واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعر مشرق علامہ اقبال



شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے


علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-11-08, 05:21 PM   #1
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,192
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

السلام علیکم
جیسا کے آپ سب کو پتہ ہیں کے کچھ دنوں کے بعد علامہ اقبال ڈے ہیں یہ دن ہر شال آتا ہے اور ہمیں خوابِ گراں سے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگانے کی کوشش کرتا ہے مگر ہم ہیں کہ لمبی تانے سو تانے سو رہے ہیں۔سال کا چکر کھانے کے بعد یہ دن انقلاب اور بیداری کی صدا لگاتا ہوا آتا ہے ہم میں سے کتنے ہیں جو گہر نیند کو جھٹک کر اس کی صدا پر کان دھرتے ہیں
دوستوں میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اقبال کا نغمہ اتنا جاں گداز، اتنا پُر سوز اور اتنا انقلاب آفریں ہے کہ اس نے ایک وقت میں برصیغر کے مسلمانوں کے دلوں کو تسخیر کر لیاتھا اور ان میں بیداری کی لہر دوڑادی تھی اس کے زیرِ اثر مسلمانوں نے علیدہ وطن کی جدوجہد شروع کی اور آخر کار اسے حاصل کر لیا میں سب نوجوان دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اقبال کا پیغام عمومی طور پر مسلمانوں کے لیے اور حضوصی طور پر نوجوانوں کےلیے ہے وہ انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہو تارا
تحریر علام اقبال صاحب کے حوالے سے ہو عنوان کی کوئی قید نہیں اور اس مقابلے کی آخری تاریخ 9 نومبر شام چھ بجے تک ہے ۔
اور دس تاریخ کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا انشااللہ
پہلی پوزیشن پہ آنے والے ممبر کو انتظامیہ کی طرف سے ملیں‌گے 5000پوائنٹس
دوسری پوزیشن پہ آنے والے ممبر کو انتظامیہ کی طرف سے ملیں‌گے 3000پوائنٹس
تیسری پوزیشن پہ آنے والے ممبر کو انتظامیہ کی طرف سے ملیں‌گے 2000پوائنٹس

نتائج اخذ کرنے کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ جس ممبر کی تحریر پہ سب سے زیادہ ممبرز نے شکریہ ادا کیا وہ اس مقابلے کا فاتح قرار پائے گا۔
__________________
----------
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
champion_pakistani (07-11-08), ابن جلال (07-11-08), حسن مغل (07-11-08), عبدالقدوس (07-11-08)
پرانا 07-11-08, 09:46 PM   #2
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

مضمون کہاں پوسٹ کیے جائیں؟
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-11-08, 02:33 AM   #3
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

