|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Dil ky As Pa'as
مراسلات: 335
کمائي: 6,990
شکریہ: 879
243 مراسلہ میں 642 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تمہارے بعد اس دل کا کھنڈر اچھا نہیں لگتا
جہاں رونق نہیں ہوتی وہ گھر اچھا نہیں لگتا نیا اک ہم سفر چاہوں تو آسانی سے مل جائے مگر مجھ کو یہ اندازِ سفر اچھا نہیں لگتا کھلی چھت پر بھی جاکر چاند سے کچھ گفتگو کر لو غزل کہنا پسِ دیوار و در اچھا نہیں لگتا مسلسل گفتگو بھی اپنی وحشت کو بڑھاتی ہے مسلسل چپ بھی کوئی ہسفر اچھا نہیں لگتا مصور، پینٹنگ اچھی ہے لیکن کیا کہا جائے شجر ہم کو تو بے برگ و ثمر اچھا نہیں لگتا خدو خال و قدو قامت بظاہر پہلے جیسے ہیں وہ جیسا پہلے تھا اب اس قدر اچھا نہیں لگتا |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Wahid Mahmood کا شکریہ ادا کیا | عارف اقبال (27-01-10), عروج (12-10-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,790
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی شاعری پوسٹ کی ھے آپ نے جناب۔۔۔
|
|
|
|
| The Great کا شکریہ ادا کیا گیا | Wahid Mahmood (28-01-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی شاعری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لگر رہو
|
|
|
|
| عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا | Wahid Mahmood (28-01-10) |
![]() |
| Tags |
| color, size, ہوتی, کہنا, کوئی, گفتگو, گھر, پہلے, وحشت, قدر, لگتا, لیکن, چاند, مل, اپنی, اچھی, اندازِ, بے, جیسے, جیسا, جاکر, دیوار, دل, در, سفر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|