واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعر مشرق علامہ اقبال



شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے


اقبال کا پیغام خودی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-12-10, 03:52 PM   #1
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اقبال کا پیغام خودی

اقبال کا پیغام خودی

اقبال کے پیغام اور فکر کا مرکزی نقطہ ان کا تصور خودی ہے۔ یہ وہی تصور خودی ہے کہ جس نے اقبال کی شخصیت کو بقاء دوام عطا کیا اور یہی وہ ہے تصور ہے جس نے اقبال کو نظریہ پاکستان دینے پر مجبور کیا اور اسی تصور خودی میں خود پاکستان کی بقاء اور ملت اسلامیہ کا عروج مضمر ہے ۔ ۔ ۔
بقول اقبال !
خودی کے ساز سے ہے عمر جاوداں کا چراغ
خودی کے سوز سے روشن ہیں امتوں کے چراغ


خودی کیا ہے ؟ درحقیقت خود سے آگاہی ہے کہ اقبال کہ اس پیغام کی اصل حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ۔ ۔

مَنْ عَرَفَ نَفْسَه فَقَدْ عَرَفَ رَبَّه.

’’جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا۔ اس نے
اپنے رب کو پہچان لیا‘‘
۔

گویا خودی کا یہ تصور خود شناسی سے شروع ہوکر بندے کو خدا شناسی تک لے جاتا ہے اور اس سفر میں بندہ کو بقاء و دوام تب نصیب ہوتا ہے کہ جب بندہ اپنی خودی کی حقیقت کو پہچان کر خود اپنی ہی خودی میں گم ہونے کی بجائے اپنی خودی کو خدا شناسی میں گم کردیتا ہے تب بندہ مقام فنا سے مقام بقا پر فائز ہوجاتا ہے ۔ یعنی انسان کا شعوری سفر اپنے احساس نفس سے اپنی معرفت اور پہچان کی حقیقت کے ساتھ جتنا آگے بڑھے گا اسے اتنا ہی اپنے رب کی معرفت حاصل ہوگی انسان جتنا اپنی ذات پر غور کرتا ہے، اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے اتنا ہی اسے اپنے رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور یہ معرفت اس کو رب کی محبت میں فنایت پر مجبور کرتی ہے گویا جب بندہ اپنی خودی کو پہچانتا ہے تو وہ اس نتیجے پر پہنچتا کہ حقیقت میں وہ کیا ہے ایسے میں پھر وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے . . .

میں کیا ہوں ؟
اور مجھ میں میرا ہے ہی کیا ؟
یعنی کی میرے وچ میرا


اور اس طرح بندے کو اپنے عجز اور کمزوری کا حقیقی ادراک ہوجاتا ہے جو کہ بندہ کے لیے اپنے رب کے سامنے عاجزی و تذلل کا باعث بنتا ہے اور یوں بندہ اپنے رب کے سامنے عاجز ہوکر جھکتا چلا جاتا ہے اور ایسے میں جب بندہ اپنی کمزوری و عاجزی کا اعتراف کرتے ہوئے جتنی عاجزی سے جھکتا چلا جاتا ہے اتنی ہی وہ صمد ذات اپنی عظمت و رفعت اور شان کی معرفت و ادراک کے دروازے اس پر کھولتی چلی جاتی ہے اور پھر اسی معرفت شان معبودیت کے صدقے رب تعالیٰ اپنے بندے کو مقام عبدیت پر فائز کرتا ہے۔

لہذا جب بندے کو رب کی شان معبودیت اور اپنے مقام عبدیت کا علم ہوجاتا ہے تو اسے رب کی عظمت اور اپنی حقیقی عاجزی کا ادراک ہوجاتا ہے تو پھر وہ بندہ اپنی رضا، رب کی رضا میں گم کردیتا ہے۔ وہ اپنے ہر عمل میں رب تعالیٰ کی رضا، اس کی منشاء اور اس کے اذن کا طالب رہتا ہے۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو رب تعالیٰ اس کو شان عبودیت عطا کرتا ہے پھر وہ بندے کو وہ بھی عطا کرتا ہے جو اس کی (یعنی رب کی ) اپنی رضا ہوتی ہے اور وہ بھی عطا کرتا ہے جو خود بندے کی رضا ہوتی ہے اور یہی وہ مقام کہ جہاں پر آکر اقبال علیہ رحمہ کی روح ٹرپ اٹھی اور وہ تڑپ کر بول اٹھے کہ ۔ ۔۔۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (24-12-10), ھارون اعظم (24-12-10), محمدخلیل (24-12-10), بزم خیال (28-12-10), حیدر (24-12-10), راجہ اکرام (24-12-10), رضی (04-01-11), شعبان نظامی (06-05-12), عارف اقبال (31-12-10), عروج (11-01-11)
کمائي نے آبی ٹوکول کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
27-12-10 saraah 10
پرانا 24-12-10, 04:20 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,211
شکریہ: 1,155
6,271 مراسلہ میں 14,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

شیئرنگ کا شکریہ۔۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (24-12-10), حیدر (24-12-10), عروج (11-01-11)
پرانا 24-12-10, 05:15 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ بھائی اس قدر دقیق موضوع پر اس قدر آسان انداز میں فہم بخشنے پر۔

لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کبھی ریسرچ کر کے بتائیے گا کہ
کیسے معلوم ہو کہ "خودی" یعنی "خود اپنی ہی معرفت" ہے کیا؟
کیسے معلوم ہو کہ میں نے جو "خودی" پائی ہے وہ وہی خودی ہے جو مجھ کو اللہ کی طرف لے جائے گی۔ اسی خودی کو پا کر کئی افراد بھٹک بھی تو گئے ہیں۔

اہم سوال یہ ہے کہ خودی انسان کو اللہ کی معرفت کرواتی ہے۔ یعنی بندے کو اللہ سے ملاتی ہے۔ لیکن یہ تو ساری بعد کی منزلیں ہیں۔ بذات خود خودی تک پہنچنے کی کیا کوئی سبیل حضرت اقبال نے رموز خودی میں بیان کی ہیں؟

وہ حکیم تھے۔ ممکن نہیں لگتا کہ انہوں نے مرض کی تشخیص کر دی ہو لیکن علاج تجویز نہ کیا ہو۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (24-12-10), آبی ٹوکول (24-12-10), راجہ اکرام (24-12-10), شعبان نظامی (06-05-12), عبداللہ آدم (24-12-10), عروج (11-01-11)
پرانا 24-12-10, 08:38 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاء اللہ آبی بھائی ، بہت ہی خوب لکھا ہے
شکریہ قبول کیجئے اس اچھی تحریر پر
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (24-12-10), آبی ٹوکول (24-12-10), عروج (11-01-11)
پرانا 24-12-10, 08:51 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
کیسے معلوم ہو کہ میں نے جو "خودی" پائی ہے وہ وہی خودی ہے جو مجھ کو اللہ کی طرف لے جائے گی۔ اسی خودی کو پا کر کئی افراد بھٹک بھی تو گئے ہیں۔
میرے خیال میں جب تلاش خودی میں قرآن و سنت کی رہنمائی اور روشنی ساتھ نہ ہو گی تو بھٹکنا ہی مقدر ٹھہرے گا
لیکن اگر یہ روشنی ساتھ ہو گی تو پھر یہ خودی خدا شناسی تک لے جائے گی ۔

باقی تفصیلات عابد بھائی کی زبانی
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
MAHGT4 (27-12-10), saraah (27-12-10), آبی ٹوکول (24-12-10), شعبان نظامی (06-05-12), عبداللہ آدم (24-12-10), عروج (11-01-11)
پرانا 24-12-10, 10:39 PM   #6
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مَنْ عَرَفَ نَفْسَه فَقَدْ عَرَفَ رَبَّه.

اس کے بارے میں تحقیق فرما لیں.............

مضمون زبردست ہے.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
saraah (27-12-10), آبی ٹوکول (24-12-10), شعبان نظامی (06-05-12), عروج (11-01-11)
پرانا 27-12-10, 03:32 PM   #7
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
بہت شکریہ بھائی اس قدر دقیق موضوع پر اس قدر آسان انداز میں فہم بخشنے پر۔

لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کبھی ریسرچ کر کے بتائیے گا کہ
کیسے معلوم ہو کہ "خودی" یعنی "خود اپنی ہی معرفت" ہے کیا؟
کیسے معلوم ہو کہ میں نے جو "خودی" پائی ہے وہ وہی خودی ہے جو مجھ کو اللہ کی طرف لے جائے گی۔ اسی خودی کو پا کر کئی افراد بھٹک بھی تو گئے ہیں۔


اہم سوال یہ ہے کہ خودی انسان کو اللہ کی معرفت کرواتی ہے۔ یعنی بندے کو اللہ سے ملاتی ہے۔ لیکن یہ تو ساری بعد کی منزلیں ہیں۔ بذات خود خودی تک پہنچنے کی کیا کوئی سبیل حضرت اقبال نے رموز خودی میں بیان کی ہیں؟

وہ حکیم تھے۔ ممکن نہیں لگتا کہ انہوں نے مرض کی تشخیص کر دی ہو لیکن علاج تجویز نہ کیا ہو۔
اسلام علیکم بھائی سیدھی سی بات ہے کہ جو "تصورخودی " خود شناسی کی بجائے خود پرستی میں مبتلا کردے وہ حقیقی خودی نہیں بلکہ وہی خدا شاسی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے آپ قرآن پاک میں دیکھیں تو شیطان جس چیز کی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا وہ اسکا یہی تصور تھا کہ جو اپنے اندر خودی کا ایسا تصور لیئے ہوئے تھا جو کہ خدا شناسی کی بجائے خود پرستی میں مبتلا کردینے والا تھا ۔

جب اللہ پاک نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے روکا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ آدم کو سجدہ کر
تو شیطان نے اپنی ذات کی حقیقت کو فراموش کردیا اور کہا کہ ۔ ۔

" انا " خیر منہ
یعنی میں اس (آدم ) سے بہتر ہوں

تو تب اللہ پاک نے اسے لعنتی الی یوم الدین قرار دے دیا۔
یہ تو تھا شیطان کا اپنے نفس کی حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے خدا پرستی کی بجائے خود پرستی میں مبتلا ہونے کا ذکر اب ادھر ایک واقعہ اور سماعت فرمائیے اور فنا فی رسول ذات کا عشق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم میں غرق ہونا ملاحظہ کیجیئے ۔ ۔

بخاری شریف کی ایک روایت کا مفھوم ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قضیہ کے حل کہ لیے مدینہ شریف کی کسی قریبی بستی میں تشریف لے گئے اور واپسی میں کچھ دیر ہوگئی اور نماز کا وقت ہوگیا تو لوگوں نے نماز کی امامت کے لیے حضرت ابوبکر صدیق کو آگے کردیا جب آپ صدیق اکبر نے امامت شروع کی تو اس عرصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے تو لوگوں نے صدیق اکبر کو متوجہ کیا تو صدیق اکبر نے مصلٰی امامت چھوڑ دیا جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو امامت جاری رکھنے کا حکم دیا مگر وہ پھر بھی مصلٰی چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت فرمائی اور نماز کے خاتمہ کے بعد وہی سوال جو اللہ پاک نے شیطان سے کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر سے کیا ۔ ۔ ۔

یعنی کہ تجھے کس چیز نے روکا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ نماز پڑھاؤ ؟

اس پر صدیق اکبر کا اپنی حقیقت ذات کو جانتے ہوئے نفی ذات کرتے ہوئے جو جواب تھا وہ آج بھی عاشقان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنیادی کشتہ عشق ہے فرماتے ہیں کہ ۔۔
ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مصلٰی پر کھڑا ہو ۔
اللہ و اکبر
فائدہ :- دیکھا آپ نے شیطان نے اللہ کے حکم کو نا ماننے کی وجہ اپنے نفس ذات کی خودی کو قرار دیا جبکہ اس کے مقابلے میں صدیق اکبر نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہ بجالینے کی وجہ رسول کے مقابلے میں اپنی زات کی نفی کو قرار دیا دونو‌ں کا جرم ایک تھا مگر ایک میں احساس تفاخر اور خود پرستی تھی جبکہ دوسرے میں اپنی ذات کی حقیقت کا حقیقی ادراک کرتے ہوئے اپنی ذات کی نفی کے ساتھ ساتھ اپنے آباؤ اجداد کی ذات کی نفی کو بھی بطور حقیقی تصور خودی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر قربان کردیا گیا تھا
یہی وجہ تھی شیطان راندہ درگاہ ہوا جبکہ ابوبکر کو عتیق و صدیق اکبر کا لقب ملا ۔ ۔

