| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فراغت دے اسے کار جہاں سے
فراغت دے اسے کار جہاں سے کہ چھوٹے ہر نفس کے امتحاں سے ہوا پیری سے شیطاں کہنہ اندیش گناہ تازہ تر لائے کہاں سے! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دگرگوں عالم شام و سحر کر
دگرگوں عالم شام و سحر کر جہان خشک و تر زیر و زبر کر رہے تیری خدائی داغ سے پاک مرے بے ذوق سجدوں سے حذر کر |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
غریبی میں ہوں محسود امیری
غریبی میں ہوں محسود امیری کہ غیرت مند ہے میری فقیری حذر اس فقر و درویشی سے، جس نے مسلماں کو سکھا دی سر بزیری |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خرد کی تنگ دامانی سے فریاد
خرد کی تنگ دامانی سے فریاد تجلی کی فراوانی سے فریاد گوارا ہے اسے نظارۂ غیر نگہ کی نا مسلمانی سے فریاد |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#20 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہا اقبال نے شیخ حرم سے
کہا اقبال نے شیخ حرم سے تہ محراب مسجد سو گیا کون ندا مسجد کی دیواروں سے آئی فرنگی بت کدے میں کھو گیا کون؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد
کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد کہ ہے مرد مسلماں کا لہو سرد بتوں کو میری لادینی مبارک کہ ہے آج آتش اللہ ھو، سرد |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#22 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حدیث بندۂ مومن دل آویز
حدیث بندۂ مومن دل آویز جگر پر خوں، نفس روشن، نگہ تیز میسر ہو کسے دیدار اس کا کہ ہے وہ رونق محفل کم آمیز |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#23 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تمیز خار و گل سے آشکارا
تمیز خار و گل سے آشکارا نسیم صبح کی روشن ضمیری حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹے میں ہو خوئے حریری |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا | فرحان صدیقی (30-06-08), شمائلہ (28-06-08) |
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نہ کر ذکر فراق و آشنائی
نہ کر ذکر فراق و آشنائی کہ اصل زندگی ہے خود نمائی نہ دریا کا زیاں ہے، نے گہر کا دل دریا سے گوہر کی جدائی |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا | فرحان صدیقی (30-06-08), شمائلہ (28-06-08) |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا | فرحان صدیقی (30-06-08), شمائلہ (28-06-08) |
|
|
#26 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خرد دیکھے اگر دل کی نگہ سے
خرد دیکھے اگر دل کی نگہ سے جہاں روشن ہے نور لا الہ سے فقط اک گردش شام و سحر ہے اگر دیکھیں فروغ مہر و مہ سے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا | فرحان صدیقی (30-06-08), شمائلہ (28-06-08) |
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کبھی دریا سے مثل موج ابھر کر
کبھی دریا سے مثل موج ابھر کر کبھی دریا کے سینے میں اتر کر کبھی دریا کے ساحل سے گزر کر مقام اپنی خودی کا فاش تر کر |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا | فرحان صدیقی (30-06-08), شمائلہ (28-06-08) |
|
|
#28 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ملا زادہ ضیغم لولا بی کشمیری کا بیاض
( 1) . پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب مرغان سحر تیری فضاؤں میں ہیں بیتاب اے وادی لولاب گر صاحب ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب دیں بندۂ مومن کے لیے موت ہے یا خواب اے وادی لولاب ہیں ساز پہ موقوف نوا ہائے جگر سوز ڈھیلے ہوں اگر تار تو بے کار ہے مضراب اے وادی لولاب ملا کی نظر نور فراست سے ہے خالی بے سوز ہے میخانۂ صوفی کی مے ناب اے وادی لولاب بیدار ہوں دل جس کی فغان سحری سے اس قوم میں مدت سے وہ درویش ہے نایاب اے وادی لولاب (2) موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام مکر و فن خواجگی کاش سمجھتا غلام! شرع ملوکانہ میں جدت احکام دیکھ صور کا غوغا حلال، حشر کی لذت حرام! اے کہ غلامی سے ہے روح تری مضمحل سینۂ بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام! (3) آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر سینۂ افلاک سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امیر کہہ رہا ہے داستاں بیدردی ایام کی کوہ کے دامن میں وہ غم خانۂ دہقان پیر آہ! یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر؟ (4) گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو تھرتھراتا ہے جہان چار سوے و رنگ و بو پاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انساں کا ضمیر کرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغ آرزو وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں عشق سیتا ہے انھیں بے سوزن و تار رفو ضربت پیہم سے ہو جاتا ہے آخر پاش پاش حاکمیت کا بت سنگیں دل و آئینہ رو (5) دراج کی پرواز میں ہے شوکت شاہیں حیرت میں ہے صیاد، یہ شاہیں ہے کہ دراج! ہر قوم کے افکار میں پیدا ہے تلاطم مشرق میں ہے فردائے قیامت کی نمود آج فطرت کے تقاضوں سے ہوا حشر پہ مجبور وہ مردہ کہ تھا بانگ سرافیل کا محتاج (6) رندوں کو بھی معلوم ہیں صوفی کے کمالات ہر چند کہ مشہور نہیں ان کے کرامات خود گیری و خودداری و گلبانگ انا الحق آزاد ہو سالک تو ہیں یہ اس کے مقامات محکوم ہو سالک تو یہی اس کا ہمہ اوست خود مردہ و خود مرقد و خود مرگ مفاجات! (7) نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری ترے دین و ادب سے آ رہی ہے بوئے رہبانی یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری شیاطین ملوکیت کی آنکھوں میں ہے وہ جادو کہ خود نخچیر کے دل میں ہو پیدا ذوق نخچیری چہ بے پروا گذشتند از نواے صبحگاہ من کہ برد آں شور و مستی از سیہ چشمان کشمیری! ( ![]() سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر دل آدمی کا ہے فقط اک جذبۂ بلند گردش مہ و ستارہ کی ہے ناگوار اسے دل آپ اپنے شام و سحر کا ہے نقش بند جس خاک کے ضمیر میں ہے آتش چنار ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند ( 9) کھلا جب چمن میں کتب خانۂ گل نہ کام آیا ملا کو علم کتابی متانت شکن تھی ہوائے بہاراں غزل خواں ہوا پیرک اندرابی کہا لالہ آتشیں پیرہن نے کہ اسرار جاں کی ہوں میں بے حجابی سمجھتا ہے جو موت خواب لحد کو نہاں اس کی تعمیر میں ہے خرابی نہیں زندگی سلسلہ روز و شب کا نہیں زندگی مستی و نیم خوابی حیات است در آتش خود تپیدن خوش آں دم کہ ایں نکتہ را بازیابی اگر ز آتش دل شرارے بگیری تواں کرد زیر فلک آفتابی (10) آزاد کی رگ سخت ہے مانند رگ سنگ محکوم کی رگ نرم ہے مانند رگ تاک محکوم کا دل مردہ و افسردہ و نومید آزاد کا دل زندہ و پرسوز و طرب ناک آزاد کی دولت دل روشن، نفس گرم محکوم کا سرمایہ فقط دیدۂ نم ناک محکوم ہے بیگانۂ اخلاص و مروت ہر چند کہ منطق کی دلیلوں میں ہے چالاک ممکن نہیں محکوم ہو آزاد کا ہمدوش وہ بندۂ افلاک ہے، یہ خواجہ افلاک (11) تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ کوئی بتائے یہ مسجد ہے یا کہ میخانہ یہ راز ہم سے چھپایا ہے میر واعظ نے کہ خود حرم ہے چراغ حرم کا پروانہ طلسم بے خبری، کافری و دیں داری حدیث شیخ و برہمن فسون و افسانہ نصیب خطہ ہو یا رب وہ بندۂ درویش کہ جس کے فقر میں انداز ہوں کلیمانہ چھپے رہیں گے زمانے کی آنکھ سے کب تک گہر ہیں آب ولر کے تمام یک دانہ 12) دگرگوں جہاں ان کے زور عمل سے بڑے معرکے زندہ قوموں نے مارے منجم کی تقویم فردا ہے باطل گرے آسماں سے پرانے ستارے ضمیر جہاں اس قدر آتشیں ہے کہ دریا کی موجوں سے ٹوٹے ستارے زمیں کو فراغت نہیں زلزلوں سے نمایاں ہیں فطرت کے باریک اشارے ہمالہ کے چشمے ابلتے ہیں کب تک خضر سوچتا ہے ولر کے کنارے (13) نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں کمال صدق و مروت ہے زندگی ان کی معاف کرتی ہے فطرت بھی ان کی تقصیریں قلندرانہ ادائیں، سکندرانہ جلال یہ امتیں ہیں جہاں میں برہنہ شمشیریں خودی سے مرد خود آگاہ کا جمال و جلال کہ یہ کتاب ہے، باقی تمام تفسیریں شکوہ عید کا منکر نہیں ہوں میں، لیکن قبول حق ہیں فقط مرد حر کی تکبیریں حکیم میری نواؤں کا راز کیا جانے ورائے عقل ہیں اہل جنوں کی تدبیریں (14) چہ کافرانہ قمار حیات می بازی کہ با زمانہ بسازی بخود نمی سازی دگر بمدرسہ ہائے حرم نمی بینم دل جنید و نگاہ غزالی و رازی بحکم مفتی اعظم کہ فطرت ازلیست بدین صعوہ حرام است کار شہبازی ہماں فقیہ ازل گفت جرہ شاہیں را بآسماں گروی با زمیں نہ پروازی منم کہ توبہ نہ کردم ز فاش گوئی ہا ز بیم ایں کہ بسلطاں کنند غمازی بدست ما نہ سمرقند و نے بخارا ایست دعا بگو ز فقیراں بہ ترک شیرازی (15) ضمیر مغرب ہے تاجرانہ، ضمیر مشرق ہے راہبانہ وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ کنار دریا خضر نے مجھ سے کہا بہ انداز محرمانہ سکندری ہو، قلندری ہو، یہ سب طریقے ہیں ساحرانہ حریف اپنا سمجھ رہے ہیں مجھے خدایان خانقاہی انھیں یہ ڈر ہے کہ میرے نالوں سے شق نہ ہو سنگ آستانہ غلام قوموں کے علم و عرفاں کی ہے یہی رمز آشکارا زمیں اگر تنگ ہے تو کیا ہے، فضائے گردوں ہے بے کرانہ خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ مری اسیری پہ شاخ گل نے یہ کہہ کے صیاد کو رلایا کہ ایسے پرسوز نغمہ خواں کا گراں نہ تھا مجھ پہ آشیانہ (16) حاجت نہیں اے خطہ گل شرح و بیاں کی تصویر ہمارے دل پر خوں کی ہے لالہ تقدیر ہے اک نام مکافات عمل کا دیتے ہیں یہ پیغام خدایان ہمالہ سرما کی ہواؤں میں ہے عریاں بدن اس کا دیتا ہے ہنر جس کا امیروں کو دوشالہ امید نہ رکھ دولت دنیا سے وفا کی رم اس کی طبیعت میں ہے مانند غزالہ (17) خود آگاہی نے سکھلا دی ہے جس کو تن فراموشی حرام آئی ہے اس مرد مجاہد پر زرہ پوشی (1 ![]() آں عزم بلند آور آں سوز جگر آور شمشیر پدر خواہی بازوے پدر آور ( 19) غریب شہر ہوں میں، سن تو لے مری فریاد کہ تیرے سینے میں بھی ہوں قیامتیں آباد مری نوائے غم آلود ہے متاع عزیز جہاں میں عام نہیں دولت دل ناشاد گلہ ہے مجھ کو زمانے کی کور ذوقی سے سمجھتا ہے مری محنت کو محنت فرہاد صدائے تیشہ کہ بر سنگ میخورد دگر است خبر بگیر کہ آواز تیشہ و جگر است ---------- صدائے تیشہ الخ یہ شعر مرزاجانجاناں مظہر علیہ الرحمتہ کے مشہور بیاض خریطہ جواہر ، میں ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا | فرحان صدیقی (30-06-08), شمائلہ (28-06-08) |
|
|
#29 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سر اکبر حیدری، صدر اعظم حیدر آباد دکن کے نام
یوم اقبال کے موقع پر توشہ خانہ حضور نظام کی طرف سے ، جو صاحب صدر اعظم کے ماتحت ہے ایک ہزار روپے کا چیک بطور تواضع وصول ہونے پر تھا یہ اللہ کا فرماں کہ شکوہ پرویز دو قلندر کو کہ ہیں اس میں ملوکانہ صفات مجھ سے فرمایا کہ لے، اور شہنشاہی کر حسن تدبیر سے دے آنی و فانی کو ثبات میں تو اس بار امانت کو اٹھاتا سر دوش کام درویش میں ہر تلخ ہے مانند نبات غیرت فقر مگر کر نہ سکی اس کو قبول جب کہا اس نے یہ ہے میری خدائی کی زکات! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا | فرحان صدیقی (30-06-08), شمائلہ (28-06-08) |
|
|
#30 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حسین احمد
عجم ہنوز نداند رموز دیں، ورنہ ز دیوبند حسین احمد! ایں چہ بوالعجبی است سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر بہ او نرسیدی ، تمام بولہبی است |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا | فرحان صدیقی (30-06-08), شمائلہ (28-06-08) |
![]() |
| Tags |
| color, ہنگامہ, پاک, نماز, مسجد, آلودگی, آج, اللہ, اسلام, تاج, تعلیم, جام, خبر, خدا, دل, رات, زندگی, سیاست, ساحر, شعر, ظالم, عالم, صفات, صفت, صحرا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|