| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
قلم جب دَرہم و دِینار میں تولے گئے تھے
قلم جب دَرہم و دِینار میں تولے گئے تھے کہاں تک دِل کی چنگاری، ترے شعلے گئے تھے فصیلِ شہر لبِ بستہ ! گواہی دے کہ لوگ دہانِ حلقہِ زنجیر سے بولے گئے تھے تمام آزاد آوازوں کے چہرے گرد ہوجائیں فِضاؤں میں کچھ ایسے زہر بھی گھولے گئے تھے وہ خاکِ پاک ہم اہلِ محّبت کو ہے اکسیر سر مقتل جہاں نیزوں پہ سر تولے گئے تھے
__________________
----------
![]() |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں
سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سے ابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں سمندورں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت کسی کو ہم نے مد د کے لیئے پکارا نہیں جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار جو کہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں ہم اہلِ دل ہیں محبت کی نسبتوں کے امیں ہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت ہے
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت ہے جہانِ رزق میں توقیر ِ اہلِ حاجت کیا شکم کی آگ لیئے پھر رہی ہے شہر بہ شہر سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا دمشقِ مصلحت و کوفہِ نفاق کے بیچ فغانِ قافلہِ بے نوا کی قیمت کیا مالِ عزتِ ساداتٍ عشق دیکھ کہ ہم بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بارہواں کھلا ڑی
خو شگوارموسم میں ان گنت تماشائی اپنی اپنی ٹیموں کو داد دینے آتے ہیں اپنے اپنے پیاروں کا حو صلہ بڑ ھا تے ہیں میں الگ تھلگ سب سے با رہویں کھلا ڑی کو ہوٹ کر تا رہتا ہوں بارہواں کھلاڑی بھی کیا عجب کھلا ڑی ہے کھیل ہو تا رہتا ہے شور مچتا رہتا ہے داد پڑ تی رہتی ہے اور وہ الگ سب سے انتظار کرتاہے ایک ایسی ساعت کا ایک ایسے لمحے کا جس میں سانحہ ہوجائے پھر وہ کھیلنے نکلے تالیوں کے جھر مٹ میں ایک جملہ خوش کن ایک نعرہ تحسین اس کے نام پر ہوجائے سب کھلا ڑیوں کے ساتھ وہ بھی معتبر ہوجائے پر یہ کم ہی ہوتاہے پھر بھی لوگ کہتے ہیں کھیل سے کھلاڑی کا عمر بھر کا رشتہ ہے عمر بھر کایہ رشتہ چھو ٹ بھی تو سکتا ہے آخری وسل کے ساتھ ڈوب جانے والا دل ٹو ٹ بھی توسکتاہے |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ایک رات کی کہانی
قّصہِ شب دو مہتاب زندگی کا اِک عجیب باب اِک طرف حجابِ رنگ و نور اک طرف جمالِ بے حجاب آنکھ جب کھلی تو صبح دم حجرہِ ہوس کے فرش پر اِک دیا بجھا ہوا ملا اِک نظر جھکی ہوئی ملی ایک دل دکھا ہوا ملا قّصہ شب دو مہتاب زندگی کا اِک عجیب باب |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ہم اہلِ جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں
ہم اہلِ جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں سروں کی فصل جب سے اُتری تھی تب سے واقف ہیں کبھی چھپے ہوئے خنجر، کبھی کھچی ہوئی تیغ سپاہِ ظلم کہ ایک ایک ڈھب سے واقف ہیں ہے رات یوں ہی تو دشمن نہیں ہماری کہ ہم درازئ شبِ غم کے سبب سے واقف ہیں وہ جن کی دستخطیں محضر ستم پہ ہیں ثبت ہر اُس ادیب، ہر اُس بےادب سے واقف ہیں نظر میں رکھتے ہیں عصرِ بلند یامئی مہر فراتِ جبر کے ہر تشنہ لب سے واقف ہیں کوئی نئی تو نہیں حرفِ حق کی تنہائی جو جانتے ہیں وہ اس اَمر رب سے واقف ہیں |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا
گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا جو دل میں ہے اب اُس کا تذکرہ کرنا پڑے گا نتیجہ کربلا سے مُختلف ہو یا وہی ہو مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا وہ کیا منزل جہاں راستے آگے نکل جائیں سو اب پھر ایک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا لہو دینے لگی ہے چشمِ خوں بستہ سو اس بار بھری آنکھوں میں خوابوں کو رہا کرنا پڑے گا مبادا قّصہِ اہلِ جنوں ناگفتہ رہ جائے نئے مضمون کا لہجہ نیا کرنا پڑے گا درختوں پہ ثمر آنے سے پہلے آئے تھے پھول پَھّلوں کے بعد کیا ہوگا پتہ کرنا پڑے گا گنوا بیٹھے ترے خاطر اپنے مِہر و مہتاب بتا اب اے زمانے اور کیا کرنا پڑے گا |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کھوئے ہوئے اک موسم کی یاد میں
کھوئے ہوئے اک موسم کی یاد میں سمائے میری آنکھوں میں خواب جیسے دن وہ مہتاب سی راتیں گلاب جیسے دن وہ گنج شہرِ وفا میں سحاب جیسے دن وہ دن کہ جن کا تصّور متاعِ قریہ دل وہ دن کہ جن کی تّجلی فروغ ہر محفل گئے وہ دن تو آندھیروں میں کھو گئی منزل فضا کا جبر شکستہ پَروں پہ آپہنچا عذاب در بدری بے گھروں پہ آپہنچا ذرا سی دیر میں سورج سروں پہ آپہنچا کِسے دکھائیں یہ بے مائیگی حزینوں کی کٹی جو فصل تو غُربت بڑھی زمینوں کی یہی سزا ہے زمانے میں بے یقینوں کی |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
مرے خدا مرے لفظ و بیاں میں ظاہر ہو
مرے خدا مرے لفظ و بیاں میں ظاہر ہو اسی شکستہ و بستہ زباں میں ظاہر ہو زمانہ دیکھے میرے حرفِ بازیاب کے رنگ گلِ مرادِ ہنر دشتِ جاں میں ظاہر ہو میں سرخروِ نظر آںِ کلام ہوں کہ سکوت تری عطا مرے نام و نشاں میں ظاہر ہو مزہ تو تب ہے جب اہلِ یقیں کا سرِ کمال ملامت سخن گمرہاں میں ظاہر ہو گزشتگانِ محّبت کا خواب گم گشتہ عجب نہیں کہ شبِ آئیندگاں میں ظاہر ہو پسِ حجاب ہے اِک شہسوارِ وادئِ نور کسے خبر اسی عہدِ زیاں میں ظاہر ہو |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
جہاں بھی رہنا یہی اک خیال رکھنا
جہاں بھی رہنا یہی اک خیال رکھنا زمیں فردا پہ سنگِ بنیاد حل رکھنا حضور اہلِ کمال فن سجدہ زیر رہنا گناہ میں طرہ کلاہ کمال رکھنا وہ جس نے بخشی ہے بے نواؤں کونعمتِ حرف وہی سکھادے گا حرف کو بے مثال رکھنا اندھیری رتوں میں گریہ بے سبب کی توفیق میسر آئے تو غم کی دولت سنبھال رکھنا |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
رات کے دوسرے کنارے پر
رات کے دوسرے کنارے پر جانے کیا بات ہے کہ شام ڈھلے خوف نادیدہ کہ اشارے پر جھلملاتے ہوئے چراغ کی لَو مجھ سے کہتی ہے " افتخار عارف ! " رات کے دوسرے کنارے پر " ایک رات اور انتظار میں ہے " کوئی چپکے سے دل میں کہتا ہے رات پہ بس اس چلے نہ چلے خواب تو اپنے اختیار میں ہے |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا
وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا اک جاگنے والا میری تقدیر میں ہوتا اک عالمِ خوبی ہےمیسر مگر اے کاش اس گل کا علاقہ میری جاگیر میں ہوتا اس آہوئے رم خوردہ و خوش چشم کی خاطر اِک حلقہِ خوشبو میری زنجیر میں ہوتا مہتاب میں اِک چاند سی صورت نظر آتی نسبت کا شرف سلسلئہ میر* سے ہوتا مرتا بھی جو اس پر تو اُسے مار کے رکھتا غالب* کا چلن عشق کی تقصیر میں ہوتا اِک قامتِ زیبا کا دعوٰی ہے کہ وہ ہے |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ستمبر کی یاد میں
اور تو کچھ یاد نہیں بس اتنا یاد ہے اس سال بہار ستمبر کے مہینے تک آگئی تھی اُس نے پوچھا " افتخار ! یہ تم نظمیں ادھوری کیوں چھوڑ دیتے ہو" اب اُسے کون بتاتا کہ ادھوری نظمیں اور ادھوری کہانیاں اور ادھورے خواب یہی تو شاعر کا سرمایہ ہوتے ہیں پورے ہو جائیں تو دل اندر سے خالی ہوجاتا ہے پھر دھوپ ہی دھوپ میں اتنی برف پڑی کہ بہت اونچا اُڑنے والے پرندے کے پَر اس کا تابوت بن گئے اور تو کچھ یاد نہیں بس اتنا یاد ہے اس سال بہار ستمبر کے مہینے تک آگئی تھی |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, ہنگامہ, کمال, کربلا, پیاروں, پاک, وفا, لوگ, نظر, محبت, حل, خوش, خبر, خدا, دل, رات, زمانہ, سفر, سال, شہر, شام, عشق, غم, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دھاگوں تک رسائی کیسے ممکن ہو | بزم خیال | تجاویز اور شکایات | 15 | 25-11-11 08:40 PM |
| منتظر الزیدی پر تشدد کرکے زبردستی وزیراعظم کے نام معافی نامہ لکھوایا گیا ۔ عودے الزیدی | چیتا چالباز | خبریں | 4 | 02-08-11 11:06 PM |
| بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے آئر لینڈ کے مزید دو سینئر پادری مستعفی | گوہر | گپ شپ | 1 | 27-12-09 03:04 AM |
| نہ جانے ظرف زیادہ تھا کم یا انا زیادہ تھی | The Great | احمد فراز | 0 | 28-08-09 09:00 PM |
| خصوصی افراد کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے، سہراب سرکی | عبدالقدوس | شعبہ طب | 0 | 26-10-07 07:09 AM |