واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شاعروں کی بیٹھک



شاعروں کی بیٹھک اپکی اپنی شاعری


دوزخ میں ہے دنیا اِسے جنت کی پڑی ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-11-09, 11:26 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مقام: Earth
مراسلات: 1,785
کمائي: 49,886
شکریہ: 121
1,160 مراسلہ میں 2,588 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعمر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدعمر کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default دوزخ میں ہے دنیا اِسے جنت کی پڑی ہے

دوزخ میں ہے دنیا اِسے جنت کی پڑی ہے

آندھی ہے تلاطم ہے مصیبت ہے بلا ہے
شعلے ہیں شرارے ہیں جہنم کی ہوا ہے
نفرت کا یہ موسم ہے تعصب کی فضا ہے
محشر سے بہت پہلے یہاں حشر بپا ہے

سجدے بھی کیےخاک پہ مانگی ہے دعا بھی
ناراض ہے اس قوم سے شاید کہ خدا بھی


ہر سمت یہاں نالہ و فریاد و فغاں ہے
بستی کہاں بستی ہے قیامت کا سماں ہے
دنیا کی ہے یہ شکل کہ دوزخ کا گماں ہے
اے مالکِ کونین ترا رحم کہاں ہے

برہم ہوئے انسان غم و رنج و الم سے
مایوس نہ کر اِن کو عنایت سے کرم سے


افسوس کہ آپس میں ہیں ہم بر سرِ پیکار
روتے ہیں یہاں لوگ تو خوش ہوتے ہیں اغیار
اِس قوم کو کیا جانئے کیا لگ گیا آزار
انجام سے ڈرتا ہوں کہ اچھے نہیں آ ثار

حالات سے ہر ایک ہے بے چین پریشان
اِس ملک میں چلتا ہے کسی اور کا فرمان


حیران ہوں یہ لوگ بھی انسان ہیں یا رب
جاتے ہیں جہاں موت کا سامان ہیں یا رب
چلتا ہوا پھرتا ہوا طوفان ہیں یا رب
دنیا کی نظر میں یہ مسلمان ہیں یا رب

بندے ہیں ترے دہر میں یہ کام کیا ہے
ہر دیس میں اسلام کو بدنام کیا ہے


اس طرح کے بے رحم بھی ہوتے ہیں مسلمان
دکھ درد سے بےحس ہیں کہ جیسے کوئی بے جان
دیندار ہیں ایسے کہ نہیں دین کی پہچان
رکھتے ہیں تمنا کہ ہر اک شہر ہو سنسان

کوتاہی افکار ہے اور ذہن ہیں بیمار
دوزخ کے ہیں معمار یہ جنت کے طلبگار


ظالم ہیں کہ مظلوم ہیں کیا جانئے کیا ہیں
یہ اہلِ ستم ہیں کہ گرفتارِ بلا ہیں
بیداد کی تصویر ہیں نفرت کی ادا ہیں
بت خانہ عالم میں پرستارِ خدا ہیں

مرنے کے سوا کوئی تمنا نہیں رکھتے
بیمار ہیں پر شوقِ مسیحا نہیں رکھتے


گزری ہے کچھ ایسی کہ زمانے سے ہیں بیزار
پھولوں سے نہیں گلشنِ ہستی میں سروکار
ہر موجِ صبا کرتی ہے اک درد کو بیدار
مرنے کو ہیں تیا ر یہ نا واقفِ اسرار

پیدا ہوئے جس دن سے مرے ہیں نہ جئے ہیں
بے خوف و خطر جسموں سے بم باندھ لئے ہیں


جا کر کسی مسجد میں اڑا دیتے ہیں خود کو
بچوں کے سکولوں میں جلا دیتے ہیں خود کو
قاتل ہیں کچھ ایسے کہ مٹا دیتے ہیں خود کو
نفرت کی یہ حد ہے کہ بھلا دیتے ہیں خود کو

مل جائے گا کیا اِن کو اگر سوگ بہت ہوں
مرتے ہیں وہاں جا کے جہاں لوگ بہت ہوں


مقصد ہے کہ شہروں میں تباہی سی مچا دیں
اونچی ہیں سروں سے جو عمارات گرا دیں
بارود کے شعلوں میں گلستاں کو جلا دیں
مٹنا ہے اگر خود تو ہر اک چیز مٹا دیں

جیتے رہے کچھ اور تو کیا اِن کو ملے گا
وہ زخم ہے دل پر نہ مٹے گا نہ سلے گا


مانا کہ بڑے قہر سے گزرے ہیں بچارے
ماں باپ بہن بھائی مرے جنگ میں سارے
بمباریاں اِن پر ہوئیں برسے ہیں شرارے
احباب جو باقی تھے وہ جنت کو سدھارے

دو بار قیامت تو بپا ہو نہیں سکتی
دکھ ایسے ملے ہیں کہ دوا ہو نہیں سکتی


کس سمت کو جانا ہے بتاتا ہے کوئی اور
یہ راہِ ستم اِن کو دکھاتا ہے کوئی اور
مرنے کے یہ انداز سکھاتا ہے کوئی اور
آگ اپنی ہے پر اِس کو لگاتا ہے کوئی اور

ناقص ہیں جو چلتے ہیں سہارے پہ کسی کے
سب کارِ نمایاں ہیں اشارے پہ کسی کے


دنیا نے ہمیں جو بھی کہا مان لیا ہے
حکام نے امداد کا احسان لیا ہے
خیرات پہ جینا ہے یہی ٹھان لیا ہے
غیروں نے ہر اک رمز کو پہچان لیا ہے

مسجد میں یونہی جاتے ہیں راحت کے پجاری
پیسوں سے یہ بن جاتے ہیں ظالم کے حواری


رستہ کوئی واضح ہے نہ منزل کا نشاں ہے
سب نفع کے پیچھے ہیں یہی سب کا زیاں ہے
سونے کی نظر ہے یہاں پیسے کی زباں ہے
ارزاں ہے کوئی چیز تو اک خواب گراں ہے

الجھی ہوئی باتوں میں بہت پیچ ہیں خم ہیں
بت خانہ مذہب میں تخیل کے صنم ہیں


لازم ہیں ترقی کے لئے صنعت و ا یجاد
اب علم پہ ہے قوتِ اقوام کی بنیاد
ہوتی ہے سدا مفلس و کمزور پہ بیداد
ہم قیدِ غلامی میں ہیں اب تک نہیں آزاد

یہ بات نہ سمجھیں گے اسیرانِ روایات
جاری ہیں لبِ واعظ و ملا پہ حکایات


اوپر کوئی دنیا ہے کہ حوروں سے بھری ہے
کیا گیسو و رخسار ہیں کیا جلوہ گری ہے
ہر شاخ گلستانِ تمنا کی ہری ہے
واعظ کا مصلیٰ نہیں لالچ کی دری ہے

کچھ فکر نہیں سب پہ مصیبت کی گھڑی ہے
دوزخ میں ہے دنیا اِسے جنت کی پڑی ہے
بشکریہ بی بی سی اردو
محمدعمر آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدعمر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 06-11-09, 11:53 PM   #2
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 53
کمائي: 698
شکریہ: 17
22 مراسلہ میں 42 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب
نائس شیئرنگ
stranger007 آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-11-09, 12:29 PM   #3
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,185
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,963 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ناراض ہے اس قوم سے شاید کہ خدا بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوزخ کے ہیں معمار یہ جنت کے طلبگار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واعظ کا مصلیٰ نہیں لالچ کی دری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-11-09, 02:58 PM   #4
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,790
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی اچھی شاعری ھے۔۔
The Great آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-11-09, 07:10 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مقام: Earth
مراسلات: 1,785
کمائي: 49,886
شکریہ: 121
1,160 مراسلہ میں 2,588 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعمر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدعمر کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پسند کرنے کے لئے شکریہ
محمدعمر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-11-09, 10:54 PM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ کیسی جنت ہے جو لوگوں کے جسموں کے ٹکڑے کر کے حاصل کی جائے گی؟ یہ کیسی جنت ہے جس کی تعمیری میں لوگوں کا خون شامل ہے؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-11-09, 12:18 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مقام: Earth
مراسلات: 1,785
کمائي: 49,886
شکریہ: 121
1,160 مراسلہ میں 2,588 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعمر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدعمر کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
یہ کیسی جنت ہے جو لوگوں کے جسموں کے ٹکڑے کر کے حاصل کی جائے گی؟ یہ کیسی جنت ہے جس کی تعمیری میں لوگوں کا خون شامل ہے؟
یہی بات اگر ان لوگوں کی سمجھ میں آجائے تو۔۔۔۔۔
محمدعمر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-11-09, 12:35 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,983
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,967 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوبصورت نظم لکھی ہے
عامرشہزاد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, لوگ, چین, نظر, موت, مسجد, انسان, اردو, اسلام, بھائی, تصویر, خوش, خدا, دیس, دل, دعا, شہر, عنایت, عمارات, عالم, غلامی, غم, صنم, صنعت, صبا


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فضل الرحمن اور 7 وزراء کا اضافی رہائشگاہیں خالی کرنے سے انکار کلک رضا خبریں 10 14-12-10 10:07 PM
دوزخ میں ہے دنیا اِسے جنت کی پڑی ہے ھارون اعظم عمومی بحث 3 12-11-09 09:34 PM
اورکزئی:جر گے میں خودکش حملے کا الزام ماموزئی قبائل پر عائد ابن جلال خبریں 0 18-10-08 03:07 PM
جمیل الزمان کو وزارت نہ ملنے سے زرداری اور امین فہیم میں اختلافات بڑھ گئے عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 09:24 AM
حقائق سامنے لائیں گے: وزارتِ داخلہ وجدان خبریں 0 02-01-08 02:48 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:41 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger