واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعری اور مصوری




ایک ہندو کی فریاد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسلم قوم کے نام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-09-11, 07:44 AM   #1
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,512
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default ایک ہندو کی فریاد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسلم قوم کے نام

ایک ہندو کی فریاد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسلم قوم کے نام

ایک ہندو کی فریاد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسلم قوم کے نام
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (27-09-11), مرزا عامر (27-09-11), بلال الراعی (27-09-11), حسن قادری (27-09-11), سیپ (05-11-11)
پرانا 27-09-11, 03:20 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
بلال الراعی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Gujrat
عمر: 27
مراسلات: 195
کمائي: 5,882
شکریہ: 821
158 مراسلہ میں 527 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال الراعی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کیا خوب عکاسی کی ہے جناب آج کل کے مسلمانوں‌کی۔۔
بلال الراعی آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-09-11, 04:25 PM   #3
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اما یار بہت ہی گھسی پتی سی فریاد ہے جو کہ کئی سالوں سے نیت پر دھکے کھا رہی ہے اور آج آپ نے اسے پاک نیٹ کی بھی بھینٹ چڑھا ہی دیا ویسے میرا غالب خیال ہے کہ جتنی یہ پرانی ہے کبھی پہلے بھی پاک نیٹ کی ضرور زینت بنی ہوگی خیر ایک فورم پر کچھ عرصہ قبل یہ لگی تو اسکا جواب دیا تھا وہی جواب یہاں بھی کاپی پیسٹ کرنے کی جسارت کررہا ہوں الفاظ کچھ تلخ ہونگے مگر برا نہ منائیے گا کیونکہ جب اس گھسی پٹی فریاد کو لگاتے وقت آُ نے غور و فکر نہیں فرمایا حالانکہ میرے خیال میں آپ صاحب مطالعہ شخص ہیں خیر چلو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ۔۔۔

میرا پہلا رپلائی اس فورم پر درج زیل تھا ۔ ۔ ۔



اقتباس:
جہالت کا پلندہ ہے اگر واقعی کسی ہندو کا لکھا ہوا ہے تو اسکی جہالت پر حیرت نہیں اگر کسی مسلم نے ہندو کی طرف سے لکھا ہے تو وہ مسلم اس ہندو سے بھی بڑا جاہل ہے ۔
کیونکہ شرک محض اعمال کا نام نہیں عقیدہ کی تمام بڑی کتب میں شرک کی جو تعریف رقم ہے وہ درج زیل ہے ۔

"الا شراک ھو اثبات الشریک فی الالوھیۃ یعنی وجوب الوجود کما للمجوس او بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الاصنام"
یعنی شرک یہ ہے کہ مجوسیوں کی طرح مستقل ایک خدا تسلیم کیا جائے یا پھر کسی کو مستحق عبادت مان لیا جائے جیسے پتھروں
کی پوجا کرنے والے ۔

فائدہ :- یاد رہے الوہیت کا مدار وجوب الوجودیت پر ہے اور واجب الوجودیت کا بنیادی تقاضا مستحق عبادت ہونا ہے سو الوہیت واجب الوجودیت اور استحقاق عبودیت سے عبارت ہے جس کسی بھی ہستی میں یہ دو چیزیں بجز خدا کہ تسلیم کرلیں گئیں تو یہ شرک جلی ہے ۔
باقی مزارات پر ہونی والی خرافات کا قلع قمع ہونا چاہیے ان خرافات کو دور کرنا چاہیے نہ کہ مطلقا ان خرافات کو دیکھ کر بغیر عقیدہ اور عقیدہ کی حقیقت کو جانے کسی پر شرک کا فتوٰی لگا دینا چاہیے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ مزارات پر ان خرافات کو کرنے والوں سے زیادہ بڑا جاہل ہے ۔ ۔ ۔ والسلام
پھر کچھ فضول قسم کی بحث کے بعد ہمارا ایک اور تحقیقی جواب درج زیل ہے ۔ ۔ ۔
اقتباس:
جہاں تک بات ہے شرک کی تعریف کی تو آپ کو ہمارے سب سے پہلے مراسلہ میں شرک کی تعریف نظر نہیں آئی کہ جس پر تمام علم کلام کہ امام متفق ہیں ؟؟؟
نیز آپ کا یہ کہنا کہ آپ نے مسلمانوں کو مشرک نہیں کہا یہ بھی عجب مضحکہ خیزی آپکی شئر کردہ غزل کا پہلا شعر ہی مسلمانوں پر شرک کا فتوٰی جڑ رہا ہے ۔ ۔ ۔


ایک ہی بربھو کی پوجا ہم اگر کرتے نہیں
یک دربار ے سر آپ بھی دھرتے نہیں

اس شعر کہ پہلا مصرعہ میں ہندو نے پہلے اپنے اس عقیدہ کا اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک سے زیادہ خداؤں کا پجاری ہے اور پھر دوسرے مصرعہ میں مسلمانوں کہ دربار پر جانے کو اپنے اسی عقیدہ سے تشبیہ دیتے ہوئے ایک سے زیادہ درباروں پر جاکر سر دھرنے کو پوجا سے تعبیر کرتے ہوئے اپنے جیسا مشرک گردانا ہے ۔۔۔۔


فائدہ :- ہندو جاہل ہے کیونکہ وہ تو ایک سے زیادہ خداؤں کی عبادت
پر یقین رکھتا ہے اور اسکا یہی عقیدہ اسے مشرک قرار دلواتا ہے
جبکہ ایک ادنٰی سے علم رکھنے والا مسلمان کا عقیدہ فقط اللہ کہ سوا کسی دوسرے کی معبودیت پر نہیں ہوتا مسلمان اگر دربار پر جاتے بھی ہیں تو وہ صاحب مزار کی تعظیم کرتے ہیں نہ کہ عبادت ۔ ۔ ۔ جبکہ ہندو نے مسلم کی تعظیم کو اپنی طرح عبادت سمجھ کر اسے اپنے جیسا قرار دیا ہے نیز ہندو جاہل کہ اولا عبادت اور تعظیم میں فرق نہیں کرتا دوم خود ایک اللہ کہ سوا غیر اللہ کو پوجتا ہے اور سوم پھر فقط ایک ہی کو اللہ کہ سوا نہیں پوجتا بلکہ بے شمار معبود بنا رکھے ہیں سو اپنی اسی بات پر وہ مسلم کو قیاس کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ بھی ایک سے زائد درباروں پر سر دھرتے ہیں جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ اس کہ بالکل برخلاف ہے کیونکہ ایک مسلم کے لیے فقط کسی غیر اللہ کی عبادت کا محض عقیدہ ہی رکھ لینا ہی اسے مشرک بنا دے گا نہ کہ محض تعداد کا اس میں کوئی لین دین ہے یعنی مشرک ہونے کہ لیے فقط یہی کافی ہے کہ آپ اللہ کہ سوا بس کسی ایک اور کو بھی معبود مان لیں چاہے وہ ایک اور محض تعداد کہ اعتبار سے واحد ہی ہو ۔ ۔ ۔

یہ تو محض ایک شعر کی تشریح تھی سارے غزل کی کروں تو جواب آں غزل کی طرح پورا آپریشن کرنا پڑے گا بلکہ پوسٹ مارٹم کرنا پڑے گا امید ہے فقط یہی کافی ہوگا والسلام
پھر ہمارے مزید وضاحتی نکات درج زیل ہیں ۔ ۔۔

اقتباس:
مزارات پر کیا ہوتا ہے اور کیا نہیں ہوتا اور اس پر میری معلومات کیا ہیں یہ موضوع بحث نہیں اصل موضوع یہ ہے کہ مزارات پر جو کچھ بھی ہوتا ہے کہ آیا علی الاطلاق اس پر شرک کا فتوٰی جڑ دینا چاہیے یا پھر کہ یہ مسئلہ تفصیل طلب ہے ؟؟؟ اور موضوع کی حساسیت کی بنا پر اس بات کا متقاضی ہے کہ اس پر کوئی بھی فتوٰی جڑنے سے پہلے تمام تر پہلوؤں کو زیر بحث لاکر کوئی فیصلہ صادر کیا جائے آیا عوام الناس کہ عقیدہ کیا ہے اور اس میں بگاڑ کہاں ہے نیز اس کہ اصلاح طلب پہلو کون کونسے ہیں کسی چیز سے روکنا اور کس عمل کی اجازت ہے وغیرہ وغیرہ

آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے تو شرک کا تحقق نہیں نہ ہوتا مائی ڈئیر کہ شرک کا تعلق عقیدہ سے ہے اور عقیدہ اور عمل دو جدا جدا چیزیں ہیں کسی بھی عمل میں عقیدہ پنہاں اور عمل نمایاں ہوا کرتا ہے کہ اوللذکر کا تعلق علم سے جبکہ ثانی کا فعل سے ہے نیز عقیدہ نیتوں اور حال دل پر منحصر ہوا کرتا ہے جبکہ عمل اسکے برعکس واضح اور نمایاں اسی لیے قرآن میں بار بار آیا ہے کہ الا الذين امنوا وعملو الصٰلِحٰت یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے اوپر والی آیت میں آمنو اور عملو کہ درمیان واؤ عاطفہ ذکر کرکے اللہ پاک نے ایمان اور اعمال دونوں کا بالحقیقت جدا جدا ہونا بیان کردیا لہذا یہی وجہ ہے کہ بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث کہ جسے حدیث جبرائیل کہا جاتا ہے میں جب حضرت جبرائل سوال کرتے ہیں کہ ایمان کیا ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےفرمایا:
(ایمان یہ ہےکہ) تو اللہ تعالیٰ، اس کےفرشتوں، اس کے(نازل کردہ) صحیفوں، اس کےرسولوں اور روز آخرت پر ایمان لائےاور ہر خیر و شر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سےمقدر مانے۔

اب اوپر بیان ہوئی ان سب باتوں کا تعلق علم کہ ساتھ ہے لہذا اسے ایمان اور عقیدہ کہا جائے گا ان میں سے کوئی ایک بھی چیز عمل سے تعلق نہیں رکھتی
لہذا یہی وجہ ہے کہ جب جبرائیل امین نے سوال کیا کہ اسلام کیا ہے تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ....

”(اسلام یہ ہےکہ) تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کےسوا کوئی عبادت کےلائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کےرسول ہیں، (اور یہ کہ) تو نماز قائم کرےاور زکوٰۃ ادا کرے، اور تو ماہ رمضان کےروزے رکھےاور اگر استطاعت ہو تو اس کےگھر کا حج کرے۔

لہزا اسلام کی تعریف میں اعمال کا بھی ذکر کردیا کہ اسلام یہ ہے کہ ایمان لانے کہ بعد مندرجہ بالا امور کو انجام دیا جائے لہذا آپ کا مزارات پر ہونے والے بعض جائز امور اور بعض خرافات دونوں پر علی الاطلاق شرک کا فتوٰی جڑ دینا ہرگز حکمت دین نہیں بلکہ شدید ترین مخالفت دین ہے ۔۔ یاد رکھیئے شرک عقیدہ کا نام ہے اور عقیدہ ڈپینڈ کرتا ہے نیت پر لہذا مطلقا لوگوں کہ افعال کو دیکھ پر ان پر شرک کا حکم لگانا قطعا منشاء شریعت نہیں بلکہ الٹا یہ خلاف شریعت ہے سو شرک جو کہ عقیدہ اور بعض ایسے افعال جو کہ ایہام شرک کا باعث بنتے ہیں پہلے ان دونوں میں فرق کرنا سیکھیئے کیونکہ شرک اور ایہام شرک کا حکم قطعی ایک نہیں ہوسکتا ۔یاد رکھیئے شرک دین کی اصطلاح میں کفر کی سب سے سپر لیٹو ڈگری ہے اور اسکا درجہ سب سے آخر کہ کفر میں آتا ہے تعجب ہے لوگوں پر کہ جو عامۃ المسلمین پر شرک کا فتوٰی بھی جڑتے ہیں اور پھر انھے مسلمان بھی گردانتے ہیں حالانکہ توحید اور شرک دو متضاد حقیقتیں ہیں جو کہ ایک ہی نفس میں جمع نہیں ہوسکتیں کیونکہ اجتماع ضدین محال ہے ۔ ۔ ۔۔

بالکل غلط بات کیونکہ ایک مومن جو کہ ایمان والا ہے کہ جس کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کہ سوا کوئی معبود نہیں اور اس اللہ جیسا کوئی اور اللہ ہونہیں سکتا وہ واحد و یکتا ہے ایسا شخص کبھی بھی لا علمی کی بنیاد پر شرک نہیں کرسکتا کیونکہ اصلا شرک لاعلمی کی بنیاد پر کیا ہی نہیں جاسکتا کیونکہ شرک کا تعلق عقیدہ سے ہے اور عقیدہ عبارت ہے علم سے جیسا کہ اوپر بھی ہم ذکر کرآئے کہ شرک نام ہی عقیدہ کا ہے نہ کہ کسی مخصوص عمل کو ہم شرک کہہ سکتے ہیں اور عقیدہ کا تحقق ہی علم سے ہوتا ہے سے لہذا شرک کرنے یا نہ کرنے کا تعلق ہی علم کہ ساتھ جڑا ہوا ہے پھر یہ لاعلمی میں کیسے ہوسکتا ہے لاعلمی میں تو فقط کوئی عمل غلط کیا جاسکتا ہے ۔ ۔ اور جہاں تک میں نے ہندو کو جاہل کہا تو وہ فقط اس وجہ سے نہیں کہا کہ وہ لا علمی کی بنا پر شرک کررہے ہیں بلکہ وہ اس وجہ سے کہا کہ ان کا تو عقیدہ ہی (یعنی علم ہی ) یہ ہے کہ وہ غیر اللہ کی پوجا عملا کرتے ہیں جبکہ دوسری وجہ ان کو جاہل کہنے کی یہ تھی کہ وہ اپنے عقیدہ پر مسلمانوں کو قیاس کررہا ہے سو اس لیے بھی جاہل ہے لہذا بات کو سمجھیئے ہندو کا عقیدہ مشرکانہ ہے سو اس کا عمل بھی مشرکانہ وہ اس عقیدہ کی پیداوار ہے لہذا ہندو کا عقیدہ اور عمل دونوں جاہلانہ جبکہ اس کہ مقابلے میں کوئی مسلم اگر کسی مزار کو سجدہ کرئے یا بوسہ دے تو اس کا یہ عمل ایہام شرک تو پیدا کرتا ہے مگر جبتک اس کا عقیدہ واضح نہ ہو اسے ہم مشرک نہیں کہہ سکتے الا یہ کہ تحقیق کرلیں یا پھر بحییثت مسلمان اس پر حسن ظن رکھیں کہ یہی رکھنا اسلام کا تقاضا بھی ہے لہذا مسلم سے جب سجدہ کی وجہ پوچھی جائے گی تو اگر وہ اسے بطور تعظیم کہ بیان کرئے تو اسے بتایا جائے گا کہ سجدہ تعظیمی بھی حرام ہوچکا ہے پہلی شریعتوں میں جائز تھا اب نہیں رہا لہزا تم حرام کام کہ مرتکب ہورہے ہو نہ کہ اس پر حرام سے بھی بڑھ کر براہ راست شرک کا فتوٰی لگا دیا جائے جو کہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہیں لگایا بلکہ یہ عین شریعت کو اپنے ہاتھ میں لینے کہ مترادف ہے ۔
اور پھر آخر میں ایک مومن کی طرف سے جواب آں غزل ایک ہندو کے لیے بزبان علامہ ڈاکٹر آصف اشرف جلالی مدظلہ العالی انھون نے درج زیل نظم حرم مکہ میں بیٹھ کر لکھی اور تیسرے سالانہ عقیدہ توحید سیمینار میں عامۃ الناس کے سامنے پڑھی ۔۔۔



مومن کا ہندو کو جواب
سن لے ہندو خواہ مخواہ تونے دھرا الزام ہے
توہے کافر، میں ہوں مومن کیوں تجھے ابہام ہے
کس لیے بت سے ملا بیٹھا ہے ،تو رب کا ولی
لگتا ہے تیرا پڑوسی ، ہے نکھٹو خارجی
تونے مانا دیوتاؤں کو پرستش کی جگہ
ہم نے ولیوں کی مزاروں کو، نہ مانا سجدہ گاہ
تونے ہر ہر مورتی کو کرلیا مسجود ہے
اپنا تو رب جہاں ہی بس فقط معبود ہے
گر نہیں سمجھا برہمن صنم و مرقد میں فرق
کچھ نہیں اس پے تآسف وہ تو ہے ظلمت میں غرق
اس فرق کو کیسے سمجھے جس کا دل بیمار ہے
اس فرق کو سمجھنے میں نور دل درکار ہے
صد تآسف خارجی پر دعوٰی ایمان ہے
پھر بھی ظالم اس فرق سے بے خبر نادان ہے
قبر مومن بالیقیں ہے جنتی باغوں سے باغ
جبکہ پتھر مورتی کا بالیقیں دوزخ کی آگ
جسقدر ہے دوزخ و جنت کی ہیئت میں فرق
اسی قدر ہے صنم و تربت کی حقیقت میں فرق
صنم میں جان تھی ، نہ ہے نہ اُسے ادراک ہے
بندہ خاکی تو سن لیتا ہے زیر خاک بھی
نہ ملاؤ اولیاء کو طبقہ اوثان سے
یہ تو عون کبریا ہیں پوچھ لو قرآن سے
گر عصاء موسوی پے حق کی ہو جلوہ گری
سرجھکائے اس کہ آگے عہد کی جادوگری
ایک لکڑی کی مدد سے جب ہوا حق کا ظہور
کس لیے عون ولی سے ہو عقیدے میں فتور
ہے مسلّم لکڑیوں میں اس عصا کی سروری
پھر بھی ہے جنگلی دھتورے کو ولی سے ہمسری
اللہ والوں کی مدد ، گر ہے شریعت میں حرام
کس لیے آئے فرشتے بدر میں بحر حرام
ہے یہی آصف کا جھگڑا آج فکر خام سے
نہ ملاؤ رب کہ بندوں کو طبعی اصنام سے

شاعر علامہ ڈاکٹر آصف اشرف جلالی مد ظلہ العالی
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (27-09-11), محمدعدنان (27-09-11), سیفی خان (27-09-11), سیپ (05-11-11), عرفان مسلم (27-09-11)
پرانا 27-09-11, 05:20 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سیفی صاحب کو اس طرح کے کاموں میں کافی سکون ملتا ہے یہ ان کی تیسری کوشش ہے اسی موضوع کو شیر کرنے کی۔ کیا ان کو اب انفریکشن دے دی جائے؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-09-11, 06:03 PM   #5
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,192
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بالکل دینی چاہئیے ۔
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
.net, jpg, net, فورم, ہندو, فریاد, کوشش, قوم, قرآن, نماز, نام, مکہ, مسلم, آج, ایمان, توحید, جاہل, حدیث, خوب, خدا, رمضان, عکاسی, علی, عبادت, غزل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:54 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger