واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری



شعر و شاعری شعر و شاعری


ذکر شہادت امام عالی مقام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-12-09, 04:17 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ذکر شہادت امام عالی مقام

ذکر شہادت امام عالی مقام

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزار جنت کی
سواری آنے والی ہے شہیدان محبت کی

گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے ہیں امت کی
کوئی تقدیر تو دیکھے اسیران محبت کی

شہید ناز کی تفریح زخموں سے نہ کیونکر ہو
ہوائیں آتی ہیں ان کھڑکیوں سے باغ جنت کی

کرم والوں نے در کھولا تو رحمت نے سماں باندھا
کمر باندھی تو قسمت کھول دی فضل شہادت کی

علی کے پیارے خاتون قیامت کے جگر پارے
زمیں سے آسماں تک دھوم ہے ان کی سیادت کی

زمین کربلا پر آج مجمع ہے حسینوں کا
جمی ہے انجمن روشن ہیں شمعیں نور و ظلمت کی

یہ وہ شمعیں نہیں جو پھونک دیں اپنے فدائی کو
یہ وہ شمعیں نہیں رو کر جو کاٹیں رات آفت کی

یہ وہ شمعیں ہیں جن سے جان تازہ پائیں پروانے
یہ وہ شمعیں ہیں جو ہنس کر گزاریں شب مصیبت کی

یہ وہ شمیعں نہیں جن سے فقط اک گھر منور ہو
یہ وہ شمیعں ہیں جن سے روح ہو کافور ظلمت کی

دل حور و ملائک رہ گیا حیرت زدہ ہو کر
کہ بزم گل رخاں میں لے بلائیں کس کی صورت کی

جدا ہوتی ہیں جانیں جسم سے جاناں سے ملتے ہیں
ہوئی ہے کربلا میں گرم مجلس وصل و فرقت کی

اسی منظر پہ ہر جانب سے لاکھوں کی نگاہیں ہیں
اسی عالم کو آنکھیں تک رہی ہیں ساری خلقت کی

ہوا چھڑکاؤ پانی کی جگہ اشک یتیماں پے
بجائے فرش آنکھیں بچھ گئیں اہل بصیرت کی

ہوائے یار نے پنکھے بنائے پر فرشتوں کے
سبیلیں رکھی ہیں دیدار نے خود اپنے شربت کی

اُدھر افلاک سے لائے فرشتے ہار رحمت کے
ادھر ساغر لئے حوریں چلی آتی ہیں جنت کی

سجے ہیں زخم کے پھولوں سے وہ رنگین گلدستے
بہار خوشنمائی پر ہے صدقے روح جنت کی

ہوائیں گلشن فردوس سے بس بس کر آتی ہیں
نرالی عطر میں ڈوبی ہوئی ہے روح نکہت کی

دل پُر سوز کے سلگے اگر سوز ایسی کثرت سے
کہ پہنچی عرش و طیبہ تک لپٹ سوز محبت کی

ادھر چلمن اٹھی حسن ازل کے پاک جلوؤں سے
ادھر چمکی تجلی بدر تابان رسالت کی

زمین کربلا پر آج ایسا حشر برپا ہے
کہ کھنچ کھنچ کی مٹی جاتی ہیں تصویریں قیامت کی

گھٹائیں مصطفٰے کے چاند پر گھر گھر کر آتی ہیں
سیہ کاران امت تیرہ بختان شقاوت کی

یہ کس کے خون کے پیاسے ہیں اُس کے خون کے پیاسے
بجھے گی پیاس جس سے تشنہ کامان قیامت کی

اکیلے پر ہزاروں کے ہزاروں وار چلتے ہیں
مٹا دی دین کے ہمراہ عزت شرم و غیرت کی

مگر شیر خدا کا شیر جب بپھرا غضب آیا
پَرے ٹوٹے نظر آنے لگی صورت ہزیمت کی

کہا یہ بوسہ دے کر ہاتھ پر جوش دلیری نے
بہادر آج سے کھائیں گے قسمیں اس شجاعت کی

تصدق ہو گئی جان شجاعت سچے تیور کے
فدا شیرانہ حملوں کی ادا پر روح جراءت کی

نہ ہوتے گر حسین ابن علی اس پیاس کے بھوکے
نکل آتی زمین کربلا سے نہر جنت کی

مگر مقصود تھا پیاسا گلا ہی ان کو کٹوانا
کہ خواہش پیاس سے بڑھتی ہے رویت کے شربت کی

شہید ناز رکھ دیتا ہے گردن آب خنجر پر
جو موجیں باڑ پر آ جاتی ہیں دریائے الفت کی

یہ وقت زخم نکلا خوں اچھل کر جسم اطہر سے
کہ روشن ہو گئی مشعل شبستان محبت کی

سر بے تن تن آسانی کو شہر طیبہ میں پہنچا
تن بے سر کو سرداری ملی ملک شہادت کی

حسن سنی ہے پھر افراط و تفریط اس سے کیونکر ہو
ادب کے ساتھ رہتی ہے روش ارباب سنت کی

از حسن رضا بریلوی
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
کمائي نے wajee کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
18-12-09 ایس اے نقوی ذکر شہادت امام عالی مقام 150
جواب

Tags
کربلا, کس, گھر, پیارے, پیاسا, پاک, وقت, نکہت, مجمع, محبت, مشعل, آج, بے, بدر, حسن, خون, خدا, رات, سچے, شہر, عالم, عرش, عزت, غیرت, غضب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger