واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شاعروں کی بیٹھک



شاعروں کی بیٹھک اپکی اپنی شاعری


شاہنامہ اسلام جلد اول سے منتخب اشعار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-05-09, 10:13 AM   #1
Senior Member
 
راجہ صاحب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post شاہنامہ اسلام جلد اول سے منتخب اشعار

شاہنامہ اسلام جلد اول سے منتخب اشعار


سخن کی قدر دانی زندگانی میں نہیں جاتی
یہاں جب شمع بجھ لیتی ہے تب پروانہ آتا ہے

سب سے پہلا شعر جو ابتدائی اشعار میں مجھے پسند ہے وہ ہے جس میں ابوالاثر حفیظ جالندھری مرحوم نے وجہ تالیف بتاتے ہوئے اپنی آرزو کو ان سادہ مگر موثر لفظوں میں بیان کیا ہے

تمنا ہے کہ اس دنیا میں کوئی کام کر جاؤں
اگر کچھ ہو سکے تو خدمت اسلام کر جاؤں

ابوالاثر حفیظ جالندھری مرحوم نے فردوسی کے شاہنامے اور کام کا ذکر بہت اچھے طریق سے کیا ہے جس میں واجبی انکسار کے علاوہ صورت واقعہ اور دلی درد کا اظہار ہے :۔

کیا فردوسی موحوم نے ایران کو زندہ
خدا توفیق دے تو میں کروں ایمان کو زندہ

تقابل کا کروں دعویٰ یہ طاقت ہی کہاں میری
تخیل میرا ناقص نامکمل ہے زباں میری

زباں پہلوی کی ہمزبانی ہو نہیں سکتی
ابھی اردو میں پیدا وہ روانی ہو نہیں سکتی

کہاں ہے اب وہ دور غزنوی کی فارغ البالی
غلامی نے دبا رکھی ہے میری ہمت عالی

آخری مصرعے میں جو درد ہے اس سے آج کل کے اکثر نوجوان آگاہ ہیں اور فی الحقیقت ہمیتیں اس زمانے میں بہت پست ہو وہی ہیں مگر جس بلند ہمتی کا ثبوت ابوالاثر حفیظ جالندھری مرحوم نے دیا ہے وہ قابل تعریف ہے کہ ناداری کے سنگ گراں کے باوجود ایسے اہم کام کا بیڑا اٹھایا ہے جس سے بڑے بڑے سرمایا دار گھبرائیں ۔
جب حضرت ابراہیم علیہ سلام اپنی بیوی کو ہمراہ لے کر عرب کی طرف آئے تو اس مختصر سے قافلہ کا صحرائے عرب میں سفر ذیل کے تین شعروں میں بہت پاکیزہ لفظوں میں بیان ہوا ہے :۔

خدا کا قافلہ جو مشتمل تھا تین جانوں پر
معزز جس کو ہونا تھا زمینوں آسمانوں پر

چلا جاتا تھا اس تپتے ہوئے صحرا کے سینے پر
جہاں دیتا ہے انساں موت کو ترجیح جینے پر

وہ صحرا جس کا سینہ آتشیں کرنوں کی بستی ہے
وہ مٹی جو سدا پانی کی صورت کو ترستی ہے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے کا متعلق جو اشعار لکھے ہیں انہیں پڑھ کر عاشقان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر حالت وجد طاری ہو گی

یہ کس کی جستجو میں مہر عالمتاب پھرتا ہے
ازل کے روز سے بیتاب تھا بیخواب پھرتا ہے

کروڑوں رنگتیں کس کے لئے ایام نے بدلیں
پیپے کروٹیں کس دھن میں صبح و شام نے بدلیں

یہ سب کچھ ہو رہا تھا ایک ہی امید کی خاطر
یہ ساری کاہشیں تھیں ایک صبح عید کی خاطر

ان شعروں میں تو آپ کی آمد کی امید کا ذکر تھا اب ذرا آمد کی شان ملاحظہ ہو

معین وقت آیا زور باطل گھٹ گیا آخر
اندھیرا مٹ گیا ظلمت کا بادل چھٹ گیا آخر

مبارک ہو کہ دور راحت و آرام آ پہنچا
نجات دائمی کی شکل میں اسلام آ پہنچا

مبارک ہو کہ ختم المرسلیں تشریف لے آئے
جناب رحمتہ للعٰلمین تشریف لے آئے

خبر جا کر سنا دو شش جہت کے زیردستوں کو
زبردستی کی جرات اب نہ ہو گی خودپرستوں کو

ضعیفوں بیکسوں آفت نصیبوں کو مبارک ہو
یتیموں کو غلاموں کو غریبوںکو مبارک ہو

کس عجیب پیرائے میں ان خصائل کا ذکر کیا گیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا جزو تھیں
جس شب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے ارادے سے مکہ شریف سے کفار کے نرغے کے باوجود نکلتے ہیں دیکھیے اس کا بیان کس انداز سے ہوا ہے

نظر آتی تھیں چاروں سمت تلواریں ہی تلواریں
اندھیرے میں چمک اٹھتی تھیں بجلی کی طرح دھاریں

وہ دراتا ہوا وحدت کا دم بھرتا ہوا نکلا
تلاوت سورۃ یٰسین کی کرتا ہوا نکلا

کھنچی ہی رہ گئیں خونریز خوں آشام شمشیریں
کسی نے کھینچ دی ہوں جس طرح کاغذ کی تصویریں

مدینے پہنچنے پر جو زندگی مسلمانوں نے اپنے ہادی برحق کے زیر سایہ شروع کی اس کا نقشہ ذیل کے اشعار میں ملاحظہ ہو :۔

تھے انصار و مہاجر اک نمونہ شان وحدت کا
کہ اس تسبیح میں تھا رشتہ محکم اخوت کا

مسلماں تھے کہ تھیں زید ورع کی زندہ تصویریں
نمازیں اور تسبیحیں اذانیں اور تکبیریں

تجارت یا زراعت یا دعائیں یا مناجاتیں
مشقت کے لئے دن تھے عبادت کے لئے راتیں

جہاد پر جو حکم ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا اسے واضع کیا گیا ہے ۔ اس سے بہتر اصول واضع کرنا ناممکن ہے افسوس کہ دنیا اس کے حکم متعلق گوناں گوں غلطیوں میں مبتلا ہے ۔

کہا راہ خدا میں تم کو لڑنے کی اجازت ہے
خدا کے دشمنوں کے دفع کرنے کی اجازت ہے

مگر تم یاد رکھو صاف ہے یہ حکم قرآں کا
ستانا بے گناہوں کو نہیں شیوا مسلماں کا

نہیں دیتا اجازت پیش دستی کی خدا ہرگز
مسلماں ہو تو لڑنے میں نہ کرنا ابتدا ہر گز

فقط ان سے لڑو جو لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں
فقط ان سے لڑو جو تم پہ جینا تنگ کرتے ہیں
راجہ صاحب آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, پسند, لوگ, مکہ, موت, آج, ایمان, ایران, اللہ, ابوالاثر حفیظ جالندھری, اردو, اسلام, اشعار, جلد, حفیظ جالندھری, دعائیں, زندگی, سفر, شاہنامہ اسلام, شام, شعر, عید, عبادت, صاف, صبح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger