| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,349
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اتر گیا تن نازک سے پتیوں کا لباس
کسی کے ہاتھ نہ آئی مگر گلاب کی باس اب اپنے جسم کے سائے میں تھک کے بیٹھ رہو کہیں درخت نہیں راستے میں دور نہ پاس ہزار رنگ کی ظلمت میں لے گئی مجھ کو بس اک چراغ کی خواہش بس اک شرار کی آس تمہارے کام نہ آئے گا جو بھی دانا ہے ہر ایک شخص پہ کیوں کر رہے ہو اپنا قیاس کسی کی آس تو ٹوٹی کوئی تو ہار گیا کہ نیم باز دریچوں میں روشنی ہے اداس وہ کالے کو کی دوری اب ایک خواب سی ہے تم آگئے ہو مگر کب نہ تھے ہمارے پاس یہ کیا طلسم ہے، جب سے کنارِ دریا ہوں شکیبؔ اور بھی کچھ بڑھ گئی یے روح کی پیاس |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
اتنا تو ہوتا نہیں کوئی کھنڈر شام کے بعد
جتنا ویران ہوا جاتا ہے گھر شام کے بعد ٹوٹ پڑتی ہے نئی روز خبر شام کے بعد وقت ہوتا ہے عزابوں میں بسر شام کے بعد میری آنکھوں سے برستے ہوئے دریائوں میں ڈوب جاتی ہے تری راہ گزر شام کے بعد تیرے بخشے ہوئے اندوہ کی گھبراہٹ کا اور ہی رنگ سے ہوتا ہے اثر شام کے بعد تم نہیں ہوتے تو پھر درد زمانے بھر کے آن ملتے ہیں مجھے خاک بہ سر شام کے بعد شاہ ہو کوئی،گدا ہو یا ولی ہو سب کا فکر کے بوجھ سے جھک جاتا ہے سر شام کے بعد مل کہ اک شہر بھگو دیتے ہیں تنہائی کا ایک میں ایک میرا دیدہ تر شام کے بعد گھیر لیتے ہیں مجھے رستے تیری یادوں کے جب بھی کرتا ہوں ترے بعد سفر شام کے بعد دن بھی ویراں ہی گزرتا ہے ہمارا لیکن اور بڑھ جاتا ہے ویرانی کا ڈر شام کے بعد ہجر کے سائے تو ہر روز ہی آ جاتے ہیں کیا کبھی ہو گا تمہارا بھی گزر شام کے بعد ایک بس تم ہی نہیں رات کے گھائل فرحت خاک اڑتی ہے ہماری بھی ادھر شام کے بعد ( فرحت عباس شاہ) |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| خبر, رات, سفر, شہر, شام, شخص |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ملک میں نئے ارب پتیوں کا اضافہ: ملک میں خوشحالی کی نئی لہر | حیدر | سیاست | 3 | 27-02-10 08:46 PM |