واپس چلیں   پاکستان کی آواز > سائنس اور ٹیکنالوجی > عمومی سائنس > شعبہ طب



شعبہ طب شعبہ طب


پتے کی پتھری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-01-11, 04:05 PM   #1
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 11,419
کمائي: 1,071,510
شکریہ: 6,963
7,340 مراسلہ میں 17,744 بارشکریہ ادا کیا گیا
Exclamation پتے کی پتھری

پتے کی پتھری

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
پتے کی پتھری

پتے کے مریضوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ اس بارے میں اس وقت متوجہ ہوتے ہیں جب پتے میں پتھریوں کی وجہ سے درد ایک روگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جن لوگوں کو پتے میں پتھریاں ہوتی ہیں ان کو شروع میں اس بارے میں علم ہی نہیں ہوتا، کیونکہ یہ پتھریاں کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتیں۔ جب کوئی پتھر پتے سے چھوٹی آنت میں رک جاتا ہے تو سخت درد ہوتا ہے جو ایک گھنٹہ سے چھ سات گھنٹے تک چلتا ہے۔ اس وقت مریض متوجہ ہو کر معائنہ کراتا ہے تو علم ہوتا ہے کہ اس کا سبب پتے میں پتھریاں ہیں۔
پتے کی پتھری وجوہات:

پتے میں پتھریوں کا مرض مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ بیس سے ساٹھ سال تک کی عمر میں خواتین میں یہ مرض زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد کی عمر میں عورتوں کی تعداد مردوں کے برابر ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ عورتوں میں زنانہ ہارمون ایسٹروجن ہے جس کے باعث ان کے صفراءمیں کولیسٹرول بڑھ جاتا ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی گولیاں، موٹاپا اور زیادہ چکنائی والی اشیاءکا بکثرت استعمال اور ریشہ ( فائبر ) کی کمی بھی شامل ہے۔

پتہ جسے ( Gall Bladders ) کہتے ہیں۔ ناشپاتی کی شکل میں چھوٹی سی تھیلی ہے۔ جو جسم انسانی میں جگر کے پیچھے واقع ہے اسے جگر کا حصہ بھی کہا جاتا ہے۔ جس میں صفرا ( Bile ) بھرا رہتا ہے۔ صفرا کی فالتو مقدار پتے میں جمع رہتی ہے۔ صفرا ایک تیزابی مادہ ہے جسے جگر بناتا ہے۔ یہ ایک نالی کے ذریعے آنتوں پر گرتا ہے اور چکنائیوں ( روغنی مادوں ) کو توڑ کر چھوٹے چھوٹے ننھے ذروں میں بدل کر ہاضم بناتا ہے۔ اس کے علاوہ چکنائی کی دو تہیں جو معدہ میں پروٹین پر چڑھ جاتی ہیں انہیں ہٹا دیتا ہے اور نظام ہضم کو تقویت بخشتا ہے۔ اگر صفرا کم خارج ہو اور غذا میں چکنائی زیادہ ہو تو وہ ہضم نہیں ہوتی۔ کیونکہ چکنائی ( روغنی مادے ) ٹوٹ کر باریک نہیں ہوتی۔ غیر ہضم شدہ اجزاءآنتوں میں جراثیم پیدا کر کے بدہضمی کا سبب بنتے ہیں۔ ان حالات میں صفرا کے تیزابی مادے زیادہ ہو جاتے ہیں تو کولیسٹرول و کیلشیم زیادہ ہو کر ان کے ذرات پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جو سرسوں کے دانے سے لے کر گاف کے گیند جتنے ہوتے ہیں۔

پتے کی پتھریاں عموما زیادہ تر کولیسٹرول سے ہی بنتی ہیں۔ یہ پتھر پتے کے اندر ہوتے ہیں یا ان نالیوں میں جو پتے اور جگر کو چھوٹی آنتوں سے ملاتی ہیں۔ اگر پتھریاں چھوٹی ہوں تو ایکسرے میں نہیں آتیں البتہ الٹرا ساؤنڈ میں پتہ چل جاتا ہے۔ یہ مقدار ایک سے لے کر پچاس تک بھی ہو سکتی ہے۔ چھوٹی پتھری نقصان نہیں دیتی مگر جب یہ مقدار اور حجم میں بڑھ جائیں تو تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔ جن میں پتہ کا ورم شامل ہے جب یہ بڑھ جائے تو شدید درد بھی ہو جاتا ہے۔ اگر جگر کے مقام پر درد ہو اور ساتھ بخار بھی ہو جائے تو دیکھا گیا ہے کہ یہ عموماً پتہ کا درد کہلاتا ہے جو قے اور متلی کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ درد پتہ میں پتھری پر دلالت کرتا ہے جو کہ ریت کے ذروں کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے اور بڑی بھی۔ کبھی کبھی پتھری پتے کے منہ میں پھنس جانے سے ورم کی وجہ سے درد ہوتا ہے۔
احتیاطی تدابیر:

پتے کی پتھریاں ادویہ سے خارج نہیں ہوتیں کیونکہ پتے کی نالی بہت باریک ہوتی ہے۔ اس میں لچک بھی ہوتی ہے۔ درد کی شدت میں پودینہ، الائچی خورد، سبز چائے کا قہوہ بنا کر بغیر چینی ملائے دو دو چمچے تھوڑے تھوڑے سے وقفے سے پلائیں اس سے ریاح خارج ہو کر درد ختم ہو جاتا ہے۔ معدہ اور آنتوں کے تناؤ میں کمی آ جائے گی۔ درد کے مقام پر مالش ہر گز نہ کریں۔ اس سے درد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پتھریاں نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اس لیے اگر تکلیف بڑھ جائے یعنی درد ہو تو پھر عمل جراحی کروا لینا مناسب ہے۔ پتہ نکوالنے سے انسانی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ البتہ طرز زندگی متاثر ہو سکتا ہے۔

پتے کی پتھریوں سے محفوظ رہنے کے لیے چکنائیوں کا استعمال کم کیا جائے۔ غذائی ریشہ سالم اناج پھلوں اور سبزیوں کی صورت زیادہ استعمال کریں۔ پروٹین ( گوشت ) روزانہ ڈیڑھ دو چھٹانک سے زیادہ نہ لیں۔ وزن کو کنٹرول رکھیں۔ ہلکی پھلکی ورزش کو معمول بنائیں۔ کولیسٹرول والی غذائیں کم کھائیں۔ اس طرح بلڈ پریشر کے بڑھنے اور امراض قلب سے بھی محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کا غذا میں اضافہ کریں۔ ڈبل روٹی، آلو اور چاول سے پرہیز رکھا جائے۔ کھانے کے درمیان پانچ چھ گھنٹے سے زیادہ وقفہ نہ رکھیں۔ حیاتین بھی کولیسٹرول کو کم کرنے میں معاون ہے۔ دودھ، مکھن، کیلا اور انڈے کا استعمال کم رکھیں۔ سبزیاں اور پھل زیادہ مفید ہیں۔ ذہنی سکون کا بھی خیال رکھیں۔ اپنے طور پر ٹوٹکے وغیرہ نہ کریں۔ اور عمل جراحی کی صورت میں کسی ماہر مستند سرجن سے رجوع کریں۔
__________________
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ


مرے چارہ گر کو نوید ہو صفِ دُشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چُکا دیا

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا


سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-01-11, 04:10 PM   #2
Banned
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 26
مراسلات: 10,810
کمائي: 307,314
شکریہ: 1,712
7,028 مراسلہ میں 16,082 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

شیئرنگ کا شکریہ ثوبی
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-01-11, 05:32 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 42
مراسلات: 3,749
کمائي: 45,335
شکریہ: 11,681
2,307 مراسلہ میں 5,354 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میری سہیلی کو بھی یہ مسئلہ درپیش ھے۔مَیں اسے ان باتوں سےاستفادہ کرنے کا بتاؤں گی مگر شکریہ تمہارا کہ فوائد بہم پہنچانے کی وجہ تم بنی۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہے۔, کنٹرول, وقت, ورزش, لوگ, موٹاپا, منصوبہ, اللہ, بدل, جانے, جائیں, جائے, حصہ, خواتین, دیکھا, ذہنی, زندگی, سال, شکل, شروع, طور, عورتوں, علم, غذا, غذائیں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اگر آپ اپنا نام رکھتے تو کوں سا رکھتے پیاسا گپ شپ 52 03-11-12 11:58 AM
کیا آپ جو کچھ دیکھتے ہیں اسپر یقین کرتے ہیں یا پھر جو یقین رکھتے ہیں اسی کی طرح دیکھتے ہیں؟ ناصحی عمومی سائنس 112 13-05-12 06:57 PM
پتھر کے دور کا ڈراوا شمشاد احمد عمومی بحث 1 01-11-11 05:13 PM
سنسناتے ہوئے پتھر نے مجھے چونکایا خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 05-01-08 01:06 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:14 PM

cpanel hosting 

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2014,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger