغیر کے خطہ ءِ یونان ، ارضِ گجرات کو اپنی ضو فشانی اور جلوہ سامانی کے لئے منتخب فرما کر ارضِ گجرات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سر بلند و متفخر کر دیا ۔ 3 ۔ یوں توان گنت ادیب و شعرا ء صحیفہ ءِ قدرت کی ورق گردانی کر کے جوہر قلم دکھا چکے ۔۔۔۔۔میرؔ و غالب ؔ ، داغؔ و ذوقؔ ،سودا و انیس وغیرہ نے عالمِ سخن پر ایک وجد و کیف طاری کئے رکھا لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ حضرتِ والا شان ،جناب نازِ سخن ، بانی ءِ ادب، استاد الشعراء حضرت استاد امام الدین گجراتی ایم اے، بی اے ،ایل ایل ڈی، پی ایچ ڈی ، یو ایس اے ، اے ایس ایس جیسا نابغہ ءِ روزگار شاعر آج تک پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی عالمِ امکان میں آئیندہ اس کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ 4 ۔ حضرتِ استاد جہاں ایم اے ( موجدِ ادب) اور بی اے ( بانیءِ ادب )تھےوہاں بفضلِ تعالیٰ ایل ایل ڈی بھی تھے جو کہ لاثانی المعانی ڈگری کے مترادف ہے ۔۔۔۔۔ یہاں ہم یہ وضاحت کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ حضرتِ استاد حصولِ القابات و سندات کے لئے کسی یونیورسٹی یا کالج کا مرہونِ منت ہونا اپنے تبحرِ علمی کے لئے باعثِ ہتک و اہانت سمجھتے تھے ۔ مندرجہ بالا القابات و اعزازاتِ اعزازی تو ارضِ گجرات کی اُس بیدار بخت اور خوش ذوق پبلک ایک حقیر سا نذرانہ ءِ عقیدت تھے جس نے کہ استاد کے کلامِ فقید المثال کی خوشہ چینی کی سعادت پائی ۔ 4 ۔ اپنے بے مثل مجموعہ ءِ کلام " بانگِ دُھل" کا دوسرا ایڈیشن مزینِ اشاعت ہونے تک استاد کے اعزازات و القابات میں اضافہ ہو کر وہ پی ایچ ڈی ( فاضل ڈگری ) ، یو ایس اے ( استاد شعرائے عالم ) اور اے ایس ایس ( افسرِ شعر و شاعری) بھی ہو چکے تھے ۔ اس خطاب آفرینی میں سیالکوٹ کے زندہ دل صاحبانِ ذوق کا بھی حصہ ہے کہ جنہوں نے استاد کی شان میں ایک عظیم الشان مشاعرہ جناب شیخ روشن دین تنویر، پلیڈر سیالکوٹ کی صدارت میں منعقد کیا اور اہلِ سیالکوٹ کی جانب سے جناب مسعود شاہد ایم اے نے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری جناب استاد کی خدمت میں پیش کی اور یہ بھی بتایا کہ پی ایچ ڈی سے مُراد ٍ ہے " ٍفاضل ڈگری " ۔۔۔۔۔ یو ایس اے ( استاد شعرائے عالم ) اور اے ایس ایس ( افسرِ شعر و شاعری) کی ڈگریاں حلقہ ءِ ادب گجرات کی طرف سے جناب چوہدری محمد اسلم ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر( ای اے سی) گجرات نے بہ تقریبِ یکم اپریل 1944 ء جناب استاد پر نچھاور فرمائیں ۔ 5۔ استاد کے مشاعرہ گاہ میں قدم رنجہ فرماتے ہی ہال " دیوارِ قہقہہ " بن جاتا اور چھت شگاف نعروں اور تالیوں سے استاد کا استقبال کیا جاتا ۔ دیگر شعراء کا کلام سننے کی حاجت یا تاب کسی کو نہ رہتی تھی ۔۔۔۔۔ استاد ، استاد کے نعروں سے صدر نشینِ مشاعرہ کو مجبور کر دیا جاتا تھا کہ استاد کے کلام سے مشاعرے کا افتتاح کیا جائے ۔ حضرتِ استاد کے کھڑے ہوتے ہی ایک عالمِ محشر بپا ہو جاتا ۔ انہی قہقہوں کے شور میں استاد اپنا کلامِ معجز نظام پڑحنا شروع کرتے ۔۔۔۔۔ پہلے مصرعے کے ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی داد حاضرین تالیاں بجانے ،ہنس ہنس کر لوٹنے ، اچھلنے، کودنے اور اک دوجے پر بے طرح گرنے سے دیتے اور حضرتِ استاد اتنا وقفہ اک بُتِ سیمیں کی طرح خاموش تماشہ کرتے رہتے ۔۔۔۔۔ الغرض ہر مصرعہ کے اختتام پر یہی نظارہ دیکھنے کو ملتا تھا ۔ 6 ۔ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ۔۔۔۔۔ آخر کلام نے اپنا اثر دکھایا ۔۔۔۔۔ جناب میاں احسان الحق صاحب سیشن جج ، مسٹر سی کنگ ڈپٹی کمشنر گجرات ، دیگر افسران، وکلا اور روسائے شہر کی موجودگی میں جناب میاں احسان الحق سیشن جج نے بی اے ( بانی ءِ ادب) کی اعزازی ڈگری جناب استاد کی خدمت میں پیش کی جس کو استاد نے بصد احسان قبول فرمایا ۔ علیٰ ہذاالقیاس نازِ سخن ،ایم اے( موجدِ ادب) ، ایل ایل ڈی ( لاثانی المعانی ڈگری)،پی ایچ ڈی(فاضل ڈگری)یو ایس اے ( استاد شعرائے عالم)اے ایس ایس ( افسرِ شعر و شاعری) وغیرہ کی ڈگریاں مختلف اوقات اور تقریبات میں جنابِ استاد کی خدمت میں پیش کی گئیں ۔۔۔۔۔ ان ڈگریوں کا ذکر استاد نے اپنے کلام معجز نما میں بعض مقامات پر فرمایا ہے فوق پر چمکے گا اک دن قسمتِ اختر مرا " قسمتِ اختر " کی نادر و نایاب اضافت استاد کے ذہنِ رسا کا ایک ادنیٰ سا کارنامہ ہے ۔۔۔۔۔اس طرح گر اور بھی دو چار سنداں ہو گئیں بزمِ سخن کا آج شکریہ ادا کرتا ہوں میں " لیا کرتا ہوں" کے استقرار اور استمرار میں جو غرورِ فن اور نازِ دلربائی ہے وہ صرف استاد ہی کا حصہ ہے ۔۔۔۔۔ پھر فرماتے ہیںجس سے ڈگری بی اے ایم اے کی لیا کرتا ہوں میں شُکر لاکھ اُن کا جنہوں نے مجھ کو دیا لقب و اخطاب ملک الشعراء کا کبھی بی اے ایم اے سے پی ایچ ڈی ہوں کبھی نام پاتا ہوں فخر الشعراء کا نوٹ : آئیندہ کسی نشست میں حضرتِ استاد کے کلامِ معجز نما کی چند خصوصیات کو حیطہ ءِ تحریر میں لانے کی کوشش کریں گے ۔۔۔۔۔ انشا اللہ Last edited by Ajmal Anjum; 03-10-10 at 12:45 AM. وجہ: عنوان کی تصحیح ۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے Ajmal Anjum کا شکریہ ادا کیا | shafresha (03-10-10), فیصل ناصر (03-10-10), ھارون اعظم (03-10-10), نبیل خان (22-11-11), منتظمین (03-10-10), اویسی (05-10-10), ابرارحسین (03-10-10), حیدر (03-10-10), راجہ اکرام (03-10-10), عروج (13-10-10) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے پیش کریں
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 525
کمائي: 32,846
شکریہ: 321
427 مراسلہ میں 1,230 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت شکریہ جی ۔۔۔۔۔ حضرتِ استاد کے تعارف کو پذیرائی بخشنے کا
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے Ajmal Anjum کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بھائی اُن کا کلام بھی شئیر کریں!!!!!
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
بہت خوب برادر مکرم، بہت ہی اچھے انداز میں ہفت افلاک سخن کے دم دار ستارے سے آپ نے اہل مجلس کو متعارف کروایا ہے ۔۔ معلومات کے لئے شکریہ اور بہترین انداز تحریر پر ڈھیروں داد وصول کیجئے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 525
کمائي: 32,846
شکریہ: 321
427 مراسلہ میں 1,230 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 525
کمائي: 32,846
شکریہ: 321
427 مراسلہ میں 1,230 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت بہت شکریہ جی ۔۔۔۔۔ اس " ڈھیروں داد " کے لئے ۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے Ajmal Anjum کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس کو پڑھ لیں |
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سیالکوٹ والے اتنے نرم دل بھی ھیں؟
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاعر کا کلام ؟ انتظار رھے گا۔
|
|
|
|
| عروج کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (13-10-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 525
کمائي: 32,846
شکریہ: 321
427 مراسلہ میں 1,230 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام ُ علیکم ۔۔۔۔۔
دوستو ہم نے وعدہ کیا تھا کہ جلد ہی استاد امام الدین گجراتی کے کلام کی خصوصیات آپ کی خدمت میں پیش کریں گے ۔۔۔۔۔ ہم معذرت خواہ ہیں کہ بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اپنا یہ وعدہ جلد پورا نہیں کر پائے ۔۔۔۔۔ گو کہ استاد کے کلام کی خصوصیات کو مختصر طور پر بیان کرنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے اور وہ بھی ایسے کوزے میں جس کے پیندے میں ہماری علمی کم مائیگی اور بے بضاعتی کے چھید ہوں لیکن وعدہ تو وعدہ ہے جی ۔۔۔۔۔ سو اپنی سی کوشش کر دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ خصوصیاتِ کلام ِ استاد امام الدین گجراتی 1 ۔۔۔ ہفت زبانی یوں تو استاد کے کلامِ معجز نظام کا ایک ایک مصرعہ اورہر مصرعے کا ایک ایک لفظ گوناں گوں خصوصیات و صفات کی ایک ہفت رنگ دھنک میں رنگا دکھائی دیتا ہے لیکن سب سے نمایاں خوبی استاد کی ہمہ دانی اور ہفت زبانی ہے ۔۔۔۔۔ استاد اردو ، فارسی ، انگریزی پنجابی زبانوں پر مکمل عبور اور قدرت رکھتے ہیں اور ان زبانوں کے الفاظ کو مکمل استادانہ مہارت کے ساتھ بے دریغ استعمال کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہر نابغہ ءِ روزگار ، دیگر خصوصیات کے علاوہ شعورِ ذات کی صفت سے بھی مکمل متصف ہوتا ہے اور اسی کے تحت استاد کو بھی اپنی قادرالکلامی کا مکمل ادراک ہے ۔۔۔۔ خود فرماتے ہیں ؎ ہندی ، پنجابی گورمکھی سُسری کہاں کی ہے ہم یہاں مثالیں نہیں دیں گے کہ یہ ہفت زبانی استاد کے ہر شعر میں واضح اور نمایاں ہے ۔۔۔۔۔سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے 2 ۔۔۔ ایجاد و اختراع استاد کا فرمان ہے کہ شاعر کی مثال ایک معمار ، شعر کی عمارت اور الفاظ کی اینٹوں سے ہے ۔ جس طرح ایک معمار کو اینٹوں کو توڑنے اور جوڑنے کا کُلی اختیار ہوتا ہے اسی طرح الفاظ کی جوڑ توڑ ، قطع و بُرید، تقدم و تاخیر ، تذکیر و تانیث اور جمع و واحد کے متعلق شاعر مطلق العنان ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ بلکہ جس طرح اینٹوں کے توڑے بغیر عمارت کی تعمیر اور اس کی آرائش و زیبائش ممکن ہی نہیں ہے اسی طور الفاظ کے توڑے بغیر شعر تیار نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے استاد کے کلام اکثر الفاظ و تراکیب بالکل نئی اور انوکھی صورت میں دکھائی پڑتے ہیں ۔ محسوس ہوتا ہے کہ مختلف زبانوں کے الفاظ سر جھکائے دست بستہ استاد کے دربارِ فصاحت میں کھڑے ہوتے اور استاد مکمل آزادی سے ان کی شکل و صورت بدل کر " جہاں ہے ، جیسے ہے " استعمال کرتے چلے جاتے ہیں اور کمالِ فن یہ ہے کہ کوئی لفظ اپنی اس دربدری ، قطع و بُرید یا قلبِ ماہیت پر نالاں یا بسورتا دکھائی نہیں دیتا ۔۔۔۔۔ چند مثالیں ، واحد جمع، تذکیر و تانیث یا ترکیبِ نو کی تب تلک مجھ کو نہ سمجھا وہ کھلاڑی کھیل کا جب تلک میری نہ تِن سو سٹھ رنزاں ہو گئیں اک لفظ کہنے سے دل کا راز پا جاتے ہیں وہ اس قدر ہیں تیز یوں پر آج سمجھاں ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔۔ ( استاد غالب کے رنگ میں ) شسبِ دیجوری میں بام پر سے انہیں بلایا جو گڑ گڑا کر مثالِ کوئل آواز آئی کہ کچھ تو شرم و حیا کیا کر اُتر کے نیچے وہ شوخ چشماں غضب سے بولا یہ تھر تھرا کر کبھی جو آئیندہ ایسا کیا تو تن سے رکھ دوں گا سر جدا کر استاد دنیا کے ہر رنگ میں رنگ جانے کی بھی کامل قدرت رکھتے ہیں جیسا کہ ان کی نظم " استاد امام الدین دنیا کے ہر لباس میں " سے ظاہر ہے بی اے نہیں رہا کہ میں ایل ایل نہیں رہا ( ایل ایل کے بعد بی ضرورتِ شعری کے تحت حذف ہے ) ممبر نہیں رہا کہ میں کونسل نہیں رہا ارسطو نہیں رہا کہ میں اجمل نہیں رہا دارُو نہیں رہا کہ میں درمل نہیں رہا کیوڑہ نہیں رہا کہ میں صندل نہیں رہا زیرہ نہیں رہا کہ میں فلفل نہیں رہا گُل نہیں رہا کہ میں سُنبل نہیں رہا تیری طرح مگر میں عنادل نہیں رہا ( عنادل بطور واحد ، استاد کا کمال ) 3 ۔۔۔ ادراکِ عصرِ رواں دیگر نابغہ ہائے روزگار کی طرح استاد بھی اپنے زمانے اور دور کے تقاضوں کا مکمل ادراک رکھتے ہیں اور اسی کے مطابق شعر کرتے ہیں ( شعر کہتے تو سبھی ہیں لیکن شعر کرنا صرف اور صرف استاد کا کمالِ فن ہے ) خود فرماتے ہیں کہ زمانہ کے متعلق جو چلے گا وہی اُستاد اچھا سُخن داں ہے کرتے ہیں شعر اور بھی استاد نامور لیکن جدید رنگ میں ہم سا نہیں کرتے جو زمانہ پیش آئے اس پہ رکھتا ہوں نگاہ نہیں بلبلوں کا تذکرہ گُل کا گلہ کرتا ہوں میں استاد کا زمانہ دوسری عالمی جنگ کا زمانہ تھا اور ہٹلر کی افواجِ قاہرہ ایک عذاب کی صورت میں دنیا میں تباہی و بربادی کی علامت بن چکی تھیں ۔ استاد بھلا کیوں نہ اس سے متاثر ہوتے ۔۔۔۔۔ فرماتے ہیں ہٹلر کا والد یا ماں سَپ رہا ہے ( سپ بمعنی سانپ ) خلف جن کا نا خلف یوں ٹَپ رہا ہے ( ٹَپ بمعنی اچھلنا ) افسوس ! خلقِ خُدا کَپ رہا ہے ( کَپ بمعنی کاٹنا ) نہ کوئی روکتا نہ اُسے نَپ رہا ہے ( نَپ بمعنی پکڑنا ) 4 ۔۔۔۔ دلیل و منطق استاد قادرالکلام شاعر ہونے کے ساتھ دلائل و براہین کے زور پر اپنا نقطہ ءِ نظر ثابت کرنے پر بھی قدرتِ کاملہ رکھتے ہیں ۔ جب ایک حاسد و ناقد نے " شبِ دیجوری " کی نادر و نو مولود ترکیب پر اعتراض کیا تو استاد نے کیا مدلل جواب دیا ملاحظہ ہو ۔۔۔۔۔۔ ( پنجابی میں ) الف آیئے جنابِ من بیٹھو ، ویکھو ککن تمسخر اُڈان ہوندا نہ سوال دا جب تک جواب پایئے نئیں دل نوں کدی اطمینان ہوندا شبِ دیجور ، دیجوری اِنج بنیاں ، جکن فدا ، فدوی فدویان ہوندا ناں تُوں کدی وی ایہہ اعتراض کردوں تُدھ سمجھ گردوں گردان ہوندا مدِ نظر ملحوظ ہے خاص تیرا ورنہ ویکھدا کُل جہان ہوندا بھَن دا مُنہ مضمون دا مار لَپڑ ، بھاویں چین دا کوئی نکتہ دان ہوندا ہو سکتا ہے یہاں ، اردو سیکشن میں انتظامیہ یا اراکین پنجابی شاعری پر اعتراض کریں ۔۔۔۔۔ استاد کو بھی اس امر کا ادراکِ کامل تھا کہ اعتراض تو کیا گیا ایک " اردو ترکیبِ لفظی" پر اور جواب ہے پنجابی میں ۔۔۔۔۔ تو اسی الہامی روانی میں فرماتے ہیں کَد مَیں شعر پنجابی پسند کردا جے میں پاس لندن انگلستان ہوندا اِٹ مِٹ بولدا ، لیٹ می گو کہندا ، سپرنٹڈنٹ پولیس کپتان ہوندا عہدہ پاندا میں ڈپٹی کمشنری دا ، کدھرے سیکرٹری یا مِثل خوان ہوندا سب اسٹر برسٹر ماتحت ہوندے ، عزت آبرو ، فخر گُمان ہوندا مزید پھر کسی آیئندہ نشست میں ۔۔۔۔۔۔ انشا اللہ
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے Ajmal Anjum کا شکریہ ادا کیا | ایکسٹو (23-11-11), بلال الراعی (12-12-10), عبیداللہ عبید (23-11-11), عبداللہ آدم (12-12-10), عبداللہ حیدر (21-12-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 525
کمائي: 32,846
شکریہ: 321
427 مراسلہ میں 1,230 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بزمِ شعر و ادب کے معزز و محترم اراکین ۔۔۔۔۔ السلام ُ علیکم
ہم نے 24 نوئمبر 2010 کو استاد امام الدین گجراتی کے کلامِ معجز نظام کی چند خصوصیات پر مشتمل ایک مراسلہ یہاں پوسٹ کیا تھا ۔ اس کے دوسرے ہی دن ہمیں خرابی ءِ صحت کی بنا پر ہاسپٹلائز ہونا پڑا ۔۔۔۔۔ آج دو ہفتے سے زائد کی غیر حاضری کے بعد حاضر ہوئے ہیں تو یہ جان کر حیرت ہوٕئی ہے کہ اس دوران میں کسی بھی صاحبِ ذوق نے اس پوسٹ کو دیکھا تک نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ہمیں تو جو افسوس ہوا سو ہوا خود استاد نے اس قدر نا شناسی پر خاصے تعجب اور دُکھ کا اظہار کیا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن استاد چونکہ اپنی زندگی میں بھی بارہا اس ناقدری و نا سپاسی کا شکار ہو چکے تھے اس لیے ہمارے سمجھانے پر جلد ہی مان گئے ۔۔۔۔۔ لیکن معزز اراکین کی عدم دلچسپی کے باعث ہم خود ہی اس سلسلے کو یہیں ختم کیے دیتے ہیں لیکن ناقدریءِ زمانہ اور استاد کے عجزِ درویشانہ کی بات پر استاد کو یہ احساس تھا کہ لفظ " استاد " معلمی کے مقدس و محترم پیشہ سے متعلق حضرات کے لئے مخصوص ہو چکا ہے اس کئے وہ خود ہی وضاحت فرماتے ہیں کہ مجھے ٹیچر نہ سمجھو تم کسی اسکول و کالج کا تخلص ہم جنابِ والا فقظ ' استاد " کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں کہ افسر کسی عدالت کا سمجھو نہ تم مجھے استاد ایک منشی ہے چُنگی محصول کا استاد کے دور میں بھی شاید آج کل ہی طرح پروموشن صرف صاحبِ حیلہ و وسیلہ ملازمین ہی کا مقدر تھی تو اسی بے بسی کا اظہار استاد بھی فرماتے نظر آتے ہیں کہ ہو سکے استاد انسپکٹر چونگی کوئی صورت نظر نہیں آتی کمیٹی کی چونگی محرری سے ریٹائر ہو کر استاد نے سوختنی لکڑی کا کاروبار شروع کیا جیسا کہ استاد کے کلام سے ظاہر ہے ڈالو اب ٹال جلالپوری دروازے کے باہر استاد ( جلالپوری دروازہ گجرات شہر کا ایک معروف مقام ہے )ہو گیا جو کچھ کہ تمہارے مقدر میں ہونا تھا لیکن استاد کی سادہ دلی اور انسان دوستی کے باعث یہ کاروبار " اُدھار " کی نذر ہو گیا اور استاد بکمالِ عجز و انکسار یہی دعا کرتے رہ گئے کہ رب العزت کی خدمت میں دعا استاد کرتا ہے کہ لکڑی کی فروخت کا دیا اُدھار آ جائے استاد کے مجموعہ ءِ کلام میں شامل نظموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ استاد نے بعد ازاں منجن اور سرمہ بیچنے کے کاروبار میں بھی قسمت آزمائی فرمائی لیکن اس کی تفاصیل نہ جانے کس طرح تاریخ کا حصہ بننے سے رہ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے Ajmal Anjum کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایک طویل وقفے کے بعد کل سے دوبارہ حاضر ہوا ہوں آج آپ کا یہ میسج پڑھا اور افسوس ہوا ۔۔ اگرچہ اب سب کچھ ہو جانے کے بعد میرا افسوس اس دکھ کا مداوا نہیں کر سکے گا لیکن مجھے امید ہے کہ آپ اس سلسلے کا بھی آغاز کریں گے اور ہفت افلاک سخن کے دیگر ستاروں سے بھی متعارف کروائیں گے۔ آپ کے جواب کا انتظار رہے گا |
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں تو شدت سے اپکے مزید مراسلات کا منتظر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپنے شدت انتظار کی اطلاع بھی وقتا فوقتا کر دیا کریں تا کہ اگلے کو حوصلہ رہے کہ کوئی تو ہے جو پڑھ رہا ہے اور ھل من مزید بھی پکار رہا ہے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, کلامِ, کالج, قدم, آج, استاد, تعارف, خوش, دل, ستارے, شہر, شور, شاعری, شعر, شعر و شاعری, عالم, عالمِ, عظیم, غالب, غرورِ, صحیفہ, صدیوں, صدارت, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| بلوچستان اور وزیرستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت ملے ہیں، وکی لیکس | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 05:18 AM |
| 6 پاکستانی گرفتار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بار پھر پاکستانیوں کی سختی آگئی | گلاب خان | خبریں | 0 | 14-05-10 03:39 AM |
| افغانستان میں بھارتی افواج کی تعیناتی شروع، آئندہ 4 ماہ پاکستان کیلئے خطرناک | champion_pakistani | خبریں | 4 | 18-09-08 10:08 AM |
| پاکستان اور قازقستان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر متفق | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 13-04-08 08:48 AM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 08:45 PM |