اقبال کا تصورِ خودی
پاک نیٹ پر مقابلے کا یہ اعلان مجھے آج سے دس سال پیچھے لے گیا ہے۔ یومِ والدین کی تقریب، سینکڑوں حاضرین، سٹیج پر بیٹھے ممتاز ماہرین تعلیم اور مہمانان خصوصی اور ڈائس پر اپنی پہلی تقریر کرتا ہوا ایک بچہ جو سامعین کو سمجھا رہا ہے کہ زندگی کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں کا نام ہے۔
اقبال کی فکر انگیز شاعری سے یہ میرا پہلا تعارف تھا جس کے پیچھے نانا جان رحمہ اللہ کی یہ خواہش کارفرما تھی کہ میں اقبال کےشعروں میں پنہاں انقلابی پیغام کو کما حقہ سمجھ جاؤں۔ میری اولین تقریر انہوں نے ہی مرتب کر کے مجھے دی تھی لیکن اس وقت اس تحریر کو لفظ بلفظ یاد کر لینے کے باوجود میں اس قابل نہ تھا کہ اس میں چھپے سربستہ رازوں کو مکمل طور پر سمجھ سکتا۔ البتہ یہ فائدہ ہوا کہ اقبال کے بارے میں ایک تجسس نے ذہن میں جگہ بنا لی جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب مڈل کے امتحان میں بہترین کارکردگی پر حکومت کی طرف سے انعام دیا گیا تو اپنی جیب میں اچھی خاصی رقم آ گئی، فورًا کتابوں کی دکان پر جا کر کلیات اقبال کی فرمائش کی تو دکاندار نے مذاق میں اڑا دیا۔ مجبورًا ماموں جان کو ساتھ لے کر جانا پڑا تب اسے یقین آیا کہ یہ بچہ واقعی کلیات اقبال ہی مانگ رہا ہے۔
اقبال کی شاعری میں مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ ان کا فلسفہ خودی ہے۔ عام طور پر خودی کو تکبر اور خود ستائشی کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن اقبال کے ہاں اس کا ایک دوسرا ہی مفہوم ہے جو خالصتًا ان کی اپنی سوچ کی پیداوار ہے۔ وہ خودی اور خودداری کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں۔ اور ان کے ہاں یہ جذبہ اس قدر ترقی پایا ہوا ہے کہ وہ زمین و آسمان پھونک ڈالنے اور نئے سرے سے اپنا جہاں آپ پیدا کرنے کی بات کرتے ہیں۔ جہانِ تگ و دو میں خودی کو وہ قیمتی متاع سمجھتے ہیں جو انسان کے سر پر دار کا تاج رکھتی ہے۔
اقبال کے ہاں خودی کا پہلا مفہوم اپنی ذات و صفات کا پاس و احساس کرنا ہے۔ اپنے آپ کو پہچاننے کی دعوت دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
تو راز کن فکاں ہے، اپنی انکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا
دنیا میں انسان اللہ کی بہتر مخلوق ہے۔ دنیا کا سارا کارخانہ اس کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔ شمس و قمر، بحر و بر سب کو اللہ نے انسان کے لیے مسخر کر رکھا ہے لیکن بعض انسان اپنی ذات اور مقام کو نہ پہنچاننے کے سبب انہی مظاہر قدرت کے سامنے سرنگوں ہو جاتے ہیں اور انہی کی عبادت و پرستش شروع کر دیتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ اللہ کے آخری دین کو چھوڑ کر دوسرے فلسفوں اور ازموں میں پناہ تلاش کرتے ہیں ان سب کے لیے اقبال کا پیغام بہت واضح ہے:
آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ تو ، کھیتی بھی تو ، باراں بھی تو ، حاصل بھی تو
آہ ، کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تو ، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو ، منزل بھی تو
کانپتا ہے دل ترا اندیشۂ طوفاں سے کیا
ناخدا تو ، بحر تو ، کشتی بھی تو ، ساحل بھی تو
دیکھ آ کر کوچۂ چاک گریباں میں کبھی
قیس تو، لیلی بھی تو ، صحرا بھی تو، محمل بھی تو
بے خبر! تو جوہر آئینۂ ایام ہے
تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے
ایک اور رنگ سے وہ سمجھاتے ہیں کہ اپنی حیثیت کو نہ پہنچاننے کے سبب انسان کیسی کیسی لغو باتوں پر یقین کرنے لگتا ہے۔
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں
ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے
کہ خاک زندہ ہے تو ، تابع ستارہ نہیں
یہاں کیا ہی خوبصورت مضمون باندھا ہے کہ اے انسان تو اپنی قسمت ستارہ شناسوں سے پوچھ کر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتا ہے اگر تو اپنے مقام سے آشنا ہو جاتا تو تجھے معلوم ہوتا کہ تیرا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ بے جان ستارے تیری قسمت سنوارتے یا بگاڑتے رہیں۔ تجھے اللہ نے جیتا جاگتا انسان بنایا اور تو بے جان ستاروں پر بھروسہ کرنے لگا۔
اقبال کے کلام میں خودی کا دوسرا مفہوم غیرت مندی اور اپنی انا کو جراحت و شکست سے محفوظ رکھنا ہے چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی دینی پڑے۔ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے کی دعوت۔ اپنے بیٹے جاوید کے نام لکھی گئی نصیحت میں وہ یوں رقم طراز ہوتے ہیں:
مرا طریق امیری نہیں فقیر ی ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
اقبال کہتے ہیں کہ غربت یا امارت مال و دولت کی قلت و کثرت پر نہیں دل کی حالت پر موقوف ہے۔جس کے دل میں خودداری کا جذبہ ہے وہ امیر ہے اور جسے اپنی خودی کا پاس نہیں وہ غریب ہے چاہے ہفت اقلیم کے خزانے اس کے پاس ہوں۔
یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی
کہ خودی عارفوں کا ہے مقام پادشاہی
تری زندگی اسی سے ، تری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی ، نہ رہی تو روسیاہی
اس قول کی صداقت اچھی طرح عیاں ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جذبہ ناپید ہونے کے بعد ہمارے “شاہ” بھی “روسیاہ” بن کر بھیک مانگنے کے لیے ملک ملک کی خاک چھان رہے ہیں۔
خودی کا تیسرا مفہوم کائنات کو مسخر کر کے اس کی طاقتوں کو استعمال میں لانے کا ہے تا کہ اس کی بدولت دوسروں کا سہارا تلاش کرنے کی بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کی جائے۔ اس اقتباس کے زور بیان پر غور کیجیے:
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے
پھونک ڈالے یہ زمین و آسمان مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے
زندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکار
تا یہ چنگاری فروغ جاوداں پیدا کرے
اقبال کے تصور خودی کی بنیادی الحاد نہیں بلکہ اللہ پر کامل یقین ہے۔ اللہ پر ایمان اور اس پر توکل کی دولت ہے جو انسان کو مصائب اور مشکلات میں تھامے رکھتی ہے۔ اس کا حوصلہ بندھاتی ہے، اور ممولے کو شہباز سے لڑنے کا جذبہ دیتی ہے۔ اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
champion_pakistani (08-11-08), ابن جلال (08-11-08)
پرانا 08-11-08, 06:10 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

میں اس مقابلے میں حصہ لینا چاھتی ھوں مضمون کم سے کم کتنا ھونا چاھیے اس کی کوئ شرط نہیں ھے اگر کوئ قوائد و ضوابط ھیں تو پلیز بتا دیں
Haya 786 آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-11-08, 06:24 PM   #5
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

عبداللہ حیدر بھائی واقعی دل کو چھو دینی والی تحریر لکھی ہے ۔ بہت خوب
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 08-11-08, 06:27 PM   #6
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

اقتباس:
میں اس مقابلے میں حصہ لینا چاھتی ھوں مضمون کم سے کم کتنا ھونا چاھیے اس کی کوئ شرط نہیں ھے اگر کوئ قوائد و ضوابط ھیں تو پلیز بتا دیں
ویسے تو مجھے قواعد و ضوابط کا نہیں‌پتا لیکن میرے خیال سے
تحریر 80-100 سے زیادہ سطور پر مبنی ہونی چاہیئے
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-11-08, 03:47 PM   #7
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

لو بھائی چھے بج گئے ہیں۔ اب انعامات کا اعلان کر دیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-11-08, 04:19 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

ابھی 6 نہیں بجے ابھی ھماری صبح ھوئ ھے ۔۔۔ ھمارے 6 بجے وقت ختم ھوگا
Haya 786 آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-11-08, 06:09 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

ھمارا قطبی ستارہ ۔۔۔۔۔۔۔ اقبال

برصغیر کی سر زمین نے بہت سے ادوار دیکھے ھیں مغلوں کا سنہرا دور ۔۔۔۔۔۔۔ پورے برصغیر پہ مسلمانوں کی حکومت تھی ۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا مغل نا قابل شکست ھیں ان کی حکومت کو کبھی زوال نہیں آسکتا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلمان دنیا کی عش و عشرت میں کھونے لگے دنیاوی تعلیم پہ توجہ کم ھونے لگی رقص و سرور کی محفلیں
زیادہ جمنے لگی ۔ پھر دیکھتے ھی دیکھتے انگریز پورے بر صغیر پہ چھانے لگے جو حاکم تھے وہ محکوم ھو گئے
اپنا اقتدار جانے کا غم تھا دل میں صرف انگریزوں کی ھی نفرت نہیں تھی بلکہ انگریزی زبان سے بھی ۔۔۔ اس وجہ سے ان کی تعلیم سے بھی دور ھونے لگے۔یہ نفرت اس حد تک تھی اگر کوئ تھری پیس سوٹ پہنتا تھا تو لوگ اس کے مسلمان ھونے پہ شک کرنے لگتے تھے ۔۔ اس کے مقابلے پہ ھندؤوںنے بہت جلد انگریزی زبان کو بہت جلد اپنا لیا اس لیے اھم عہدوں پہ ھندو فائز ھونے لگے اور مسلمان مدرسوں تک محدود ھونے لگے اپنے خول میں سمٹنے لگے ۔ پھر کچھ لوگوں نے محسوس کیا کہ اگر اپنا کھویا ھوا وقار دوبارہ حاصل کرنا ھے تو ان لوگوں میں شامل ھوکر ان کی تعلیم حاصل کر کےان کے مقابلے پہ آکر ملے گا مسلمانوںکو جگانے ان کو ان کے خول سے نکالنے میں جن لوگوں نے اھم کردار ادا کیا ان میں علامہ اقبال کا نام سر فہرست ھے
کچھ لوگ جگنو کی طرح ھوتے ھیں جو اندھیرے میں ایک کرن بنتے ھیں مگر جگنو کی کوئ منزل نہیں ھوتی ۔۔ اور کچھ لوگ قطبی ستارے کی طرح ھو تے ھیں جن کو دیکھ لوگ اپنی منزلوں کا تعین کرتے ھیں اگر اقبال کو ھم برصغیر کا قطبی ستارا کہیں تو بے جا نہیں ھوگا ۔ اقبال نے بے خواب آنکھوں کو خواب دیکھایاجو بعد میں پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پہ ابھرا
اقبال کی شاعری کا مطالعہ کریں تو ھمیں اندازہ ھوتا ھے اقبال مسلمانوں کونہ صرف دنیا میں کامیاب دیکھنا چاھتے تھے بلکہ کردار میں بھی بہت بلند دیکھنا چاھتے تھے اقبال کا فلسفہ ء حیات ان کی شاعری میں نظر آتا ھے

انھوں نے نہ صرف بر صغیر میں اپنا نام کمایا بلکہ یورپ میں بھی ایک مقام حاصل کیا جب اقبال جرمنی آئے تو یہاں کے لوگ ان کی سوچ ان کے افکار سے مثاتر ھوئے وہ جہاں رہائش پزیر رھے اس سڑک کو اقبال کے نام سے منسوب کر دیا گیا ۔ آج بھی ھائیڈل برگ میں اقبال روڈ موجود ھے ۔ یہ ایک بڑا اعجاز ھے ایک ایسے طالبعلم کے لیے جو ایک پس ماندہ علاقے سے آیا ھو جہاں کی عوام دنیا کی تعلیم سے ناطہ توڑ کر بیٹھی ھو جن کی دنیا اب کی ڈیڑھ مسجد تک محدود ھو کر رہ گئ ھو یہاں سے انھوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی انھیں سر کا خطاب بھی دیا گیا
ان کے اسلام کے ساتھ تعلق کی وجہ سے علامہ کا خطاب بھی ملا دنیا میں ھر انسان اپنے لیے جیتا ھے اپنے لیے سوچتا ھے بہت کم لوگ ھوتے ھیں جو دوسروں کے لیے جیتے ھیں دوسروں کے لیے سوچتے ھیں ان کے لیے راتوں کو جاگتے ھیں اپنی زندگی دنیا کے لیے وقف کر دیتے ھیں
ان کی طبیعت میں عاجزی تھی ایک بار عشرت رحمانی نے لکھا مسلمانان ھند کی موجودہ بیداری کا سہرا اپ کے سر ھے تو جواب میں فرمایا ، یہ امر کہ موجودہ بیداری کا سہرا میرے سر ھے یا ھونا چاھیے اس کے متعلق کیا عرض کروں مقصود تو بیدای سے تھا اگر بیداری ھندوستان کی تاریخ میں میرا نام تک بھی نہ آئے تو مجھے قطعاً اس کا ملال نہیں -،،
انھوںنے اسلام کے بارے میں مسلمانوں کے بارے میں بہت لکھا بچوں کے ترانے بھی لکھے
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو یا خدایا میری
ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
میرے اللہ برائی سے بچانا مجھکو
نیک جو راہ ہو اسی راہ پہ چلانا مجھکو
یہ نظم بچوں میں بہت مقبول ھوئ جو آج بھی بچوں میں اسی طرح مقبول ھے

مسلمانوں کے کردار کے بارے میں کیا سوچتے تھے ان اشعار سے اندازہ لگا سکتے ھیں

ھر لحظہ ھے مومن کی نئ شان نئ آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برھان

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ھوں تو بنتا ھے مسلمان

مسلمانوں کو جگانا چاھتے تھے اسی سلام کو دیکھنا چاھتے تھے جو رسول کریم کے زمانے میں تھا

یارب دِل مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے
پھر وادیٔ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے
پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے
محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے
جب بھی اردو شاعری کی بات ھوگی تو اقبال کا نام آئے گا اردو شاعری میں اقبال کے بعد کوئ اور اقبال سا رتبہ بھی تک کوئ حاصل کر سکا
آخری وقت میں ان کے بھائ ان کو تسلی دینے لگے تو جواب میں فرمایا
میں مسلمان ھوں موت سے نہیں ڈرتا
بیماری میں عبداللہ چغتائ کو خط لکھا
تاھم میں صابر شاکر ھوں انشاءاللہ جب موت آئے گی تو مجھے متبسم پائے گی
اقبال کا ایک شعر ھے
نشان مرد مومن باتو گویم
چوں مرگ آید تبسم برلب اوست

ترجمہ مرد مومن کی پہچان میں تمہیں بتاتا ھوں کہ جب اسے موت آتی ھے تو اس کے لبوں پہ مسکراہٹ ھوتی ھے ۔۔۔۔۔۔ !!!!

علامہ اقبال پاکستان بننے سے پہلے وفات پا گئے تھے مگر انھیں یقین تھا کہ ان کا سپنا حقیقت میں ضرور بدلے گا ۔ پاکستان تو ھم نے حاصل کر لیا مگر کیا اقبال کا سپنا صحیح معنوں میں پورا ھوا ھے ؟؟
ھمیں آج بھی ایک اقبال کی ضروت ھے جو سوئ ھوئ قوم کو جگا دیں بے خواب آنکھوں کو روشن مستقبل کے خواب دیکھائیں ساتھ ان میں وہ لگن بھی پیدا کر دے کہ ساری قوم اپنے تن من دھن سے اس خواب کو پورا کرنے میں لگ جائے
Haya 786 آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
کوئٹہ وال (10-11-08), ابن جلال (09-11-08)
پرانا 09-11-08, 11:07 PM   #10
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

بہت خوب حیا باجی
نتائج کا اعلان کرنا والا تو خود ہی غائب ہے
ِِِِِِِِِِ
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا
کوئٹہ وال (10-11-08), محمدعدنان (10-11-08)
پرانا 10-11-08, 07:12 AM   #11
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,192
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

بھائیوں اور بہنوں پریشان نہیں ہونے کا ہم آگئے ناں
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-11-08, 11:01 PM   #12
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

نتائج کا اعلان کدھر ہے بھائی!
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-11-08, 04:34 PM   #13
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,192
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: علامہ اقبال ڈے (تحریری مقابلہ)

بھائی یہ رہے نتائج شکریہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کتابوں, پوسٹ, قید, لوگ, نیند, مکمل, مقابلہ, معلوم, آج, ایمان, اللہ, انتظامیہ, انسان, امتحان, بھائی, تلاش, تحریر, تحریری, تعلیم, خدا, ستارے, شام, شاعری, عبادت, صدا


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:56 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger