| شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم
جیسا کے آپ سب کو پتہ ہیں کے کچھ دنوں کے بعد علامہ اقبال ڈے ہیں یہ دن ہر شال آتا ہے اور ہمیں خوابِ گراں سے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگانے کی کوشش کرتا ہے مگر ہم ہیں کہ لمبی تانے سو تانے سو رہے ہیں۔سال کا چکر کھانے کے بعد یہ دن انقلاب اور بیداری کی صدا لگاتا ہوا آتا ہے ہم میں سے کتنے ہیں جو گہر نیند کو جھٹک کر اس کی صدا پر کان دھرتے ہیں دوستوں میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اقبال کا نغمہ اتنا جاں گداز، اتنا پُر سوز اور اتنا انقلاب آفریں ہے کہ اس نے ایک وقت میں برصیغر کے مسلمانوں کے دلوں کو تسخیر کر لیاتھا اور ان میں بیداری کی لہر دوڑادی تھی اس کے زیرِ اثر مسلمانوں نے علیدہ وطن کی جدوجہد شروع کی اور آخر کار اسے حاصل کر لیا میں سب نوجوان دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اقبال کا پیغام عمومی طور پر مسلمانوں کے لیے اور حضوصی طور پر نوجوانوں کےلیے ہے وہ انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے تحریر علام اقبال صاحب کے حوالے سے ہو عنوان کی کوئی قید نہیں اور اس مقابلے کی آخری تاریخ 9 نومبر شام چھ بجے تک ہے ۔وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہو تارا اور دس تاریخ کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا انشااللہ پہلی پوزیشن پہ آنے والے ممبر کو انتظامیہ کی طرف سے ملیںگے 5000پوائنٹس دوسری پوزیشن پہ آنے والے ممبر کو انتظامیہ کی طرف سے ملیںگے 3000پوائنٹس تیسری پوزیشن پہ آنے والے ممبر کو انتظامیہ کی طرف سے ملیںگے 2000پوائنٹس نتائج اخذ کرنے کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ جس ممبر کی تحریر پہ سب سے زیادہ ممبرز نے شکریہ ادا کیا وہ اس مقابلے کا فاتح قرار پائے گا۔
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
مضمون کہاں پوسٹ کیے جائیں؟
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقبال کا تصورِ خودی پاک نیٹ پر مقابلے کا یہ اعلان مجھے آج سے دس سال پیچھے لے گیا ہے۔ یومِ والدین کی تقریب، سینکڑوں حاضرین، سٹیج پر بیٹھے ممتاز ماہرین تعلیم اور مہمانان خصوصی اور ڈائس پر اپنی پہلی تقریر کرتا ہوا ایک بچہ جو سامعین کو سمجھا رہا ہے کہ زندگی کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں کا نام ہے۔ اقبال کی فکر انگیز شاعری سے یہ میرا پہلا تعارف تھا جس کے پیچھے نانا جان رحمہ اللہ کی یہ خواہش کارفرما تھی کہ میں اقبال کےشعروں میں پنہاں انقلابی پیغام کو کما حقہ سمجھ جاؤں۔ میری اولین تقریر انہوں نے ہی مرتب کر کے مجھے دی تھی لیکن اس وقت اس تحریر کو لفظ بلفظ یاد کر لینے کے باوجود میں اس قابل نہ تھا کہ اس میں چھپے سربستہ رازوں کو مکمل طور پر سمجھ سکتا۔ البتہ یہ فائدہ ہوا کہ اقبال کے بارے میں ایک تجسس نے ذہن میں جگہ بنا لی جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب مڈل کے امتحان میں بہترین کارکردگی پر حکومت کی طرف سے انعام دیا گیا تو اپنی جیب میں اچھی خاصی رقم آ گئی، فورًا کتابوں کی دکان پر جا کر کلیات اقبال کی فرمائش کی تو دکاندار نے مذاق میں اڑا دیا۔ مجبورًا ماموں جان کو ساتھ لے کر جانا پڑا تب اسے یقین آیا کہ یہ بچہ واقعی کلیات اقبال ہی مانگ رہا ہے۔ اقبال کی شاعری میں مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ ان کا فلسفہ خودی ہے۔ عام طور پر خودی کو تکبر اور خود ستائشی کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن اقبال کے ہاں اس کا ایک دوسرا ہی مفہوم ہے جو خالصتًا ان کی اپنی سوچ کی پیداوار ہے۔ وہ خودی اور خودداری کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں۔ اور ان کے ہاں یہ جذبہ اس قدر ترقی پایا ہوا ہے کہ وہ زمین و آسمان پھونک ڈالنے اور نئے سرے سے اپنا جہاں آپ پیدا کرنے کی بات کرتے ہیں۔ جہانِ تگ و دو میں خودی کو وہ قیمتی متاع سمجھتے ہیں جو انسان کے سر پر دار کا تاج رکھتی ہے۔ اقبال کے ہاں خودی کا پہلا مفہوم اپنی ذات و صفات کا پاس و احساس کرنا ہے۔ اپنے آپ کو پہچاننے کی دعوت دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں: تو راز کن فکاں ہے، اپنی انکھوں پر عیاں ہو جا خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا دنیا میں انسان اللہ کی بہتر مخلوق ہے۔ دنیا کا سارا کارخانہ اس کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔ شمس و قمر، بحر و بر سب کو اللہ نے انسان کے لیے مسخر کر رکھا ہے لیکن بعض انسان اپنی ذات اور مقام کو نہ پہنچاننے کے سبب انہی مظاہر قدرت کے سامنے سرنگوں ہو جاتے ہیں اور انہی کی عبادت و پرستش شروع کر دیتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ اللہ کے آخری دین کو چھوڑ کر دوسرے فلسفوں اور ازموں میں پناہ تلاش کرتے ہیں ان سب کے لیے اقبال کا پیغام بہت واضح ہے: آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا دانہ تو ، کھیتی بھی تو ، باراں بھی تو ، حاصل بھی تو آہ ، کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے راہ تو ، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو ، منزل بھی تو کانپتا ہے دل ترا اندیشۂ طوفاں سے کیا ناخدا تو ، بحر تو ، کشتی بھی تو ، ساحل بھی تو دیکھ آ کر کوچۂ چاک گریباں میں کبھی قیس تو، لیلی بھی تو ، صحرا بھی تو، محمل بھی تو بے خبر! تو جوہر آئینۂ ایام ہے تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے ایک اور رنگ سے وہ سمجھاتے ہیں کہ اپنی حیثیت کو نہ پہنچاننے کے سبب انسان کیسی کیسی لغو باتوں پر یقین کرنے لگتا ہے۔ خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے کہ خاک زندہ ہے تو ، تابع ستارہ نہیں یہاں کیا ہی خوبصورت مضمون باندھا ہے کہ اے انسان تو اپنی قسمت ستارہ شناسوں سے پوچھ کر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتا ہے اگر تو اپنے مقام سے آشنا ہو جاتا تو تجھے معلوم ہوتا کہ تیرا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ بے جان ستارے تیری قسمت سنوارتے یا بگاڑتے رہیں۔ تجھے اللہ نے جیتا جاگتا انسان بنایا اور تو بے جان ستاروں پر بھروسہ کرنے لگا۔ اقبال کے کلام میں خودی کا دوسرا مفہوم غیرت مندی اور اپنی انا کو جراحت و شکست سے محفوظ رکھنا ہے چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی دینی پڑے۔ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے کی دعوت۔ اپنے بیٹے جاوید کے نام لکھی گئی نصیحت میں وہ یوں رقم طراز ہوتے ہیں: مرا طریق امیری نہیں فقیر ی ہے خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر اقبال کہتے ہیں کہ غربت یا امارت مال و دولت کی قلت و کثرت پر نہیں دل کی حالت پر موقوف ہے۔جس کے دل میں خودداری کا جذبہ ہے وہ امیر ہے اور جسے اپنی خودی کا پاس نہیں وہ غریب ہے چاہے ہفت اقلیم کے خزانے اس کے پاس ہوں۔ یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی کہ خودی عارفوں کا ہے مقام پادشاہی تری زندگی اسی سے ، تری آبرو اسی سے جو رہی خودی تو شاہی ، نہ رہی تو روسیاہی اس قول کی صداقت اچھی طرح عیاں ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جذبہ ناپید ہونے کے بعد ہمارے “شاہ” بھی “روسیاہ” بن کر بھیک مانگنے کے لیے ملک ملک کی خاک چھان رہے ہیں۔ خودی کا تیسرا مفہوم کائنات کو مسخر کر کے اس کی طاقتوں کو استعمال میں لانے کا ہے تا کہ اس کی بدولت دوسروں کا سہارا تلاش کرنے کی بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کی جائے۔ اس اقتباس کے زور بیان پر غور کیجیے: ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے پھونک ڈالے یہ زمین و آسمان مستعار اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے زندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکار تا یہ چنگاری فروغ جاوداں پیدا کرے اقبال کے تصور خودی کی بنیادی الحاد نہیں بلکہ اللہ پر کامل یقین ہے۔ اللہ پر ایمان اور اس پر توکل کی دولت ہے جو انسان کو مصائب اور مشکلات میں تھامے رکھتی ہے۔ اس کا حوصلہ بندھاتی ہے، اور ممولے کو شہباز سے لڑنے کا جذبہ دیتی ہے۔ اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | champion_pakistani (08-11-08), ابن جلال (08-11-08) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں اس مقابلے میں حصہ لینا چاھتی ھوں مضمون کم سے کم کتنا ھونا چاھیے اس کی کوئ شرط نہیں ھے اگر کوئ قوائد و ضوابط ھیں تو پلیز بتا دیں
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبداللہ حیدر بھائی واقعی دل کو چھو دینی والی تحریر لکھی ہے ۔ بہت خوب
|
|
|
|
| ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (09-11-08) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
تحریر 80-100 سے زیادہ سطور پر مبنی ہونی چاہیئے |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
لو بھائی چھے بج گئے ہیں۔ اب انعامات کا اعلان کر دیں۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابھی 6 نہیں بجے ابھی ھماری صبح ھوئ ھے ۔۔۔ ھمارے 6 بجے وقت ختم ھوگا
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ھمارا قطبی ستارہ ۔۔۔۔۔۔۔ اقبال
برصغیر کی سر زمین نے بہت سے ادوار دیکھے ھیں مغلوں کا سنہرا دور ۔۔۔۔۔۔۔ پورے برصغیر پہ مسلمانوں کی حکومت تھی ۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا مغل نا قابل شکست ھیں ان کی حکومت کو کبھی زوال نہیں آسکتا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلمان دنیا کی عش و عشرت میں کھونے لگے دنیاوی تعلیم پہ توجہ کم ھونے لگی رقص و سرور کی محفلیں زیادہ جمنے لگی ۔ پھر دیکھتے ھی دیکھتے انگریز پورے بر صغیر پہ چھانے لگے جو حاکم تھے وہ محکوم ھو گئے اپنا اقتدار جانے کا غم تھا دل میں صرف انگریزوں کی ھی نفرت نہیں تھی بلکہ انگریزی زبان سے بھی ۔۔۔ اس وجہ سے ان کی تعلیم سے بھی دور ھونے لگے۔یہ نفرت اس حد تک تھی اگر کوئ تھری پیس سوٹ پہنتا تھا تو لوگ اس کے مسلمان ھونے پہ شک کرنے لگتے تھے ۔۔ اس کے مقابلے پہ ھندؤوںنے بہت جلد انگریزی زبان کو بہت جلد اپنا لیا اس لیے اھم عہدوں پہ ھندو فائز ھونے لگے اور مسلمان مدرسوں تک محدود ھونے لگے اپنے خول میں سمٹنے لگے ۔ پھر کچھ لوگوں نے محسوس کیا کہ اگر اپنا کھویا ھوا وقار دوبارہ حاصل کرنا ھے تو ان لوگوں میں شامل ھوکر ان کی تعلیم حاصل کر کےان کے مقابلے پہ آکر ملے گا مسلمانوںکو جگانے ان کو ان کے خول سے نکالنے میں جن لوگوں نے اھم کردار ادا کیا ان میں علامہ اقبال کا نام سر فہرست ھے کچھ لوگ جگنو کی طرح ھوتے ھیں جو اندھیرے میں ایک کرن بنتے ھیں مگر جگنو کی کوئ منزل نہیں ھوتی ۔۔ اور کچھ لوگ قطبی ستارے کی طرح ھو تے ھیں جن کو دیکھ لوگ اپنی منزلوں کا تعین کرتے ھیں اگر اقبال کو ھم برصغیر کا قطبی ستارا کہیں تو بے جا نہیں ھوگا ۔ اقبال نے بے خواب آنکھوں کو خواب دیکھایاجو بعد میں پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پہ ابھرا اقبال کی شاعری کا مطالعہ کریں تو ھمیں اندازہ ھوتا ھے اقبال مسلمانوں کونہ صرف دنیا میں کامیاب دیکھنا چاھتے تھے بلکہ کردار میں بھی بہت بلند دیکھنا چاھتے تھے اقبال کا فلسفہ ء حیات ان کی شاعری میں نظر آتا ھے انھوں نے نہ صرف بر صغیر میں اپنا نام کمایا بلکہ یورپ میں بھی ایک مقام حاصل کیا جب اقبال جرمنی آئے تو یہاں کے لوگ ان کی سوچ ان کے افکار سے مثاتر ھوئے وہ جہاں رہائش پزیر رھے اس سڑک کو اقبال کے نام سے منسوب کر دیا گیا ۔ آج بھی ھائیڈل برگ میں اقبال روڈ موجود ھے ۔ یہ ایک بڑا اعجاز ھے ایک ایسے طالبعلم کے لیے جو ایک پس ماندہ علاقے سے آیا ھو جہاں کی عوام دنیا کی تعلیم سے ناطہ توڑ کر بیٹھی ھو جن کی دنیا اب کی ڈیڑھ مسجد تک محدود ھو کر رہ گئ ھو یہاں سے انھوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی انھیں سر کا خطاب بھی دیا گیا ان کے اسلام کے ساتھ تعلق کی وجہ سے علامہ کا خطاب بھی ملا دنیا میں ھر انسان اپنے لیے جیتا ھے اپنے لیے سوچتا ھے بہت کم لوگ ھوتے ھیں جو دوسروں کے لیے جیتے ھیں دوسروں کے لیے سوچتے ھیں ان کے لیے راتوں کو جاگتے ھیں اپنی زندگی دنیا کے لیے وقف کر دیتے ھیں ان کی طبیعت میں عاجزی تھی ایک بار عشرت رحمانی نے لکھا مسلمانان ھند کی موجودہ بیداری کا سہرا اپ کے سر ھے تو جواب میں فرمایا ، یہ امر کہ موجودہ بیداری کا سہرا میرے سر ھے یا ھونا چاھیے اس کے متعلق کیا عرض کروں مقصود تو بیدای سے تھا اگر بیداری ھندوستان کی تاریخ میں میرا نام تک بھی نہ آئے تو مجھے قطعاً اس کا ملال نہیں -،، انھوںنے اسلام کے بارے میں مسلمانوں کے بارے میں بہت لکھا بچوں کے ترانے بھی لکھے لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی شمع کی صورت ہو یا خدایا میری ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا میرے اللہ برائی سے بچانا مجھکو نیک جو راہ ہو اسی راہ پہ چلانا مجھکو یہ نظم بچوں میں بہت مقبول ھوئ جو آج بھی بچوں میں اسی طرح مقبول ھے مسلمانوں کے کردار کے بارے میں کیا سوچتے تھے ان اشعار سے اندازہ لگا سکتے ھیں ھر لحظہ ھے مومن کی نئ شان نئ آن گفتار میں کردار میں اللہ کی برھان قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت یہ چار عناصر ھوں تو بنتا ھے مسلمان مسلمانوں کو جگانا چاھتے تھے اسی سلام کو دیکھنا چاھتے تھے جو رسول کریم کے زمانے میں تھا یارب دِل مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے پھر وادیٔ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے جب بھی اردو شاعری کی بات ھوگی تو اقبال کا نام آئے گا اردو شاعری میں اقبال کے بعد کوئ اور اقبال سا رتبہ بھی تک کوئ حاصل کر سکا آخری وقت میں ان کے بھائ ان کو تسلی دینے لگے تو جواب میں فرمایا میں مسلمان ھوں موت سے نہیں ڈرتا بیماری میں عبداللہ چغتائ کو خط لکھا تاھم میں صابر شاکر ھوں انشاءاللہ جب موت آئے گی تو مجھے متبسم پائے گی اقبال کا ایک شعر ھے نشان مرد مومن باتو گویم چوں مرگ آید تبسم برلب اوست ترجمہ مرد مومن کی پہچان میں تمہیں بتاتا ھوں کہ جب اسے موت آتی ھے تو اس کے لبوں پہ مسکراہٹ ھوتی ھے ۔۔۔۔۔۔ !!!! علامہ اقبال پاکستان بننے سے پہلے وفات پا گئے تھے مگر انھیں یقین تھا کہ ان کا سپنا حقیقت میں ضرور بدلے گا ۔ پاکستان تو ھم نے حاصل کر لیا مگر کیا اقبال کا سپنا صحیح معنوں میں پورا ھوا ھے ؟؟ ھمیں آج بھی ایک اقبال کی ضروت ھے جو سوئ ھوئ قوم کو جگا دیں بے خواب آنکھوں کو روشن مستقبل کے خواب دیکھائیں ساتھ ان میں وہ لگن بھی پیدا کر دے کہ ساری قوم اپنے تن من دھن سے اس خواب کو پورا کرنے میں لگ جائے |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب حیا باجی
نتائج کا اعلان کرنا والا تو خود ہی غائب ہے ِِِِِِِِِِ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بھائیوں اور بہنوں پریشان نہیں ہونے کا ہم آگئے ناں
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
نتائج کا اعلان کدھر ہے بھائی!
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بھائی یہ رہے نتائج شکریہ
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کتابوں, پوسٹ, قید, لوگ, نیند, مکمل, مقابلہ, معلوم, آج, ایمان, اللہ, انتظامیہ, انسان, امتحان, بھائی, تلاش, تحریر, تحریری, تعلیم, خدا, ستارے, شام, شاعری, عبادت, صدا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|