| شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
دوسرا حصہ۔۔۔
١٨٥٧ئ ہندوستان ميں انگريزوں کي مکمل کاميابي کا سا ل تھا اور اس کے بعد کہ انگريزوں نے ہندوستان کوبا ضابطہ طور پر برطانيہ سے الحاق کرديا۔اور اس ملک کا نام سلطنت برطانيہ ہندوستان رکھ ليا ،ہندوستان کے کالوني ہونے کا مسئلہ نہيں رہا ،بلکہ ہندوستان برطانيہ کے صوبوں ميں سے ايک صوبہ بن گيا ۔لہذا وہ اپنے مستقبل کي فکر ميں پڑ گئے تاکہ اس ملک ميں ہر قسم کي بغاوت اور قومي يا مذہبي عظمت کي ترويج کے امکانات کو ختم کرديں ۔اس کا راستہ يہي تھا کہ مسلمانوں کا مکمل طور پر قلع قمع کريں کيونکہ انہيں معلوم تھا کہ ہندوستان ميں ان سے مقابلہ کرنے والے ہيں اور انہوں نے اس کا تجربہ بھي کرليا تھا۔ مسلمانوں نے انيسويں صدي کي ابتدا بلکہ اس سے بھي پہلے سے ہندوستان ميں انگريزوں کا مقابلہ کيا ۔اٹھارويں صدي کے آخري حصے ميں ٹيپوسلطان انگريزوں کے ہاتھوں قتل يا شہيد ہوئے ليکن عوام ،علمائ اور مسلمان قبائل نے انيسوں صدي کي ابتدائ سے انگريزوں اورہندوستان ميں ان پٹھووں سے جو اس وقت سکھ تھے ،جنگ لڑي او ر اس بات سے انگريز بخوبي واقف تھے ۔انگريزوں ميں سے ان لوگوں نے جو ہندوستان کے مسائل سے واقف تھے کہا تھا کہ ہندوستان ميں ہمارے دشمن مسلمان ہيں اور ہميں ان کا قلع قمع کرنا چاہيے لہذا انگريزوں کے کاميابي کے سال يعني ١٨٥٧ سے ہي ہندوستان ميں مسلمانوں کي سرکوبي کیلئے ايک نہايت ظالمانہ اور سنگدلانہ پروگرام شروع کيا گيا جس کا ذکر ہر جگہ آيا ہے اور يہاں اس کا ذکر طوالت کا سبب بنے گا۔ مختصر يہ کہ مالي اور ثقافتي لحاظ سے ان پر دباو ڈالا جاتا تھا اور اجتماعي شعبوں ميں ان کي بہت تحقيرکي جاتي تھي ۔انگريزاعلان کرتے تھے کہ وہ لوگ جو چاہتے ہيں ملازمت حاصل کريں ان کو مسلمان نہيں ہونا چاہيے ۔جب ايک معمولي سي تنخواہ پر کچھ لوگوں کو ملازم رکھتے تھے ،اس وقت مسلمانوں کو ملازم رکھنے سے دریغ کرتے تھے ،انہوں نے ہندوستان ميں مسجدوں اور اسلامي مدرسوں کو چلانے والے تمام موقوفات کو جو بہت زيادہ تھے ،اپنے ہاتھ ميں لے ليا تھا۔ہندوتاجروں کو ورغلا يا کہ مسکمانوں کو بھاري بھاري قرضے ديں تاکہ دئیے جانے والے قرضے کے عوض ان کي جائدادوں کو ضبط کر سکيں اوران کے زمين سے تعلق اور صاحب خانہ ہونے کے احساس کو بالکل ختم کرديں ۔سالہا سال تک يہ کام جاري رہا اور مزے کي بات تو يہ ہے کہ يہ مسلمانوں کے ساتھ ان کے اچھے سلوک کا حصہ تھااور اس سے بدتر يہ تھا کہ ان کو بے دريغ قتل کرتے تھے اوربےدريغ ،بلا ثبوت جيل ميں ڈال ديتے تھے ۔تمام ان لوگوں کي جن پر انگريزوں کے خلاف اقدامات کرنے کا ذرا سا بھي شک ہوتا سرکوبي کرتے تھے اور ان کو نابود کر ديتے تھے ۔يہ سلسلہ سالہا سال تک جاري رہا ۔ان سخت تکليف دہ حالات کو دس بيس سال گزرجانے کے بعد (کہ جس کي مثال در حقيقت کسي بھي اسلامي ملک ميں مجھے نظر نہيں آئي۔اگر چہ ممکن ہے کہ ہو، ليکن ميں نے دنيا کے اُن ممالک کے مختلف علاقوں ميں جہاں استعمار موجود رہا ہے مثلاً الجزائر اور افريقي ممالک ميں ،جہاں بھي نظر ڈالي ہے مجھے ياد نہيں کہ مسلمانوں پر اتنا دباو ديکھا ہو جتنا ہندوستان ميں ڈالا گيا ہے)کس طرح لوگوں نے چارہ جوئي کي فکر کي اور انگريزوں سے مقابلے کا سلسلہ مسلمانوں ميں ختم نہيں ہوا تھا ،اور يہ ايک ايسي چيز ہے جسے ہندوستان کو ہر گز فراموش نہيں کرنا چاہيے کہ ہندوستان ميں مسلمان ،انگريزوں سے مقابلے ميں نماياں ترين اور بنيادي عنصر تھے ۔اور واقعاً نا شکري ہو گي اگر ہندوستان اپنے اوپر مسلمانوں کے احسانات کو فراموش کردے کيونکہ وہاں پر وجود ميں آنے والے عظيم انقلاب اور ہندوستا ن کي آزادي کي وجہ بننے والي جدوجہد ميں مسلمان اپني حريت پسندي کي خاطر کبھي بھي خاموش نہيں بيٹھے۔ ١٨٥٧ئ کے بعد کے برسوں ميں ہر جگہ خاموشي تھي مجاہد مسلمان عناصر مختلف جگہوں پر اپنے کام ميں مصروف تھے ليکن ان ميں دو قسم کي تحريکيں تھيں ،يا تو ثقافتي ، سياسي تھي يا صرف ثقافتي تحريکيں تھيں ،مسلمانوں کي يہ دوتحريکيں چارہ جوئي کیلئے جاري تھيں ۔ان دونوں تحريکوں ميں سے ايک علمائ کي تحريک تھي اور دوسري سر سيد احمد خان کي تحريک اور يہ دونوں ايک دوسرے کے بالمقابل تھيں ۔يہاں پر تفصيل بحث کا موقع نہيں ليکن مختصر طور پر کہا جاسکتا ہے کہ علمائ کي تحريک انگريزوں سے کسي بھي قسم کي مدد لينے کي طرفدار نہ تھي اور سرسيد احمد خان کي تحريک اس کے بر خلاف انگريزوں سے مصالحت کرنے،ان کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے ،انگريزوں سے مسکرا کر پيش آنے اور ان سے سمجھوتا کرنے کے حامي تھے۔ يہ دو تحريکيں ايک دوسرے کے مد مقابل تھيں اور افسوس کہ آخر کار دونوں تحريکيں مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئيں ۔پہلي تحريک جو علمائ کے ہاتھ ميں تھي جو تاريخ ہند کي نماياں شخصيتيں ہيں ،يہ مقابلہ کرتے تھے اور ان کي جد وجہد درست تھي ليکن ان ابتدائي چيزوں سے فائدہ اٹھانے سے پرہيز کرتے تھے جو ہندوستان ميں اسلامي معاشرے کو جديد ترقيات کے حصول ميں مدد کرتي تھيں اور مثال کے طور پر وہ اپنے مدرسوں ميں انگريزي زبان کو ہر گز بھي داخل نہيں ہونے ديتے تھے اور شايد اُس وقت ان کو اس کا حق پہنچتا تھا کہ ايسا سو چيں کيونکہ انگريزي زبان کو فارسي زبان کا جو مسلمانوں کي محبوب زبان تھي اور صديوں تک برصغير ميں سرکاري زبان رہي،جانشين بناديا تھا اور يہ لوگ انگريزي زبان کو حملہ آور کي زبان سمجھتے تھے ۔ليکن بہر حال انگريزي کا نہ سيکھنا اور نئي ثقافت کي جانب جو آخر کار لوگوں کي زندگي کے شعبوں ميں داخل ہورہي تھي، توجہ نہ دينا اس بات کا باعث بنا کہ امت اسلامي اور ملت مسلمان ثقافت ،معلومات،عصري قوتوں اور عصري علوم ميں جو تمام معاشروں کے لئے (جو جديد بننے کي جانب بڑھ رہے تھے)موثر اور مفيد ہيں پيچھے رہ گئے اور وہ مسلمانوں کو ان علوم سے دور رکھتے تھے۔ ليکن سر سيد احمد خان کي تحريک زيادہ خطر ناک تھي اور ميں چاہتا ہوں کہ يہاں پر سر سيد احمد خان کے بارے ميں اپنے حتمي فيصلے کو بياں کروں ۔ممکن ہے کہ يہاں پرموجود بھائیوں ميں سے بعض اس بات کے قائل نہ ہوں ۔سر سيد احمد خان نے يقيني طور پر ہندوستان ميں اسلام اور مسلمانوں کے مفاد ميں کوئي اقدام نہيں کيا اور ميرا نظريہ ہے کہ اقبال کي تحريک ہندوستان ميں ،اس کام کے خلاف فرياد تھي جس کا پرچم سر سيد احمد خان نے اٹھايا تھا۔سر سيد احمدخان نے انگريزوں سے مصالحت کو بنياد بنايا اور ان کا بہانہ يہ تھا کہ آخر کار ہميں مسلمان نسل کو جديد ثقافت ميں داخل کرنا چاہيے کيونکہ ہم ان کو ہميشہ کیلئے جديد تہذيب سے نا واقف اور دور نہيں رکھ سکتے لہذا نگريزوں سے مصالحت کرني چاہيے تاکہ ہم پر سختي نہ کريں اور ہماري عورتيں ،بچے اور مرد انگريزوں سے دشمني کي خاطر اس قدر تکليف نہ اٹھائيں ۔ وہ سادہ لوحي کے ساتھ خيال کرتے تھے کہ انگريزوں سے تواضع ،مصالحت اور اظہار عقيدت کے ذريعے ان تجربہ کار خبيث سياستدانوں کي توجہ کو مبذول کراسکتے ہيں اور ان کے ايذرسانيوں کو کم کرسکتے ہيں جبکہ يہ ايک بڑي غلطي تھي۔نتيجہ يہ ہوا کہ خود سر سيد احمد خان اور ان کے قريبي لوگ نيز وہ روشن خيال لوگ جو ان کے ارد گرد تھے ،انگريزو ں کے نقصانات سے محفوظ رہے ليکن مسلمانوں کو ہندوستان کے آزاد ہونے يعني ١٩٤٧ئ تک انگريزوں سے ہميشہ ہي نقصان پہنچا اور انگريزوں نے اس نوے سال کي مدت ميں (١٨٥٧ئ سے ہندوستان کي آزدي کے سال ١٩٤٧ئ تک)مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کرسکتے تھے ،کيا۔لہذا انگريزوں کو رام کر نے کیلئے سر سيد احمد خان کا حيلہ مسلمانوں کو ذليل کرنے کا سبب بنا اور اس کے علاوہ اور مسئلہ بھي پيدا ہوا ،جو اقبال کي شناخت اور اقبال کے پيغام کے مضمون کو سمجھنے ميں موثر ہے اور وہ يہ ہے کہ عام مسلمانوں ،روشن خيال اور تعليم يافتہ مسلمانوں کیلئے جو معاشرتي ميدان ميں داخل ہوتے تھے آگاہي ،علم و معرفت ،تعليم اور عہدہ اہميت رکھتا تھاليکن اسلامي تشخص کو ہر گز اہميت حاصل نہيں تھي اور تدريجي طور پر ہندوستان کے عظيم مسلم معاشرے ميں جو دنيا کے عظیم ترين مسلمان معاشروں ميں سے تھا (اور اس وقت بھي ايسا کوئي ملک نہيں جس کے مسلمانوں کي تعداد اس زمانے ميں بر صغير کے مسلمانوں کے برابر ہو)وہ اسلامي تشخص کا احساس نہيں رکھتے تھے اور اپنے لئے اسلامي شخصيت کے قائل نہيں تھے اور بنيادي طور پر ہندوستان کے مسلمانوں کي کوئي اميد نہیں تھي ۔چونکہ انہوں نے بہت تکليفيں برادشت کي تھيں اور ان کي تحقير کي گئي تھي عام حادثات اور وقعات ان کي نااميدي ،تلخ کلامي اور بد فرجامي کي نشان دہي کرتے تھے اور اب حقارت ہندوستاني مسلمان کي ذات کا جز بن گئي تھي اور ذلت و ناتواني کا احساس ہندوستاني مسلمان کي شخصيت کے اجزائ ميں شما ر ہوتا تھا۔ اس زمانے ميں جب اقبال احتمالاً ١٩٠٨ يا ١٩٠٩ ئ ميں يورپ سے جديد تہذيب سے جھولي بھر کے لوٹے تھے ،اس وقت اقبال کے ہم عصر روشن خيال اور ہم نو(خود ان کے قول کے مطابق)مغربي تہذيب پر نظريں جمائے ہوئے تھے اور ان شخصيتوں کي مانند جن کي طرف جناب مجتبوي نے ميرے حوالے سے اشارہ کيا ہے،ايران ميں تھيں اپنا اعتبار اس چيز ميں ديکھتي تھي کہ اپنے آپ کو مغربي تہذيب سے کچھ زيادہ ملائیں اور مغربي اقدار کے نظام کو اپنے عمل ،اپني روش،لباس،بات چيت اور حتي کہ اپنے افکار اور نظريات ميں جلوہ گر کريں ۔ اس برطانوي حکومتي مشينري کي نوکري ،جو اس وقت ہندوستان پر طاقت کے ساتھ حکومت کر رہي تھي ،مسلمانوں کے لئے فخر تھي اور ہندو،جو مسلمانوں سے چند سال پہلے اسي تہذيب اورانہي آداب و رسومات ميں داخل ہوگئے تھے اور جنہوں نے انگريزوں سے ميل جول کو بہت پہلے ہي اختیار کر ليا تھا اور اسي وجہ سے صنعت ،ثقافت اور انتظامي امور ميں کچھ پہلے شامل ہوگئے تھے ،ان کا اعتبار تھا۔مسلمانوں کو ہندووں سے بھي ذلت اور زحمت اٹھاني پڑي تھي،حتي کہ سکھ بھي بہت کم اقليت رکھتے تھے اور وہ قابل فخر چيز جو ہندووں کو اپينشدوں اور اپنے تاريخي اور تہذيبي ماضي سے حاصل تھيں ،سکھوں کي زندگي ميں نہيں تھيں اور آپ کو معلوم ہے کہ يہ ايک نيا قائم ہونے والا مذہب ہے جس ميں اسلام اور ہندو ازم نيز دوسري چيزوں کي آميزش ہے،يہ سکھ بھي مسلمانوں کي تحقير کرتے تھے اور ان کي توہين کرتے تھے ۔يہ تھي اقبال کے زمانے ميں برصغير ہندوستان ميں مسلمانوں کے معاشرے کي صورت حال ۔اسي لاہور کي یونيورسٹي ميں جہاں پر اقبال نے تعليم حاصل کي اور بي۔اے کيا اب ہم وہاں اميد بخش اسلامي افکار کے ظہور کي کوئي علامت نہيں ديکھتے۔وہاں پر سب سے بڑي اسلامي کتاب ،سر تھامس آرنولڈ کي کتاب ہے يہي ’’الدعوۃ الي الاسلام ‘‘نامي کتاب جو عربي زبان ميں ہے اور حال ہي ميں اس کا فارسي ترجمہ بھي شائع ہوگيا ہے ۔يہ سر تھامس آرنولڈ کے اس دور کے کاموں ميں سے ہے جب وہ لاہور کي يونيورسٹي ميں پڑھاتے تھے ۔