| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,571
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تم میری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے
ان کہی بات کو سمجھو گے تو یاد آؤں گا ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے ہیں صفحہ زیست کو پلٹوگے تو یاد آؤں گا اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤگے کسی معزور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے تم اگر خود سے نہ بولو گے تو یاد آؤں گا سرد راتوں کے مہکتے ہوئے سناٹوں میں جب کسی پہول کو چومو گے تو یاد آؤں گا آج تو محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا اب تو اشک میں ہونٹوں سے چرالیتا ہوں ہاتھ سے خود انہیں پونچھو گے تو یاد آؤں گا شال پہنائے گا اب کون دسمبر میں تمہیں بارشوں میں کبھی بھیگو گے تو یاد آؤں گا حادثے آئیں گے جیون میں تو تم ہوکے نڈھال کسی دیوار کو تھامو گے تو یاد آؤں گا اس میں شامل ہے میرے بخت کی تاریکی بھی تم سیاہ رنگ جو پہنو گے تو یاد آؤں گا |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
بہت خوب
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, magenta, ہوتے, گے, یاراں, مہکتے, محفل, آنکھ, آئیں, انداز, اندر, اشک, بکھر, بھلا, جیون, خود, دکھ, دیکھو, دیکھے, دیوار, رنگ, زیست, سیاہ, شامل, طرح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|