| شعبہ طب شعبہ طب |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
انگریزی زبان میں ڈیا بٹیز ملیٹس ، فارسی میں مرضِ قند، اُردو میں ذیابیطس اور کشمیری میں شوگر بیما ۔ ذیابیطس ایک دیرینہ (مزمن ) مٹابولک مرض ہے جس میں جسم اپنی توانائی کے لئے گلوکوز استعمال کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے۔
ذیابیطس کی دو اقسام ہیں : ٹائپ ون: اس قسم کی بیماری میں جسم کے اندر لبلبے کے خلیوں سے انسولین کی پیداوار یا تو ہوتی ہی نہیں یا اس کی مقدار بہت قلیل ہوتی ہے۔ ایسے مریضوں کو انسولین کے انجکشن دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کی بیماری پر قابو پایا جا سکے۔ ٹائپ ٹو:اس قسم کی ذیابیطس میں جسم میں انسولین پیدا تو ہوتا ہے مگر جسم اسے استعمال کرنے میں ناکام ہوتا ہے ۔ اس قسم کی بیماری میں مبتلا ہونے والے افراد اکثر موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔ اس نوع کی بیماری کو پرہیز ، ورزش اور ادویات (ضد ذیابیطس) سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ بعض مریضوں میں کسی قسم کی انفکشن یا سرجری کے بعد انسولین کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے تاکہ ان کے خون میں شکر کی سطح قابو میں رہ سکے ۔ يہ وہ مرض ہے جو جنوبی ایشیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے یا بقول ایک دوست کے ، ڈاکٹر یہ بیماری ہمارے سماج میں اسی رفتار سے پھیل رہی ہے جس طرح یہاں کوئی افواہ پھیلتی ہے ۔ انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن (آئی ڈی ایف ) کے مطابق آج دنیا بھر میں 95 ملین افراد کو ذیابیطس کا خطرہ لاحق ہے جبکہ موجودہ رجحانات کو مدنظر رکھ کر اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2025ء تک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 330 ملین تک پہنچ جائے گی ۔ ذیابیطس کے مریض کا ایک سانحہ یہ بھی ہے کہ ان کی پچاس فیصد تعداد اپنے مرض میں مبتلا ہونے سے باخبر ہے ۔ بعض ترقی پذیرممالک میں تو ذیابیطس کے شکار اسّی فیصد مریض اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ انہیں ذیابیطس کے مرض نے آ گھیرا ہے ، شاید اسی وجہ سے کئی ترقی پذیر ممالک میں ذیابیطس سے متاثرہ افراد کی اموات کا چوتھا بڑا سبب بن چکا ہے ۔ عالمی تنظیم صحت (WHO)کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا میں 3.5ملین لوگ ذیابیطس کے سبب موت کے منہ میں جا رہے ہیں ۔ اگر اس تعداد کو سال بھر کے وقت پر تقسیم کیا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ہر منٹ میں چھ لوگ صرف ذیابیطس کے سبب موت کے شکار بن رہے ہیں ۔ محققین کا خیال ہے کہ آئندہ بیس برسوں میں اس بیماری کی شرح میں 59 فیصد اضافہ ہو گا ۔ اس کی وجہ صرف آبادی میں اضافہ نہیں بلکہ لوگوں کے طرزِ زندگی میں انقلابی تبدیلی ، دیہات کو خیرباد کہہ کر شہروں میں سکونت اختیار کرنا ، آرام پسند طرزِ زندگی اپنانا بھی شامل ہے ۔ کشمیریوں میں نامساعد حالات کی وجہ سے عام لوگوں کا نفسیاتی اور ذہنی دباﺅ میں مبتلا ہونا ، کھانے پینے کی عادات میں نمایاں تبدیلیوں کا وقوع پذیر ہونا اور سیدھی سادھی زندگی سے منہ موڑ کر ’الٹرا ماڈرن‘، ”مصنوعی زندگی“ کو گلے لگانا بھی اس بیماری کے اسباب میں شامل ہے ۔ لوگ ”اچانک “ یا پھر ” دھیرے دھیرے “ بہرحال بدل رہے ہیں ۔ اب یہاں اکثر لوگ ”قدرت “ کو فراموش کرچکے ہیں ۔ قدرتی غذائیں کھانے کے بجائے فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کی طرف مائل ہوچکے ہیں ۔ صاف ستھرے پانی کی بجائے کوک کی بوتلوں سے پیاس بجھاتے ہیں- اب لوگ اپنے تغذیہ کی طرف کم اور ”دکھاوے“ کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔ مادیت پرستی کی پیدا شدہ مصروفیت کے سبب اب لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ مناسب وقت پر مناسب غذا حلق سے اُتاریں۔ عام لوگ (خاص کر بچے) تازہ میوہ جات اور سبزیوں کی بجائے بازاری غذاﺅں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ سکولی بچوں کے پاس باقاعدہ ورزش کے لئے وقت ہی نہیں ۔ وہ زمانہ گیا جب بچے اپنے محلے میں گلی ڈنڈا، آنکھ مچولی اور دیگر کھیلوں سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے ۔ اب نئی نسل صرف ” ہوم ورک ، ٹی وی یا کمپیوٹر کی دنیا“میں گم ہوتی ہے جس سے ان کے جسم کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور وہ”موٹاپے“ (Obesity) کے شکار ہوجاتے ہیں اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ موٹاپے کے سبب نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر ملکوں میں بھی ذیابیطس کے مریض کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ۔ بڑوں کے علاوہ بچوں میں بھی وزن میں اضافہ کی بیماری عام طور پر پھیل رہی ہے ۔ ڈاکٹروں کو تشویش ہے کہ موٹاپے اور وزن میں اضافہ کے سبب یہاں لوگوں کو نہ صرف ذیابیطس کا عارضہ لاحق ہو سکتا ہے بلکہ اوسط عمر بھی کم ہوسکتی ہے ۔ جب کسی انسان کے جسمانی وزن میں ایک کلو وزن کا ضرورت سے زیادہ اضافہ ہوتاہے تو اس کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات پانچ فیصد بڑھ جاتے ہیں ۔ وزن میں بے قاعدگی کے مسئلہ سے دوچار 70فیصد نوجوان مستقبل میں موٹاپے کی خطرناک بیماری کا شکار بن سکتے ہیں ۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے بعض مریضوں کو ”جسمانی وزن پر قابو“ کے ذریعے سے روکا جا سکتا ہے ۔ جسمانی ورزش کے ذریعہ ذیابیطس کے مرض کو ساٹھ فیصد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے یعنی نوجوان نسل کو اپنا آرام پسند طرزِ زندگی بدل کر ایک فعال زندگی گزارنی ہوگی تاکہ وہ موٹاپا جیسی مہلک بیماری میں مبتلا نہ ہوں ۔ اکثر لوگوں کا باطل عقیدہ یہ ہے کہ یہ بیماری صرف کھانڈ یا کھانڈ سے بنی اشیاءخوردنی کا زیادہ استعمال کرنے والوں کو ہوتی ہے اور اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد اکثر مریض ڈر ، خوف اور وہم میں مبتلا ہوکر اپنے آپ کو اُن غذائی اجزا سے یکسر محروم کرتے ہیں جو اُن کی صحت مندی کے لئے لازم ہوتے ہیں ۔ وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ بیماری انہیں دل ، دماغ اور گردوں اور پیروں کی پیچیدگیوں میں مبتلا کرسکتی ہے ۔ --------------------------------------------------
__________________
ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے -
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عصمت کا شکریہ ادا کیا | bossrashid (02-06-11), skjatala (28-05-11), کنعان (07-06-11), wajee (07-06-11), ارشد کمبوہ (02-06-11), روشنی (28-05-11), عروج (07-06-11) |
| کمائي نے عصمت کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 02-06-11 | ارشد کمبوہ | بہترین شیئرنگ | 1 |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاء اللہ ،
اچھا اور معلوماتی فیچر ہے- |
|
|
|
| skjatala کا شکریہ ادا کیا گیا | bossrashid (02-06-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,206
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,163 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم
معلوماتی شیئرنگ کا شُکریہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | bossrashid (02-06-11), skjatala (28-05-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 389
کمائي: 6,365
شکریہ: 99
303 مراسلہ میں 791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نائس شیئرنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے روشنی کا شکریہ ادا کیا | bossrashid (02-06-11), skjatala (28-05-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آرام پسندی کی عادت اپناکرھم نے بہت سی بیماریوں کو خودآواز دی ھے۔ جبھی پہلے لوگوں میں بیماریاں کم مگر عمریں طویل تھیں۔ میرے دادا سسُرایک سو چھ برس کے ھو کر چلتے پھرتے وفات پا گئے۔جبکہ انکی مسز ایک سو تین برس کی ھو کر بنا خدمت کرائے اللہ کو پیاری ھوئیں۔ دونوں اپنی زمینوں پر کام مزارعین کے ساتھ کراتے رھے۔ اور دیسی گھی کھاتے ھی نہیں پی بھی لیا کرتے تھے مگر حرکت میں برکت کے مقولے پر عمل کرتے تھے۔اگرانہیں کام سے روکا جاتا تو خفا ھو جاتے۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔ |
|
|
|
| عروج کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (07-06-11) |
|
|
#8 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,720
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میرا خیال سے چینی کھانا/ نہ کھانا میں عقیدہ کا باطل ہونا شامل نہیں، ہو سکتا ھے میں غلط ہوں۔ لبلبہ پر ہمارے بائیولوجی کے لیکچرر خالد صاحب نے بتایا تھا کہ ایک نارمل انسانی جسم کے اندر شکر کی مقدار 5 سے 7 یا 9 تک کی ضرورت ہوتی ھے لبلہ اس کی کمی یا زیادتی کو پورا کرتا ھے اور اس کے اصل فگر تک اسے لے آتا ھے۔ مثلاً اگر 5 سے کم ہو گی تو لبلبہ دماغ کو آرڈر کرے گا جس سے کچھ بھی ہو جائے بندہ کا دل میٹھا کھانے کو مجبور ہو جائے گا۔ اور اسی طرح اگر مقدار زیادہ ہو جائے تو لبلبہ کو جو مقدار چاہئے اسے رہنے دے گا باقی خارج کر دے گا۔ (نوٹ:- بہت پرانی بات ھے فگر 9/7 صحیح سے یاد نہیں مگر بات سمجھنے کے لئے جو لکھا وہ کافی ھے۔) والسلام
__________________
|
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,202
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی معلومات ہے عصمت بھائی ۔
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
عقیدہ کا باطل مطلب فکر تشویش۔غلط سمجھ لینا
چینی کھانے سے شوگر نہیں ہوتی اگر چینی کھانے سے شوگر ہوتی تو سب کو چینی کی بیماری ہوتی حد تجاوز کرنا الگ بات ہے ******************************************** |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کنٹرول, کمپیوٹر, پسند, ورزش, لوگ, موٹاپا, موت, موجودہ, آبادی, آج, انگریزی زبان, انسان, بہترین, بچوں, خون, دوست, ذیابیطس, رفتار, زندگی, زمانہ, سال, علاج, غذائیں, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|