| شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2007
مقام: چاندنی چوک
عمر: 24
مراسلات: 1,857
کمائي: 19,111
شکریہ: 684
655 مراسلہ میں 1,175 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر مورخہ 9 نومبر ہے [/COLOR] اسی حوالے آپ نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی کوئی بھی اردو کی نظم/ یا شعر پوسٹ کرنا ہو گی جو آپ کر بہت زیادہ پسند ہے۔ اور یہاں دیکھنا ہے آپ کی پسند کسی کسی کو پسند آئی؟ سب ممبرز کو اپنی پسندیدگی کا اظہار آپکا شکریہ کے بٹن کو کلک کر کے کرنا ہے ۔جس ممبر کے شکریہ زیادہ ہونگے وہ ممبر جیتے گا۔ تو پھر دیکھتے ہیں کوں پہل کرتا ہے شکریہ والسلام Last edited by پاکستانی; 07-11-10 at 01:24 AM. |
|
|
| 6 قاری/قارئین نے champion_pakistani کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (14-11-08), وجدان (08-11-08), محمدعدنان (07-11-08), ابن جلال (08-11-08), بارش اور گلاب (08-11-08), ثانیہ (07-11-08) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
شاباش شہزادے
وسیم بھائی بہت زبردست کام کیا ہے آپ نے میری طرف سے بھی پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے کو 1000پوائنٹس دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے کو 500پوائنٹس تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے کو 250پوائنٹس
__________________
----------
![]() |
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,277
شکریہ: 5,802
6,280 مراسلہ میں 15,258 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یارب دِل مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے پھر وادیٔ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے بھٹکے ہوئے آہو کو، پھر سوئے حرم لے چل اس شہر کے خوگر کو، پھر وسعتِ صحرا دے پیدا دِل ویراں میں، پھر شورشِ محشر ک راس محملِ خالی کو، پھر شاھدِ لیلا دے اس دور کی ظلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو وہ داغ محبت دے، جو چاند کو شرما دے رفعت میں مقاصد کو ہمدوشِ ثریّا ک رخودداریٔ ساحل دے، آزادی دریا دے بے لوث محبت ہو، بیباک صداقت ہو سینوں میں اجالا کر، دل صورتِ مینا دے احساس عنایت کر آثارِ مصیبت کا امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء * رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ |
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | champion_pakistani (09-11-08), Real_Light (14-11-08), وجدان (08-11-08), محمدعدنان (07-11-08), ابن جلال (08-11-08) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت خوب ثوبیہ جی
بہت اچھی شاعری ہے |
|
|
|
|
#5 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: کسی کی یادوں میں
مراسلات: 80
کمائي: 1,407
شکریہ: 128
39 مراسلہ میں 90 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا سلسلہ شروع کیا گیا ہے پاک ڈاٹ نیٹ پہ میں ابھی کچھ شاعری پوسٹ کرتی ہوں۔
ویسے علامہ اقبال کی ساری شاعری ہی بہت زبردست ہے اور میرے خیال سے کسی ایک نظم کو بہترین قرار دینا بہت مشکل ہوگا --------- خیر |
|
|
| ثانیہ کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن جلال (08-11-08) |
|
|
#6 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: کسی کی یادوں میں
مراسلات: 80
کمائي: 1,407
شکریہ: 128
39 مراسلہ میں 90 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوزِد مبدم آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق شاخِ گل میں جس طرح بادِ سحر گا ہی کا نم اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاجِ ملوک اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جسم دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم؟ اے مسلماں! اپنے دل سے پوچھا، ملا سے نہ پوچھ ہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم؟ |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ثانیہ کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (14-11-08), ابن جلال (08-11-08) |
|
|
#7 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2007
مقام: چاندنی چوک
عمر: 24
مراسلات: 1,857
کمائي: 19,111
شکریہ: 684
655 مراسلہ میں 1,175 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں کوئی دم کا مہمان ہواے اہل محفل چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے champion_pakistani کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گَردوں تھا کہ تو جسکا ہے ٹوٹا ہوا تارا تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں کچل ڈالا تھا جس نے پاوںمیں تاج سرِدارا |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے وجدان کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (14-11-08), ابن جلال (08-11-08) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب بھی میں اقبال کی شاعری پڑھتی ھوں تو ایک عجیب سا احساس ھوتا ھے کیا سوچتے تھے وہ نا صرف دنیا میں ھی اعلیٰ مقام ھو بلکہ کردار میں بھی اپنی مثال آپ ھوں جب بھی میں یہ نظم پڑھتی ھوں تو سوچتی ھوں کیا ھم مومن ھیں یا صرف مسلمان یا صرف ایک مذھب کو ماننے والے جن کو مذھب ان کو وراثت میں ملا ھے جس کی حقیقی تعلیم کا بھی ھمیں علم نہیں ھم میں سے کتنے ھیں جنھوں نے قرآن سمجھ کے ترجمے سے پڑھا ھوا ھے
ھر لحظہ ھے مومن کی نئ شان نئ آن گفتار میں کردار میں اللہ کی برھان قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت یہ چار عناصر ھوں تو بنتا ھے مسلمان ھمسایہ جبریل امیں بندہ خاکی ھے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بد خشاں یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن قاری نظر آتا ھے حقیقت میں ھے قرآن قدرت کے مقاصد پہ عیاں اس کے ارادے دنیا میں بھی میزان قیامت میں بھی میزان جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ھو وہ شبنم دریاؤں کے دل جس سے دھل جائیںوہ طوفان فطرت کا سرود ازلی اس کے شب و روز آھنگ میں یکتا صفت سورہ رحمن بنتے ھیں مری کارگہ فکر میں انجم لے اپنے مقدر کے ستارے کو تو پہچان |
|
|
| Haya 786 کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (14-11-08) |
|
|
#10 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 53
کمائي: 609
شکریہ: 22
26 مراسلہ میں 61 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال قدم کا تھا دہشت سے اُٹھنا محال جو کچھ حوصلہ پاکے آگے بڑھی تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے دئیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں خدا جانے جانا تھا ا ن کو کہاں اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر مجھے اس جماعت میں آیا نظر وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا دیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا کہاں میں نے پہچان کر میری جاں مجھے چھوڑ کر آگئے تم کہاں جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی گئے چھوڑ اچھی وفا تم نے کی جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب رُلاتی ہے تجھ کو جدائی مری نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چُپ رہا دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اے ترے آنسوؤں نے بجھایا |
|
|
| بارش اور گلاب کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (14-11-08) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو یا خدایا میری ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا میرے اللہ برائی سے بچانا مجھکو نیک جو راہ ہو اسی راہ پہ چلانا مجھکو بس دعا کے یہ چنداشعار ہے اور مجھے انعام نہیںچاہے Last edited by wajee; 08-11-08 at 09:27 PM. |
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (14-11-08) |
![]() |
| Tags |
| color, پہچان, پوسٹ, پاک, پسند, وفا, موقع, مقابلہ, محمد اقبال, محبت, انتظامیہ, اردو, بھائی, تاج, جواب, دل, شہر, شام, شاعری, شعر, علامہ محمد اقبال, عشق, صبر, صحرا, صداقت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|