|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام و علیکم میری ڈائری کا تعارف تو آپ پڑھ چکے اب شئیرنگ ہو جائے اسکی باتیں روٹھی روٹھی جسکا لہجہ میٹھا میٹھا اسکی آنکھیں سمندر جیسی جسکی ذات میں صحرا صحرا رات سے گہری سوچیں اسکی جسکا رنگ سنہرا سنہرا پھول اور کلیاں چنے والا خود ہے کیوں بکھرا بکھرا چاند سے باتیں کرنے والا دیکھو کتنا تنہا تنہا!!!
__________________
![]() ![]() |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے بنت آدم کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (02-12-11), کنعان (02-04-10), نبیل خان (02-12-11), منتظمین (03-04-10), خرم شہزاد خرم (03-04-10), راجہ اکرام (02-04-10), عارف اقبال (03-04-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ بنت آدم جی واہ
لا جواب بہت خوب ذوق پایا ہے آپ نے، اسی طرح اچھی اچھی شاعری شیئر کرتی رہیں۔ خوش رہیں آباد رہیں
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
پھر چاند کِھلا پھر رات تھمی ،
پھر دل نے کہا اک تیری کمی، پھر یاد کے جھونکے مہک گئے، پھر پاگل ارمان بہک گئے، پھر جنت سی لگی یہ زمین، پھر دل نے کہا ہے اک تیری کمی، پھر جگی جگی سی راتیں پھر گزرے لمحوںکی باتیں، پھر ٹھہر گئی پلکوں پہ نمی پھر دل نے کہایک تیری کمی۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے بنت آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط اندازنظروں سے نہ میرے دل کی ڈھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نطروں سے تمہیں جو کوئی انجمن روکتی ہے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں میرے ہمراہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی یادوں کے سائے ہیں تعارف روگ ہوجائے تو اس کا بھولنا بہتر تعلق بوجھ بن جائے تو اسکا توڑنا اچھا وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نا ہو ممکن اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے بنت آدم کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (02-12-11), کنعان (02-04-10), نبیل خان (02-12-11), منتظمین (03-04-10), عبداللہ آدم (03-04-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
لو سنو زندگی کی دا ستا ں میری میری آنکھ میں جھلک تیری میری سا نس میں مہک تیری میرے گمان می وہم تیرا میری نیند میں خواب تیرا میرے دل میں د ھڑ کن تیری میرے جسم میں روح تیری میری تنہا ئی میں با تیں تیری میرے ہا تھو ں میں لمس تیرا میرے خیا ل میں جیت تیری میرے عشق میں با زی تیری لو سنو زند گی کی دا ستا ن میری میں تیرا اور میری محبت بھی تیری |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے بنت آدم کا شکریہ ادا کیا | فیاض انصاری (24-12-11), نبیل خان (02-12-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
کاش مے تیرے حسین ھاتھ کا کنگن ہوتا
تو بڑے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ اپنی نازک سی کلائی میں ڇڑھاتى مجھکو اور بیتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھکو میں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی تیرے ہونٹوں کی میں حدّت سے دہک سا جاتا رات کو جب بھی تو نیندوں کے سفر پر جاتی مرمریں ہاتھ کا ایک تکیہ بنایا کرتی میں تیرے کان سے لگ کر کی باتیں کیا کرتا تیری زلفوں کو تیرے گال کو چوما کرتا جب بھی تو بندِقبا کھولنے لگتی جاناں اپنی آنکھوں کو تیرے حُسن سے خیراں کرتا میں تیرے روح کے گلشن میں مہکتا رہتا میں تیرے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا کچھ نہیں تو یہ بےنام سا بندھن ہوتا کاش مے تیرے حسین ھاتھ کا کنگن ہوتا |
|
|
|
| بنت آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | نبیل خان (02-12-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
ہو رات اکیلی پچھلے پہر
اور چاند گگن میں آ جائے تم چاند کی مانند تنہا ہو یہ بات تمہیں جو تڑپائے کچھ خواب سجا کر پلکوں پہ تم چاند سے باتیں کر لینا ہم یاد تمہیں تو کرتے ہیں تم یاد ہمیں بھی کر لینا کچھ بات ہو جب ایسی ہی نم آنکھ تمہاری ہو جائے تم بات کہیں پر کرتے ہو تو دل کہیں اور ہی کھو جائے جذبات کے ایسے عالم میں مسکان لبوں پر بھر لینا ہم یاد تمہیں تو کرتے ہیں تم یاد ہمیں بھی کر لینا |
|
|
|
| بنت آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | نبیل خان (02-12-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
اک چاند تنہا کھڑا رہا میرے آسماں سے ذرا پرے
میرے ساتھ ساتھ سفر میں تھا میری منزلوں سے ذرا پرے تیری جستجو کے حصار سےتیرے خواب تیرے خیال سے میں وہ شخص تھا جو کھڑا تھا تیری چاہتوں سے ذرا پرے کبھی دل کی بات کہی نہ تھی جو کہی تو وہ بھی دبی دبی میں نے لفظ پروئے تو تھے مگر تھے سماعتوں سے ذرا پرے تو چلا گیا میرے ہمسفر ذرا دیکھ مڑ کے تو اک نظر میرے کشتیاں ہیں جلی ہوئی تیرے ساحلوں سے ذرا پرے |
|
|
|
| بنت آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | نبیل خان (02-12-11) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
کوئی تم سے پوچھے کون ہوںمیں
تم کہہ دینا "کوئی خاص "نہیں اک دوست ہے کچا پکا سا اک جھوٹ ہے آدھا سچا سا جذبات کو ڈھانپے اک پردہ بس ایک بہانہ اچھا سا جیون کا ایسا ساتھی ہے جو دور نہ ہو کے پاس نہیں کوئی تم سے پوچھے کون ہوںمیں تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے بنت آدم کا شکریہ ادا کیا | نبیل خان (02-12-11), خرم شہزاد خرم (03-04-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
چلو اک نظم لکھتے ہیں
کسی کے نا م کرتے ہیں مگر یہ سوچنا ہے اب کہ اس میں ذکر کس کا ہو کہ اس میں بات کس کی ہو کہ اس میں ذات کس کی ہو چلو یہ فرض کر تے ہیں کہ جس پہ نظم لکھنی ہے ہمیں اس سے محبت ہے ہمارے سار ے جذبوں کو بس اس کی ہی ضرورت ہے چلو اک کا م کرتے ہیں ہمیں جو نظم لکھنی ہے تمھارے نا م کرتے ہیں تمہی عنوان ہو اسکا تمھارا ذکر ہے اس میں تمھاری بات ہے اس میں تمھاری ذات ہے اس میں چلو اک نظم لکھتے ہیں |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بنت آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
ذرا ٹھرو
کہ تم سے اک ضروری بات کرنی ھے ادھر آؤ کہ رستے میں کھڑے ھونا ھمیں اچھا نھیں لگتا یھاں بیٹھو کہ باتیں تو ھمیشہ ھم تسلی ھی سے کرتے ھیں ھمیں اس طرح مت دیکھو نھیں تو ھم تمھارے سامنے کچھ کھہ نہ پائیں گے تو ھاں بس بات اتنی ھے کبھی مو قع ملا توپھر بتائیں گے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے بنت آدم کا شکریہ ادا کیا | نبیل خان (02-12-11), عارف اقبال (03-04-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
غمِ حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی
چلے آ وٴ کہ دنیا سے جا رھا ہے کوئی اجل سے کہ دو کہ رُک جائے دو گھڑی کے لئے سنا ہے آنے کا وعدہ نبھا رہا ہے کوئی وہ اِس ناز سے بیٹھے ہیں میری لاش کے پاس جیسے روٹھے ہوئے کو منا رھا ہو کوئی پلٹ کر نہ آجائے پھر سانس نبضوں میں فراز اتنے حسیں ہاتھوں سے میت سجا رہا ہے کوئی |
|
|
|
| بنت آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | نبیل خان (02-12-11) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
ہاں تم کو اجازت ہے آنکھیں میری نم رکھنا
دشوار تمہں ہو گا پانی پہ قدم رکھنا ٹکرانا ہی اگر ٹہرا ٹکرائیں گے ہم خود سے توہیں محبت ہے پتھر کو صنم رکھنا دشوار تمہں ہو گا پانی پہ قدم رکھنا ناتا ہی تو ٹوٹا ہے سانسیں تو نہیں ٹوٹی بس اک تعلق تم امید وفا رکھنا ایسے کسی جزبے کی تکمیل نہیں ہوتی نیت میں دغا رکھنا ہونٹوں پہ قسم رکھنا دشوار تمہں ہو گا پانی پہ قدم رکھنا ہاں تم کو اجازت ہے آنکھیں میری نم رکھنا دشوار تمہں ہو گا پانی پہ قدم رکھنا |
|
|
|
| بنت آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | نبیل خان (02-12-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
کاش میں تیرے کان کا بندہ ہوتا
رات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میں تو تیرے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں صبح کو گرتے تیری زلفوں سے جب باسی پھول میرے کھو جانے پہ ہوتا تیرا دل ملول تو مجھے ڈھونڈتی کس شوق سے گھبراہٹ سے اپنے مہکے ہوۓ بستر کی ہر اک سلوٹ میں جونہی کرتیں تیری نرم انگلیاں محسوس مجھے ملتا پھر اس گوش کا گوشہ مانوس مجھے کان سے تو مجھے ہر گز نا اتارا کرتی تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتی یوں تیری قربت رنگین کے نشے میں مدہوش عمر بھر رہتا میری جان میں تیرا حلقہ بگوش کاش میں تیرے کان کا بندہ ہوتا |
|
|
|
| بنت آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | نبیل خان (02-12-11) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
لکھی ہے یہ غزل صرف تیرے لیے
دیوانہ بنا بھی تو صرف تیرے لیے کسی کو نہیں دیکھیں گی اب یہ نظریں نظریں ترسیں گی بھی تو صرف تیرے لئے ہر سانس میں یاد کروں گا تجھ کھ یہ سانس نکلے گی بھی تو صرف تیرے لیے ہر پیار سے پیارے لگتے ہو تم مجھے جانا میں نے پیار سیکھا بھی تو صرف تیرے لئے جب بھی بارش ہوئی تیری یاد آئی اور بارش میں بھیگا بھی تو صرف تیرے لئے ہنسی تو میرے لبوں سے روٹھ گئی مگر جس روز بھی ہنسا تو صرف تیرے لئے |
|
|
|
| بنت آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | نبیل خان (02-12-11) |
![]() |
| Tags |
| color, size, گہری, پایا, واہ, ڈائری, لہجہ, چکے, چنے, میٹھا, آنکھیں, آباد, آدم, اچھی, بنت, تنہا, تعارف, جواب, ذات, سوچیں, سنہرا, سمندر, شئیرنگ, شاعری, صحرا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|