| شعبہ طب شعبہ طب |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ملیریا کے پہلے عالمی دن کے موقع پر ملیریا سے اموات کم کرنے کی کوششوں پر زور دیا ہے۔
ہر سال ملیریا سے دس لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوتے ہیں اور ان میں سے نوّے فیصد ہلاکتیں افریقہ میں ہوتی ہیں۔ اس کےعلاوہ ہر تیس سیکنڈ میں ایک بچہ اس بیماری کا شکار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً پچاس کروڑ لوگ ملیریا کا شکار ہوتے ہیں۔ بان کی مون نے کہا کہ سن دو ہزار دس تک پورے افریقہ میں ملیریا سے بچاؤ کے لیے بنیادی سہولتیں میسر ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملیریا قابل علاج ہے اور اس سے بچاؤ کے طریقے بھی ممکن ہے۔ بان کی مون نے ملیریا سے بچاؤ کی کوششوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ میں سن دو ہزار دس تک تمام لوگوں بالخصوص عورتوں اور بچوں کے لیے گھروں میں سپرے اور مچھردانیوں کی فراہمی یقینی بنائے جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ملیریا پر قابو پانے کے لیے اس سے پہلے بھی کوششیں کی گئی ہیں جو زیادہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ انیس سو اٹھانوے میں ایک پروگرام شروع کیا گیا تھا جس کے تحت سن دو ہزار دس تک ملیریا سے اموات کا خاتمہ ہونا چاہیے تھا لیکن اس دوران ان میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ملیریا اور دوسری بیماریوں کو کنٹرول کرنا اقوام متحدہ کے ملینیم ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے جس کے مقاصد میں سن دو ہزار پندرہ تک غربت کا خاتمہ اور بہتر معیار زندگی شامل ہیں۔
__________________
----------
![]() |
|
|
|