| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,349
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آتا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اُتار بھی؟
پستی سے ہم کنار ملے کوہسار بھی؟ دل کیوں دھڑکنے لگتا ہے اُبھرے جو کوئی چاپ اب تو نہیں کسی کا مجھے انتظار بھی! جب بھی سکوتِ شام میں آیا ترا خیال کچھ دیر کو ٹھہر سا گیا آبشار بھی کچھ ہو گیا ہے دھوپ سے خاکستری بدن کچھ جم گیا ہے راہ کا مجھ پر غبار بھی اس فاصلوں کے دشت میں رہبر وہی بنے جس کی نگاہ دیکھ لے صدیوں کے پار بھی اے دوست، پہلے قرب کا نشّہ عجیب تھا میں سُن سکا نہ اپنے بدن کی پُکار بھی رستہ بھی واپسی کا کہیں بن میںکھو گیا اوجھل ہوئی نگاہ سے ہرنوں کی ڈار بھی کچھ عقل بھی ہے باعثٕ توقیر اے شکیبؔ کچھ آ گئے ہیں بالوں میں چاندی کے تار بھی |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| شام, عقل, صدیوں |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایک سوال: دنیا الٹی ہے کہ سیدھی؟ | lordforkland | دلچسپ اور عجیب | 3 | 22-02-09 11:24 AM |