یاد رہے کہ آیت میں شیطان کی جانب سے لفظ انا کا استعمال اسکے تصور خودی کا خودی پرستی میں مبتلا ہونا صاف صاف واضح کررہا ہے اگر وہ اپنی ذات کی حقیقت یعنی اللہ کے مقابلے میں عدم ہونا کو جان لیتا تو بجائے خود پرستی میں مبتلا ہونے کہ خدا شناسی کی دولت سے مالا مال ہوجاتا اور یوں اپنے تصور انا کی نفی کرتے ہوئے اللہ کے حکم کے آگے سرخم تسلیم کردیتا ۔

اور یہی وہ خودی ہے کہ جسکا درس اقبال نے اپنے کلام میں دیا ہے اقبال کہ تصور خودی کی حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر حسین احمد پراچہ رقم طراز ہیں کہ ۔ ۔
اقبال علیہ رحمہ سے پہلے خودی کو غرور‘ گھمنڈ‘ تکبر اور خودپسندی کے معنوں میں لیا جاتا تھا‘ انہوں نے اس کا مفہوم یکسر بدل دیا ہے۔ یا یوں کہئیے کہ خودی کے اصل مفہوم کی نقاب کشائی کی ہے۔ اقبال علیہ رحمہ اپنی مثنوی اسرار خودی کے دیباچے میں تصور خودی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
’’خودی کا مفہوم احساسِ نفس یا تعین ذات ہے‘‘۔ مگر یہ تعین ذات کیا ہے؟
اقبال علیہ رحمہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان اپنے مقصد تخلیق کو بھول چکا ہے‘ تعلیم خودی اسے یاد دلاتی ہے کہ اس کا مقصد تخلیق کیا ہے‘ یا یوں سمجھئے کہ اسے خود آگاہی کی دولت سے مالامال کرتی ہے۔
میں نے ڈاکٹر خورشید رضوی سے پوچھا کہ فلسفہ خودی یا اسرار خودی میں بات تھوڑی سی الجھی ہوئی ہے ذرا سادہ الفاظ میں سمجھائیے کہ یہ فلسفہ خودی کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ :
خودی تو یہ ہے کہ آپ اپنی انفرادی صلاحیتوں کا ادراک کریں‘ ان کا اعتراف کریں‘ مگر اپنی صفات کو جاننے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ خودپسند بن جائیں‘ آپ نرگسیت کا شکار ہو جائیں اور آپ دوسروں کو حقیر اور خود کو عظیم سمجھنے لگیں بلکہ اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے اور اپنے قطرے کو سمندر سمجھتے ہوئے آپ بحرِ بیکراں کا حصہ بن جائیں کیونکہ طوفان قطروں سے نہیں‘ سمندروں سے آتے اور سمندروں سے اٹھتے ہیں۔ اسی لئے اقبال نوجوانوں کو تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں…

برابر ہر چیز اندر سینہ داری
سرودِ نالۂ آہے فغانے


کہ اپنے سینے کے اندر موجزن ہر چیز کو باہر لائو‘ چاہے وہ کوئی نغمہ ہے‘ کوئی نالہ ہے یا کوئی آہ یا فغاں ہے۔ بعض لوگوں نے اسرار خودی پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے ملت کا وجود ختم ہو جائیگا‘ اقبال علیہ رحمہ نے مثنوی رموز بے خودی لکھ کر وضاحت کی کہ خودی کی تکمیل بے خودی سے ہوتی ہے۔
میں نے مشہور ماہر اقبالیات ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی سے استفسار کیا کہ رموز بے خودی کیا ہے؟
انہوں نے فرمایا کہ جیسے کوئی معمار ایک ایک اینٹ کو ایک عمارت میں لگاتا ہے‘ تو عمارت میں لگنے سے پہلے ہر اینٹ کی اپنی خودی ہے‘ اپنی انفرادیت ہے‘ اپنا ایک الگ وجود ہے‘ مگر عمارت کی شکل میں ڈھل کر انکی انفرادیت ختم ہو جاتی ہے مگر بے خودی سے وجود میں آنے والی دیدہ زیب اور خوبصورت عمارت آنکھوں کی تراوت کا باعث بنتی ہے۔
اقبال علیہ رحمہ کا جوانِ مطلوب جب خودی یعنی خودداری کی صفت سے آگاہ ہو کر بے خودی کی منزل پر پہنچتا ہے اور ایک ملت کا چمکتا ہوا ستارہ بن جاتا ہے اور گردوں کا جزو بن جاتا ہے تو پھر وہ دنیا میں بہت بڑی تبدیلی کا محرک بن جاتا ہے۔ اقبال علیہ رحمہ خودی اور بے خودی کی صفات کیساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کے جوانوں کو صورتِ شاہین جینے کی تلقین کرتے ہیں۔ اقبال علیہ رحمہ کہتے ہیں…

گزر اوقات کر لیتا ہے وہ کوہ و بیاباں پر
کہ شاہیں کے لئے ذلت ہے کار آشیاں بندی
اور یہ بھی فرماتے ہیں…
جھپٹنا‘ پلٹنا‘ پلٹ کر چھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ



والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 27-12-10 at 03:35 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
MAHGT4 (27-12-10), saraah (27-12-10), ھارون اعظم (13-03-11), حیدر (31-12-10), شعبان نظامی (06-05-12)
کمائي نے آبی ٹوکول کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
13-03-11 ھارون اعظم خودی 0
پرانا 31-12-10, 08:34 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

معذرت چاہتا ہوں۔مجھ میں بھولنے کی بہت عادت ہے۔ میں کسی تھریڈ میں کُچھ کہتا ہوں یا پوچھتا ہوں اور پھر بھول جاتا ہوں کہ کس تھریڈ میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ہی میں اپنے ہی تھریڈز بھی بھول جاتا ہوں

آپکا بہت شکریہ کہ خودی کے مسئلہ پر روشنی ڈالی ۔ اگر میں غلط نہیں سمجھا تو خودی مطلب یہی ہے کہ "اپنی صلاحیتیوں اور قابلیتوں کو پہچاننا اور انکے پہچان کے بعد اپنے اندر انا پیدا ہونے دینے کے بجائے ان صلاحیتوں کے بخشنے والے کے احکامات کے سامنے جھک جانا اور ان صلاحیتیوں کو دوسروں کے فائدے کے لیے عاجزانہ استعمال کرنا"
اگر میں غلط سمجھا ہوں تو درستگی کر دیجیے۔

لیکن یہ سوال ابھی تک تشنہ ہے کہ رموز خودی تک کیسے پہنچا جائے؟ اقبال نے اس بارے میں بھی کوئی روشنی ڈالی ہے؟
اپنی خودی کو پہچان کر (یا نا جان کر) جو بھٹک گیا وہ شیطان اور جو سنبھل گیا وہ صدیق۔ کیسے جانیں۔ کیا محض عاجزی اختیار کرنا خودی ہے۔ انا سے اس عاجزی کے سفر کی بابت میں کنفیوژ ہوں۔ میں خود بھی انا کا مریض ہوں۔ مرض پہچانتا ہوں۔ لیکن علاج یعنی دوائیاں ، استعمال ، پرہیز وغیرہ نہیں جانتا۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (31-12-10), شعبان نظامی (06-05-12), عروج (11-01-11)
پرانا 31-12-10, 08:48 AM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مراسلہ نمبر ایک سرورق پر شائع کر دیا گیا ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
color, ہوتا, ہے۔, پہچان, پاکستان, یوں, نبوی, محبت, اللہ, انسان, اتنی, بول, حدیث, حدیث نبوی, خدا, روح, روشن, سفر, شروع, علم, عاجزی, عروج, عظمت, غور, صمد


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فکرِ اقبال کا پیغام راجہ اکرام پاکستان کے ہیروز 15 10-11-11 02:45 PM
آج آپکو کتنےذاتی پیغامات یا پروفائل پیغامات آئیں ہیں۔ champion_pakistani گپ شپ 105 21-05-11 04:18 PM
حماس کا پیغآم عبداللہ آدم عمومی بحث 2 28-11-10 11:02 PM
شہدا کا اپنی ماؤں کو پیغام رضی پاکستان میں دہشت گردی 10 02-11-10 04:39 PM
مری نگاہ کا پیغام بے صدا جو ہوا محمدعدنان شعر و شاعری 1 02-05-08 04:15 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger