| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,541
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اے خاصئہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے پر دیس میں وہ آج غریب الغربا ہے جس دین کے مدعو تھے کبھی سیرز و کسریٰ خود آج وہ مہمان سرائے فقرا ہے وہ دین ہوئی بزمِ جہاں جس سے چراغاں اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے جو دین کو تھا شرک سے عالم کا نگہباں اب اس کا نگہبان اگر ہے تو خدا ہے لجو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے اس دین میں جو تفرقہ اب آکے پڑا ہے جس دین نے غیروں کے تھے دل آکے ملائے اس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے جو دین کہ ہمدردِ بنی نوعِ بشر تھا اب جنگ و جدل چار طرف اس میں بپا ہے جس دین کا تھا فقر بھی اکسیر غنا بھی اس دین میں اب فقرے ہے باقی نہ غنا ہے جو دین کے گودوں میں پلا تھا حکما کی وہ عرضئہ تیغ جہلا و سفہا ہے جس دین کی حجت سے سب ادیان تھے مغلوب اب معترض اس دین پہ ہر ہرزہ سرا ہے ہے دین ترا اب بھی وہی چشمئہ صافی دینداروں میں پر آب ہے باقی نہ صفا ہے عالم ہے سوبے عقل ہے جاہل ہے سو وحشی منعم ہے سو مغرور ہے مفلس سو گدا ہے یاں راگ ہے دن رات وداں رنگِ شب وروز یہ مجلسِ اعیاں ہے وہ بزمِ شرفا ہے چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے اک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے ہے دین کی دولت سے بہا علم سے رونق بے دولت و علم اس میں نہ رونق نہ بہا ہے شاہد ہے اگر دین تو علم اس کا ہے زیور زیور ہے اگر علم تو مال سے کی جلا ہے جس قوم میں اور دین میں ہو علم نہ دولت اس قوم کی اور دین کی پانی پہ بنا ہے گو قوم میں تیری نہیں اب کوئی بڑائی پر نام تری قوم کا یاں اب بھی بڑا ہے ڈر ہے کہیں یہ نام بھی مٹ جائے نہ آخر مدت سے اسے دورِ زماں میٹ رہا ہے جس قصر کا تھا سر بفلک گنبدِ اقبال ادبار کی اب گونج رہی اس میں صدا ہے بیڑا تھا نہ جو بادِ مخالف سے خبردار جو چلتی ہے اب چلتی خلاف اس کے ہوا ہے وہ روشنیِ بام و درِ کشورِ اسلام یاد آج تلک جس کی زمانے کو ضیا ہے روشن نظر آتا نہیں واں کوئی چراغ آج بجھنے کو ہے اب گر کوئی بجھنے سے بچا ہے عشرت کدے آباد تھے جس قوم کے ہرسو اس قوم کا ایک ایک گھر اب بزمِ عزا ہے چاؤش تھے للکارتے جن رہگزروں میں دن رات بلند ان میں فقیروں کی صدا ہے وہ قوم کی افاق میں جو سر بفلک تھی وہ یاد میں اسلاف کے اب روبقضا ہے جو قوم کہ مالک تھی علوم اور حکم کی اب علم کا واں نام نہ حکمت کا پتا ہے کھوج ان کے کمالات کا لگتا ہے اب اتنا گم دشت میں اک قافلہ بے طبل و ذرا ہے بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہیں بنتی ہے اس سے یہ ظاہر کہ یہی حکمِ قضا ہے تھی آس تو تھا خوف بھی ہمراہ رجا کے اب خوف ہے مدت سے دلوں میں نہ رجا ہے جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتوں کے ہیں کرتوت شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلا ہے دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت سچ ہے کہ برے کام کا انجام برا ہے کی زیب بدن سب نے ہی پوشاک کتاں کی اور برف میں ڈوبی ہوئی کشور کی ہوا ہے درکار ہیں یاں معرکے میں جوشن و خفتاں اور دوش پہ یاروں کے وہی کہنہ ردا ہے دریائے پر آشوب ہے اک راہ میں حائل اور بیٹھ کے گھوڑ ناؤ پہ یاں قصد شنا ہے ملتی نہیں اک بوند بھی پانی کی جہاں مفت واں قافلہ سب گھر سے تہی دست چلا ہے یاں نکلے ہیں سودے کو ورم لے کے پرانے اور سکہ رواں شہر میں مدت سے نیا ہے فریاد اے کشتی امت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے اے چشمئہ رحمت بابی انت و امی دنیا پہ ترا لطف سدا عام رہا ہے جس قوم نے گھر اور وطن تجھ سے چھڑایا جب تونے کیا نیک سلوک ان سے کیا ہے صدمہ درِ دنداں کو ترے جس سے کہ پہنچا کی ان کیلئے تونے بھلائی کی دعا ہے کی تونے خطا عفو ہے ان کینہ کشوں کی کھانے میں جنہوں نے کہ تجھے زہر دیا ہے سو بار ترا دیکھ کے عفو اور ترحم ہر باغی و سرکش کا سر آخر کو جھکا ہے جو بے ادبی کرتے تھے اشعار میں تیری منقول انہی سے تری پھر مدح و ثنا ہے برتاؤ ترے جب کہ یہ اعدا سے ہیں اپنے اعدا سے غلاموں کو کچھ امید سوا ہے کر حق سے عدا امتِ مرحوم کے حق میں خطروں میں بہت جس کا جہاز آکے گھرا ہے امت میں تری نیک بھی ہیں لیکن دلدادہ ترا ایک سے سیک ان میں سوا ہے ایماں جسے کہتے ہیں عقیدہ میں ہمارے وہ تیری محبت تری عترت کی ولا ہے ہر چپقلش دہر مخالف میں ترا نام ہتھیار جوانوں کا ہے پیروں کا عصا ہے جو خاک ترے درپہ ہے جاروب سے اڑتی وہ خاک ہمارے لئے داروئے شفا ہے جو شہر ہوا تیری ولادت سے مشرف اب تک وہی قبلہ تری امت کا رہا ہے جس ملک نے پائی تری ہجرت سے سعادت کعبے سے کشش اس کی ہر اک دل میں سوا ہے کل دیکھئے پیش آئے غلاموں کو ترے کیا اب تک تو ترے نام پہ اک ایک فدا ہے ہم نیک ہیں یا بد ہیں پھر آخر ہیں تمہارے نسبت بہت اچھی ہے اگر حال برا ہے گر بد ہیں تو حق اپنا ہے کچھ تجھ پہ زیادہ اخبار میں الطالح لی ہم نے سنا ہے تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی ہاں ایک دعا تیری کہ مقبولِ خدا ہے خود جاہ کے طالب ہیں نہ عزت کے ہیں خواں پر فکر ترے دین کی عزت کی سدا ہے گردین کو جوکھوں نہیں ذلت سے ہماری اب دیکھ لیں یہ بھی کہ جو ذلت میں مزا ہے ہاں حالیء گستاغ نہ بڑھ حدِ ادب سے باتوں سے ٹپکتا تری اب صاف گلا ہے ہے یہ بھی خبر تجھ کو کہ ہے کون مخاطب یاں جنبشِ لب خارج از آہنگ خطا ہے
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (30-07-11), محمدمبشرعلی (31-07-11), احمد نذیر (31-07-11), بزم خیال (30-07-11), راجہ اکرام (31-07-11), سائل (31-07-11), شمشاد احمد (30-07-11) |
![]() |
| Tags |
| وفا, قصد, نظر, محبت, آج, اشعار, بھائی, جاہل, حال, خلاف, خدا, دیس, دل, دعا, رات, شہر, عقل, علم, عالم, عجب, عزت, غفلت, غلاموں, غریب, صدا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|