| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,212
شکریہ: 1,155
6,271 مراسلہ میں 14,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سمندر کے سفر میں تو ہوائیں ساتھ چلتی تھیں سفر صحرا کا کرتا تھا، گھٹائیں ساتھ چلتی تھیں میں جنگل میں گیا جب بھی، صدائیں ساتھ چلتی تھیں ہر اک گلشن میں اُس کی کچھ ادائیں ساتھ چلتی تھیں سفر پہلے بھی کرتا تھا، سفر میں اب بھی کرتا ہوں مگر بس فرق اتنا ہے کہ اب مجھ کو ہواﺅں کی، گھٹاﺅں کی، نہ اب اُس کی صداﺅں کی، اداﺅں کی ضرورت ہے۔ کہ اب پرچھائیاں ہیں کچھ جو میرے ساتھ چلتی ہیں اور ان پرچھائیوں میں اُس کو اکثر ڈھونڈتا ہوں میں اُسے جب ڈھونڈ لیتا ہوں تو میرے ساتھ اُس کی بس دعائیں ساتھ چلتی ہیں شاعر: عرفان مُرتصٰی
__________________
![]() |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,571
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب صورت انتخاب ہے ۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مراسلات: 183
کمائي: 2,917
شکریہ: 202
108 مراسلہ میں 230 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاءاللہ۔ بہت خوب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جزاک اللہ |
|
|
|