| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
آج پھر ستائے گی رات پورے چاند کی
آج پھر ستائے گی رات پورے چاند کی در بدر پھرائے گی رات پورے چاند کی بام و در کی قید میں روح پھڑ پھڑائے گی وحشتیں بڑھائے گی رات پورے چاند کی جس طرف میں جاؤں گا میرے سائے کی طرح میرے ساتھ جائے گی رات پورے چاند کی یہ سمندری ہوا، اس پہ قرب کا نشہ کتنے ظلم ڈھائے گی رات پورے چاند کی ایسا لگ رہا ہے اب ، تو اگر بچھڑ گیا لوٹ کر نہ آئے گی رات پورے چاند کی قمقموں کے شہر میں اپنی اپنی سیج پر صبح تک جگائے گی رات پورے چاند کی آج ہی سے چھوڑ دے میرا ہاتھ ورنہ پھر عمر بھر رلائے گی رات پورے چاند کی
__________________
----------
![]() |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
آخری گفتگو
آخری گفتگو یہ تصویریں ہیں خط ہیں اور کچھ پرزے ہیں جن پر تم مجھے پیغام لکھتی تھیں انہیں محفوظ کرلو ہان مگر افسوس ٹیلی فون پر جو گفتگو تم مجھ سے کرتی تھیں انہیں میں تم کو واپس کر نہیں سکتا جو میری دسترس میں تھا تمہارے سامنے ہے سب جو باقی ہے صدا ہے اب! |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
آنے والی تھی خزاں ، میدان خالی کر دیا
کل ہوائے شب نے سارا لان خالی کر دیا ہم ترے خوابوں کی جنت سے نکل کر آگئے دیکھ ، تیرا قصرِ عالی شان خالی کر دیا دشمنوں نے شست باندھی خمےۂ امید پر دوستوں نے درۂ امکان خالی کر دیا بانٹنے نکلا ہے وہ پھولوں کے تحفے شہر میں اس خبر پر ہم نے بھی گلدان خالی کر دیا لے گیا وہ ساتھ اپنے دل کی ساری رونقیں کس قدر یہ شہر تھا گنجان خالی کردیا ساری چڑیاں اڑ گئیں مجھ کو اکیلا چھوڑ کر میرے گھر کا صحن اور دالان خالی کر دیا ڈائری میں سارے اچھے شعر چن کے لکھ لئے ایک لڑکی نے مرا دیوان خالی کر دیا |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں
آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں دشت عمر کی دھوپ میں تشنہ میلوں پیدل چلتے چلتے دھوپ اور لو میں جلتے جلتے زخمی تلوے ملتے ملتے جب درماندہ حال مسافر کسی دوکان بیم و رجبا سے مانگ تانگ کر برف کے قتلے پھیلے ہوئے دامن میں رکھ کے اپنے گھر کا رخ کرتا ہے بڑھ جاتی ہے دھوپ کی حدت گردو غبار میں کھو جاتا ہے رستہ گھر لے جانے والا دامن خالی ہوتا ہے برف کی قلمیں بہہ جاتی ہیں آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں خلق خدا کے خوف سے اکثر جو باتیں ہم کہہ نہیں سکتے پتھر چونے اور کاغذ کی یہ دیواریں کہہ جاتی ہیں آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں! |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اب آنے والی ہے فصلِ بہار ، سوچتے تھے
اب آنے والی ہے فصلِ بہار ، سوچتے تھے ہم اس طرح تو بہت اعتبارؔ سوچتے تھے جگائے رکھتی تھی راتوں کو کیسی بے چینی کسی کی بات پہ ہم کتنی بار سوچتے تھے وہ سامنے ہے تو پھر کچھ بھی کہہ نہیں پاتے نہ تھا وہ پاس تو باتیں ہزار سوچتے تھے اب اور کتنا ہے باقی یہ آسمان ابھی ہر ایک شب ترے اختر شمار سوچتے تھے اُجاڑ کنجِ چمن میں اُداسی چاندنی رات بٹھائے رکھتی تھی ، مصرعے ہزار سوچتے تھے سب اپنے اپنے غموں کے اسیر تھے ساجد کہاں کسی کے لئے غمگسار سوچتے تھے |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اب شوقِ سفر، خواہشِ یکجائی بہت ہے
اب شوقِ سفر، خواہشِ یکجائی بہت ہے دشمن ہی ملے ، راہ میں تنہائی بہت ہے ہم کون سے غالب تھے کہ شہرت ہمیں ملتی دنیا ، تری اتنی بھی پذیرائی بہت ہے زخموں کی نمائش کا سلیقہ نہیں ہم کو وہ ہیں کہ انہیں شوقِ مسیحائی بہت ہے لوگوں سے تعارف نہ کوئی جان نہ پہچان دل ہے کہ اسی بزم کا شیدائی بہت ہے گلیوں میں مگر کوئی دریچہ نہیں کھلتا آپس میں یہاں شورِ شناسائی بہت ہے شامیں ہیں بہت سوختہ ، برسات میں ساجد کہنے کو بھرا شہر ہے ، تنہائی بہت ہے |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ایسا نہیں کہ تیرے بعد اہلِ کرم نہیں ملے
ایسا نہیں کہ تیرے بعد اہلِ کرم نہیں ملے لوگ تو کم نہیں ملے ، لوگوں سے ہم نہیں ملے ایک ترے فراق کے درد کی بات اور ہے جن کو نہ سہہ سکے یہ دل ، ایسے تو غم نہیں ملے قصۂ ترک رسم و رہ اس کے سوا ہے اور کیا مل نہ سکیں طبیعتیں ، اپنے قدم نہیں ملے یہ تو ہوا کہ عشق میں نام بہت کما لیا خود کو بہت گنوا لیا، دام میں ورم نہیں ملے ایسا دریا ہجر نے ہم کو اسیر کر لیا اور کسی کا ذکر کیا خود کو بھی ہم نہیں ملے نام وروں کے شہر میں نام بہت ملے مگر ہم سے گداز دل سے اسے ہلِ قلم نہیں ملے |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ایسے نہ تھے ہم اہلِ دل ، اتنے کہاں خراب تھے
ایسے نہ تھے ہم اہلِ دل ، اتنے کہاں خراب تھے ہم بھی کسی کی آس تھے ، ہم بھی کسی کا خواب تھے اب جو ہوئے ہیں خیر سے ، راندۂ خلقِ شہر ہم چہرۂ شب کا نور تھے ، شیشۂ فن کی آب تھے دل پہ کسی کے نقش تھے صورتِ حرف آرزو اس کی کتابِ زیست میں لائقِ انتساب تھے ایسی تھیں وہ رفاقتیں ، جیسے ہم اپنے آپ میں رنگِ شعاع مہر تھے ، ریزۂ آفتاب تھے وعدوں کا ایک شہر تھا جس سے گزر رہے تھے ہم آنکھیں کھلیں تو دور تک ہر سو وہی سراب تھے دل سا چراغ کیا بجھا ، آنکھیں دھواں دھواں ہوئیں کہنے کو اپنے آس پاس کتنے ہی ماہتاب تھے |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اگر ملنا ضروری ہے
خدا جانے تمہارے ذہن میں کیا ہے ؟ مرے بارے میں تم کیا سوچتی ہو کہہ نہیں سکتا مگر میں اس لئے ملنے سے کتراتا ہوں تم سے کہ وہ باتیں جو ہم لکھتے ہیں اپنے خط میں چاہت سے وہ باتیں اور باتیں ہیں وہ باتیں ایسی باتیں ہیں کہ بس باتیں ہی باتیں ہیں حقیقت مختلف ہے ایسی باتوں سے حقیقت منکشف ہوتی نہیں الفاظ لکھنے سے زبانی گفتگو سے باہمی اظہار و عرض حال کرنے سے بہت سے ایسی باتیں ہیں جنہیں سننے کو کانوں کی نہیں آنکھوں کی حاجت ہے اگر تم مجھ سے ملنے پر بہت اصرار کرتی ہو تو پھر اک شرط ہے اک لفظ بھی کہنا نہ ہونٹوں سے فقط آنکھوں سے آنکھیں گفتگو کرتی رہیں گی خلاء اپنے سوالوں کا ان آنکھوں کی صدائیں خود بخود بھرتی رہیں گی اگر ملنا ضروری ہے تو چھوٹی سے مری یہ شرط اپنے ذہن میں رکھنا! |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اک بار مجھے آواز تو دے
اک بار مجھے آواز تو دے ترے لمس کی خوشبو پہنوں گا ترے درد کو ہار بناؤں گا اک بار مجھے آواز تو دے میں صدیوں پار سے آؤں گا ابھی کاغذ پر میں لکھتا ہوں بے صوت ہے میرا شہرِ سخن جب دھڑکن لفظ میں گونجے گی میں تب شاعر کہلاؤں گا |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اس درجہ احتیاط سے لکھا ہے خط اُسے
رویا ہوں یوں کہ حرف بھی گیلے نہیں ہوئے |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
عجب حالات تھے میرے عجب دن رات تھے میرے
عجب حالات تھے میرے عجب دن رات تھے میرے مگر میں مطمئن تھا اس لئے تم ساتھ تھے میرے مرے زر کے طلبگاروں کی نظریں ایسے اٹھتی تھیں کہ لاکھوں انگلیاں تھیں اور ہزاروں ہاتھ تھے میرے میں اک پتھر کا گرد آلود بت تھا ان کے مندر میں نہ دل تھا میرے سینے میں نہ کچھ جذبات تھے میرے کسی سے اور کیا تائید کی امید میں رکھتا وہی خاموش تھے جو محرم حالات تھے میرے میں جن شعلوں میں جلتا تھا تم بھی نہیں سمجھے مرا دل مختلف تھا ، مختلف صدمات تھے میرے مجھے مجرم بنا کر رکھ دیا جھوٹے گواہوں نے سبھی رد ہوگئے جتنے بھی الزامات تھے میرے تصور بن گیا تصویر آخر ایک دن ساجد اسی کا خوف تھا مجھ کو یہی خدشات تھے میرے |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
عکسِ تنویر پسِ گردِ سفر کیسا ہے
عکسِ تنویر پسِ گردِ سفر کیسا ہے دور وہ شہر سا اے شمعِ نظر کیسا ہے اب تو شل ہوگئے اعصاب نظر ڈوب چلی پیش رہ کیسے تھے میرے ، یہ سفر کیسا ہے چھپتے جاتے ہیں ستارے بھی گھنی ساخوں میں پھیلتا جاتا ہے ہر سو ، یہ شجر کیسا ہے پیڑ میں زہر کی تاثیر کہاں سے آئی بیج شیریں تھا مگر اس کا ثمر کیسا ہے پاس رہ کر بھی نہیں آتی مکینوں کی صدا سب جزیروں میں ہیں آباد ، یہ گھر کیسا ہے کن پہ ٹوٹے گی دم صبح قیامت ساجد رات کے ہاتھ میں یہ کاسۂ سر کیسا ہے |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا
اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا جل جل کے راکھ ہوگئے پھر بھی دھواں نہیں دیا کتنی تھی سنگ دل ہوا ، جس نے ہم اہلِ شوق کے سارے دیے بجھا دئیے اذنِ فغاں نہیں دیا ایسا نہیں ملا کوئی جس سے بیان حال ہو ورنہ تو اشتہار دل ہم نے کہاں نہیں دیا پنجرے کی جالیوں سے کچھ پھول دکھائی دے سکیں اب کے بہار نے ہمیں ایسا سماں نہیں دیا کیسے ہیں بد نصیب لوگ ، جن کو خدا نے دہر میں نطق تو کر دیا عطا ، حسنِ بیاں نہیں دیا تخت پہ بیٹھ کر بھی وہ رب سے گلہ گذار ہیں رنج یہ ہے کہ کیوں انہیں تختِ رواں نہیں دیا |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ
بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ کس نگری میں آنکلے ہیں ساجد ہم دیوانے لوگ ایک ہمی ناواقف ٹھہرے روپ نگر کی گلیوں سے بھیس بدل کر ملنے والے سب جانے پہچانے لوگ دن کو رات کہیں سو برحق صبح کو شام کہیں سو خوب آپ کی بات کا کہنا ہی کیا آپ ہوئے فرزانے لوگ شکوہ کیا اور کیسی شکایت آکر کچھ بنیاد تو ہو تم پر میرا حق ہی کیا ہے ، تم ٹھہرے بیگانے لوگ شہر کہاں خالی رہتا ہے یہ دریا میں ہر دم بہتا ہے اور بہت سے مل جائیں گے ہم ایسے دیوانے لوگ سنا ہے اس کے عہد وفا میں ہوا بھی مفت نہیں ملتی ان گلیوں میں ہر ہر سانس پہ بھرتے ہیں جرمانے لوگ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, پہچان, قید, قدم, لڑکی, چاہت, آج, ترک, تعارف, تصویر, جلتا, حال, خبر, خدا, دل, رات, زیست, شہر, شاعری, شعر, عشق, غم, صوت, صحن, صدیوں |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اعتراف | سیپ | شاعری اور مصوری | 5 | 29-03-12 11:54 PM |
| اک بار کر کے اعتبار لکھ دو | gorgeous | شعر و شاعری | 6 | 05-11-09 09:32 AM |
| بے اعتبار وقت پہ جھنجھلا کے رو پڑے | The Great | شعر و شاعری | 0 | 26-08-09 11:24 AM |
| اعتدال کا دھاگہ | راجہ اکرام | گپ شپ | 15 | 03-06-09 08:43 AM |
| اعتبارزمانہ شاعر عظمت عقیل | Real_Light | شعر و شاعری | 2 | 21-04-08 02:14 PM |