| شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
چوتھا اور آخری حصہ۔۔۔
وہ نبوت کو امت کي تشکيل کي اصل بنياد جانتے ہيں اور کہتے ہيں ايسا نہيں کہ جب افراد ايک جگہ جمع ہوجائیں تو ايک قوم يا ملت وجود ميں آجاتي ہے بلکہ ايک فکر کي ضرورت ہے جو ملت یا قوميت کے تانے بانے کو يکجا کرے چنانچہ بہترين اور بنيادي ترين فکر نبوت کي فکر ہے جس کو خدا کے پيغمبروں نے آکر پيش کيا ۔تشکيل ملت کیلئے يہ بہترين طريقہ ہے کيونکہ يہ اجتماع کو فکر عطا کرتي ہے ،ايمان عطا کرتي ہے اور اتحاد عطا کرتي ہے نيز تربيت و کمال بخشتي ہے ۔ ايک اور مضمون جس پر زور ديتے ہيں خداوندان تخت و محراب کي بندگي کي نفي ہے ۔اس سلسلے ميں ان کے اشعار کا ايک حصہ بہت دلچسپ ہے ،آپ بھي سنیے: بود انسان در جہان انسان پرست يہ اشعار پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي رسالت کي تشکيل ،انسانوں کے مابين مساوات قائم کرنے اور ’’انّ اکرمکم عند اللہ اتقکم ‘‘اور اخوت اسلامي کے بارے ميں ہيں ۔خود انہوں نے جس طرح موضوعات اور عنوانات کا ذکر کيا ہے ،بہت زيادہ ہيں ،اور چونکہ ميري گفتگو تفصيلي ہوگئي ہے،مناسب نہيں ہوگا کہ اس سے زيادہ تفصيلي گفتگو کروں اور ميري سمجھ ميں نہيں آتا کہ در حقيقت کونسے حصے کا انتخاب کروں اوراس کے بارے ميں گفتگو کروں کيونکہ انہوں نے اس قدر زيادہ دلچسپ اور اچھے موضوعات پر گفتگو کي ہے کہ انسان کي سمجھ میں نہيں آتا کہ کس کو فوقيت دي جائے اور بيان کيا جائے اور ان سب باتوں کے بيان کیلئے ،ہمارے ملک ميں اقبال کے کلام کے شائع کرنے کے سوا ،يہ کام کسي اور طريقے سے ممکن نہيں ۔يہ کام ايسا ہے کہ جسے يہاں ،پاکستان اور افغانستان ميں بھي ہونا چاہیے نيز ہر اس جگہ پر جہاں لوگ فارسي سمجھتے ہيں يا ممکن ہے سمجھ سکيں اقبال کے کلام کو جس ميں فارسي کا کلام ہے شائع ہونا چاہیے۔ناقص و نابود مند و زير دست سطوت کسري و قيصر رہزنش بندہا در دست و پا و گردنش کاہن و پاپا و سلطان وامير بہر يک نخچير صد نخچير گير صاحب اورنگ و ہم پير کنشت باج برکشت خراب او نوشت در کليسا اسقف رضوان فروش بہر اين صيد زبون دامي بدوش برہمن گل از خيابانش ببرد خرمنش مغ زادہ با آتش سپرد از غلامي فطرت اور دون شدہ نغمہ ھا اندر نئے او خود شدہ تا اميني حو بہ حق داران سپرد بندگان را مسند خاقان سپرد البتہ جيساکہ آپ کو معلوم ہے کہ اقبال کے پندرہ ہزار شعروں ميں سے نو ہزار فارسي ميں ہيں اور ان کا اردوکلام فارسي سے بہت کم ہے ۔ان بہترین اشعار اور کم از کم معني کے لحاظ سے ان کا اہم ترين کلام وہي ہے جو انہوں نے فارسي ميں کہا ہے ۔ان کليات جو شايد بيس سال قبل يہاں پر شائع ہوئي اس پر مزيد کام اور محنت کي ضرورت ہے۔ ميں جب سے اقبال کے کلام سے آشنا ہواہوں ،ديکھتا تھا کہ اس کلام کي اچھی طرح وضاحت کي ضرورت ہے اور اس کے ساتھ کافي وضاحت نہيں ہے اور مجھے اس بات کا دکھ ہوتا تھا ۔حقيقت ميں اس بات کي ضرورت ہے کہ يہ کام انجام پائے اور کچھ لوگ ان لوگوں کے لئے جن کي زبان فارسي ہے علامہ اقبال کے مد نظر مضامين اور مفاہيم کي تشريح کريں ۔ آج علامہ اقبال کے بہت سے پيغامات ہم سے تعلق رکھتے ہيں اور ان ميں سے بعض اس دنيا والوں کیلئے ہيں جو ابھي تک ہمارے راستے پر نہيں آئے اور اس پيغام کو جس کو ہم سمجھ گئے ہيں انہوں نے نہيں سمجھا ہے۔ اقبال کے ’’خودي ‘‘کے پيغام کو ہماري قوم نے ميدان عمل ميں اور حقيقت کي دنيا ميں عملي جامہ پہنايا لہذا ہماری قوم کیلئے ضرورت نہيں کہ اسے خودي کا مشورہ ديا جائے ۔ہم ايراني عوام آج مکمل طور پر محسوس کرتے ہيں کہ اپنے پيروں پر کھڑے ہيں ،اپني ثقافت اور اپني چيزوں پر بھروسہ کرتے ہيں اور اس تمدن پر جس کو آئيڈيالوجي اور فکر کي بنياد پر استوار کرسکتے ہيں ۔البتہ ماضي ميں مادي زندگي اور زندگي گزارنے کے لحاظ سے ہماري تربيت دوسروں کے سہارے پر کی گئي ،ليکن ہم تدريجي طور پر اپنے خيموں سے ان غير ملکي رسيوں کو بھي کاٹ پھينکيں گے اور اپني ہي رسيوں کا استعمال کريں گے اور ہميں اميد ہے کہ اس کام ميں کامياب ہونگے۔ مسلمان اقوام کو اس ’’خودي‘‘کو سمجھنے کي ضرورت ہے،خاص طور پر مسلمان شخصيتوں کو خواہ وہ سياسي شخصيتيں ہو ں يا ثقافتي ۔انہيں ضرورت ہے کہ اقبال کے پيغام کو سمجھيں اور جان ليں کہ اسلام اپني ذات ميں اور اپني اصليت ميں انساني معاشروں کو چلانے کي اعلي ترين بنيادوں کا حامل ہے اور دوسروں کا محتاج نہيں ہے۔ ہم يہ نہيں کہتے کہ دوسري ثقافتوں کیلئے دروازہ بندکرديں اور ان کو اپني طرف جذب نہ کريں ۔جي ہاں ہميں جذب کرنا چاہیے ليکن ايک زندہ جسم کي مانند جو ضروري عناصر کو اپنے لیے جذب کرتا ہے نہ کہ اس بت ہوش اور مردہ جسم کي مانند جس ميں جو چاہتے ہيں داخل کر ديتے ہيں ۔ ہم ميں جذب کرنے کي توانائي ہے اور دوسري ثقافتوں اور دوسروں کے افکار سے خواہ غير ملکي ہوں اس چيز کو جو ہم سے تناسب رکھتي ہو،اور ہمارے لیے مفيد ہو اخذ کرتے ہيں اور جذب کرتے ہيں ليکن جس طرح کہ اقبال باربار کہتے ہيں علم و فکر کو مغرب سے سيکھا جا سکتا ہے ليکن سوز و زندگي کو نہيں ۔ خرد آموختم از درس حکيمان فرنگ ايسي کوئي چيز (يعني سوز و زندگي)مغرب کي تعليم اور مغربي مدنيت کے تمدن ميں نہيں ہے ۔يہ وہ چيز ہے جس کا اقبال نے سب سے پہلے ايک علمبردار کي شکل ميں احساس اور اعلان کيا ہے۔سوز اندوختم از صحبت صاحب نظراں مغربي تمد ن اور مادي مذہب (مادي شہري زندگي)انسان کیلئے ضروري روح اور معني سے خالي ہے لہذا ہم مغربي ثقافت سے اس چيز کو ليتے ہيں جو ہمارے لیے ضروري ہے۔ خوشي کي بات ہے کہ ہمارے ملک ميں اور ہماري عوام ميں خودي اور اسلامي شخصيت کا احساس کمال کي حد تک موجود ہے اور ہماري نہ شرقي اور نہ غربي ولا شرقيہ ولا غربيہ کي پاليسي بالکل وہي چيز ہے کہ جس کي بات اقبال کرتے تھے۔ہمارا پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور قرآن سے عشق اور قرآن سيکھنے کے لیے ہماري نصيحت اور يہ بات کہ انقلابوں اور مقاصد کي بنياد اسلامي اور قرآني ہوني چاہیے بالکل وہي چيز ہے کہ جس کا مشورہ اقبال دیتے تھے ليکن اُس وقت اُن باتوں کو سننے والا کوئي نہيں تھا۔ اُن دنوں اقبال کي زبان اور اقبال کے پيغام کو بہت سے لوگ نہيں سمجھتے تھے۔اقبال کي کتابيں اور نظميں اس شکايت سے بھري ہوئي ہیں کہ ميري بات کو نہيں سمجھتے اور نہيں جانتے اور نگاہيں دوسري جگہوں اور مغرب کي جانب ہيں ۔شايد اس رموز بے خودي کے مقدمے ميں ہے کہ وہ يہ شکايت کرتے ہيں اور امت اسلام کو مخاطب کرکے اور بقول خود ان کے پيش نہ حضور ملت اسلاميہ کہتے ہيں اي ترا حق خاتم اقوام کرد يعني اے امت اسلام !ميں جو اس عاشقانہ طور پر تيري مدح سرائي کررہا ہوں ،اس لیے نہيں ہے کہ ميں مداح ہوں :بر تو ہر آغاز را انجام کرد اي مثال انبيائ پاکان تو بمگر دلہا جگر چاکان تو اي نظر بر حسن ترسا زادہ اي اي ز راہ کعبہ دور افتادہ اہ اي فلک مشت غبارک کوي تو اي تماشا گاہ عالم روي تو ہمچو موج ،آتش نہ پامي روي تو کجا بہر تماشا مي روي رمز سوز آموز از پروانہ اي در شرر تمعير کن کاشانہ اي طرح عشق انداز اندر جان خويش تازي کن با مصطفي پيمان خويش خاطرم از صحبت ترسا گرفت تا نقاب روي تو بالا گرفت ہم نوا از جلوہ اغيار گفت داستان گيسو و رخسار گفت بر در ساقي جبين فرسود او قصہ ي مغ زادگان پيمود او من شہيد تيغ ابروي تو ام خاکم و آسودہ ي کوي توام از ستايش گستري بالا ترم پيش ہر ديوي فرونايد سرم از سخن آئينہ سازم کردہ اند يہاں پر وہ اپني بے نيازي کي بات کرتے ہيں اور اس وقت اقبال اس بے نيازي کے ساتھ کہ وہ دنيا کے سامنے سر نہيں جھکاتے امت اسلاميہ کے سامنے دو زانو بيٹھ کر التماس کرتے ہيں کہ اپنے آپ کو پہچان ،اپنے آپ کي جانب لوٹ اور قرآن کي بات سن:از سکندر بي نيازم کردہ اند بار احسان بر نتابد گردنم در گلستان غنچہ گردد دامنم سخت کوشم مثل خنجر در جہان آب خود مي گيرم از سنگ گران بر درت جانم نياز آوردہ است اگر ہم آخر تک ان کي بحثوں اور اشعار کو پڑھنا چاہيں تو بحث کي شکل ہي بدل جائے گي اور کافي زيادہ وقت لگے گا ۔اور يہ تو ہمارے اس عظيم اقبال کي شخصيت کا ايک خلاصہ ہے جو بلا شک مشرق کا بلند ستارہ ہے اور بے جا نہ ہوگا اگر ہم اقبال کو اس لفظ کے حتمي معني ميں مشرق کا بلند ستارہ پکاريں ۔بہر حال ہميں اميد ہے کہ ہم اقبال کا حق ادا کرسکيں اور گزشتہ چاليس پچاس برس کے دوران اقبال کي شناخت ميں اپني قوم کي تاخير کا ازالہ کر سکيں ۔ہديہ ي سوز و گداز آوردہ است ز آسمان آبگون يم مي چکد بردل گرمم دما دم مي چکد من ز جو باريک تر مي سازمش تا بصحن گلشت اندازمش اقبال کي وفات گويا ١٣١٨ہجري شمسي مطابق ١٩٣٨ ئ ميں ہوئي اور ميرے خيال ميں اس وقت سے اب تک يعني اقبال کي وفات کے بعد سے آج تک کا جو ايک طويل عرصہ ہے ،اگر چہ اقبال کے نام سے سيمينار ہوئے ،کتابيں لکھي گئيں اور تقرريں ہو ئيں ليکن سب بيگانہ وار اور دور سے تھيں اور ہماري قوم اقبال کي حقيقت ،اقبال کي روح اور قبال کے عشق سے بے خبر رہي ہے اور اس عيب کي ان شائ اللہ تلافي ہوني چاہیے اور وہ لوگ جو اس کام سے تعلق رکھتے ہيں مثلاً شعرائ ،مقررين ،مصنفين ،جرائد اور متعلقہ سرکاري ادارے وزارت مثلاً ثقافت و اعلي تعليم ،وزارت تعليم و تربيت اور وزارت ارشاد اسلامي ،ہر ايک ان شائ اللہ اپني اپني باري سے کوشش کريں کہ اقبال کو اس طرح جيساکہ ان کا حق ہے ،زندہ کريں اور انکے کلام کو کورس کي کتابوں اور ديگر کتابوں ميں شامل کريں اور پيش کريں ۔ان کي کتابوں اور اشعار کو الگ الگ شائع کريں ،اسرار خودي کو علیحدہ ،رموز بے خودي کو عليحدہ ،گلشن راز جديد کو عليحدہ ،جاويد نامہ کو الگ اس قسم کے کام کسي حد تک پاکستان ميں ہوئے ہيں ليکن افسوس کہ پاکستان کي عوام ان تعبيرات سے صحيح طور پر فائدہ نہيں اٹھاسکتے کيونکہ وہاں پر فارسي پہلے کي طرح رائج نہيں ہے ہمارے پاکستاني بھائي جو يہاں موجود ہيں اور اسي طرح بر صغير ہندوستان کے تمام اديب اپنا فرض جانيں کہ فارسي زبان کے سلسلے ميں خيانت آميز سياست کا مقابلہ کريں اور فارسي زبان کو جو عظيم اسلامي ثقافت کا ذريعہ ہے اور خود اسلامي ثقافت کا بڑا حصہ فارسي زبان ميں اور فارسي زبان پر منحصر ہے بر صغير ہندوستان ميں جہاں پر مسلمان اصلي عنصر ہيں رواج ديں اور ہمارے خيال ميں خاص طور پر پاکستان ميں يہ کام تيزي کے ساتھ ہونا چاہیے اور خود ہمارے ملک ميں بھي مختلف اشاعتي امور جو انجام نہيں پائے ،انجام پانے چاہئیں اور ہنر مند حضرات اقبال کے کام پر فنکاري دکھائیں ،پڑھنے والے ان شعروں کو پڑھيں ،ان پر دھنيں تيار کريں اور ان شائ اللہ ان کو رواج دے کر ہمارے جوان اور بوڑھے عوام کي زبان اور دل ميں لائيں ۔ ہميں اميد ہے کہ خداوند تعاليٰ ہميں توفيق عطا کرے گا کہ ہم اپني حد تک امت اسلاميہ پر اقبال کے عظيم حق کو ادا کرسکيں ۔ والسلام عليکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ تکميلي پيغام جناب ڈاکٹر مجتبوي صاحب صدر ،تجليل اقبال کميٹي اگر چہ آج کي تقریر ميں علامہ اقبال کي شخصيت کے پہلوں پر صرف مختصر روشني ڈالي گئي اور قرن حاضر کي اس عظيم شخصيت کے بارے ميں کچھ زيادہ بيان نہيں ہوسکا ليکن دو نکتوں کا بيا ن جس کا ذکر نہ کرنا در حقيقت اقبال پر ظلم ہوگا ،ضروري سمجھتا ہوں : پہلا نکتہ قيام پاکستان کے سلسلے ميں ہے جو يقيني طور پر اقبال کي زندگي اور شخصيت کے نماياں ترين نکات ميں سے ہے ۔ حقيقتاً يہ کہنا ضروري ہے کہ پاکستان کے بانيوں اور ان میں سر فہرست قائد اعظم محمد علي جناح مر حوم نے اقبال کي اس جاويداني نصيحت پر جو وہ مسلمان انسان کو مخاطب کرکے کرتے ہيں کہ: تو شمشيري ز کام خود برون آ عمل کيا اور اپني انتھک محنت کوششوں اور جدوجہد کے ذريعے اس فکر کو جس کو علامہ اقبال نے ١٩٣٠ئ ميں الہ آباد ميں ہونے والي مسلم ليگ کانفرنس ميں پيش کيا تھا ،سترہ سال بعد عملي جامہ پہنايا۔برون آ از نيام خود برون آ شب خود روشن از نور يقين کن يد بيضا برون از آستين ک پاکستان کا قيام جو ہندوستاني مسلمان کي شخصيت کے تحفظ اور احيائ کا واحد ذريعہ تھا يقينا اقبال کے عظيم فخريہ کاموں ميں سے ايک ہے ۔مسلمانوں کے ہندوستان سے الگ ہونے کے سلسلے ميں جواہر لعل نہرو سے قائد اعظم کي بحثوں ميں جو دليليں نظر آتي ہيں اور جن کي بنياد ہندوستاني مسلمانوں کا ايک خود مختار قوم بننا ہے ،يقينا رموز بے خودي او ر اقبال کے دوسرے کلام ميں موجود اقبال کے نظريات پر مبني ہے لہذا جيسا کہ خود پاکستاني بھائیوں نے کہا ہے اور اس بات کي تکرار ہے بلاشک اقبال پاکستان کے معمار اور پاکستان کا منصوبہ بنانے والے بر صغير ميں مسلمانوں کو ايک خود مختار قوم کي شکل دينے والے ہيں ۔ دوسرا نکتہ جو ہمارے ملک کے مسلمان اور عبادت گزار عوام کیلئے يقينا دلنشين اور لذت بخش ہے ،اقبال کي ذاتي خصو صيات کے بارے ميں ہے۔ہماري عوام کیلئے يہ جاننا ضروري ہوگا کہ اقبال جنہوں نے مغربي ثقافت اور تمدن کو اچھي طرح پہچانا اور اپني عمر کے ايک اہم حصے کو مغربي افکار کي تعليم حاصل کرنے ميں صرف کيا ،اپنے روئیے اور طرز زندگي ميں زاہدوں اور عابدوں ميں سے ايک تھي اور وہ ميل جول ان کے اسلامي اعمال اور آداب نيز ان کي ذاتي زندگي پر ہر گز اثر انداز نہيں ہوا۔ وہ عبادت گزار ،قرآن سے مانوس ،اہل تہجد اور ممنوعہ چيزوں سے پرہيز کرنے والے تھے اور حتي يورپ ميں اپنے طالب علمي ميں اپنے طالب علمي کے زمانے ميں بھي انہوں نے اس روش کو ہرگز ترک نہيں کيا۔قرآن پر انکا اعتقاد اس حد تک زيادہ تھا کہ ان کے فرزند جاويد اقبال کے بقول قرآن کي آيتوں کو درخت کے پتوں پر لکھ کر بيماروں کو شفا يابي کیلئے ديا کرتے تھے ۔رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ، بيت اللہ اور حتي حجاز سے جو وحي کا مرکز تھا عشق کرتے تھے ۔اسلامي علوم ميں ان کي دلچسپي اس قدر زيادہ تھي کہ عمر کے آخري ايام ميں چاہتے تھے کہ اپني تمام کتابوں کو فروخت کرکے فقہ اور حديث کي کتابيں خريديں ۔وہ عارفانہ سوز و گذار رکھنے والے ،تہجد کي نماز پڑھنے والے ،زندگي کي پارسائي اور قناعت سے کام لينے والے نيز اسي قسم کي دوسري نماياں خصو صيات کے حامل تھے۔ يہ وہ نکتے تھے جن کو ميں اپني تقرير کے تکملے کے طور پر اپنے ہم وطنوں کي اطلاع کے لئے عرض کرنا ضروري سمجھتا تھا ۔ سيد علي خامنہ اي
والسلام عليکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (13-03-09), ضرغام (07-03-09) |
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 37
مراسلات: 75
کمائي: 1,098
شکریہ: 65
38 مراسلہ میں 67 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام میرے مرشد و رھبر پر کہ جن کا ایک ایک حرف سنھری ھے۔اور سلام اس پر کہ جسے اس جیسا مرشد بھی مرشد کھتا ھے اورمیری دعا آپ کے لئے بھی کہ ان نورانی کلمات کو جو ایک نورانی شخصیت نے ایک نورانی شخص کے لئے فرمائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھمارے لئے کر آئے۔خدا آپ کی توفیقات مین اضافہ فرمائے۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فروخت, فرض, کمال, کتابوں, پہچان, قرآن, لوگ, نماز, نظر, مکمل, مقابلہ, منصوبہ, ممکن, معلوم, اللہ, انسان, اشعار, بہترین, حال, حسن, خبر, خدا, عبادت, عشق, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اقبال مشرق کا بلند ستارہ، حضرت آيت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي کی نگاہ میں (حصہ اول) | عرفان حیدر | شاعر مشرق علامہ اقبال | 1 | 07-03-09 02:08 PM |
| اقبال مشرق کا بلند ستارہ، حضرت آيت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي کی نگاہ میں (حصہ دوئم) | عرفان حیدر | شاعر مشرق علامہ اقبال | 1 | 07-03-09 02:06 PM |
| اقبال مشرق کا بلند ستارہ، حضرت آيت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي کی نگاہ میں (حصہ سوئم) | عرفان حیدر | شاعر مشرق علامہ اقبال | 1 | 07-03-09 02:06 PM |