| شعبہ طب شعبہ طب |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,275
شکریہ: 5,802
6,280 مراسلہ میں 15,258 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
موسم سرما شروع ہوتے ہی سردی کی وجہ سے لوگوں کا طرز زندگی بالکل بدل جاتاہے ۔ ۔ عام لوگ احتیاطی اور بچاﺅ تدابیر پر عمل پیراہونے کے باوجود بھی کچھ ایسی عام بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو صرف موسم سرما سے تعلق رکھتی ہیں ۔ سردی ، کھانسی ، زکام ، بخار ، پھیپھڑوں کی بیماری ، دائمی زکام (کرونک سائینوسائٹس) ، دمہ اور الرجی جیسے مسائل ہرگھر میں کسی نہ کسی فرد کو اپنی گرفت میں لے کر ، پورے گھر کےلئے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عام لوگ سردی سے پیدا ہونے والے عوارض اور علائم پوری طرح سمجھ لیں اور کبھی بھی جلد بازی میں ،بنا سوچے سمجھے ادویات کا استعمال نہ کریں ۔ ۔ زکام ،بخار یا کھانسی شروع ہوتے ہی مریض(خاص کر بچو ں کو )ڈھیر ساری ادویات کا استعمال کرواتے ہیں ،یہ جانے سوچے اورسمجھے بغیر کہ کس مرض کے لئے وہ ادویات دی جارہی ہیں اور آیا کہ وہ ادویات مریض کے لئے ضرر رساں ہیں یا نفع بخش ۔ حد تو یہ ہے کہ اکثر نامور معالجین بھی مریض کا مرض تشخیص دیئے بغیر اس کے علائم کے لئے آٹھ دس ادویات تجویز کرکے مریض کے لئے مصیبتوں کے پہاڑ کھڑا کرتے ہیں ۔ سردی اور زکام انگریزی میں کولڈ ، فارسی میں سرما ، اُردو میں سردی ،طبی اصطلاح میں بدن کا درجہ حرارت طبیعی حد سے نیچے گر جانے کو کہتے ہیں ۔ سردی سے نظام تنفس کے اعضاءکی اندرونی تہوں کا ورم اور التہاب شروع ہوتاہے اور فرد سردی لگنے سے عجیب سی بے قراری اور ضعف محسوس کرتاہے ۔ بدن پر کپکپی یا تھرتھراہٹ طاری ہوتی ہے اور اگر جلدی سے درجہ حرارت طبیعی حدتک نہ لایا جائے تو سردی کے عوارض شروع ہوجاتے ہیں ۔ سردی کی شدت سے زکام ، کھانسی یا سینے (پھیپھڑوں ) کی بیماریاں شروع ہوتی ہیں ۔ استھما(دمہ) کی پیچیدگیاں اور دیگر کچھ بیماریاں یا تو شروع ہوسکتی ہیں یا ان کی پیچیدگیاں ،مریض کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں....سردی کی وجہ سے جو بیماری عام طور وجود میں آتی ہے اسے ”کامن کولڈ“ یعنے زکام کہتے ہیں ۔ اس سے نظام تنفس کا کوئی بھی حصہ (ناک ،گلا ، حنجرہ ،سائینسز جزsinuses ،پھیپھڑے کی نالیاں) اچانک متورم ہوجاتاہے ۔ اگر یہ اچانک شروع ہوجائے تو اسے زکام حاد اور اگر طویل مدت تک جاری رہے تو دائمی زکام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ زکام جو اچانک سردی لگنے سے شروع ہو، فوری طور ایک شخص سے دوسرے میں سرایت کرجاتاہے ۔12سے 72گھٹنے میں مختلف علائم ظہور پذیر ہوتی ہیں ۔ اس میں جسم کی معونیت (IMMUNITY)کا کوئی دخل نہیں یعنی یہ صحت مند اور ضعیف دونوں کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ اگرچہ زکام سے مریض کسی خطرناک پیچیدگی میں مبتلا نہیں ہوتا ہے۔ علائم: زکام شروع ہوتے ہی ناک کی اندرونی تہوں میں ورم التہاب شروع ہونے سے ایک، دونوں نتھنے بند ہوجاتے ہیں ۔ سانس لینے میں دشواری کے علاوہ نتھنوں سے مسلسل پانی جیسا مواد بہنے لگتاہے ۔ مریض کو بار بار ناک صاف کرنا پڑتی ہے ۔ اسکے بعد چھینکوں کی یلغار اور آنکھوں سے آنسوﺅں کی جھڑی شروع ہوتی ہے ۔گلے میں درد کے علاوہ سارا بدن یخ بستہ سا محسوس ہونے لگتاہے ۔ اسکے بعد پورے جسم میں (خاص کر سر اور جوڑوں میں )درد جاگ اٹھتاہے اور مریض عجیب سی بے چینی محسوس کرنے لگتاہے ۔ بڑے مریضوں میں شاذ ونادر مگر بچوں میں اکثر بخار کی شکایت شروع ہوتی ہے ۔ اگر مریض کا درجہحرارت (بشرطیکہ تھرمامیٹر سے ناپا جائے )طبیعی حد سے زیادہ ہو تو وہ انفلونزا یاکسی اور انفکشن کا شکار ہوسکتاہے جس کے لئے کسی ماہر معالج سے مشورہ کرنا لازمی ہوتاہے ۔ بصورت دیگر زکام کے علائم دوسے دس دنوں کے اندراندر خودبخود رفع ہوجائیںگے۔ کشمیرمیں چونکہ مریض اس سے بے خبر ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ انتظار کرنے کے بجائے فوری طور مختلف ادویات کا استعمال شروع کرکے اپنے آپ پر ظلم ڈھاتے ہیں ۔ ہاں ایک بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے جومریض پہلے ہی کسی مزمن بیماری (ذیابیطس دل یا پھیپھڑے کی کسی بیماری)میں مبتلا ہووہ زکام کے شروع ہوتے ہی اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرے تاکہ آزمائشات کے ذریعے پتہ لگایا جائے کہ کہیں اسے انٹی بویاٹیک دوائیوں کی ضرورت تو نہیں ۔ وجوہات: بنی نوع انسان کو زکام جیسے بے قرار کرنے والی بیماری میں مبتلا کروانے کا سہرا کئی وائرسوں کے سر ہے۔ ان میں رائینووائرس ، کوکس ساکی وائرس اورکو رونا وائرس خاص طور قابل ذکر ہیں....یہ وائرس یا کوئی اور وائرس (جس سے زکام شروع ہو)کسی بھی دوائی سے مرتے نہیں اسلئے ان وائرسوں کو نابود کرنے کے لئے انٹی بویاٹیک ادویات کا استعمال محض دیوانگی ہے ۔ عام زکام کےلئے آج تک کوئی بھی دوائی ایجاد نہیں ہوئی ہے ۔ علاج: زکام کا علاج صرف اس سے ظاہر ہونے والی علامات کو قابو میں کرنا اور مریض کو سکون پہنچانا ہے ۔ ڈاکٹروں کا قول ہے ” زکام کا علاج کیا جائے تو صحت یاب ہونے میں سات دن لگیں گے اور اگر علاج نہ کیا جائے تو ایک ہفتہ لگے گا“۔ ٭مریض گرم جگہ آرام کرے ، پانی کی وافر مقدار استعمال کرے اور مقوی ترین غذا کھانا شروع کرے ۔ ٭بند ناک کے عذاب سے نجات پانے کےلئے ، ناک کے اندردونوں جانب اسپرے (افڈرین ھائیڈروکلورائیڈ یا فینائل ایفرین)کیا جاسکتا ہے۔ یا بازار میں دستیاب قطرے نتھنوں میں ڈالے جاسکتے ہیں ۔ بڑوں اور بچوں کےلئے الگ الگ قسم کے قطرہ بینی (Nasal Drops) دستیاب ہیں۔ قطرے استعمال کرنے سے پہلے طریقہ استعمال اچھی طرح سے پڑھ لیں اور سمجھ لیں....اگر قطرے دستیاب نہیں تو نمکین پانی استعمال کیا جاسکتاہے یا نمکین چائے میں ڈالنے والا سفید پوڈر (سوڈا بایکارب - ”فُل“) نیم گرم پانی کے ساتھ ملا کر نتھنوں میں ڈالا جاسکتاہے ۔ ٭ رات کو سونے سے پہلے ”سٹیم باتھ“ کرنے سے راحت محسوس ہوتی ہے ۔ ٭بستر میں جانے سے پہلے گرم اُبلتے ہوئے پانی کی بھاپ سانس کے ساتھ لینے سے ناک اور نظام تنفس کے بالائی حصوں کا ورم کم ہوجاتاہے اور بندناک کھل جاتی ہے ۔ صبح کے وقت تازگی کا احساس ہوتاہے ۔ ٭بدن ، عضلات ، سریا جوڑوں میں درد ہو یا بخار شروع ہو تو ضد درد (پاراسٹامول)کی گولیاں استعمال کی جاسکتی ہیں ۔اس کے علاوہ کوئی دوائی نہ لینا بہترہے ۔ کھانسی کا آغاز اور لمحہ بہ لمحہ تیز تر ہونے لگے تو کوڈین والی کھانسی کی شربتوں کی بجائے کوئی ”ایکسپکٹورنٹ (Expectorant) لینا دانشمندی ہے ۔ ٭انٹی ھسٹامینک دوائیاں ناک کی حساسیت (الرجی )کی شدت کم کرنے کے لئے دو چار دن تک استعمال کی جاسکتی ہیں ۔ ٭ اگر مریض (خاص کربچے)کوبخار ہو تو اسے مکمل آرام کی ضرورت ہے اور اسے پارا سٹامول شربت (دن میں تین دفعہ)پلانا ٹھیک رہتاہے ۔ ایسی کوئی شہادت موجود نہیں کہ وٹامن سی کی اضافی مقدار سے زکام کی شدت میں کوئی کمی واقع ہوجاتی ہے....زکام کے لئے آج تک کوئی حفاظتی ٹیکہ ایجاد نہیں ہواہے ۔ انٹی بویاٹیک ادویات کا استعمال کسی بھی صورت میں نہ جائز ہے اور نہ سودمند بلکہ ہر طرح سے نقصان دہ ہی ہے۔ ہاں اگر زکام کے دوران ”جراثیمی انفکشن“ شروع ہوتو Tests کے بعد ، کسی ماہر معالج کی نگرانی میں ان ادویات کا استعمال بہترہے ۔ زکام کے علائم کا فور ہونے کے بعد بھی وائرس ایک ہفتہ تک ناک کے اندرونی حصوں میں موجود رہتے ہیں اسلئے احتیاط ضروری ہے ۔ پرہیز :جہاں تک غذا کا تعلق ہے ۔ زکام میں مبتلا فرد ہرقسم کی غذا کھاسکتا ہے ۔ غذا مقوی مناسب اور موزون ہو۔ کوئی بھی میوہ اور سبزی مریض کو دی جاسکتی ہے ۔مریض کے غذا میں کاربوہائیڈریٹ ، پروٹین ، چربی ،وٹامن اور لازمی نمکیات کا شامل ہونا بے حد ضروری ہے ۔ نیم گرم مشروبات (پانی ، چائے ، کوفی)کی وافر مقدار مریض کے لئے لازمی ہے ۔ ہمارے ہاں بچوں کو زکام میں مبتلا ہونے کے بعد ، مکھن ، میوہ جات اور سبزیوں کے استعمال سے منع کیا جاتاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مریض کو مقوی تغذیہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ غرض یہ کہ زکام میں مبتلا فرد (خواہ وہ کسی بھی عمر سے تعلق رکھتاہو)قدر ت کی عطا کی ہوئی ہر خوردنی شئے سے لطف اُٹھا سکتاہے، شرط صرف یہ ہے کہ ہر غذا صاف ستھری اور ”حلال“ ہو۔ ہاں اگر کوئی مریض پہلے ہی سے کسی اور بیماری میں مبتلا ہو تو اسے اپنی غذا کا خیال رکھنا چاہئے ۔
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء * رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| وقت, مکمل, مسائل, آج, اللہ, انسان, بے, بچوں, بازی, جلد, خبر, ذیابیطس, رات, زندگی, شخص, عوارض, علامات, عجیب, عذاب, عضلات, غذا, صاف, صبح, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| امریکہ میں’موت کی ماسی‘ کا تجربہ | جاویداسد | خبریں | 1 | 15-12-10 07:57 PM |