واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعر مشرق علامہ اقبال



شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے


اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-07-07, 06:04 PM   #1
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
کمائي: 62,639
شکریہ: 10,319
3,108 مراسلہ میں 7,466 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟

اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟

اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟

علامہ اقبال اور رابندر ناتھ ٹیگور ہندوستان کے دو عظیم ہم عصر شاعر تھے جن کا کلام ایک ہی زمانے میں مشہور ہوا۔شاعری کی حدود سے نکل کر سیاسی اور سماجی میدان میں بھی دونوں شخصیات بیسویں صدی کے اوائل میں ایک ساتھ نمودار ہوئیں لیکن یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ عمر بھر دونوں کی ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔
علامہ اقبال کے مداحوں کو اس بات کا ہمیشہ قلق رہا ہے کہ ہندوستان کے اوّلین نوبیل انعام کا اعزاز اقبال کی بجائے ٹیگور کو حاصل ہوا۔ شاید اس ’زیادتی‘ کی تلافی ہو جاتی اگر بعد کے برسوں میں اقبال کو بھی اس انعام کا مستحق قرار دے دیا جاتا لیکن 1913 سے 1938 تک کے 25 برسوں میں ایک بار بھی نوبیل کمیٹی کی توجہ اقبال پر مرکوز نہ ہو سکی۔
چونکہ نوبیل کمیٹی کی تمام دستاویزات اور خط و کتابت پر پچاس برس تک اِخفاء کی پابندی رہتی ہے اس لیے سن ساٹھ کے عشرے تک یہ محض ایک راز تھا اور اس پر ہر طرح کی چہ می گوئیاں ہوتی تھیں۔اسےایک سوچی سمجھی سازش بھی قرار دیا جاتا تھا ۔علامہ اقبال کو نوبیل پرائیز سے کیوں محروم رکھا گیا تھا۔
1963 میں پرانے دستاویزات کے سامنے آنے پر کھُلا کہ کمیٹی نے کوئی سازش نہیں کی تھی اور نہ ہی علامہ اقبال کی نامزدگی کا جھگڑا کبھی پیدا ہوا تھا۔ لیکن اگر بنگال کے شاعر رابندر ناتھ کا نام کمیٹی کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے تو اقبال کی نامزدگی میں کیا قباحت تھی؟ پرانے دستاویزات اس سلسلے میں کوئی واضح رہنمائی نہیں کرتے۔ سن 1914 کےاوائل میں تیار ہونے والی ایک رپورٹ میں نوبیل کمیٹی کے چئر مین ہیرلڈ ہئیارن نے جِن خیالات کا اظہار کیا ہے اُس سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں چھڑنےوالی جنگ کی ممکنہ تباہ کاری کو دیکھتے ہوئے کمیٹی سوچ رہی تھی کہ نوبیل انعام ایسے ہاتھوں میں نہیں جانا چاہیئے جو جنگ اور تباہی کے پرچارک ہوں۔
کمیٹی کو احساس تھا کہ نوبیل انعام حاصل کرنے والا ادیب راتوں رات شہرت کےآسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ ظاہر ہے اِن تحریروں کا اثر دنیا کے سبھی باشندوں پر پڑتا ہے۔ہیرلڈ ہئیارن نے مختلف ماہرین کی آراء پیش کرنے کے بعد رپورٹ میں خیال ظاہر کیا کہ ادب کا نوبیل انعام دیتے وقت اس امر کو بطور خاص مدِّ نظر رکھنا چاہیئے کے یہ انعام کسی قوم پرستانہ مصنف کو نہ چلا جائے یعنی کسی ایسے قلم کار کو جو ایک مخصوص قوم کے ملّی جذبات کو ابھار کر دنیا پرچھا جانے کی ترغیب دے رہا ہو۔
ظاہر ہے کہ اقبال کی شاعری کا بیشتر حصّہ اسلام اور مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کو یاد کرنے اور اسے بحال کرنے کی شدید خواہش کا مظہر ہے۔ اقبال اپنی ملت کو اقوامِ مغرب سے بالاتر سمجھتے تھے کیونکہ اُن کے خیال میں قومِ رسولِ ہاشمی جن عناصر سے مل کر بنی ہے وہ دنیا کی کسی اور قوم میں نہیں پائے جاتے۔

اگرچہ پہلی جنگِ عظیم سے قبل بھی یورپ کے سلسلے میں اقبال کسی خوش فہمی کا شکار نہیں تھے لیکن جنگ کے بعد یورپ کے بارے میں اُن کی تلخی مزید بڑھ گئی۔

1907 کی ایک غزل میں اقبال نے کہا تھا:

دیارِ مغرب کے رہنے والو، خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہی زرِ کم عیار ہوگا
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا 1914

انیس سو چودہ کی ایک رپورٹ میں نوبیل کمیٹی کے چیئرمین خیال ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی اتھل پتھل ایک عارضی مرحلہ ہے، ادب کو اِن وقتی مصلحتوں سے ماوراء ہوکر عالمی اور دائمی اقدار کا دامن تھامنا چاہیئے۔

کم و بیش یہی وہ خیالات تھے جن کی بنیاد پر مہاتما گاندھی کے نوبیل پرائز کا راستہ بھی عرصہ دراز تک رُکا رہا لیکن گاندھی کےکیس میں کم از کم چار مرتبہ ان کا نام کمیٹی کے سامنے آیا اور اس پر خاصی بحث بھی ہوئی بلکہ نئی تحقیق کے مطابق تو 1948 میں انھیں انعام ملنے ہی والا تھا کہ ان کی ناگہانی موت واقع ہوگئی۔

علامہ اقبال کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ 1913 میں ٹیگور کو انعام ملنے کے ربع صدی کے بعد تک اقبال زندہ رہے لیکن نوبیل کمیٹی نے کبھی اُن کے نام پر غور نہیں کیا۔ اقبال کی شہرت کا سورج اس وقت نصف النہار پر تھا اور یہی وہ زمانہ تھا جب اقبال کو حکومتِ برطانیہ نے ٰسر ٰکا خطاب عطا کیا تھا، اگرچہ یہاں بھی ٹیگور انہیں مات دے گئے کیونکہ ٹیگور کو سر کا خطاب سات برس پہلے 1915 ہی میں مِل گیا تھا۔

ٹیگور مادری زبان کو مقدس سجھتے تھے۔ ایک بار جب وہ اسلامیہ کالج لاہور کے طالب علموں کی دعوت پر پنجاب آئے تو طالب علموں نے ان کے استقبال کےلیے اُن کا معروف بنگالی ترانہ گانا شروع کر دیا۔ ٹیگور نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے زیادہ خوشی ہوگی اگر آپ پنجاب کی کوئی سوغات پیش کریں۔ چنانچہ ٹیگور کی خدمت میں ہیر وارث شاہ کےچند بند، ہیر کی روائیتی طرز میں پیش کئے گئے۔ ٹیگور مسحور ہو کر رہ گئے اور محفل کےاختتام پر بولے میں زبان تو نہیں سمجھتا لیکن جتنی دیر ہیر پڑھی جاتی رہی میں مبہوت رہا اور مجھے یوں محسوس ہوتا رہا جیسے کوئی زخمی فرشتہ فریاد کر رہا ہو۔
ٹیگور کو اقبال سے بھی یہی شکوہ تھا کہ اس نے اپنی مادری زبان کےلئے کچھ نہیں کیا۔ بقول ٹیگور اگر اقبال نے فارسی اور اُردو کی بجائے پنجابی کو اپنا ذریعہء اظہار بنایا ہوتا تو آج پنجابی ایک پُرمایہ زبان ہوتی۔

اقبال کے سلسلے میں ٹیگور کا یہ بیان ایک نوبیل انعام یافتہ شاعر کا بیان بھی تھا ---- ایک ایسے شاعر کے بارے میں جو اس اعزاز سے محروم رہا۔

یہ بیان تھا ٰسر ٰکا خطاب ٹھکرا دینے والے ایک شخص کا، اُس شخص کے بارے میں جس نے انگریزوں کے عطا کردہ اس خطاب کو عمر بھر سینت سینت کے رکھا۔

علامہ اقبال کی شعری کائنات یقیناً ٹیگور کے شعری احاطے سے بہت بڑی تھی کیونکہ شعرِ اقبال کا ایک سرا اگر بطونِ ذات میں تھا تو دوسرا وسعتِ کائنات میں تھا لیکن ٹیگور کے مقابل نوبیل انعام سے محرومی یقیناً ان کے سینے کا ایک داغ بن گئی تھی جس کی کسک انہوں نے آخری دم تک محسوس کی ہوگی۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر
پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-10-09), ملک بھائی (27-10-09), محمدعدنان (07-11-08), حیدر (28-10-09), راجہ اکرام (31-10-09), رضی (06-04-09), ضرغام (07-03-09), عارف اقبال (27-01-10), عدنان دانی (27-01-10), عرفان حیدر (12-02-08)
پرانا 29-07-07, 06:32 AM   #2
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,359
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟


مزید کا انتظار رہے گا
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-08-07, 02:15 PM   #3
Senior Member
 
پاکستانی لڑکی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
عمر: 23
مراسلات: 1,945
کمائي: 19,513
شکریہ: 1,422
1,131 مراسلہ میں 2,401 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمممم۔۔۔۔۔۔
پاکستانی لڑکی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-11-07, 10:26 AM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,996
کمائي: 49,106
شکریہ: 7,299
5,971 مراسلہ میں 15,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟

زبردست تحرریر ہے بھائی اللہ تعالٰی آپ کو خوش رکھے
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-03-09, 02:19 PM   #5
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 37
مراسلات: 75
کمائي: 1,098
شکریہ: 65
38 مراسلہ میں 67 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟

زبردست تحرریر ہے بھائی اللہ تعالٰی آپ کو خوش رکھے ،مزید توفیقات عطا فرمائے
ضرغام آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-03-09, 03:38 PM   #6
Senior Member
 
مسافر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 2,069
کمائي: 34,309
شکریہ: 1,693
1,085 مراسلہ میں 2,456 بارشکریہ ادا کیا گیا
مسافر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟

بہت خوب آپ نے دل خوش کر دیا
مسافر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-03-09, 08:28 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,277
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟

نوبیل انعام ہی کو ایک اسٹینڈرڈ کیوں‌مانا جائے؟ قائد اعظم نے بھی تو پاکستان کو الگ ریاست بنانے کیلئے رات و دن محنت کی تھی۔ کبھی انکا نام یورپ کے تدریسی اداروں میں‌گونجا؟ یہاں تو ہر کوئی مہا تاما گاندھی کو جانتا ہے، جبکہ اسلام پرستوں کی کوئی جگہ نہیں! یورپی اقوام کی اسلام بضض دشمنی عیاں ہے۔ انکے انعامات ہمارے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتے جب تک یہ تہے دل سے ہمارا اور ہمارے دین کا اہترام کرنا نہ سیکھ لیں!
arifkarim آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے arifkarim کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-10-09), حیدر (28-10-09), عارف اقبال (27-01-10)
پرانا 07-03-09, 11:15 PM   #8
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟

لاجواب تحریر، اور سب سے بڑھ کر اس تحریر کے آخری جملے!
میری جانب سے ایک درجن بار شکریہ قبول فرمائیں۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-04-09, 12:55 AM   #9
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی میرے انگریزوں کے دئے گئے تمغات سے بہتر ہے جو عزت اللہ دے اور میرے خیال میںرابندر ناتھ ٹیگور سے زیادہ دنیا اقبال کو پڑتی ہے
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
عارف اقبال (27-01-10), عدنان دانی (27-01-10)
پرانا 25-10-09, 10:39 PM   #10
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نوبل انعام تو اوباما کو بھی ملا ہے، انعام سے زیادہ عزت اچھی چیز ہے۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (27-01-10)
پرانا 26-10-09, 10:34 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,219
کمائي: 17,990
شکریہ: 2,343
915 مراسلہ میں 2,335 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پاکستانی مراسلہ دیکھیں
اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟

علامہ اقبال اور رابندر ناتھ ٹیگور ہندوستان کے دو عظیم ہم عصر شاعر تھے جن کا کلام ایک ہی زمانے میں مشہور ہوا۔شاعری کی حدود سے نکل کر سیاسی اور سماجی میدان میں بھی دونوں شخصیات بیسویں صدی کے اوائل میں ایک ساتھ نمودار ہوئیں لیکن یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ عمر بھر دونوں کی ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔
علامہ اقبال کے مداحوں کو اس بات کا ہمیشہ قلق رہا ہے کہ ہندوستان کے اوّلین نوبیل انعام کا اعزاز اقبال کی بجائے ٹیگور کو حاصل ہوا۔ شاید اس ’زیادتی‘ کی تلافی ہو جاتی اگر بعد کے برسوں میں اقبال کو بھی اس انعام کا مستحق قرار دے دیا جاتا لیکن 1913 سے 1938 تک کے 25 برسوں میں ایک بار بھی نوبیل کمیٹی کی توجہ اقبال پر مرکوز نہ ہو سکی۔
چونکہ نوبیل کمیٹی کی تمام دستاویزات اور خط و کتابت پر پچاس برس تک اِخفاء کی پابندی رہتی ہے اس لیے سن ساٹھ کے عشرے تک یہ محض ایک راز تھا اور اس پر ہر طرح کی چہ می گوئیاں ہوتی تھیں۔اسےایک سوچی سمجھی سازش بھی قرار دیا جاتا تھا ۔علامہ اقبال کو نوبیل پرائیز سے کیوں محروم رکھا گیا تھا۔
1963 میں پرانے دستاویزات کے سامنے آنے پر کھُلا کہ کمیٹی نے کوئی سازش نہیں کی تھی اور نہ ہی علامہ اقبال کی نامزدگی کا جھگڑا کبھی پیدا ہوا تھا۔ لیکن اگر بنگال کے شاعر رابندر ناتھ کا نام کمیٹی کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے تو اقبال کی نامزدگی میں کیا قباحت تھی؟ پرانے دستاویزات اس سلسلے میں کوئی واضح رہنمائی نہیں کرتے۔ سن 1914 کےاوائل میں تیار ہونے والی ایک رپورٹ میں نوبیل کمیٹی کے چئر مین ہیرلڈ ہئیارن نے جِن خیالات کا اظہار کیا ہے اُس سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں چھڑنےوالی جنگ کی ممکنہ تباہ کاری کو دیکھتے ہوئے کمیٹی سوچ رہی تھی کہ نوبیل انعام ایسے ہاتھوں میں نہیں جانا چاہیئے جو جنگ اور تباہی کے پرچارک ہوں۔
کمیٹی کو احساس تھا کہ نوبیل انعام حاصل کرنے والا ادیب راتوں رات شہرت کےآسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ ظاہر ہے اِن تحریروں کا اثر دنیا کے سبھی باشندوں پر پڑتا ہے۔ہیرلڈ ہئیارن نے مختلف ماہرین کی آراء پیش کرنے کے بعد رپورٹ میں خیال ظاہر کیا کہ ادب کا نوبیل انعام دیتے وقت اس امر کو بطور خاص مدِّ نظر رکھنا چاہیئے کے یہ انعام کسی قوم پرستانہ مصنف کو نہ چلا جائے یعنی کسی ایسے قلم کار کو جو ایک مخصوص قوم کے ملّی جذبات کو ابھار کر دنیا پرچھا جانے کی ترغیب دے رہا ہو۔
ظاہر ہے کہ اقبال کی شاعری کا بیشتر حصّہ اسلام اور مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کو یاد کرنے اور اسے بحال کرنے کی شدید خواہش کا مظہر ہے۔ اقبال اپنی ملت کو اقوامِ مغرب سے بالاتر سمجھتے تھے کیونکہ اُن کے خیال میں قومِ رسولِ ہاشمی جن عناصر سے مل کر بنی ہے وہ دنیا کی کسی اور قوم میں نہیں پائے جاتے۔

اگرچہ پہلی جنگِ عظیم سے قبل بھی یورپ کے سلسلے میں اقبال کسی خوش فہمی کا شکار نہیں تھے لیکن جنگ کے بعد یورپ کے بارے میں اُن کی تلخی مزید بڑھ گئی۔

1907 کی ایک غزل میں اقبال نے کہا تھا:

دیارِ مغرب کے رہنے والو، خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہی زرِ کم عیار ہوگا
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا 1914

انیس سو چودہ کی ایک رپورٹ میں نوبیل کمیٹی کے چیئرمین خیال ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی اتھل پتھل ایک عارضی مرحلہ ہے، ادب کو اِن وقتی مصلحتوں سے ماوراء ہوکر عالمی اور دائمی اقدار کا دامن تھامنا چاہیئے۔

کم و بیش یہی وہ خیالات تھے جن کی بنیاد پر مہاتما گاندھی کے نوبیل پرائز کا راستہ بھی عرصہ دراز تک رُکا رہا لیکن گاندھی کےکیس میں کم از کم چار مرتبہ ان کا نام کمیٹی کے سامنے آیا اور اس پر خاصی بحث بھی ہوئی بلکہ نئی تحقیق کے مطابق تو 1948 میں انھیں انعام ملنے ہی والا تھا کہ ان کی ناگہانی موت واقع ہوگئی۔

علامہ اقبال کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ 1913 میں ٹیگور کو انعام ملنے کے ربع صدی کے بعد تک اقبال زندہ رہے لیکن نوبیل کمیٹی نے کبھی اُن کے نام پر غور نہیں کیا۔ اقبال کی شہرت کا سورج اس وقت نصف النہار پر تھا اور یہی وہ زمانہ تھا جب اقبال کو حکومتِ برطانیہ نے ٰسر ٰکا خطاب عطا کیا تھا، اگرچہ یہاں بھی ٹیگور انہیں مات دے گئے کیونکہ ٹیگور کو سر کا خطاب سات برس پہلے 1915 ہی میں مِل گیا تھا۔

ٹیگور مادری زبان کو مقدس سجھتے تھے۔ ایک بار جب وہ اسلامیہ کالج لاہور کے طالب علموں کی دعوت پر پنجاب آئے تو طالب علموں نے ان کے استقبال کےلیے اُن کا معروف بنگالی ترانہ گانا شروع کر دیا۔ ٹیگور نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے زیادہ خوشی ہوگی اگر آپ پنجاب کی کوئی سوغات پیش کریں۔ چنانچہ ٹیگور کی خدمت میں ہیر وارث شاہ کےچند بند، ہیر کی روائیتی طرز میں پیش کئے گئے۔ ٹیگور مسحور ہو کر رہ گئے اور محفل کےاختتام پر بولے میں زبان تو نہیں سمجھتا لیکن جتنی دیر ہیر پڑھی جاتی رہی میں مبہوت رہا اور مجھے یوں محسوس ہوتا رہا جیسے کوئی زخمی فرشتہ فریاد کر رہا ہو۔
ٹیگور کو اقبال سے بھی یہی شکوہ تھا کہ اس نے اپنی مادری زبان کےلئے کچھ نہیں کیا۔ بقول ٹیگور اگر اقبال نے فارسی اور اُردو کی بجائے پنجابی کو اپنا ذریعہء اظہار بنایا ہوتا تو آج پنجابی ایک پُرمایہ زبان ہوتی۔

اقبال کے سلسلے میں ٹیگور کا یہ بیان ایک نوبیل انعام یافتہ شاعر کا بیان بھی تھا ---- ایک ایسے شاعر کے بارے میں جو اس اعزاز سے محروم رہا۔

یہ بیان تھا ٰسر ٰکا خطاب ٹھکرا دینے والے ایک شخص کا، اُس شخص کے بارے میں جس نے انگریزوں کے عطا کردہ اس خطاب کو عمر بھر سینت سینت کے رکھا۔

علامہ اقبال کی شعری کائنات یقیناً ٹیگور کے شعری احاطے سے بہت بڑی تھی کیونکہ شعرِ اقبال کا ایک سرا اگر بطونِ ذات میں تھا تو دوسرا وسعتِ کائنات میں تھا لیکن ٹیگور کے مقابل نوبیل انعام سے محرومی یقیناً ان کے سینے کا ایک داغ بن گئی تھی جس کی کسک انہوں نے آخری دم تک محسوس کی ہوگی۔
آخری پیرے کی وضاحت کریں گےاقبال کی کسک اور مایوسی کی خبرآپکو کس نےدی
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (27-10-09), عارف اقبال (27-01-10)
پرانا 28-10-09, 08:07 PM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سام بھائی نے درست کہا۔ مجھے خؤد بھی اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔ ہو سکتا ہے کہ اقبال نے اپنئ زندگی میں اس غم کا اظہار کیا ہو (جس پر دل نہیں مانتا کہ وہ کسی اعزاز کے لیے تڑپتے ہوں گے)
مجھے اس ٹاپک کو پڑھ کر یہی سمجھ میں آیا ہے کہ اقبال اور ٹیگور ہم عصر شاعر تھے۔ ٹیگور کو نوبیل انعام مل گیا۔ جس کی وجہ سے اقبال کی مغرب دشمنی میں آضافہ ہوا۔ تاہم چونکہ انکو آخر وقت تک نوبیل انعام کے لئے نامزد نہ کیا گیا تو وہ اسکی کسک محسوس کرتے رہے۔ اگر مجھ سے اس پوسٹ کا خلاصہ کرنے میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو مجھے معاف کر دیجیے گا۔ میں دوبارہ نظر ثانی کرنے کو تیار ہوں گا ۔ تاہم اگر یہی خلاصہ ہے تو اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے مصنف کو چاہیے تھا کہ اقبال کی زندگی میں سے کوئی حوالے تو دیتا کہ جس میں انہوں نے یہ انعام ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہو۔ انہوں نے سر کا خطاب کی خؤاہش کی ہو۔یا وہ اپنے ویزیٹنگ کارڈز پر فخر سے سر اقبال لکھوایا کرتے ہوں یا اپنی کتابوں پر سر محمد اقبال کا لفظ کندہ کرواتے ہوں یا لوگوں سے توقع کرتے ہوں کہ ان کو سر اقبال کہا جائے۔ اگر اس قسم کے کوئی حؤالے بھی پیش کیے جاتے تو بات مستند بھی ہوتی۔ کہنے کو تو یہ بات بھی کہہ دی جاتی ہے کہ وہ شرابی تھے۔ کیوں بھئی؟ اس لیے کہ انکو نوبیل انعام نہیں ملا تھا۔ ہاہاہاہا۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (28-10-09), سام (28-10-09), عارف اقبال (27-01-10)
پرانا 27-01-10, 05:21 PM   #13
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اک ولولہ تازہ ديا ميں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند

علامہ اقبال کی پوری کوشش مسلمانوں کو اسلام سے آگاہ کرنا اور ان کو اتفاق اوریقین کی طرف لانا
تھا ۔اس نے کسی اعزاز کے لیے کام نہیں کیا۔
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِِِِِِِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا گیا
عدنان دانی (27-01-10)
پرانا 27-01-10, 07:38 PM   #14
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ یونس بھایی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہیر وارث شاہ, کالج, کتابوں, پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, نظر, موت, محمد اقبال, آج, اللہ, انعام, اسلام, بھائی, جواب, خوش, خدا, دل, رات, راستہ, زمانہ, عزت, غزل, صحرا, صدی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیالکوٹ: دو بھائیوں کی ہلاکت کیخلاف شہریوں کا احتجاج، ریسکیو دفتر پر حملہ گلاب خان خبریں 5 28-08-10 10:49 PM
بھارتی فوجیوں کو راشن سپلائی میں بدعنوانیوں کا انکشاف جاویداسد خبریں 0 04-08-10 07:13 PM
کراچی :میڈیا پرپابندیوں اورجیو کی بندش کیخلاف مظاہرے کرنیوالے صحافیوں پر وحشیانہ لاٹھی چارج،180گرفتار،رات گئے رہائی خرم شہزاد خرم خبریں 0 21-11-07 08:11 AM
سکھر:میڈیا پر پابندیوں کیخلاف صحافیوں کی چوتھے روز بھی علامتی بھوک ہڑتال خرم شہزاد خرم خبریں 0 20-11-07 09:08 AM
میڈیا پر پابندیوں کیخلاف صحافیوں کے احتجاجی مظاہرے پانچویں روز بھی جاری خرم شہزاد خرم خبریں 0 14-11-07 02:09 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger