|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,276
شکریہ: 5,802
6,280 مراسلہ میں 15,258 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (18-01-12), نبیل خان (18-01-12), مون (17-01-12), محمد یاسرعلی (17-01-12), حیدر Rehan (18-01-12), حسن قادری (18-01-12) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 1,671
کمائي: 14,885
شکریہ: 2,817
893 مراسلہ میں 1,674 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ ۔۔۔ عرض ہے
یاروں متعین وقت ہرچیز کا دنیا میں ہے دیر جس کو کہتے ہو وہ وقت کا ہے انتظار ۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
آج شعر و شاعری کا جی چاہ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لو جی ابھی ابھی تازہ کلام لکھا ہے ۔
زارا۔۔۔تمھاری اداسی کو دور کرنے اور شعر کی مطابق سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمھارے شعر پر 2 چھوٹے چھوٹے بند باندھ رہا ہوں نہ جانے دل کِسے کمال کہتا ہے ہزار منظر کہ جنھیں انکھوں سے روز چُنتا ہوں ہزار سُر ہیں جنھیں سماعتوں سے روز سنتا ہوں ہزار خواب ہیں کہ سوتاہوں تو روز بُنتا ہوں یہ انکھیں کمال ہیں میری، یہ سماعتیں کمال ہیں میری نہ جانے دل کسے کمال کہتا ہے کتنی سانسیں ہیں جو رکتی ہیں نہ چل سکتی ہیں ایسے آٹکی ہیں کہ سینے میں انگار بنی پلتی ہیں کتنی شامیں ہیں کہ اوروں کو ساتھ لیے ڈھلتی ہیں کیا ان باتوں سے کبھی میں بھی دِھل سکتا ہوں یہ خوش نصیبی ہی تو ہے کہ اپنی مرضی سے آٹھتا ہوں ، بیٹھتا ہوں ، چل سکتا ہوں زرا سے جوش کو اُبال کہتا ہے نہ جانے دل کسے کمال کہتا ہے جلدی جلدی میں بس انتا ہی باقی پھر کبھی ۔۔
|
|
|
|
| کمائي نے حیدر Rehan کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 18-01-12 | سیپ | wah, wah | 5 |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,276
شکریہ: 5,802
6,280 مراسلہ میں 15,258 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت بہت شکریہ آپ سب کا |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
بہت عمدہ شعر چیئر کیا آپ نے آنٹی جی
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
یہ زرا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زارا ہوگیا
![]() ![]() ![]() زرا سے جوش کو اُبال کہتاہے ؟
نہ جانے دل کسے کمال کہتا ہے ۔ |
|
|
|
|
|
#12 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
زہن میں کوئی بات گھس جائے تو بہت مشکل سے نکلتی ہے۔صبح اٹھا اور جلدی جلدی آفس کے لیے تیاری کرکے نکلا گاڑی اسٹارٹ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راستے میں دو چار اشعار اور کہہ گیا۔لکھ رہا ہوں کہیں بھول نہ جاوں۔ آیڈٹ کرلینا ۔۔۔۔۔۔۔تبدیلی کی گنجائش تو ہمیشہ ہر جگہ رہتی ہے ![]() گنتی کے ہیں دن ’خوشیوں میں بسر کر پھتروں پہ چل کر، کبھی کانٹوں سے گزر کر کیوں نہ الگ ہوں کہ یہ ’لمحوں کی کڑی‘ ہے نہ فتنہ میں تو الجھا ہے، نہ اُفتاد پڑی ہے پھر ایک ہی منظر پہ کیوں نگاہ گڑی ہے ایک ہی چہرہ ہے جو، لاکھوں میں بھلا لگتا ہے ؟ پیار سے ہٹا دو اسے ، یہ ’گھر کا پلا‘ لگتا ہے۔ آخری شعر میں ’گھر کا پَلا‘ ایک نیا محاورہ استعمال کیا ہے Last edited by حیدر Rehan; 21-01-12 at 04:03 PM. |
||
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
گھر کا پَلا ہوا
![]() یعنی زہن و قلب میں موجود خیال کو میں نے تشبہ دی ہے کہ یہ ’گھر کا پلا ہوا‘ ہے۔ ۔ ۔ Last edited by حیدر Rehan; 21-01-12 at 04:08 PM. |
|
|
|
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|