البتہ يہ ايک اچھي کتاب ہے اور ميں اس کو مسترد نہيں کرنا چاہتا ليکن ان کا سب سے بڑا فن يہ ہے کہ وہ چاہتے ہيں کہ اسلامي جہاد کو تدريجي طور پر ايک دوسرے درجے کي چيز بتائیں لہذا اس کتاب ميں يہ نظريہ پيش کيا گيا ہے کہ اسلام ،دعوت سے پھيلا ہے نہ تلوار سے اور ايک اچھي بات ہے ليکن وہ اس خيال ميں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہيں کہ اسلامي جہاد اس کتاب ميں تقريباً ايک ثانوي چيز اور بے فائدہ اور زائد چيز نظر آتا ہے۔ اس کتاب کے اسلامي کام کا ماحصل يہي ہے ۔اس کے علاوہ وہ صاحبان اور خواتين جنہوں نے سرتھامس آرنولڈ کي کتابوں کا مطالعہ کيا ہے،جانتے ہيں کہ وہ ان لوگوں ميں سے ہيں جن کو اسلام کا زبردست حامي سمجھا گيا ہے اور وہ اقبال کے استاد ہيں اور اقبال ان کے شاگرد وں ميں شامل ہيں ۔بہتر ہے کہ ميں يہاں اس بات کا ذکر کروں کہ اس عظيم انسان کي ہوشياري سے علامہ اقبال باوجود اس کے کہ سرتھامس آرنولڈ سے سخت محبت کرتے تھے ،ان کے کاموں ميں سياسي افکارسے غفلت نہيں برتتے تھے ۔اس بات کو جناب جاويد اقبال نے اپنے والد کي زندگي ميں لکھا ہے ،اس کي ايک جلد فارسي ميں ترجمہ ہو چکي ہے اور ميں نے اسے پڑھا ہے ۔اقبال خود اپنے دوست نذير نيازي کو جو سرتھامس آرنولڈ کو ايک اسلام شناس جانتے ہيں ،خبردار کرتے ہيں اور کہتے ہيں کہ کونسي اسلام شناسي ؟تم ان کي کتاب ’’الدعوۃ الي الاسلام ‘‘کي بات کرتے ہو؟ وہ حکومت برطانيہ کیلئے کام کرتے ہيں اور بعد ميں اقبال اپنے دوست سے کہتے ہيں : جب ميں برطانيہ ميں تھا تو آرنولڈ نے مجھ سے کہا کہ ايڈورڈبراون کي تاريخ ادبيات کا ترجمہ کروں اور ميں نے يہ کام نہيں کرنا چاہا کيونکہ ميں نے ديکھاکہ اس کتاب ميں سياسي مقاصد کي آميزش ہے۔ اب آپ ديکھئے کہ ايڈورڈبراون کي کتاب کے بارے ميں اقبال کا نظريہ يہ ہے اور ہمارے اديبوں کا نظريہ ايڈورڈبراون کے دوستوں اور ان لوگوں کو جو ايڈورڈبراون کي دوستي پر فخر کرتے تھے ،ديکھنا چاہیے کہ ان کا نظريہ کيا ہے ؟ميں اس وقت ان شخصيتوں کا نام لينا نہيں چاہتا کيونکہ بہرحال ادبي اور ثقافتي شخصيتيں ہيں ليکن سادہ دل ،ناآگاہ اور ان سياسي مقاصد سے بے خبر ہيں مگر اقبال وہ ہوشيار مرد اور ’’المومن کيس‘‘کے مصداق خبيث استعماري سياست کي ريشہ دوانيوں کو تھامس آرنولڈ اور ايڈوربراون کے کاموں ميں پہچانتے ہيں اور ديکھتے ہيں اور يہ بات اقبال کي عظمت کي کاملاً نشاندہي کرتي ہے ۔اس زمانے ميں برصغير ہندوستان کے مسلمانوں کي حالت ايسي تھي کہ حکومت برطانيہ ،حکومت برطانيہ کے اصل ايجنٹ اور دوسرے درجے کے ايجنٹ (يا اہميت کے لحاظ سے زيادہ اعلي درجہ نہ رکھنے والے )زيادہ تر ہندو تھے اور ہندوستان کي جد وجہد جس کي مشعل کو ابتدائ ميں مسلمانوں نے روش کيا کانگريس پارٹي کے ہاتھوں ميں چلي گئي اور وہ بھي متعصب کانگريس پارٹي کے ہاتھوں ۔انڈين کانگريس جس نے آخر کار جد و جہد کے ميدان ميں عظيم کارنامے انجام بھي ديئے ليکن ان برسوں ميں اس پر اسلام سے مخالفت کا تعصب ،ہندوں کے جانب جھکاو اور مسلمانوں کي مخالفت کا تعصب حکم فرما تھا اور مسلمانوں ميں روشن خيال لوگ مغرب پرست اور مغربي نظام کے والہ و شيدا تھے اور عام معمولي لوگ خوف ناک غربت اور سخت تکليف دہ زندگي کا شکار تھے اور اپني معمولي روٹي کو بھي مشکل سے حاصل کرتے تھے ۔اس کے علاوہ اس ماحول اور فضا ميں کھوئے ہوئے تھے جس کو انگريز زيادہ سے زيادہ مغربيت کي جانب لے جارہے تھے ۔ہندوستان کے اس زمانے کے مسلمان علمائ ان ابتدائي شکستوں کے بعد زيادہ تر الگ تھلگ اور حريت پسندي اور تحريک کے نا قابل فہم افکار اور جلووں ميں کھوئے ہوئے تھے (سوائے ان علمائ کے جو آگے تھے مثلاً مولانا محمدعلي جوہر اور ہندوستان کے ديگر نماياں حيثيت رکھنے والے علمائ )۔عام مسلمان عوام اس کي سخت تکليف دہ حالت ميں زندگي گزار رہے تھے ،اسلام سياسي عليحدگي اور اقتصادی غربت ميں تھا اور مسلمان عوام ہندوستاني معاشرے ميں ايک طفلي اور زائد کن کي حيثيت رکھتے تھے۔ اس تاريک کن رات ميں جس کا کوئي بھي ستارہ نہ تھا ،اقبال نے خودي کي مشعل روشن کي۔البتہ ہندوستان کي يہ حالت جو ميں نے بيان کي صرف ہندوستان کیلئے مخصوص نہيں تھي بلکہ تمام اسلامي دنيا ميں ايسي ہي حالت تھي ۔يہي وجہ تھي کہ اقبال نے ساري دنيا کي فکر کي۔اس زمانے کے لاہور اور بدبخت برصغير ميں اقبال کي روزمرّزندگي نے ان کیلئے ہر چيز کو قابل لمس بناديا تھا۔يہ ايسي حالت ميں تھا کہ اقبال نے ترکي ،ايران اور مثلاًحجاز کا سفر نہيں کيا تھا اور بہت سي دوسري جگہوں کو قريب سے نہيں ديکھا تھا ليکن وہ اپنے ملک کي صورت حال کو قريب سے ديکھ رہے تھے اور يہي وجہ تھي کہ انہوں نے ثقافتي ،انقلابي اور سياسي ،انقلاب برپا کيا ۔پہلا کام جو اقبال کیلئے انجام دينا ضروري تھا يہ کہ ہندوستاني معاشرے کو اسلامي تشخص ،اسلامي میں اور اسلامي شخصيت بلکہ اس کي انساني شخصيت کي جانب متوجہ کريں اور کہيں کہ تو ہے کيوں اس قدر غرق ہے؟کيوں اس قدر مجذوب ہے؟تو نے کيوں اپنے آپ کو اس قدر کھوديا ؟تو اپنے آپ کو پہچان۔ يہ اقبال کا پہلا مشن ہے ۔آخر وہ اس کے علاوہ کيا کر سکتے تھے ؟کرڑوں افراد کي ايک قوم سے جو سالہا سال تک استعمار کے شکنجوں کے سخت دباوميں تھي اورجہاں تک ممکن تھا،اس کي ناک کو رگڑا گيااور اس سے سمجھنے ،جاننے اور اميد رکھنے کے امکانات کو چھين ليا گيا تھا،يکبارگي کہا جا سکتا ہے کہ توہے اور وہ بھي ہونے کا احساس کرلے؟کيا ايسا ممکن ہے؟بہت دشوار کام ہے اور ميرا خيال ہے کہ کوئي بھي شخص اقبال کي حد تک اور جس طرح کہ اقبال نے بيان کيا اس بات کو اتني خوبي کے ساتھ بيان نہيں کر سکتا تھا۔ اقبال نے ايک فلسفہ کي بنياد رکھي ،خودي کا فلسفہ ۔ہمارے ذہن کے مد نظر فلسفوں کي قسم کا نہيں ،خودي کا ايک معاشرتي اور انساني مفہوم ہے جو فلسفيانہ تعبيرات کے لباس ميں اور ايک فلسفيانہ بيان کے لحن ميں بيان ہوا ہے ۔اقبال کو اپني نظم ،اپني غزل اور اپني مثنوي ميں خودي پر ايک اصول اور ايک مفہوم کي حيثيت سے زور دينے کیلئے اس چيز کي ضرورت تھی کہ اس خودي کو فلسفيانہ طور پر بيان کريں ۔اقبال کے مد نظر مفہوم ميں خودي کا مطلب شخصيت کا احساس ،شخصيت کا سمجھنا ،خودنگري،خود انديشي،خود شناسي اور خود کاادراک ہے۔البتہ وہ اس کو ايک فلسفيانہ بيان اور فلسفيانہ مفہوم کي شکل ميں پيش کرتے ہيں ۔ميں بہت سارے نورٹس لايا ہوں تاکہ اگر ممکن ہو تو ان ميں سے بعض کو پڑھوں۔اگر چہ يہ جلسہ طويل ہوگيا ہے ليکن ميري درخواست ہے کہ آپ تحمل سے کام ليں ۔ جاری ہے ۔۔۔ Last edited by عرفان حیدر; 12-02-08 at 01:42 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 37
مراسلات: 75
کمائي: 1,098
شکریہ: 65
38 مراسلہ میں 67 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام میرے مرشد و رھبر پر کہ جن کا ایک ایک حرف سنھری ھے۔اور سلام اس پر کہ جسے اس جیسا مرشد بھی مرشد کھتا ھے اورمیری دعا آپ کے لئے بھی کہ ان نورانی کلمات کو جو ایک نورانی شخصیت نے ایک نورانی شخص کے لئے فرمائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھمارے لئے کر آئے۔خدا آپ کی توفیقات مین اضافہ فرمائے۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, کارنامے, کتابوں, لوٹے, نظر, مکمل, مقابلہ, ممکن, محبت, مسائل, مشعل, معلوم, اللہ, انسان, استاد, جلد, حکم, خلاف, درخواست, رات, راستہ, سفر, شناخت, غزل, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اقبال مشرق کا بلند ستارہ، حضرت آيت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي کی نگاہ میں (حصہ اول) | عرفان حیدر | شاعر مشرق علامہ اقبال | 1 | 07-03-09 02:08 PM |
| اقبال مشرق کا بلند ستارہ، حضرت آيت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي کی نگاہ میں (حصہ سوئم) | عرفان حیدر | شاعر مشرق علامہ اقبال | 1 | 07-03-09 02:06 PM |
| اقبال مشرق کا بلند ستارہ، حضرت آيت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي کی نگاہ میں (حصہ چہارم) | عرفان حیدر | شاعر مشرق علامہ اقبال | 1 | 07-03-09 02:04 PM |