![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#31 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,607
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,519 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا |
|
|
|
|
|
|
#32 |
|
Senior Member
![]() |
اس فورم پر مجھے کچھ میمبرز جانتے ہیں کہ میں کوئی ایسا شخص نہی ہوں جو حقیقت ظاہر ہوجائے کے بعد بھی اسے مانو۔ اور نہ میں نے کبھی اپنی علمی اونچائی کا زکر کیا ہے کہ اگرمجھ پر کوئی حقیقت اشکار ہوتو مجھے شرمندگی ہو۔۔۔اور اس شرمندگی سےبچنے کے لیے میں آڑ جاوں ۔۔
بس مجھے یہ جملہ یعنی خلیفہ دوم خسر نبی دامادِ علی امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔۔بے چین کردیتا ہے میں نے اج سے تقریبا 8 یا 9 سال پہلے کراچی کے ایف بی ایریا بلاک 17 میں شائد ایک پٹھان ہوٹل کی دیوار پر لگے اس بورڈ پر گئی تھی اس دن کے بعد شائد 5 سال پہلے کراچی کے ہی ایک علاقے نیوکراچی کے پاس ایک مسجد کے قریب ایسا ہی بینر یا بورڈ دیکھا تھا اور اس کے بعد اس مراسلہ پر نظر پڑی اس دن سے اج تک مجھے اس بات کو تسلیم کرنے میں بہت مشکل رہی تھی اس لیے اسے نہی مانا ۔ اس بے جوڑ شادی پر میں نے اہل فارس سے بھی کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے اس میں یہ لکھا ہے کہ اہل تشیع کی کتابوں میں کچھ روایات موجود ہیں جن سے انکار نہی کیا جاسکتا مگر یہ ہےکہ ہوسکتاہے کے کوئی اور ام کلثوم ہوں کیونکہ اس دور میں چھ سے اٹھ ام کلثوم نام کی خواتین موجود تھیں ۔ لیکن اب اس واقعہ اور موضوع کی حقیقت کو قبول کرنے کے نہایت نذدیک ہوں کہ واقعی حضرت عمر نے جناب ام کلثوم بنت فاطمہ زہرہ علیہ سلام سے شادی کی تھی۔ میں دو دن سے مسلسل اسی بارے میں سوچ رہا ہوں یہاں تک کہ قران پاک جتنا پڑھا ہے سب کا سب زہن میں دھراتا رہا ہوں ۔ ایک واقعہ جناب آسیہ علیہ سلام کی بے جوڑ شادی کا ملا اس پر بھی بھی سوچا اور اس کے محرکات پر بھی۔۔ |
|
|
|
| کمائي نے حیدر Rehan کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 02-12-11 | حیدر | میں کوئی ایسا شخص نہی ہوں جو حقیقت ظاہر ہوجائے کے بعد بھی اسے مان. Great. Allah aap k aor hmarey ilm pr apni rehmat ka saya karey.a ameen | 150 |
|
|
#33 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بشرط صحت، یہ بہت بڑی بات ہے اور آپ کا کچھ مقام میرے دل میںبلند کر گئی ہے۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی تعصب سے محفوظ فرمائیں اور ہم سب کی بھی اس لعنت سے حٍفاظت فرمائیں، کہ دور حاضر میںیہی قبولیت حق کی راہ میںسب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ورنہ درست بات کو پا لینا آج کے دور میںکچھ بھی مشکل نہیںرہ گیا ہے۔ فللہ الحمد۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|
|
|
|
|
#35 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم، میں ’اس سے دراز نفسی مقصود نہیں‘ کہہ کر اپنی اچھائیاںخود بیان کرنا مناسب نہیںسمجھتا۔ باقی اگر آپ کو لگا ہو کہ میںکوئی متعصب قسم کا شخصہوںتو میںمعذرت خواہ ہوں۔ میںدلیل سے آنے والی ہر بات کے آگے سر تسلیم خم کرنا اپنا ایمان سمجھتا ہوں۔ اور دلائل کے سامنے سر جھکاتے ہوئے ہی آج میںوہ ہوںجو میںہوں۔
اور کوشش کرتا رہتا ہوں کہ ہر وقت اللہ تعالیٰسے اپنی اور دوسروںکی ہدایت کی بھی دعا کرتا رہوں۔ اس سے زیادہ ایک عاجز اور حقیر سا انسان کر بھی کیا سکتا ہے کہ دلائل کو بھی مانے اور ہدایت کی دعا بھی کرتا رہے۔۔؟ |
|
|
|
|
|
#36 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 185
کمائي: 3,102
شکریہ: 504
155 مراسلہ میں 421 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#37 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 185
کمائي: 3,102
شکریہ: 504
155 مراسلہ میں 421 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| فکری کا شکریہ ادا کیا گیا | نبیل خان (01-12-11) |
|
|
#38 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں خود اس کا سب سے بڑا حامی ہوں الحمداللہ لیکن میں نے اکثر دلیل کے بجائے تقلید کو ایمان بنے ہوئے دیکھا بھی اور اس پر لوگوں کو بضد بھی خود ریحان حیدر صاحب بھی" دائرے میں محدود نا رہنے " کا دعوی کرتے ہوئے سامنے آئے تھے لیکن ۔۔ (ریحان بھائی سے معذرت کے ساتھ ) انہوں تو اپنا ایک الگ ہی دائرہ بنالیا ![]() حالانکہ کم از کم انہوں نے ضرور محسوس کیا ہوگا کے میں دائروں کی حدود سے دور ہی رہا ہوں اللہ اپ کے اس خلوص دین کو قبول فرمائے اور ہمارے لئے بھی راہیں آسان کرے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
|
|
#39 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
۱۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام کلثوم کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نکاح۔ ۲۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولادوں کا نام خلفائے ثلاثہ کے نام پر ہونا۔ (جبکہ آج تک اہل تشیع حضرات اپنی اولادوں کے نام ان خلفائے ثلاثہ کے نام پر نہیں رکھتے) اگر درج بالا دو حقائق ثابت کر دئے جائیں تو اس سے خودبخود درج ذیل تین باتیں ثابت ہو جاتی ہیں۔ ۱۔ نکاح سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ باہم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کچھ عداوت نہ تھی بلکہ نہایت ہی دوستی تھی، اگر دوستی نہ ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی، وہ بیٹی جو کہ خاص حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھیں، کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہ کرتے اور دشمن کو اپنے خاندان میں نہ لیتے۔ ۲۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ (نعوذباللہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کافر یا منافق یا مرتد نہ تھے، ورنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، سیر خدا، غالب کل، مطلوب کل طالب، مظہر العجائب والغرائب اپنی ایسی پیاری بیٹی کا نکاح ان کے ساتھ نہ کرتے اور اگر ان کے ایمان و عبادت اور زہد و پرہیزگاری پر اطمینان کامل حضرت امیر کو نہ ہوتا تو وہ کبھی ان کو اپنا داماد نہ بناتے۔ ۳۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کبھی کسی قسم کا رنج اور صدمہ جناب امیر رضی اللہ عنہ کو یا حضرت فاطمہ علیہا السلام کو نہیں دیا اور کبھی کسی قسم کی دشمنی یا عداوت ان کے ساتھ نہیں رکھی، ورنہ ممکن نہ تھا کہ حضرت امیر رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے ساتھ جس نے ان کو یا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رنج دیا ہوتا اس نکاح کا ہونا جائز رکھتے۔ بہرحال یہ امر اخلاص اور اتحاد و محبت پر باہم جناب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایسا شاہد عادل ہے کہ کسی طرح پر اس بات کے ثبوت کے بعد اہل تشیع کی زبان پر عداوت کا نام نہیں آ سکتا اور باوجود ہزار سعی باطل کے کوئی عذر و حیلہ ان کا اس معاملہ میں نہیں چلتا۔ (ماخوذ) والسلام |
|
|
|
|
|
|
#40 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
مگر فیصل بھائی ایک عجیب بات جو پریشان کرتی رہی ۔وہ یہ تھی کہ جب رسول اللہ ص کی موجودگی میں امام حسن ع نے کچھ کھجوریں اٹھا کر منہ میں رکھنا چاہیں تو رسول اکرم ص نے ان کھجوروں کو منہ سے نکال کر کہا کہ یہ صدقہ ہے ۔۔۔تم پر حرام ہے ۔۔۔ پھر اصحاب اکرم کے سامنے پیش کردیا کہ ۔ ۔ ۔ ۔اپ کھائیں ۔۔۔آپ پر حلال ہے ٍفیصل بھائی اسے ڈیلیٹ مت کیجئے گا جناب عمر کے بیٹے عبداللہ ابن عمر نے جب یہ شکایت کی کہ امام حسن نے کہا ہے کہ تم میرے بابا کے غلام ہو تو کیا انھونے یہ نہی کہا کہ فورا لکھوالو ۔۔ ۔ ۔ ۔ہماری بخشش کا ضامن ہوجائے گی یہ لکھی ہوئی بات ۔۔۔ یعنی یہ وہی جناب ام کلثوم ع ہیں جو امام حسین ع کی بہن ہیں ۔۔۔۔جن پر صدقہ حرام تھا یعنی یہ وہی جناب ام کلثوم ع ہیں جو امام حسن کی ع کی بہن ہیں ۔۔۔۔۔۔جو اگر حضرت عمر کو غلام لکھ دیں تو باعث رحمت ہوجائے جو بات مجھے سننے میں اور پڑھنے میں کبھی اچھی نہی لگی وہ بات ایک حقیقت تھی ؟ یعنی وہ عمل جو سوچنے اور کہنے میں برا تھا وہ عمل ہوچکا حضرت عمر کی شادی ام کلثوم بنت فاطمہ سلام اللہ علہا |
|
|
|
|
|
|
#41 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
یہ نہ صرف حضرت عیسی علیہ سلام پر سچ بولا ہے بلکہ یہ سب رسول اکرم ص کے ساتھ بھی ہوا ہے ۔ ۔ میں نے تعظم کی وجہ سے نہی لکھا تھا اب لکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا رسول اکرم ص نے یہ سب برداشت نہی کیا ؟ کیا ان پر نماز کی حالت میں اوجڑی نہی ڈالی گئی تھی ؟ کیا کافرہ عورت ہر روز رسول اکرم ص پر کوڑا نہی پھینکتی تھی ؟ کیا مکہ کے مشرکین رسول اللہ ص کا مذاق نہی آڑایا کرتے تھے ؟ کیا رسول اللہ ص کو برے برے ناموں سے نہی پکارا گیا ؟ ظالم کی عادت ہے کہ وہ ظلم کرکے بھول جاتا ہے۔ مگر یہ امت کو کیا ہو گیا ؟ |
|
|
|
|
|
|
#42 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ریحان بھائی ایک فلم 2012 میں ایک سین ہے
ایک بدھ بھکشو اپنے شاگرد کے تبت کے پہاڑوں ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور بات چیت کے دوران اپنے شاگرد کے کیتلی سے چائے نکالتا ہے پیالہ بھرنے کے باوجود وہ چائے نکالے جاتا ہے شاگرد اپنے استاد کو ٹوکتا ہے جناب پیالہ بھر گیا ہے ، پیالہ بھر چکا ہے جناب استاد کا جواب قابل غور تھا " تمہارا دل بھی اس پیالہ کی طرح شکوک وشبہات سے بھر چکا ہے اور بہہ رہا ہے صحیح فیصلہ کرنے کے لئے تمہیں اپنے پیالے کو پہلے خالی کرنا پڑے گا " |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے فیصل ناصر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 01-12-11 | حیدر | صحیح فیصلہ کرنے کے لئے تمہیں اپنے پیالے کو پہلے خالی کرنا پڑے گا " | 150 |
|
|
#43 |
|
Senior Member
![]() |
حیدر صاحب! معذرت کے ساتھ ،میں مذکورہ بالا جملہ کا مطلب نہیں سمجھا
|
|
|
|
|
|
#44 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کتنی بہتر مثال کس وقت یاد دلادی ۔۔۔۔مجھےیہ فلم اور سین مجھے یاد ہے۔ اس مثال کے دیئے جانے کے بعد اور اس پر کئی بار غور کرنے کے مجھ سمیت ہر شخص کو اپنے اوپر لازم کرنا پڑے گا یعنی دل کا پیالہ شکوک و شہبات سے خالی کرنا پڑے گا |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, پاک, محمد, محسن, مرد, آج, ایمان, اللہ, الطاف, انتخاب, اسے, جل, جائے, حکومت, حکم, حقیقت, حضرت, خلیفہ, خدا, دوم, در, دریا, سمندر, عقیدہ, علی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|