|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رفتہ رفتہ زندگی کے حادثے بڑھتے گئے
قربتوں کی اوٹ سے جب فاصلے بڑھتے گئے پہلے کب تھا شہر میں پینے پلانے کا رواج غم زیادہ ہو گئے تو میکدے بڑھتے گئے ٹھہرے پانی میں یہ پتھر کس طرف سے آ گیا ہرطرف بے چین سے کچھ دائرے بڑھتے گئے دردِ دل نے اور ہم کو پرکشش سا کر دیا اس گلی سے اس گلی تک رابطے بڑھتے گئے راہ میں بیٹھا تھا میں اہلِ وفا کی دید کو لوگ کچھ گزرے مگر گھبرائے سے بڑھتے گئے
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا مت سوچو ! |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فاصلے, کس, گھبرائے, گلی, گزرے, پینے, پانی, پتھر, پرکشش, وفا, چین, مگر, اہلِ, اوٹ, بیٹھا, بڑھتے, بے, حادثے, دید, دل, دائرے, رابطے, زیادہ, زندگی, شہر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|