واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری



شعر و شاعری شعر و شاعری


اسرافیل کی موت - از ن م راشد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-01-08, 11:11 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,349
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اسرافیل کی موت - از ن م راشد

اسرافیل کی موت - از ن م راشد

اسرافیل کی موت - از ن م راشد

--------------------------------------------------------------------------------

ن م راشد نے یہ نظم ایوب کے مارشل لا کے دور میں تحریر و تقریر کی آزادی پر پابندی لگنے کے بعد کے تناظر میں لکھی تھی -

اسرافیل کی موت - از ن م راشد

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ
وہ خداؤں کا مقرّب، وہ خداوندِکلام
صوت انسانی کی روح ِجاوداں
آسمانوں کی ندائے بے کراں
آج ساکت مثل ِ حرفِ ناتمام
مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ!

آؤ، اسرافیل کے اس خوابِ بے ہنگام پر آنسو بہائیں
آرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاس
جیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسے
ریگ ساحل پر، چمکتی دھوپ میں، چپ چاپ
اپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہے!
اس کی دستار، اس کے گیسو، اس کی ریش
کیسے خاک آلودہ ہیں!
تھے کبھی جن کی تہیں بود و نبود!
کیسے اس کا صور، اس کے لب سے دور،
اپنی چیخوں، اپنی فریادوں میں گم
جھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زود!

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاوء
وہ مجسّم ہمہمہ تھا، وہ مجسّم زمزمہ
وہ ازل سے تا ابد پھیلی ھوئی غیبی صداؤں کا نشاں!

مرگِ اسرافیل سے
حلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گر،
ابن آدم زلف در خاک و نزاز
حضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تار
آسمانوں کی صفیر آتی نہیں
عالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیں!

مرگِ اسرافیل سے
اس جہاں پر بند آوازوں کا رزق
مطربوں کا رزق، اور سازوں کا رزق
اب مغنّی کس طرح گائے گا اور گائے کا کیا
سننے والوں کے دلوں کے تار چب!
اب کوئی رقاص کیا تھرکے گا، لہرائے گا کیا
بزم کے فرش و در و دیوار چپ!
اب خطیبِ شہر فرمائے گا کیا
مسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپ!
فِکر کا صیّاد اپنا دام پھیلائے گا کیا
طائرانِ منزل و کہسار چپ!

مرگِ اسرافیل ہے
گوش شنوا کی، لبِ گویا کی موت
چشم ِبینا کی، دلِ دانا کی موت
تھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہو
ــــــــ اہل دل کی اہل دل سے گفتگو
اہل دل ــــــــــ جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلو!
اب تنانا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گم
اب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گم!
یہ ہمارا آخری ملجا بھی گم!

مرگِ اسرافیل سے،
اس جہاں کا وقت جیسے سو گیا، پتھرا گیا
جیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیا،
ایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیں
ایسا سنّاٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیں!

مرگِ اسرافیل سے
دیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھی
زباں بندی کے خواب!
جس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہو
اس خداوندی کے خواب!
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
موت, تحریر, حسن, شہر, غم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے۔۔۔۔ ایک نمازی کی سجدے کی حالت میں موت(ویڈیو) ایکسٹو متفرقات 2 09-03-11 01:54 PM
امام کی تلاوت اور جدید سائنس wajee اسلام اور معاشرہ 5 09-03-11 06:55 AM
نبوت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاعقلی ثبوت عبداللہ حیدر عقیدہ رسالت 12 31-12-10 02:09 PM
ماہ مقدس رمضان اور تلاوت قرآن Real_Light ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 0 21-08-09 05:39 PM
موت ایک اٹل حقیقت !!!!!ایک منتخب تحریر وجدان آخرت 7 17-08-09 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger