| شعبہ طب شعبہ طب |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
G D RET KAF
تو اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے آپ میرے متعلق شاید ہی کچھ جانتے ہو ں حالانکہ میں آپ کے جسم میں خلیوں کا سب سے اہم مجموعہ ہوں میں بغیر کسی پروگرام کے دن رات اپنا فرض انجام دیتا ہوں یہ اور بات ہے کہ آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ میری بنیادی ذمہ داری آپ کے جسم کے اندر توازن بر قرار رکھنا ہے میں بوقت ضرورت دماغ اور جسم کے مختلف حصوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ اب ان کے حرکت میں آنے اور اپنے مفید فرائض انجام دینے کی ضرورت ہے ۔ میری اس نگرانی اور اطلاع دینے کے عمل کی وجہ سے ہی آپ کو بھوک ، پیاس اور گرمی ، سردی کا احساس ہوتا ہے اور آپ غصہ یا خوف کی حالت میں رد عمل ظاہر کرنے پر قادر ہوتے ہیں کسی نہ کسی طرح تقریبا ہر اس فعل میں میرا عمل دخل ہے جو آپ انجام دیتے ہیں ۔ میں آپ کے دماغ کے دیگر حصوں کی طرح روشن نہیں ہوں کیوںکہ سوچنا میرے فرائض میں شامل نہیں ہے میری رائے میں آپ مجھے اپنے جسم کا مر کزی سوئچ بورڈ کہ سکتے ہیں جس کا تعلق آپ کے اعصابی نظام کے ایک بڑ ے حصے اور pituitary gland جسے حاکم غدود " بھی کہتے ہیں ، سے ہے میری ظاہری شکل و صورت بالکل متاثر کن نہیں ہے ۔ میرا مقام دماغ کے نیچے ، آپ کے کاسۂ سر کے تقریبا درمیان میں ہے میری رنگت ملی جلی گلابی اور سر مئی ہے اور میری جسامت اندازاً خشک خوبانی کے برابر ہے یا یو ں سمجھ لیں کہ میں آپ کے پورے بھیجے کا 1/300 ہوں ۔ لیکن اتنا مختصر ہونے کے باوجود مجھے جسم کے کسی بھی حصے کے مقابلہ میں سب سے زیادہ تازہ او ر صاف خون فرہم ہوتا ہے میرا حسی نظام بہت ترقی یافتہ ہے اور اعصابی نظام کے اندر میرے براہ راست اور بالواسطہ رابطے بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں ۔ جسمانی نظام میں میری موجودگی بہت قدیم ہے اور بہت سے فرائض جو میں آج آپ کے لئے انجام دیتا ہوں ۔لاکھوں برس قبل ارتقا ء کے اولین دور میں نمودار ہونے والے جانداروں کے لئے بھی انجام دے چکا ہوں ۔ مثلا میرا ایک فریضہ درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا ہے میری بدولت آپ سا ئیبیریا کے برفانی جہنم میں جہاں درجہ حرارت منفی 90 فارن ہائیٹ تک گر جاتا ہے آپ زندہ سلامت رہتے ہیں اور دوسری طرف لیبیا کے آگ برساتے صحرا میں جہاں درجہ حرارت 136 فارن ہائیٹ تک بلند ہوجاتاہے آپ کا جسم شدید گر می کو جھیل سکتا ہے ان دونوں انتہائی حالتوں میں میں آپ کے جسم کا اندرونی درجہ حرارت 98.6 فارن ہائیٹ کی معتدل حد پر بر قرار رکھتا ہوں ۔اس سے چند درجہ بھی اوپر یا نیچے ہونے کی صورت میں آپ اگلے جہاں کو سدھار سکتے ہیں ۔ اگر گرمی کے موسم میں کبھی آپ کا خون ایک درجہ کے دسویں حصہ تک بھی زیادہ گرم ہوجائے تو میں فی الفور حرکت میں آجاتا ہوں اور pituitary galnd اور اعصابی نظام کو پیغامات ارسال کرتا ہوں کہ جلد سے ملی ہوئی رگیں پھیلادی جائیں اور پسینہ کے لاکھوں غدودوں کے منہ کھول دئیے جائیں ۔ اس کے نتیجے میں آپ کو پسینہ آتا ہے جو بیرونی جلد کو ٹھنڈا کر کے بڑھے ہوئے درجہ حرارت کو کم کردیتا ہے اس عمل کے ساتھ ہی میں دماغ کو سنگل بھیجتا ہوں کہ آپ کے سانس لینے کی رفتار بڑھادی جائی۔ چنانچہ آپ ہانپنے لگتے ہیں اور اس طرح بھی درجہ حرارت کم ہونے میں مدد ملتی ہے ۔دوسری طرف سردی کے موسم میں اگر کسی وقت آپ کے خون کا درجہ حرارت ایک درجہ کے دسویں حصے تک بھی گر جائے تو adrenal gland اور pituitary gland کو یہ تحریک دیتا ہوں کہ وہ جگر سے زیادہ سے زیادہ شکر جسم میں خارج کرائیں ۔یہ شکر پٹھوں کے لئے ایندھن کا کام کرتی ہے پٹھے ہی آپ کے جسم کے وہ آتشدان ہیں جو جسمانی حرارت پیدا کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی میں آپ کے جسم کو کپکپانے اور تھر تھرانے لگتا ہوں تاکہ پٹھے تیزی سے متحرک ہو جائیں ۔ آپ کو سردی لگنے کی صورت میں میں ایک کام اور کرتا ہوں جس کی اب کوئی افادیت باقی نہیں رہی ہے یعنی آپ کے جسم کا رواں کھڑا ہوجاتا ہے یہ در اصل قدیم ترین دور کی یادگار ہے میں پٹھوں کو سکیڑ کر بال کھڑے کر دیتا ہوں اور اس طرح جلد کے راستے حرارت کا اخراج بڑ ی حد تک رک جاتا ہے ۔ اللہ محفوظ رکھے ۔ اگر آپ کو کبھی انفیکشن ہوجاتاہے تو بیکٹر یا میری حسوں کو اس طرح تبدیل کر دیتے ہیں کہ انہیں کام کرنے کے لئے زیادہ درجہ حرارت کی ضرورت پڑتی ہے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیئے سارا جسم درجہ حرارت بلند کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے جلد کی رگیں سکڑ جاتی ہیں اور جھر جھری آنے لگتی ہے ۔ ان کوششوں میں کامیابی بخار کی شکل میں سامنے آتی ہے اور میں ایک بار پھر پسینہ کے غدودوں کو تحریک دے کر بخار کو کنٹرول میں لے لیتا ہوں جب آپ کا جسم اپنے پیچیدہ دفاعی نظام کے ذریعے انفیکشن سے نجات حاصل کر لیتا ہے تو میری حسیں دوبارہ اپنے طبعی درجہ حرارت پر کام کرنے لگتی ہیں اور بخار اتر جاتا ہے ۔ میرا ایک اور اہم کام آپ کے جسم میں پانی کی مقدار کا توازن بر قرار رکھنا ہے در حقیقت ساخت کے اعتبار سے آپ خاکی سے زیادہ آبی ہیں ۔ ایک شیر خوار بچہ کی حیثیت سے آپ کا جسم 75 فیصد پانی تھا اور اب بالغ ہونے کے بعد بھی آپ لگ بھگ پچاس فیصد پانی کے بنے ہوئے ہیں ۔ ہر روز سانس، پسینہ اور پیشاب کے ذریعہ تقریبا چوتھا ئی گیلن پانی آپ کے جسم سے خارج ہوجاتا ہے پانی کے توازن کی اہمیت یہ ہے کہ اگر جسم کے پانی کا پانچواں حصہ بھی خارج ہوجائے تو موت واقع ہوجائے یہی وجہ ہے کہ پانی کی سطح گرتے ہی جسم کے اندر ہنگامی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے مجھے پانی کی اس کمی کی اطلاع خون میں نمک کی مقدار بڑھنے سے ملتی ہے ۔ میں فورا پچوپڑی گلینڈ کی مدد حاصل کر کے ایک ہار مون (DH ) جسم میں چھوڑتا ہوں اس ہارمون کی اضافی مقدار گردوں میں پانی زیادہ سے زیادہ جذب کراتی ہے پیشاب گاڑھا ہوجاتا ہے اور منہ کے اندر کام کرنے والے غدود تھوک کم مقدار میں بنانے لگتے ہیں ۔ ان تمام افعال کے ذریعے جسم پانی کی موجودہ مقدار کو محفوظ کر لیتا ہے اور نتیجتہ آپ پیاس محسوس کرنے لگتے ہیں ایک یا دو گلاس پانی پیتے ہیں اور توازن بحال ہوجاتا ہے ۔ اب فرض کریں کہ خون میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور ایسا عام طور پر ہوجاتا ہے جبکہ بیئر یا دیگر مشروبات بہت پئے جائیں تو میں پچوپڑی گلینڈ کو سنگل دیتا ہوں کہ وہ خون میں شامل کئے جانے والے ADH ہارمون کی مقدا ر کم کردے چنانچہ ا س ہارمون کی کمی کے باعث گردے پانی اتنا جذب نہیں کرتے جتنا جتنا عموما کرتے ہیں اور پیشاب زیادہ مقدار میں آنے لگتا ہے ۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ جب بھی آپ کو غذا کی ضرورت پڑتی ہے تو آپ کو فورا بھوک کے ذریعے اس ضرورت کا علم ہوجاتا ہے ایسا نہیں ہے ۔ در حقیقت بھوک کا احساس میں آپ تک پہنچاتا ہوں کھانا کھانے کے وقت تک آپ کے جسم کے ہر حصہ سے غذائی ضروریات کی اطلاعات کا ایک سیلاب میری طرف رواں دواں ہو جاتا ہے مجھے بتایاجاتا ہے کہ آپ کے خون میں شکر کی سطح گر رہی ہے جس کے نتیجے میں سارے جسم پر تھکن طاری ہورہی ہے اور پٹھے مضمحل ہو رہے ہیں میں ان تمام اطلاعات کا جائزہ لے کر متعلقہ غدود وں کو پیغام بھیجتا ہوں کہ ہاضمہ کے عروق اور لعابِ دہن کی پیداوار بڑھادی جائے ساتھ ہی معدے کے پٹھوں میں پیدا ہونے والی لہریں زیاد ہ طاقتور اور ذائقہ کے غدود زیادہ حساس ہوجاتے ہیں اور تب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ بھوک لگ رہی ہے ۔ میری ساخت میں شامل خلیوں کے دو گروپ یا مرکز ے خاص طور پر آپ کی بھوک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ان میں سے ایک اگر ناکارہ ہوجائے تو آپ معدے میں کھانا ٹھونستے ہی چلے جائیں اور احساس نہ ہو کہ کب بس کیا جائے اس کے بر عکس دوسرا گروپ متاثر ہوجائے تو بھوک تو دور کی بات ہے کھانے سے آپ کی رغبت یکسر ختم ہوجائے گی۔ میں آپ کے جنسی تقاضوں کے ابھرنے میں بھی مدد کرتا ہوں اس کے لئے میں پچو پڑی گلینڈ کو چھیڑتا ہوں کہ وہ gonads جنسی غدود کو تحریک دے اگر چہ جنسی خواہش کے بیدار ہونے میں میرے علاوہ آپ کے دماغ کے اور حصوں کا بھی دخل ہوتا ہے لیکن ہم میں سے کوئی بھی یہ فعل اکیلے یعنی ایک دوسرے کی مدد کے بغیر انجام نہیں دے سکتا۔ مثلا اگر میں کا م نہ کروں تو آپ کی طبعی جنسی خواہش مردہ ہوجائے گی کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو شدید غصہ آجاتا ہے ایسے موقع پر جیسے ہی کارٹیکس cortex یعنی دماغ کا سرمئی حصہ مجھے اس کی اطلاع دیتا ہے میں مصرف عمل ہوجاتا ہوں تاکہ آپ کو لڑائی جھگڑے یا موقع سے فرار کے لئے تیار کر سکوں ۔ میں سب سے پہلے پچو پڑی کو ہدایت کرتاہوں کہ وہ ایسے تمام ہارمون بڑی مقدار میں جسم میں چھوڑدے جو سارے بدن میں تعمیری عمل تیز کردیں دوسری طرف پٹھوں کو حرکت کے لئے اضافی خون فراہم کیا جاتا ہے اس مقصد کے لئے جلد کی رگیں سکڑ جاتی ہیں اور پٹھوں کی رگیں پھیل جاتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خون پٹھوں کو پہنچے اور ہاتھ پیر کھل جائیں سانس کی رفتار اور دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے تاکہ دل دھڑکن کے ساتھ عام مقدا ر سے زیادہ خون پمپ کر سکے اس کے برعکس معدے کی حرکات سست پڑجاتی ہے اور مثانہ لبریز ہوجانے کے باعث پیشاب کی حاجت محسوس ہونے لگتی ہے ۔ اس ضمن میں مزید تیاریاں یہ ہوتی ہیں کہ cranial عصبہ چہرے کے پٹھوں ، آنکھوں ، تالواور دل کو جسمانی دباؤ اور اعصابی تناؤ کا سامنا کر نے کے لئے تیار کرتا ہے ساتھ ہی پٹھوں میں کھنچاؤ بڑھ جاتا ہے جلد کا درجہ حرارت گر جاتا ہے اور لعاب دہن بنانے والے غدود بند ہوجاتے ہیں تاکہ رطوبت محفوظ رہے اس لئے غصہ میں آپ کا منہ اور زبان خشک ہوجاتے ہیں تاہم اتنی زبر دست تیاریوں کے باوجود جیسے ہی آپ پرسکون ہوتے ہیں یہ سارا عمل الٹا چل پڑتاہے اور چند لمحوں کے اندر آپ اپنی حالت میں واپس آجاتے ہیں ۔ قصہ مختصر یہ کہ آپ کے باہر کا ماحول خوا ہ کسی بھی طرح تبدیل ہوتا رہے میں جسم کے اندر کے ماحول کو ایک ہی طبعی کیفیت میں بر قرار رکھتاہوں خوش قسمتی سے میرے ساتھ کوئی گڑ بڑ شاذ و نادر ہی ہوتی ہے قدرت نے مجھے میرے مقام پہ کچھ اس طرح محفوظ کیا ہے کہ میرے مجروح ہونے کا احتمال بہت ہی کم ہے ۔ مجھے اگر کوئی پریشانی لاحق ہو سکتی ہے تو صرف اپنے آس پاس کی رسولی tumor کے پیدا ہونے یا دماغ کو خون کی سپلائی منقطع ہونے کی صورت میں ۔ آپ یقینا میرا نام جاننے کے لئے بے چین ہونگے تو چلو میں آپ سے اپنا تعارف کرائے دیتا ہوں میرا نام HYPOTHALAMUS ہے۔ ![]() کیا آپ میرے کام کا بوجھ ہلکا کر نے میں کوئی مدد کر نے کے خواہش مند ہیں؟ واقعہ یہ ہے کہ مجھے کسی مدد کی ضرورت نہیں پڑتی ۔میں نسل بعد نسل لاکھوں سال سے آپ کی خدمت انجام دیتا آرہا ہوں میں آپ کے جسم کے اندرونی ماحول کے بارے میں آپ سے کہیں زیادہ جانتاہوں اور مجھے امید نہیں کہ اتنی سائنسی ترقی کے باوجود آپ کبھی اتنا جان سکیں گے جتنا علم قدرت نے مجھے عطا کیاہے ۔ Last edited by shafresha; 29-03-11 at 09:22 AM. وجہ: تصویر کا اضافہ! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے M A Ansari کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 23-05-12 | حیدر Rehan | بہت اعلی و معلوماتی شئرنگ ہے | 99 |
| 29-03-11 | shafresha | ایک شاندار معلوماتی مضمون کی شئیرنگ پر! | 0 |
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2012
مقام: KSA
مراسلات: 32
کمائي: 447
شکریہ: 238
10 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی عمدہ تھریڈ ہے اور بہت کام کی معلومات ہیں
شئیرنگ کا شکریہ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
بہت اعلی و معلوماتی شئرنگ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ads, color, gland, فرض, کوششوں, کنٹرول, لمحوں, موقع, موت, موجودہ, مقابلہ, آج, تعارف, جلد, خون, خوش, رفتار, رات, طاقتور, غدود, غذا, غصہ, صورتحال, صاف, صحرا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تو ہے ہی اسی قابل | ارشد کمبوہ | قہقہے ہی قہقے | 0 | 24-02-11 12:36 AM |
| سی آئی اے کی فورس نے کاروائی کی تو پاک فوج جواب دے گی:اطہر عباس | جاویداسد | خبریں | 0 | 23-09-10 06:52 PM |
| اور تم اللہ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟ | طاھر | عمومی بحث | 0 | 05-07-08 10:19 PM |
| پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے | Zullu230 | شعر و شاعری | 0 | 22-01-08 07:49 AM |
| پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 0 | 25-07-07 03:48 PM |