|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,349
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اند مال
شام کی سیڑھیاں کتنی کرنوں کا مقتل بنیں بادِ مسموم نے توڑ کر کتنے پتے سپردِ خزاں کردئیے بہہ کے مشکیزۂ ابر سے کتنی بوندیں زمیں کی غذا بن گئیں غیر ممکن تھا ان کا شمار تھک گئیں گننے والےہر اک ہاتھ کی انگلیاں ’ان گنت‘ کہہ کے آگے بڑھا وقت کا کارواں ان گنت تھے مرے زخم دل ٹوٹی کرنوں، بکھرتے ہوئے زرد پتوں، برستی ہوئی بوندیوں کی طرح اور مرہم بھی ناپید تھا لیکن اس روز دیکھا جو اک طفل نوزاد کا خندۂ زیر لب زخمِ دل مندل ہو گئے سب کے سب
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|