|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,607
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,519 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جسے زندگی ہو پیاری وہ گھر کو لوٹ جائے
وہ جہاد کیا کرے گا جو قضا سےخوف کھائے جو گزر رہے ہیں لمہے وہ بڑےکٹھن ہیں لیکن وہ فغاں فغاں نہیں ہے جو اثر نہیں دکھائے جسے عشق ہو خدا سے جسے پیار ہو نبی سے وہی اپنے گھر سے نکلے وہی اپنی جاں لٹائے وہ خدا کے نیک بندے جو بچھڑ گئے ہیں ہم سے کوئی ان کو جا کے ڈھونڈئے کوئی ان کو جاکے لائے سرِ محفلِ شہیداںیہ بتا دو قاتلوں کو وہ لہو لہو نہیں ہے جو کبھی نہ رنگ لائے کوئی کب تلک جئے گا کوئی کب تلک رہے گا یہ حیات عارضی ہے یہ جہاں اک سرائے ابھی دور ہے خزاں کا موسم ابھی باغباں ہے برہم کوئی پھول اس فضا میں نہ کھلے نہ مسکرائے میری آرزو ہے یا رب مجھے پھول وہ عطا ہو جو تیری رضا کو سمجھے جو تیری رضا کو پائے جو نبی کے دشمنوں پر تیرا قہر بن کے ٹوٹے کبھی بازؤں کو توڑے کبھی گردنیں اڑائے جو صلیبیوں کی سازش جو یہودیوں کے فتنے کبھی سے شرق مٹائے کبھی غرب سے مٹائے جو جہاد کے افق پر اک ستارا بن کے چمکے جو اجل کو مات دے دے سرِ دار مسکرائے جو جئے تو تیری خاطر جو مرے تو تیری خاطر جو قدم قدم پہ پائے تیری رحمتوں کے سائے میں شہید کی بہن ہوں کہ ہے نام جس کا بابر میرا لال بھی ہو ایسا جو خوشی سے سر کٹائے : شاعرہ ہمشیرہ بابر آفریدی شہید : Last edited by نبیل خان; 20-11-11 at 12:06 PM. |
|
|
|
| نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا | بنت حوا (20-11-11) |
![]() |
| Tags |
| color, کرے, گھر, پہ, پھول, ڈھونڈئے, قدم, لوٹ, لال, نام, موسم, اپنی, اپنے, ایسا, اثر, تیرا, جہاں, حیات, خدا, دور, رنگ, رضا, زندگی, عارضی, عشق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|