| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت کہا تھا کہ میرا دکھ دربدر نہ کرنا
بہت کہا تھا کہ میرا دکھ دربدر نہ کرنا بہت کہا تھا کہ میری باتیں ادھر نہ کرنا بہت کہا تھا کہ پانیوں پر نہ رہ سکو گے بہت کہا تھا کہ میری آنکھوں میں گھر نہ کرنا بہت کہا تھا کہ پیار میں جی لگا ہوا ہے بہت کہا تھا یہ سلسلہ مختصر نہ کرنا بہت کہا تھا کہ آنسوؤں کی چمک بہت ہے بہت کہا تھا کہ ان کے ہوتے سحر نہ کرنا بہت کہا تھا کہ خود سے باہر نہ آ سکو گے بہت کہا تھا کہ اپنے اندر سفر نہ کرنا بہت کہا تھا کہ دل میں رکھنا دلوں کی باتیں بہت کہا تھا کہ سب کو ان کی خبر نہ کرنا بہت کہا تھا یہ فرق پہچانتی نہیں ہیں بہت کہا تھا ہواؤں کو ہمسفر نہ کرنا بہت کہا تھا کہ لوگ چہرے کو دیکھتے ہیں بہت کہا تھا کہ اُس کی باتیں قمر نہ کرنا
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا | نیلم خان (04-09-11), عبداللہ آدم (09-09-11) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
خواب گراتی پلکیں دیکھنے والی تھیں
میری اُجڑی نیندیں دیکھنے والی تھیں تنہائی کا صرف مجھے ہی رنج نہ تھا چڑیوں کی بھی شکلیں دیکھنے والی تھیں میں ماں کی تصویر کے آگے روئی جب میری ماں کی آنکھیں دیکھنے والی تھیں جب لوگوں میں، میں نے اُس کا نام لیا میری سانس میں گرہیں دیکھنے والی تھیں مجھ کو دیکھ کہ جس کو بیٹی یاد آئی اس بُڑھیا کی آنکھیں دیکھنے والی تھیں |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (04-09-11) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بچپن کی وہ محرومی چلی آئی کہاں سے
روتی ہوئی نکلی میں کھلونوں کی دکاں سے تم دونوں محاذوں پہ میرا ساتھ نبھانا اِک جنگ میری خود سے ہے، اک جنگ جہاں سے یہ گھر ہے مگر اس کا دریچہ نہیں کوئی اب دیکھنا یہ ہے میں نکلتی ہوں کہاں سے خود تو مجھے حق مانگنا آیا نہیں اب تک ہر بات کہلواتی ہوں بچّوں کی زباں سے اس بار بھی آنکھوں سے چھلک پائی نہیں میں اس بار بھی لوٹ آئی ہوں خطرے کے نشاں سے اب اتنا تعلق ہے کہ توڑا نہیں جاتا جو توڑ کے جائے گا قمر جائے گا جاں سے |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
جیسے کسی دیوار کو در چھوڑنا پڑ جائے
کیسے اسے چھوڑوں گی اگر چھوڑنا پڑ جائے اس دشتِ تمنا میں ضروری نہیں کوئی کیا جانئے کب کون کدھر چھوڑنا پڑ جائے اک تو ہی ضروری ہے مسافت کے لئے دوست تجھ کو بھی یہ دورانِ سفر چھوڑنا پڑ جائے کب جانئے اس دل سے نکل جائیں تمّنائیں کب جانئے چڑیوں کو شجر چھوڑنا پڑ جائے اس شخص کو چھوڑو مجھے تم اتنا بتاؤ تم چاند کو چھوڑوگے اگر چھوڑنا پڑ جائے |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کٹا ہے کس طرح میرا سفر اُس سے نہیں کہنا
میں پھر یہ تجھ سے کہتی ہں قمر اُس سے نہیں کہنا میں کیسے دھوپ کی ماری تھکی ہاری یہاں پہنچی یہ سب کہنے کی باتیں ہیں مگر اُس سے نہیں کہنا میں کتنی دیر روئی تھی میں کتنی دیر سوئی تھی مسافت کی کہانی اے شجر اُس سے نہیں کہنا |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (04-09-11) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کون ہی سورج کون ہے سایہ میں بھی سوچوں تو بھی سوچ
کس نے پہلے ہاتھ چھڑایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ جس کی خاطر ساحل ساحل سیپیاں چُنتے بیت گئے کیوں وہ موتی ہاتھ نہ آیا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کس کو کتنا نام ملا اور کس کو ہی الزام مِلا کس نے کس کا وقت گنوایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کس نے کتنی آس بندھائی کس نے کتنی جان چھڑائی کس نے کتنا ساتھ نبھایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ ہم جو تعلق کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوئے جیون میں یہ دن کیوں آیا، میں بھی سوچوں تو بھی سوچ اس کی باتیں سننے والے تیرے جیسے لگتے ہیں کس کو قمر نے حال سنایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (04-09-11) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کھڑکیاں مت بجا میں نہیں بولتی
جا او جھوٹی ہوا میں نہیں بولتی چھوڑ دے میری دہلیز کو چھوڑ دے تجھ سے کہ جو دیا، میں نہیں بولتی مجھ سے اب میٹھے لہجے میں باتیں نہ کر میرا دل بجھ چکا میں نہیں بولتی مجھ کو معلوم ہے جتنی اچھی ہوں میں اب نہ باتیں بنا میں نہیں بولتی اب کسی چال میں مَیں نہیں آؤں گی چاہے قسمیں اُٹھا میں نہیں بولتی یہ جو اِک مور سا میرے آنگن میں ہے جب نہیں بولتا میں نہیں بولتی میرے پاؤں سے دھرتی کھسکنے لگی جب بھی ماں نے کہا میں نہیں بولتی پہلے اس کے لئے سب سے لڑتی پھری پھر اسے کہ دیا میں نہیں بولتی اب صفائی کا موقع نہ دوں گی اسے جو ہوا سو ہوا میں نہیں بولتی |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (04-09-11) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کس طرح ڈوبنے دیتے میرے بچّے
زندگی ایک سمندر ہے، جزیرے بچّے میرا دل جیتنے کا یہ کوئی حربہ تو نہیں اچھے لگتے ہیں کسی شخص کو میرے بچّے !میں کسی اور ہی آنگن میں بہت سوچی گئی میرے ہم شکل ہوئے اور کسی کے بچّے اب مری مان بھی لے، مان بھی لے اے مرے دل اس طرح تنگ نہیں کرتے ہیں اچھے بچّے ایسے مامور ہوں خوابوں کی نگہبانی پر جس طرح پالتا ہے کوئی کسی کے بچّے |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کوئی سنتا ہی نہیں بول رہی ہوں کب سے
تیز آندھی میں کھڑی ڈول رہی ہوں کب سے زندگی کیا ہے فقط تیز ہوا کی خواہش جس کو کھڑی کی طرح کھول رہی ہوں کب سے کوئی ملتا نہیں تعبیر بتانے والا میں کسی خواب میں پرتول رہی ہوں کب سے زندگی زہر بھرا کوئی پیالہ ہے قمر جس میں مصری کی ڈلی گھول رہی ہوں کب سے ماں نے میرے لئے باندھی تھی نصیحت جس میں اُسی گٹھڑی کو قمر کھول رہی ہوں کب سے |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کوئی تہمت لگائے تو اذیّت کم نہیں ہوتی
مگر میں جانتی ہوں اس سے عزّت کم نہیں ہوتی یہ وہ دولت ہے جو دل کی بدولت کم نہیں ہوتی محّبت کرتے رہنے سے محّبت کم نہیں ہوتی محّبت بدگمانی کو ہمیشہ ساتھ رکھتی ہے مداوا ہو بھی جائے تو شکایت کم نہیں ہوتی جو باتیں لب پہ آئی ہوں وہ باتیں ہو کہ رہتی ہیں کبھی اُنگلی چبانے سے اذّیت کم نہیں ہوتی نکل آتا ہے رستے سے نیا رستہ قمر لیکن کسی کے ساتھ ہونے سے مسافت کم نہیں ہوتی |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
میں ہوں سورج کی پرستار مرے ساتھ نہ چل
دیکھ اے سایہِ دیوار مرے ساتھ نہ چل فیصلہ کرنے میں تاخیر ہوئی ہے تجھ سے ڈوبتی ناؤ میں اُس پار مرے ساتھ نہ چل میں نے کب تجھ سے کہا، پاؤں کی ٹھوکر بن جا لیکن اتنا ہے کہ بیکار مرے ساتھ نہ چل میرا دُکھ تجھ سے چھپایا نہیں جاتا پگلی گھر کی گِرتی ہوئی دیوار مرے ساتھ نہ چل مجھ کو تنہائی کے جنگل سے گزرنا ہے قمر تجھ کو خوف آئے گا اِس بار مرے ساتھ نہ چل |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
میری آنکھوں میں اگر خواب تمھارا چمکا
میں یہ سمجھوں گی مقّدر کا ستارا چمکا سیپیاں چُنتے ہوئے شام ہوئی ہے مجھ کو کوئی آیا نہ سمندر کا کنارا چمکا پھر وہی ناؤ، وہی ناؤ میں بیٹھے ہوئے لوگ پھر وہی رات وہی ہجر کا تارا چمکا روک رکھا کسی ملاح کے گیتوں نے مجھے انہی گیتوں میں کہیں وصل تمھارا چمکا! کانپ اٹھا ہے بدن میرا درختوں کی طرح پھر اُفق پار کہیں دھوپ کا آرا چمکا تیری آنکھوں میں نہ یہ ظلمتِ شب بھر جائے اس سے بہتر ہے قمر اپنا ستارا چمکا |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
مجھ کو ڈولی میں بٹھا ڈر کے حوالے کر دے
میری ماں مجھ کو مقّدر کے حوالے کر دے اب یہ احساس ہے دنیا میں کوئی میرا نہیں جانے کب مجھ کو سمندر کے حوالے کر دے اس قبیلے سے نہیں میں کہ جو اپنی لڑکی جنگ کے خوف سے لشکر کے حوالے کر دے مجھ سے مل کر اسے محسوس ہوا ہے ایسا جیسے خود کو کوئی پتھر کے حوالے کر دے گھومنے پھرنے کا حق رکھتی ہے پھر بھی تتلی کس لئے خود کو گُلِ تر کے حوالے کر دے خالی کمرے میں پڑے رہنے سے بہتر ہوگا اے قمر خود کو بھرے گھر کے حوالے کر دے |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
نہ ملتا ہے سرِراہ نہ ہی وہ محفل میں آتا ہے
کہ اس کو جب بھی آنا ہو وہ سیدھا دل میں آتا ہے نہ اس سے بات ہوتی ہے نہ اس کو دیکھ پاتی ہوں وہ جب بھی میرے پاس آئے کسی مشکل میں آتا ہے مرے چہرے پہ کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی وہ پھر بھی جان لیتا ہے کوئی جب دل میں آتا ہے |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
رُوٹھے ہوئے کو گھر سے بلانے نہیں گئی
جی چاہتا تھا پھر بھی منانے نہیں گئی کس سمت کی ہوا تھی کدھر پڑ رہے تھے پیچ چھت پر کبھی پتنگ اُڑانے نہیں گئی دنیا یہ کہ رہی تھی وہ تجھ کو رُلائے گا روئی مگر کسی کو بتانے نہیں گئی جو کچھ میرے خلاف تھا بارش نے دھو دیا دیوار کو میں آپ مٹانے نہیں گئی اس شہر نے بھی مجھ کو فراموش کر دیا میں بھی کسی کو یاد دلانے نہیں گئی! ہمدرد بن کے مجھ کو بُلاتا رہا وہ شخص! لیکن میں اس کو حال سنانے نہیں گئی |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, ہمسفر, پاگل, پرستار, پسند, لوگ, مکمل, موقع, ماں, معلوم, الزام, بچپن, تصویر, حل, حال, خلاف, خبر, دوست, دل, رات, سفر, شہر, شام, شخص, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| شِدتِ غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی | چیتا چالباز | محسن بھوپالی | 5 | 16-04-12 11:26 PM |
| لاکھ ناکام سہی میں تو ہوں نازاں پھر بھی(محمد زکی کیفی) | ابوسعد | شعر و شاعری | 0 | 06-02-11 06:26 PM |
| عجیب ہے جو میرا سفر تو عجب تر ہوں میں آپ بھی | The Great | شعر و شاعری | 2 | 20-09-09 10:34 PM |
| میں بھی تو ہوں | ام طلحہ | گپ شپ | 8 | 16-11-08 10:20 AM |
| تم سے بھی اب تو جا چُکا ہوں میں جون ایلیاء | Real_Light | جون ایلیا | 0 | 14-06-08 01:50 PM |