واپس چلیں   پاکستان کی آواز > سائنس اور ٹیکنالوجی > عمومی سائنس > شعبہ طب



شعبہ طب شعبہ طب


" فاسٹ فوڈ کلچر "

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-01-11, 11:14 PM   #1
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,275
شکریہ: 5,802
6,280 مراسلہ میں 15,258 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default " فاسٹ فوڈ کلچر "

" فاسٹ فوڈ کلچر "

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
" فاسٹ فوڈ کلچر "
اس کلچر کا مفہوم یہ ہے کہ " ابھی پکایا اور ابھی کھایا " ۔۔۔۔۔ اس کلچر کی وکالت وقتی بدلاؤ کی حد تک ہی کی جا سکتی ہے لیکن تیز رفتارزندگی میں جب اسے اپنی روزمّرہ کی غذا کا بدل سمجھ لیا جائے توسمجھئے کہ اب آپ کی صحت کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

آج کے فاسٹ فوڈ کلچر میں مختصر سے مینو میں سرفہرست سینڈوچ ، فرسان ، پیزا، برگر فرنچ فرائیز، پراٹھے بھاجی پاؤ، سافٹی ، آئس کریم ، مختلف طرح کے رول اور پف ، پیسڑی کیک، سافٹ ڈرنکس، چاکلیٹ ،ویفر، پاپکورن، اوراسٹارٹر آئٹمس جیسے مرغوب اور دلفریب نام شامل ہیں ۔ ان کا شکار بالغ افراد نہیں ہیں جتنا بچے ان پر ٹوٹے پڑتے ہیں ۔ اسی لئے گزشتہ پندرہ بیس برسوں کے دوران ( جب یہ کلچر پھلنے پھولنے لگا ) جوان ہونے والی نسل میں مختلف طرح کے صحت کے مسائل پیدا ہوچکے ہیں ۔

ان میں سب سے نمایا ں مسئلہ ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہے ۔ علاوہ ازیں موٹاپا ، ہائی بلڈ پریشر ، جوڑوں کا درد ، دل کے امراض ا طفال نیز ذیابطیس و قلب کے ماہرین نے اس پر بڑی فکر کا اظہار کیا ہے ۔ انھوں نے متفقہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ جو امراض پہلے ادھیڑی یا بڑی عمر میں ظاہر ہوتےتھے وہ اب نوجوانوں اور جوانوں میں بھی پیدا ہونے لگے ہیں ۔

ہم سب اس بات کو محسوس نہیں کر پاتے کہ اسکول جانے جانے والے ہمارے نھنے یا نھنیاں دن بھر میں کتنے چاکلیٹ ہڑپ کرلیتے ہیں ۔ پھر درمیان میں کچھ پیزا یا برگر وغیرہ کھا لیتے ہیں اورشام ہوتے ہی بجائے کھیل کود اور دیگر کثرتی اعمال میں مشغول ہونے کے وہ ٹی وی کے سامنے
بیٹھ جاتے ہیں ۔

بچے فاسٹ فوڈ کھائے جا رہے ہیں ۔ ۔ نتیجہ یہ ہوا آس پڑوس سے لیکر محّلے اور اسکولوں تک میں موٹےموٹےبچّے اور بچیاں ہی نطر آتی ہیں ۔ ان کی بھیڑ میں بہ مشکل ہی کوئی دبلا پتلا بچہ یا بچی دکھائی دیتی ہے ۔

ایک ماہر امراض غدود کا یہ کہنا ہے کہ آج ہر دس میں ایک بچّے کا وزن اس کی طبعی وزن سے زیادہ (overweight) ہوتا ہے اور ہر 15 میں سے ایک بچہ فربہ (obese) ہوتا ہے ۔

فاسٹ فوڈ میں عمومًا سوڈیم بھی زیادہ ہوتا ہے اور شحم ( چربی ) وحرارے( کیلوری ) بھی ۔ یہ تینوں ہی چیزیں زیادہ مقدار میں بچوں کے لئے زیادہ نقصان دہ ہیں ۔ یہ بھی بالکل عام مشاہدہ ہے کہ فاسٹ فوڈ کےاسٹالوں پر پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہوتا بلکہ خریدار کو ٹھنڈے مشروب ( کولڈ ڈرنکس) استعمال ہونے پر مجبور ہونا پڑتا ہے ۔ ان سب کو فروخت کے نئے نئے انداز اور لبھانے والے اشتہارات کے ذریعہ قابل قبول بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور نئی نسل بڑی آسانی کے ساتھ ان کا شکار بن جاتی ہے ۔ یہ سب مغربی تہذیب وتمدن کی اندھی تقلید میں ہورہا ہے ۔ اس نسل کی زبان و اخلاقیات نیز تہذیبی وسماجی شناخت سب تباہ ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی مشغولیات میں کثرتیں اور جسمانی حرکات کم سے کم ہوتی جارہی ہیں اور یہ ویڈیو گیم ، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن میں اپنا زیادہ زیادہ وقت برباد کرتی ہے ۔ سماجی روابط میں منقطع ہوتے جارہے ہیں اور یہ شدید قسم کی خود غرضی میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں ۔

یہ سب اسی لئے ہورہا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تیار اور غذائی طور پر نقصان دہ یا ناقص اشیاء کا استعمال کروا رہے ہیں ۔ ہمیں کھانے پینے کی چیزوں کو گھر میں تیار کرنے کا وقت نہیں ملتا نیز جدید سماج میں یہ اسٹیٹس سمبل کے خلاف بھی سمجھا جاتا ہے ۔ تازہ اور غذائیت سے بھر پور کھانوں کی جگہ اپنے بچوں کا کباڑ کھانے دے کران کے جسمانی وذہنی دشمن بن گئے ہیں ۔ ان بچوں کے چہروں سے وہ رونق غائب ہوگئی ہے جو بچپن اور معصومیت کی پیچان ہوتی ہے ۔ وہ تھکے تھکے سے لگتے ہیں ان کی نیند میں بھی تخفیف ہوگئی ہے ۔ ان میں مطالعہ کا قطعی شوق نہیں پا یا جاتا ، نہ ہی محنت اور لگن کا جذبہ دیکھائی دیتا ہے ۔ گزرے ہوئے دورمیں ہم سب اسکول یا درسگاہ تک پیدل یا سائیکل سے جایا کرتے تھے یہ عمل روزآنہ معمولی ورزش کا سبب بن جایا کرتا تھا ۔ نئی نسل کے بہت کم طلبہ ایسے پائے جاتے ہیں جو گاڑیوں کے بغیر اپنی تعلیم گاہ تک جاتے ہیں ۔ اس پر مزید نقصان یہ بھی ہوا اسکولوں کے پاس جو کھیل کے میدان یا کھلی جگہیں تھیں جن میں اسپورٹس کا اہتمام ہوتا تھا انھیں اداروں نے یا تو تعمیراتی مقاصد کے لئے یا پھر انھیں مسلسل کرایہ پر اٹھا رکھا ہے یا فروخت کر دیا ہے ۔

فاسٹ فوڈ کھانوں میں غذائی اجزاء کا تناسب جس قدر کم ہوتا ہے اس سے کئی گنا شکر ، نمک، تیل،اور چربی ہوا کرتی ہے ۔ بہت سے کباڑ کھانوں میں ریفائنڈ یعنی مصٰفی تیل استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ریفائنڈ تیل بجائے خود نقصان کا پیش قیمہ سمجھا گیا ہے ۔ کیونکہ صفائی ( ریفائنگ) کے دوران بہت سے اہم غذائی اجزا جیسے جست (zinc) مینگنیز(Manganese) اور کرومیم (chromium) وغیرہ ان سے چھٹ جاتے ہیں ۔ ان کی عدم موجودگی کے سبب ، موٹاپا، ذبابطیس ، اور دل کے امراض بڑی آسانی سے پنپنے لگتے ہیں ۔

ماہرین کی ایک ٹیم نے یہ تحقیق کی ہے کہ عام ہندوستانی طرز کے کھانوں میں دالیں اور سبزیاں زیادہ ہوا کرتی ہیں اور تیل کم ہوتا ہے ۔ اس میں PUFA6 نامی شورۃ شحم یا Fatty acid کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو دل اور نظام دوران خون کے لئے بے حد مفید ہے ۔ اسی طرح PUFA3 دوسرا شورۃ شحم ہے ۔ ان دونوں تیزابوں کا مفید تناسب 4:1 ہے یعنٰی PUFA6 کے چار حصوں کے مقابلوں میں PUFA3 ایک حصہ موجود رہنا چاہیئے ۔ مگر رفائنڈ تیلوں کی وجہ سے یہ تناسب بہت گھٹ گیا ہے اوراب PUFA6 کی مقدار 30 حصّے ہوتی ہے تو PUFA3 کی مقدار1 ہوتی ہے ۔ یہ بے حد خطرناک بات ہے۔ PUFA3بچوں کی نشونما کے لئے بہت ضروری ہے۔ دوران حمل ، آنکھوں کی صحت ، دماغ اور امراض سے دفاع کی قوت کی پیدائش کے لئے بچوں میں اعضائے تناسلیہ کی صحت مند نشونما کے لئے بے حد ضروری ہے PUFA 3 کی کمی سے کینسر، دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، ذیابطیس، بینائی کے مسائل، بعض جلدی امراض نیز بیماریوں کے خلاف قوت کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں ۔

اسکی کمی کو دور کرنے کے لئے مچھلی کا گوشت، مچھلی کا تیل، سرسوں کا تیل، ناریل کا تیل اور گائے کا گھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

۔
اس لئے ظاہر ہے کہ لڑائی کی پوری ذمہ داری کسی ایک جماعت یا تنظیم پر نہیں بلکہ صارف یعنٰی عام آدمی پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خود اس سے کتنا بچ پاتا ہے اور اپنے بچوں کو کتنا پچاتا ہے ۔
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء *
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا
مون (18-01-11), محمدعدنان (18-01-11), مرزا عامر (21-01-11), مسٹر شیف (21-01-11), شمشاد احمد (21-01-11)
پرانا 18-01-11, 11:15 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,191
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی شئیرنگ ہے
شکریہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
مون (18-01-11)
پرانا 18-01-11, 11:57 PM   #3
Senior Member
 
مون's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 1,671
کمائي: 14,885
شکریہ: 2,817
893 مراسلہ میں 1,674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت زبردست شیرنگ ہے ، شکریہ ۔
مون آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-01-11, 03:03 PM   #4
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,275
شکریہ: 5,802
6,280 مراسلہ میں 15,258 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
شکریہ
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-01-11, 12:29 AM   #5
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,991
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سیپ مراسلہ دیکھیں
یہ سب مغربی تہذیب وتمدن کی اندھی تقلید میں ہورہا ہے
مغرب میں عام طور پر فاسٹ فوڈ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس کے کھانے والے اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جویا تو کم تعلم یافتہ ہوتے ہیں یا ان کا تعلق ورکنگ کلاسز سے ہوتا ہے ۔

مغرب میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو health conscious ہیں۔ پینے کیلیے منرل واٹر، چینی کے کم استعمال اور کھانے کیلیے organic فوڈ کو ترجیع دیتے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کی اندھی تقلید کیوں نہیں کر سکتے۔
__________________
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (21-01-11), مرزا عامر (21-01-11)
پرانا 21-01-11, 02:29 AM   #6
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ہم ایسے لوگوں کی اندھی تقلید کیوں نہیں کر سکتے
کیوں کہ ہم تقلید کو ہی معیوب سمجھتے ہیں اور اندھی تقلید کا تو پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی کسی ا‌چھے اور تعمیر کام میں توبہ کرو میاں
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
quot, فروخت, کلچر, ورزش, نیند, موٹاپا, مسائل, مسائل،, آدمی, اللہ, انٹرنیٹ, بچپن, بچوں, تعلیم, خون, خلاف, شناخت, عائد, عدم, غائب, غدود, غذا, غذائیت, صارف, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" Hashims Search Engines 8 02-09-11 03:24 PM
پوسٹ میں یو ٹیوب کی "پلے لسٹ " ڈالنا نورالدین Ask Experts ماہرین کی رائے 3 22-11-10 06:25 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
(,") لاسٹ ٹائم آپ نے کیا خریدا ؟؟(",) بنت آدم فیشن اور بیوٹی ٹپس 7 28-04-10 12:40 AM
چین میں فلم"لا سٹ ان بیجنگ" کی نمائش پر پابندی عائد خرم شہزاد خرم فلمی دنیا 0 05-01-08 10:39 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:05 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger