واپس چلیں   پاکستان کی آواز > سائنس اور ٹیکنالوجی > عمومی سائنس > شعبہ طب



شعبہ طب شعبہ طب


شوگر: آگاہی ہی علاج ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 03-01-11, 02:38 PM   #1
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,275
شکریہ: 5,802
6,280 مراسلہ میں 15,258 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb شوگر: آگاہی ہی علاج ہے

شوگر: آگاہی ہی علاج ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

انگریزی زبان میں ڈیا بٹیز ملیٹس ، فارسی میں مرضِ قند، اُردو میں ذیابیطس کہتے ہیں۔
انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن(آئی ڈی ایف ) کے مطابق آج دنیا بھر میں 95ملین افراد کو ذیابیطس کا خطرہ لاحق ہے جبکہ موجودہ رجحانات کو مدنظر رکھ کر اندازہ لگایاگیا ہے کہ 2025ءتک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 330ملین تک پہنچ جائے گی ۔

ذیابیطس کے مریض کا ایک سانحہ یہ بھی ہے کہ ان کی پچاس فیصد تعداد اپنے مرض میں مبتلا ہونے سے باخبر ہے ۔

بعض ترقی پذیرممالک میں تو ذیابیطس کے شکار اسّی فیصد مریض اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ انہیں ذیابیطس کے مرض نے آگھیراہے ، شاید اسی وجہ سے کئی ترقی پذیر ممالک میں ذیابیطس سے متاثرہ افراد کی اموات کا چوتھا بڑا سبب بن چکاہے ۔

عالمی تنظیم صحت (WHO)کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا میں 3.5ملین لوگ ذیابیطس کے سبب موت کے منہ میں جارہے ہیں ۔ اگر اس تعداد کو سال بھر کے وقت پر تقسیم کیا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ہر منٹ میں چھ لوگ صرف ذیابیطس کے سبب موت کے شکار بن رہے ہیں ۔ محققین کا خیال ہے کہ آئندہ بیس برسوں میں اس بیماری کی شرح میں 59فیصداضافہ ہوگا ۔ اس کی وجہ صرف آبادی میں اضافہ نہیں بلکہ لوگوں کے طرزِ زندگی میں انقلابی تبدیلی ، دیہات کو خیرباد کہہ کر شہروں میں سکونت اختیار کرنا ، آرام پسند طرزِ زندگی اپنانا بھی شامل ہے۔ لوگوں میں نامساعد حالات کی وجہ سے عام لوگوں کانفسیاتی اور ذہنی دباﺅ میں مبتلا ہونا ، کھانے پینے کی عادات میں نمایاں تبدیلیوں کا وقوع پذیر ہونا اور سیدھی سادھی زندگی سے منہ موڑ کر ’الٹراماڈرن‘، ”مصنوعی زندگی“ کو گلے لگانا بھی اس بیماری کے اسباب میں شامل ہے ۔ کشمیری ”اچانک “ یا پھر ” دھیرے دھیرے “ بہرحال بدل رہے ہیں ۔ اب یہاں اکثر لوگ ”قدرت “ کو فراموش کرچکے ہیں ۔ قدرتی غذائیں کھانے کے بجائے فاسٹ فوڈاور جنک فوڈ کی طرف مائل ہوچکے ہیں ۔ صاف ستھرے پانی کی بجائے کوک کی بوتلوں سے پیاس بجھاتے ہیں ۔ اب لوگ اپنے تغذیہ کی طرف کم اور ”دکھاوے“ کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔ مادیت پرستی کی پیداہ شدہ مصروفیت کے سبب اب لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ مناسب وقت پر مناسب غذا حلق سے اُتاریں۔ عام لوگ (خاص کر بچے) تازہ پھلوں اور سبزیوں کی بجائے بازاری غذاﺅں کو ترجیح دیتے ہیں ۔سکولی بچوں کے پاس باقاعدہ ورزش کے لئے وقت ہی نہیں ۔ وہ زمانہ گیا جب بچے اپنے محلے میں گلی ڈنڈا، آنکھ مچولی ، اور دیگر کھیلوں سے لطف اندوز ہواکرتے تھے ۔ اب نئی نسل صرف ” ہوم ورک ، ٹی وی یا کمپیوٹر کی دنیا“میں گم ہوتی ہے جس سے ان کے جسم کا نظام درہم برہم ہوجاتاہے اور وہ”موٹاپے“ (Obesity) کے شکار ہوجاتے ہیں اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ موٹاپے کے سبب نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر ملکوں میں بھی ذیابیطس کے مریض کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہاہے ۔ بڑوں کے علاوہ بچوں میں بھی وزن میں اضافہ کی بیماری عام طور پر پھیل رہی ہے ۔ کشمیری ڈاکٹروں کو تشویش ہے کہ موٹاپے اور وزن میں اضافہ کے سبب یہاں لوگوں کو نہ صرف ذیابیطس کا عارضہ لاحق ہوسکتاہے بلکہ اوسط عمر بھی کم ہوسکتی ہے ۔ جب کسی انسان کے جسمانی وزن میں ایک کلو وزن کا ضرورت سے زیادہ اضافہ ہوتاہے تو اس کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات پانچ فیصد بڑھ جاتے ہیں ۔ وزن میں بے قاعدگی کے مسئلہ سے دوچار 70فیصد نوجوان مستقبل میں موٹاپے کی خطرناک بیماری کا شکار بن سکتے ہیں ۔ آئی ڈی ایف کا کہناہے کہ ذیابیطس کے بعض مریضوں کو ”جسمانی وزن پر قابو“ کے ذریعے سے روکا جاسکتاہے ۔ جسمانی ورزش کے ذریعہ ذیابیطس کے مرض کو ساٹھ فیصد تک کنٹرول کیا جاسکتاہے یعنی نوجوان نسل کو اپنا آرام پسند طرزِ زندگی بدل کر ایک فعال زندگی گزارنی ہوگی تاکہ وہ موٹاپا جیسی مہلک بیماری میں مبتلا نہ ہوں ۔

اکثر لوگوں کا باطل عقیدہ یہ ہے کہ یہ بیماری صرف چینی یا شکر اور ان سے بنی اشیاءخوردنی کا زیادہ استعمال کرنے والوں کو ہوتی ہے اور اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد اکثر مریض ڈر ، خوف اور وہم میں مبتلا ہوکر اپنے آپ کو اُن غذائی اجزا سے یکسر محروم کرتے ہیں جو اُن کی صحت مندی کے لئے لازم ہوتے ہیں ۔ وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ بیماری انہیں دل ، دماغ اور گردوں اور پیروں کی پیچیدگیوں میں مبتلا کرسکتی ہے ۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ اس بیماری کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہونے کے باوجود بھی عام لوگ خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

اس بیماری کا علاج خود مریض کے پاس ہے ۔ ذیابیطس کے مریض ”پرہیز “ خوب کرتے ہیں یعنی کھانا پینا ترک کرتے ہیں ۔بعض مریض شکر کی آدھی چمچی کھانے سے ڈرتے ہیں مگر سگریٹ نوشی سے برابر عشق فرماتے ہیں ۔ کسی سبزی یا پھل میں قدرتی مٹھاس ہو تو اسے اپنے لئے ”حرام “ قرار دیتے ہیں مگر ورزش کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے ہیں “۔

دورِ حاضر کے سائنس دانوں اور ماہر معالجین کی متفقہ رائے ہے کہ ذیابیطس کا صحیح علاج صرف یہ ہے کہ ہر مریض اپنی بیماری کے متعلق مفصل اور مکمل جانکاری حاصل کرے ....”جو جتنا زیادہ خبردار اُس کی عمر اتنی دراز“۔

ذیابیطس کی وجوہات :

[موروثیت : اگر آپ کے خاندان میں کوئی ذیابیطس کا مریض ہے تو ہوشیار رہئے ، خبر دار رہئے ۔آپ کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکان پچاس فیصد سے زیادہ ہیں۔

[موٹاپا: سب سے اہم یہی خطرناک بیماری ہے ۔اگر آپ کا جسم سیب کی مانند ہے ۔(پیٹ میں اضافی چربی ہے اور توند نکلی ہوئی ) تو ذیابیطس میں مبتلا ہوسکتے ہیں ۔

[ادویات: تھایازائڈ اور سیٹرائیڈ دوائیاں ذیابیطس ٹائٹ 2کو دعوت دے سکتی ہیں ۔

[وائرس : ٹائپ Iذیابیطس وائرسی حملے کے بعد شروع ہوسکتی ہے۔

تشخص ذیابیطس:

ذیابیطس کی نشانیاں

l لگاتار پیاس کی شدت۔

l پیشاب کا زیادہ اور بار بار آنا۔

l حدسے زیادہ تھکاوٹ کا احساس ۔

l کھجلی اور دیر تک جلد کی عفونت (انفکشن)۔

l زخموں کے بھر جانے میں ضرورت سے زیادہ وقت لگنا۔

l وزن کا کم ہونا۔

l ہاتھوں اور پیروں کا سُن ہوجانا۔

l پیروں کے زخم جن کے بھرنے میں حد سے زیادہ وقت لگے ۔

l یہ علائم یا نشانیاں کسی اور بیماری میں بھی ظاہر ہوسکتے ہیں۔ یہ پتہ لگانے کے لئے کہ یہ علائم ذیابیطس کی وجہ سے ہیں۔ پیشاب میں شکر کی موجودگی کاپتہ لگانا ضروری ہے۔

ذیابیطس کی تشخیص خون میں شکر کی سطح جانچنے سے ہوتی ہے ۔

اگر خالی پیٹ[ فاسٹنگ بلڈ شوگر] 126mg/dlسے زیادہ ۔

75گرام گلوکوز لینے کے دو گھنٹوں کے بعد 200 mg/dl سے زیادہ ہے توفرد ذیابیطس کا مریض ہوسکتاہے ۔

F.B.S....>126 mg/dl

(B.S.) P.P........>200 mg/dl

ذیابیطس کے مریض کیا کریں ؟

rاپنی بیماری کے متعلق پوری آگاہی حاصل کریں ۔

rباقاعدہ ورزش کریں ۔

rاپنے ذہن کو ہر قسم کی پریشانی سے آزاد رکھنے کی کوشش کریں ۔

rلفٹ کا استعمال کرنے کی بجائے سیڑھیاں چڑھیں ۔

r اپنے دوستوں کی تعداد میں اضافہ کریں ۔

r غذا میں چربی کی مقدار ’کم‘ کریں۔

r اپنا وزن اعتدال میں رکھیں ۔

r سگریٹ نوشی ،تمباکو نوشی او رشراب نوشی ترک کریں ۔

r اپنی غذا کی طرف خصوصی توجہ دیں ۔

r پرہیز کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ” کچھ بھی نہ کھائیں “۔

r ایک پاکیزہ ،منظم ومرتب طرزِ زندگی گزاریں ۔

آخرذیابیطس ہے کیا ؟

ذیابیطس ایک دیرینہ (مزمن )مٹابولک مرض ہے جس میں جسم اپنی توانائی کے لئے گلوکوز استعمال کرنے میں ناکام ہوجاتاہے۔

ذیابیطس کی دو اقسام ہیں :

ٹائپ ون: اس قسم کی بیماری میں جسم کے اندر لبلبے کے خلیوں سے انسولین کی پیداوار یا تو ہوتی ہی نہیں یا اس کی مقدار بہت قلیل ہوتی ہے۔ ایسے مریضوں کو انسولین کے انجکشن دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کی بیماری پر قابو پایا جاسکے۔

ٹائپ ٹو:اس قسم کی ذیابیطس میں جسم میں انسولین پیدا تو ہوتاہے مگر جسم اسے استعمال کرنے میں ناکام ہوتاہے ۔ اس قسم کی بیماری میں مبتلا ہونے والے افراد اکثر موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔ اس نوع کی بیماری کو پرہیز ، ورزش اور ادویات (ضد ذیابیطس)سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ بعض مریضوں میں کسی قسم کی انفکشن یا سرجری کے بعد انسولین کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے تاکہ ان کے خون میں شکر کی سطح قابو میں رہ سکے ۔

دوران حاملگی شروع ہونے والی ذیابیطس بیماری ” ذیابیطس حاملگی “ کہا جاتاہے ۔ اگر حاملہ عورت اس نوع کی ذیابیطس میں مبتلا ہوجائے تو اسے غذائی کنٹرول اور ادویات کے ذریعہ قابو کیا جاتاہے ۔
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء *
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-01-11, 04:58 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,206
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,163 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وعلیکم السلام

شیئرنگ کا شکریہ ڈاکٹر بقراط

اللہ تمہیں خوش رکھے۔ آمین

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
آپ کا شکریہ
__________________

Last edited by سیپ; 03-01-11 at 10:15 PM.
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
سیپ (03-01-11)
جواب

Tags
کمپیوٹر, پسند, وائرس, ورزش, لوگ, مکمل, موٹاپا, موت, موجودہ, آبادی, آج, اللہ, انسان, بچوں, ترک, جلد, خون, ذیابیطس, زندگی, زمانہ, سائنس, عورت, عشق, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:03 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger