واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری



شعر و شاعری شعر و شاعری


حُسنِ غارتگر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-08-09, 09:50 PM   #1
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,790
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حُسنِ غارتگر

حُسنِ غارتگر

حُسنِ غارتگر
(حُسن کا تاریک پہلو)

عشق میں اپنا جی نہ تیاگ
عشق نہیں ہے، آگ ہی آگ
حُسن کے گن کیا گاتا ہے
حُسن تباہی لاتا ہے

کس کی لگاوٹ، کس کی لاگ
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
حُسن گلے کٹواتا ہے
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ

حُسن کے ارماں ٹھیک نہیں
جی کا نقصاں ٹھیک نہیں
دل کو لگا کر کیا لے گا
جان کھپا کر کیا لے گا

ٹھیک نہیں، ہاں ٹھیک نہیں
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
زیست گنوا کر کیا لے گا
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ

حُسن پہ جی کیوں کھوتا ہے
تخمِ غم کیوں بوتا ہے
لعلِ جادوفن کو نہ چاہ
جعد کمند افگن کو نہ چاہ

حُسن کسی کا ہوتا ہے؟
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
دشمنِ جاں! دشمن کو نہ چاہ
بھاگ بلائے حُسن کو بھاگ

حُسن کا دم کیوں بھرتا ہے
خونِ دل کیوں کرتا ہے
چشم نہیں ہے، ڈائن ہے
زلف نہیں ہے، ناگن ہے

جیتے جی کیوں مرتا ہے
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
عشوہ نہیں‌ہے، رہزن ہے
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ

حُسن کا دھوکا کھائے گا
رنج و اذیت پائے گا
عالم روئے حُسن نہ دیکھ
جلوہ سوئے حُسن نہ دیکھ

دیکھ، بہت پچتائے گا
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
بھول کے سوئے حُسن نہ دیکھ
بھاگ بلائے حُسن نہ دیکھ

حُسن کو پہلے زر دے گا
بعدازاں کل گھر دے گا
حُسن بتاں سے بات نہ کر
دشمنِ جاں سے بات نہ کر

آخر آخر سر دے گا
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
خصمِ جہاں سے بات نہ کر
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ

اہلِ ادا سے بچ کر چل
چشمِ قضا سے بچ کر چل
جتنے حسیں کہلاتے ہیں
دشمنِ دیں کہلاتے ہیں

راہ خطا سے بچ کر چل
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
دوست نہیں کہلاتے ہیں
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ

حُسن کی چاہت پر بھی نہ جا
چشمِ عنائت پر بھی نہ جا
دل کو وفا کا اذن نہ دے
ذوق جفا کا اذن نہ دے

لطفِ نہائت پر بھی نہ جا
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
ایسی خطا کا اذن نہ دے
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ

اس کی ملاحت پر بھی نہ ریجھ
اس کی صباحت پر بھی نہ ریجھ
دولتِ دین و دل نہ گنوا
بے جا۔۔لاحاصل نہ گنوا

نازونزاکت پر بھی نہ ریجھ
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
ہوش میں آ۔۔غافل! نہ گنوا
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ

ہجر کا غم بھی قاتل ہے
وصل کا سم بھی قاتل ہے
حُسن کا ہو کر کیا لے گا
سر سے پا تک کھا لے گا

کم سے کم بھی قاتل ہے
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
بھاگ ، نہیں‌ تو آ لے گا
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ

شوق وفا بھی مہلک ہے
ذوق جفا بھی مہلک ہے
آزاد! اپنی جان بچا
دین بچا۔۔۔ایمان بچا

کم بھی سوا بھی مہلک ہے
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
ناداں! کہنا مان ۔۔بچا
بھاگ بلائے حُسن سے بھاگ
(حکیم آزاد انصاری)
The Great آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
وفا, چاہت, غم, صباحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger