واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعر مشرق علامہ اقبال



شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے


بانگ ِ درا [ علامہ اقبال ٰٰ]

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 20-08-10, 05:32 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post بانگ ِ درا [ علامہ اقبال ٰٰ]

بانگ ِ درا [ علامہ اقبال ٰٰ]

نیٹ پر بانگ ِدرا ( یونی کوڈ ) کی تلاش کرتے ہوئے اس کا مواد تو نہيں ملا مگر ایک ورڈ ڈاکومنٹ کی فائل ملی
جس کے متعلق میرا خیال ہے کہ اسے باقاعدہ مراسلوں کی صورت میں فورم پر شیئر ہونا چاہیے ۔ ۔
علام اقبال کے دیگر فین ز کے لیے اس کو مرحلہ وار مراسلوں کی صورت میں پیش کر رہا ہوں ۔
اس فہرست کے ہر نمبر کا مذکورہ اصل شاعری کے ساتھ ہائپر لنک بنا یا ہے ۔
جس کی وجہ سے آپ فہرست کو دیکھ کر اس پر کلک کر کے بھی براہ راست مراسلے تک پہنچ سکتے ہيں ۔

کتاب کے تین حصے ہیں ہر حصے کے آخر میں غزلیات کا ایک چھوٹا سا مجموعہ ہے ۔
سب سے آخر میں "ظریفانہ" کے نام سے طنزیہ شاعری بھی ہے ۔

تو سب سے پہلے فہرست

بانگ ِ درا [ علامہ اقبال ٰٰ]

حصہ اول ـــــــ 1905 تک

ہمالہ
گل رنگیں
عہد طفلی
مرزا غالب
ابر کوہسار
ایک مکڑا اور مکھی
ایک پہا ڑ اور گلہری
ایک گائے اور بکری
بچے کی د عا
ہمد ر د ی
ماں کا خواب
پر ندے کی فر یاد
خفتگان خاک سے استفسار
شمع و پروانہ
عقل و دل
صدائے درد
آفتاب
شمع
ایک آرزو
آفتاب صبح
درد عشق
گل پژمردہ
سیدکی لوح تربت
ماہ نو
انسان اور بزم قد رت
پیا م صبح
عشق اور موت
ز ہد اور رندی
شاعر
دل
مو ج دریا
رخصت اے بزم جہاں
طفل شیر خوار
تصویر درد
نا لۂ فراق
چاند
بلال
سر گزشت آدم
ترانۂ ہندی
جگنو
صبح کا ستارہ
ہندوستانی بچوں کا قومی گیت
لاہور و کراچی
نیا شوالا
داغ
ابر
ایک پرندہ اور جگنو
بچّہ اور شمع
کنار راوی
التجائے مسافر
ـــــــ غز لیات
--- گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
--- نہ آتے ، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
--- عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب
--- لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے
--- کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیونکر ہوا
--- انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہیں
--- ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
--- جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
--- ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
--- کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے
--- سختیاں کرتا ہوں دل پر ، غیر سے غافل ہوں میں
--- مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

حصہ دوم ـ 1905 سے 1908 تک
محبت
حقیقت حسن
سوامی رام تیر تھ
طلبۂ علی گڑھ کالج کے نام
اختر صبح
حسن و عشق
گود میں بلی دیکھ کر
کلی
چاند اور تارے
و صال
سلیمی
عا شق ہر جائی
کوشش نا تما م
نوائے غم
عشر ت امروز
انسان
جلوۂ حسن
ایک شام
تنہائی
پیام عشق
فراق
عبد القادر کے نام
صقلیہ
ـــــــ غز لیات
--- زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں
--- الہی عقل خجستہ پے کو ذرا سی دیوانگی سکھا دے
--- زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا
--- چمک تیری عیاں بجلی میں ، آتش میں ، شرارے میں
---یوں تو اے بزم جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے
--- مثال پرتو مے ، طوف جام کرتے ہیں
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا ، عام دیدار یار ہو گا

حصہ سوم ـ مارچ 1907ء سے 1908— —
بلاد اسلامیہ
ستارہ
دوستارے
گورستان شاہی
نمود صبح
تضمین بر شعر انیسی شاملو
پھول کا تحفہ عطا ہونے پر
ترانۂ ملی
وطنیت
ایک حاجی مدینے کے راستے میں
قطعہ
شکوہ
چاند
رات اور شاعر
بزم انجم
سیر فلک
نصیحت
رام
موٹر
انسان
خطاب بہ جوانان اسلام
غرۂ شوال
شمع اور شاعر
مسلم
حضور رسالت مآب میں
شفاخانۂ حجاز
جواب شکوہ
ساقی
تعلیم اور اس کے نتائج
قرب سلطان
شا عر
نو ید صبح
دعا
عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں
فاطمہ بنت عبداللہ
شبنم اور ستارے
محاصرۂ ادرنہ
غلام قادر رہیلہ
ایک مکالمہ
میں اورتو
تضمین بر شعر ابوطالب کلیم
شبلی وحالی
ارتقا
صدیق
تہذیب حاضر
والدہ مرحومہ کی یاد میں
شعاع آفتاب
عرفی
ایک خط کے جواب میں
نانک
کفر واسلام
بلال
مسلمان اور تعلیم جدید
پھولوں کی شہز ادی
تضمین بر شعر صائب
فردوس میں ایک مکالمہ
مذ ہب
جنگ یر موک کاایک واقعہ
مذ ہب
پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھ!
شب معراج
پھول
شیکسپیر
میں اورتو
اسیری
دریوزۂ خلافت
ہمایوں
خضرراہ

طلوع اسلام
ـــــــ غز لیات
---اے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
--- یہ سرود قمری و بلبل فریب گوش ہے
--- نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
--- پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائی کر
--- پھر باد بہار آئی ، اقبال غزل خواں ہو
---کبھی اے حقیقت منتظر نظر لباس مجاز میں
--- تہ دام بھی غزل آشنا رہے طائران چمن تو کیا
--- گرچہ تو زندانی اسباب ہے
ظر یفا نہ
مشرق میں اصول دین بن جاتے ہیں
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
شیخ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہیں
تعلیم مغربی ہے بہت جرأت آفریں
کچھ غم نہیں جو حضرت واعظ ہیں تنگ دست
تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ!
انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک
ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے
''اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے''
ہاتھوں سے اپنے دامن دنیا نکل گیا
وہ مس بولی ارادہ خودکشی کا جب کیا میں نے
ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدر
ہندوستاں میں جزو حکومت ہیں کونسلیں
ممبری امپیریل کونسل کی کچھ مشکل نہیں
دلیل مہر و وفا اس سے بڑھ کے کیا ہوگی
فرما رہے تھے شیخ طریق عمل پہ وعظ
دیکھے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک
رات مچھر نے کہہ دیا مجھ سے
یہ آیۂ نو ، جیل سے نازل ہوئی مجھ پر
جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست
محنت و سرمایہ دنیا میں صف آرا ہو گئے
شام کی سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم یزل
تکرار تھی مزارع و مالک میں ایک روز
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
کارخانے کا ہے مالک مردک ناکردہ کار
سنا ہے میں نے، کل یہ گفتگو تھی کارخانے میں
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔

Last edited by نورالدین; 01-09-10 at 11:41 AM. وجہ: ہر مراسلے / نظم کا لنک اس فہرست کے ساتھ بنایا ہے
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (02-09-10)
پرانا 20-08-10, 05:34 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post ہمالہ

اے ہمالہ! اے فصیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے
امتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے تو
پاسباں اپنا ہے تو ، دیوار ہندستاں ہے تو
مطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو
سوئے خلوت گاہِ دل دامن کش انساں ہے تو
برف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سر
خندہ زن ہے جو کلاہِ مہر عالم تاب پر
تیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہن
وادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن
چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن
تو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن
چشمۂ دامن ترا آ ئینۂ سیال ہے
دامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہے
ابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطے
تازیانہ دے دیا برق سر کہسار نے
اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی ، جسے
دست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے
ہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابر
فیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابر
جنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنی
جھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی کلی
یوں زبان برگ سے گویا ہے اس کی خامشی
دست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھی
کہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مرا
کنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مرا
آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کی شرماتی ہوئی
آئنہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئی
سنگ رہ سے گاہ بچتی ، گاہ ٹکراتی ہوئی
چھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کو
اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
لیلی شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسا
دامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کہسار پر
خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
اے ہمالہ! داستاں اس وقت کی کوئی سنا
مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
کچھ بتا اس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا
داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (02-09-10)
پرانا 20-08-10, 05:36 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post گل رنگیں

تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل نہیں
اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں
زیب محفل ہے ، شریک شورش محفل نہیں
یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں
اس چمن میں میں سراپا سوز و ساز آرزو
اور تیری زندگانی بے گداز آرزو
توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیں
یہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بیں نہیں
آہ! یہ دست جفاجو اے گل رنگیں نہیں
کس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ میں گلچیں نہیں
کام مجھ کو دیدۂ حکمت کے الجھیڑوں سے کیا
دیدۂ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ ترا
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
میری صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے
مطمئن ہے تو ، پریشاں مثل بو رہتا ہوں میں
زخمی شمشیر ذوق جستجو رہتا ہوں میں
یہ پریشانی مری سامان جمعیت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغ خانہ حکمت نہ ہو
ناتوانی ہی مری سرمایۂ قوت نہ ہو
رشک جام جم مرا آ یئنۂ حیرت نہ ہو
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے
توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (02-09-10)
پرانا 20-08-10, 05:39 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post عہد طفلی

تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے
وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے
حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے
درد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پر
آنکھ وقف دید تھی ، لب مائل گفتار تھا
دل نہ تھا میرا ، سراپا ذوق استفسار تھا
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (02-09-10)
پرانا 20-08-10, 05:43 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post مرزا غالب

فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پیکر ترا
زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے
بن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار
تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں
تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں
نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر
محو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پر
آہ! تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
گلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں
ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں
آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیں
گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائی دل سوزئ پروانہ ہے
اے جہان آباد ، اے گہوارۂ علم و ہنر
ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در
ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمں و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
دفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہے؟
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل (20-08-10)
پرانا 20-08-10, 05:47 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post ابر کوہسار

ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن میرا
کبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن میرا
شہر و ویرانہ مرا ، بحر مرا ، بن میرا
کسی وادی میں جو منظور ہو سونا مجھ کو
سبزۂ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو
مجھ کو قدرت نے سکھایا ہے درافشاں ہونا
ناقۂ شاہد رحمت کا حدی خواں ہونا
غم زدائے دل افسردۂ دہقاں ہونا
رونق بزم جوانان گلستاں ہونا
بن کے گیسو رخ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں
شانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہوں
دور سے دیدۂ امید کو ترساتا ہوں
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں
سیر کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں
بالیاں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں
سبزۂ مزرع نوخیز کی امید ہوں میں
زادۂ بحر ہوں پروردۂ خورشید ہوں میں
چشمۂ کوہ کو دی شورش قلزم میں نے
اور پرندوں کو کیا محو ترنم میں نے
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم میں نے
غنچۂ گل کو دیا ذوق تبسم میں نے
فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے
جھونپڑے دامن کہسار میں دہقانوں کے
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (20-08-10), مرزا عامر (21-08-10)
پرانا 21-08-10, 12:02 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post ایک مکڑا اور مکھی

ماخوذ - بچوں کے لیے

اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا
لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت
بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا
غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے
اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا
آؤ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میری
وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا
مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی
حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا
اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہے
جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا ، پھر نہیں اترا
مکڑے نے کہا واہ! فریبی مجھے سمجھے
تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو گا
منظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا
اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے
ٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں برا کیا!
اس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں
باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹیا
لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے
دیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے
ہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا
مکھی نے کہا خیر ، یہ سب ٹھیک ہے لیکن
میں آپ کے گھر آؤں ، یہ امید نہ رکھنا
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے
سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتا
مکڑے نے کہا دل میں سنی بات جو اس کی
پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا
سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں
دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی !
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا
آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا
یہ حسن ، یہ پوشاک ، یہ خوبی ، یہ صفائی
پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا
مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیجی
بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا
انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں
سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا
یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے
پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا
بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی
آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (26-08-10)
پرانا 21-08-10, 12:08 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post ایک پہا ڑ اور گلہری

(ماخوذ از ایمرسن)
(بچوں کے لیے)

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے
ذرا سی چیز ہے ، اس پر غرور ، کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کیا کہنا!
خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیں
جو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں
تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
زمیں ہے پست مری آن بان کے آگے
جو بات مجھ میں ہے ، تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں
بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں!
کہا یہ سن کے گلہری نے ، منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا
جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا
ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا ، کوئی چھوٹا ، یہ اس کی حکمت ہے
بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے
قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں
نری بڑائی ہے ، خوبی ہے اور کیا تجھ میں
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-08-10, 12:11 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post ایک گائے اور بکری

(ماخوذ )
بچوں کے لیے


اک چراگہ ہری بھری تھی کہیں
تھی سراپا بہار جس کی زمیں
کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں
ہر طرف صاف ندیاں تھیں رواں
تھے اناروں کے بے شمار درخت
اور پیپل کے سایہ دار درخت
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں
طائروں کی صدائیں آتی تھیں
کسی ندی کے پاس اک بکری
چرتے چرتے کہیں سے آ نکلی
جب ٹھہر کر ادھر ادھر دیکھا
پاس اک گائے کو کھڑے پایا
پہلے جھک کر اسے سلام کیا
پھر سلیقے سے یوں کلام کیا
کیوں بڑی بی! مزاج کیسے ہیں
گائے بولی کہ خیر اچھے ہیں
کٹ رہی ہے بری بھلی اپنی
ہے مصیبت میں زندگی اپنی
جان پر آ بنی ہے ، کیا کہیے
اپنی قسمت بری ہے ، کیا کہیے
دیکھتی ہوں خدا کی شان کو میں
رو رہی ہوں بروں کی جان کو میں
زور چلتا نہیں غریبوں کا
پیش آیا لکھا نصیبوں کا
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے
اس سے پالا پڑے ، خدا نہ کرے
دودھ کم دوں تو بڑبڑاتا ہے
ہوں جو دبلی تو بیچ کھاتا ہے
ہتھکنڈوں سے غلام کرتا ہے
کن فریبوں سے رام کرتا ہے
اس کے بچوں کو پالتی ہوں میں
دودھ سے جان ڈالتی ہوں میں
بدلے نیکی کے یہ برائی ہے
میرے اللہ! تری دہائی ہے
سن کے بکری یہ ماجرا سارا
بولی ، ایسا گلہ نہیں اچھا
بات سچی ہے بے مزا لگتی
میں کہوں گی مگر خدا لگتی
یہ چراگہ ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا
یہ ہری گھاس اور یہ سایا
ایسی خوشیاں ہمیں نصیب کہاں
یہ کہاں ، بے زباں غریب کہاں!
یہ مزے آدمی کے دم سے ہیں
لطف سارے اسی کے دم سے ہیں
اس کے دم سے ہے اپنی آبادی
قید ہم کو بھلی ، کہ آزادی!
سو طرح کا بنوں میں ہے کھٹکا
واں کی گزران سے بچائے خدا
ہم پہ احسان ہے بڑا اس کا
ہم کو زیبا نہیں گلا اس کا
قدر آرام کی اگر سمجھو
آدمی کا کبھی گلہ نہ کرو
گائے سن کر یہ بات شرمائی
آدمی کے گلے سے پچھتائی
دل میں پرکھا بھلا برا اس نے
اور کچھ سوچ کر کہا اس نے
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-08-10, 12:14 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post بچے کی د عا

(ما خو ذ)
بچوں کے لیے

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-08-10, 12:17 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post ہمد ر د ی

( ماخوذ از ولیم کو پر )
بچوں کے لیے

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے میں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
`ہیں جو کام دوسرں کے

نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-08-10, 12:24 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post ماں کا خواب

(ماخو ذ)
بچوں کے لیے


میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
دیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں
اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
دیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا
کہا میں نے پہچان کر ، میری جاں!
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں!
جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کی
جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے؟
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-08-10, 12:34 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post پر ندے کی فر یاد

بچو ں کے لیے

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا
لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دم
شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا
وہ پیاری پیاری صورت ، وہ کامنی سی مورت
آباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانا
آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میں
ہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں!
کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں
ساتھی تو ہیں وطن میں ، میں قید میں پڑا ہوں
آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیں
میں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں
اس قید کا الہی! دکھڑا کسے سناؤں
ڈر ہے یہیں قفسں میں میں غم سے مر نہ جاؤں
جب سے چمن چھٹا ہے ، یہ حال ہو گیا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے
گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے
دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے
آزاد مجھ کو کر دے ، او قید کرنے والے!
میں بے زباں ہوں قیدی ، تو چھوڑ کر دعا لے
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-08-10, 12:47 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post خفتگان خاک سے استفسار

مہر روشن چھپ گیا ، اٹھی نقاب روئے شام
شانۂ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گیسوئے شام
یہ سیہ پوشی کی تیاری کس کے غم میں ہے
محفل قدرت مگر خورشید کے ماتم میں ہے
کر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار پر
ساحر شب کی نظر ہے دیدۂ بیدار پر
غوطہ زن دریاۓ خاموشی میں ہے موج ہوا
ہاں ، مگر اک دور سے آتی ہے آواز درا
دل کہ ہے بے تابئ الفت میں دنیا سے نفور
کھنچ لایا ہے مجھے ہنگامۂ عالم سے دور
منظر حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں میں
ہم نشین خفتگان کنج تنہائی ہوں میں
تھم ذرا بے تابی دل! بیٹھ جانے دے مجھے
اور اس بستی پہ چار آ نسو گرانے دے مجھے
اے مے غفلت کے سر مستو ، کہاں رہتے ہو تم
کچھ کہو اس دیس کی آ خر ، جہاں رہتے ہو تم
وہ بھی حیرت خانۂ امروز و فردا ہے کوئی؟
اور پیکار عناصر کا تماشا ہے کوئی؟
آدمی واں بھی حصار غم میں ہے محصور کیا؟
اس ولا یت میں بھی ہے انساں کا دل مجبور کیا؟
واں بھی جل مرتا ہے سوز شمع پر پروانہ کیا؟
اس چمن میں بھی گل و بلبل کا ہے افسانہ کیا؟
یاں تو اک مصرع میں پہلو سے نکل جاتا ہے دل
شعر کی گر می سے کیا واں بھی پگل جاتاہے دل؟
رشتہ و پیوند یاں کے جان کا آزار ہیں
اس گلستاں میں بھی کیا ایسے نکیلے خار ہیں؟
اس جہاں میں اک معیشت اور سو افتاد ہے
روح کیا اس دیس میں اس فکر سے آزاد ہے؟
کیا وہاں بجلی بھی ہے ، دہقاں بھی ہے ، خرمن بھی ہے؟
قافلے والے بھی ہیں ، اندیشۂ رہزن بھی ہے؟
تنکے چنتے ہیں و ہاں بھی آ شیاں کے واسطے؟
خشت و گل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے؟
واں بھی انساں اپنی اصلیت سے بیگانے ہیں کیا؟
امتیاز ملت و آئیں کے دیوانے ہیں کیا؟
واں بھی کیا فریاد بلبل پر چمن روتا نہیں؟
اس جہاں کی طرح واں بھی درد دل ہوتا نہیں؟
باغ ہے فردوس یا اک منزل آرام ہے؟
یا رخ بے پردۂ حسن ازل کا نام ہے؟
کیا جہنم معصیت سوزی کی اک ترکیب ہے؟
آگ کے شعلوں میں پنہاں مقصد تاویب ہے؟
کیا عوض رفتار کے اس دیس میں پرواز ہے؟
موت کہتے ہیں جسے اہل زمیں ، کیا راز ہے ؟
اضطراب دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے
علم انساں اس ولایت میں بھی کیا محدود ہے؟
دید سے تسکین پاتا ہے دل مہجور بھی؟
'لن ترانی' کہہ رہے ہیں یا وہاں کے طور بھی؟
جستجو میں ہے وہاں بھی روح کو آرام کیا؟
واں بھی انساں ہے قتیل ذوق استفہام کیا؟
آہ! وہ کشور بھی تاریکی سے کیا معمور ہے؟
یا محبت کی تجلی سے سراپا نور ہے؟
تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں میں ہے
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں میں ہے
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-08-10, 01:27 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post شمع و پروانہ

پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پیار کیوں
یہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں
سیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے
آداب عشق تو نے سکھائے ہیں کیا اسے؟
کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا
پھونکا ہوا ہے کیا تری برق نگاہ کا؟
آزار موت میں اسے آرام جاں ہے کیا؟
شعلے میں تیرے زندگی جاوداں ہے کیا؟
غم خانۂ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہو
اس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہو
گرنا ترے حضور میں اس کی نماز ہے
ننھے سے دل میں لذت سوز و گداز ہے
کچھ اس میں جوش عاشق حسن قدیم ہے
چھوٹا سا طور تو یہ ذرا سا کلیم ہے
پروانہ ، اور ذوق تماشائے روشنی
کیڑا ذرا سا ، اور تمنائے روشنی!
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فورم, کالج, کراچی, یونی کوڈ, وفا, ورڈ, نظر, مکڑا, موت, مسجد, معذرت, معراج, بچوں, بانگِ درا, تلاش, تنکے, جیل, جام, حسن, خودکشی, دل, زندگی, زمانہ, شاعری, علی, علامہ اقبال, عشق, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger