|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,134
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ز ما نہ منقلب ہے انقلاب آیا ہی کر تے ہیں
اندھیرے رات میں کچھ دیر کو چھایا ہی کرتے ہیں مہ وخورشید کو بھی لگ جاتا ہے گہن اک دن پھر اس کے بعد پہیم نور برسایا ہی کرتے ہیں خزاں کے بعد دور فصل گل آتا ہے گلشن میں چمن والو خزاں میں پھول مرجھایا ہی کرتے ہیں جو چلتے ہیں انھیں کو راہ میں ٹھوکر بھی لگتی ہے یہ ٹھوکر کھا کے خوش قسمت سنبھل جایا ہی کرتے ہیں جنھیں آتا ہے مرنا اپنی عزت اور اصولوں پر وہ اپنی برتری دنیا سے منوایا ہی کرتے ہیں مرے مذہب میں کیفی جرم ہے احساس مایوسی مسلماں داستاں عظمت کی دہرایا ہی کرتے ہیں از کلام زکی کیفی |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کھا, کلام, کرتے, پھول, قسمت, لگ, لگتی, چلتے, ما, آیا, آتا, اپنی, انقلاب, تے, جاتا, جرم, خوش, دیر, دور, دنیا, راہ, رات, عزت, عظمت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|