|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Dil ky As Pa'as
مراسلات: 335
کمائي: 6,990
شکریہ: 879
243 مراسلہ میں 642 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خوش بہت ہے میرے منہ سے وہ نوالہ چھین کر
میرے چندا، میرے سورج سے اجالا چھین کر ساری پونجی لُوٹ کر وہ عمر بھر کی لے گیا دل کے دروازے کے ہاتھوں میں سے تالا چھین کر کوئی تو ایسا مسیحا بھیج دے اے مہرباں جو سکوں بخشے مِرے پاؤں کا چھالا چھین کر اجنبی سا کر گیا ہے مجھ کو میری ذات میں اب کے اپنے نام سے میرا حوالہ چھین کر چودھویں کی چاند رُت میں اب اکیلا ہُوں ندیم مجھ کو تنہا کر گیا وہ میرا ہالہ چھین کر ندیم اصغر |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے Wahid Mahmood کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بہت عمدہ، بہت خوب، اچھی شاعری ہے جناب
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اجنبی سا کر گیا ہے مجھ کو میری ذات میں
اب کے اپنے نام سے میرا حوالہ چھین کر لا جواب شاعری ہے شیئر کرنے کا شکریہ
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| ہاتھوں, پاؤں, لے, چھین, نوالہ, چاند, نام, منہ, مسیحا, اکیلا, اپنے, ایسا, اصغر, بھیج, بخشے, تنہا, تالا, حوالہ, خوش, دے, دروازے, ذات, رُت, سکوں, سورج |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|