|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ایک کمال کی خواہش کسطرح سجاتے ہو مصلحت کی شا موں میں محفلیں محبت کی اور محبتیں بھی وہ سال بھر مہک جن کی دل کی ساری گلیوں میں رقص کرتی پھرتی ہے کسطرح جلاتے ہو آندھیوں کے موسم میں تم دیے رفاقت کے تم جو پیار کی دولت اپنے ہاتھوں سے خوشبوؤں کی باتوں اس طرح لٹاتے ہو جسطرح کوئ جگنو شب کی رہگزاروں پر روشنی جلاتاہے تم جو حبس موسم میں اک ہوا کا جھونکا ہو کسطرح سجاتے ہو مصلحت کی شاموں میں محفلیں محبت کی کچھ ہمیں بھی بتلاؤ کچھ ہمیں بھی سکھلاؤ ہم تواپنے صحرا کے بے نوا مسافر ہیں ہم تمہارے جزبوں کی نیک سی فضاؤں میں پھول جیسے گیتوں کی رقص کرتی خوشبو کے بے قرار شاعر ہیں Last edited by ننھا بچہ; 30-10-11 at 07:10 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,571
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب ۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, size, ہاتھوں, کوئ, کمال, کرتی, گلیوں, پیار, قرار, نوا, مہک, موسم, محبت, محبتیں, مسافر, باتوں, جھونکا, جیسے, جن, دیے, رفاقت, ساری, شاموں, شاعر, صحرا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|