|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اے ساحل کی ھوا
یہ تو ھی بتا تونے کتنے لوگوں کو منزل پہ پہنچتے دیکھا ھے کتنے سفینوں کو سا حل پہ ڈوبتے دیکھا ھے کتنے دلوں کو کھلتے دیکھا ھے کئ پیار کرنے والوں کو ملتے دیکھا ھے کتنے گھروندں کو کتنے خوابوں کے محلوں کو سمندر کی لہروں میں بکھرتے دیکھا ھے ھجر کی آگ میں لوگوں کو جلتے دیکھا ھے وصل کے لمحوں میں دلوں کو پگھلتے دیکھا ھے چاندنی راتوں میں جذبوں کو سسکتے دیکھا ھے لہروں میں آنسوؤں کو گرتے دیکھا ھے کتنے لوگوں کو بے موت مرتے دیکھا ھے حوصلوں کو ٹوٹ کے سمبھلتے دیکھا ھے کئ آرزؤں کو مچلتے دیکھا ھے میں نے تو فقط ایک دل کو ٹوٹتے دیکھا تھا اس دن سے میرے لبوں سے ھنسی روٹھ گئ ھے نمی میری آنکھوں میں ٹھر گئ ھے خوشی میرے دل کا رستہ بھول گئ ھے تو انتا کچھ دیکھنے کے باوجود اتنی خوش کیسے ھے اتنی شوخ و چنچل کیسے ھے کبھی کسی زلف کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی ھے کبھی کیسی آنچل کے ساتھ مل کر لہراتی ھے کبھی لہروں کے ساتھ مل کر ھنستی گاتی ھے اتنے رازوں کو دل میں چھپائے ھوئے تو مسکراتی کیسے ھے اے ساحل کی ھوا کچھ تو ھی بتا اے ساحل کی ھوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر |
|
|
|
| Haya 786 کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن جلال (18-10-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے تو فقط ایک دل کو ٹوٹتے دیکھا تھا
اس دن سے میرے لبوں سے ھنسی روٹھ گئ ھے ماشاء اللہ۔ بہت ہی زبردست شاعری ہے ۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| لمحوں, موت, دل, شاعری |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پوائینٹ ہی پوائینٹس حاصل کریں | ایس اے نقوی | خاص آفرز اور اعلانات | 227 | 29-05-11 11:43 PM |
| یہ نگاہ شرم جھکی جھکی، یہ جبینِ ناز دھواں دھواں | عبدالقدوس | اقبال عظیم | 16 | 11-12-10 07:00 AM |
| بھوشن کمار اپادھے ، پولیس کمشنر شعلہ پور، اسلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ | فاروق سرورخان | اسلام اور عصر حاضر | 6 | 22-10-10 11:11 PM |
| عدم کارکردگی پر پورٹ آف سنگاپورکو گودارپورٹ سے نکال سکتے ہیں بابر غوری | جاویداسد | خبریں | 5 | 05-10-10 06:07 AM |
| تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو | The Great | شعر و شاعری | 4 | 15-09-09 09:44 PM |