|
|
#1 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 136
کمائي: 453
شکریہ: 35
56 مراسلہ میں 79 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہر بار تیری یاد میں جو آنسو گرتا ھے میری آنکھ سے
سوچتی ھوں ہر بار کہ ھوگا اب یہ آخری آنسو تیری یاد کا مگر ہر بار تیری یاد سمیٹ لاتی ھے اک دریا درد کا ھے یہ کیسا دریا درد کا جو چڑھتا ھے مگر ساتھ کچھ بھی نہیں لے جاتا میں منتظر ہوں کہ شاید کوئی دریا چڑھے ایسا جو مجھے بھی بہالے جائے اپنے ساتھ اور پھر شائد مجھے رھائی ملے تیری یادوں سے تیری بےوفائی سے تیری باتوں سے تیری اداؤں سے تیری وفاؤں سے تیری جفاؤں سے کاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,229
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا یہ نظم آپ نے خود لکھی ہے؟
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 136
کمائي: 453
شکریہ: 35
56 مراسلہ میں 79 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی نہیں یہ میں نے خود نہیں لکھی پسند کرنے کے لئے آپ سب کا بہت شکریہ
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
تیری یادوں سے
تیری بےوفائی سے تیری باتوں سے تیری اداؤں سے تیری وفاؤں سے تیری جفاؤں سے بہت خوب مہک جی بہت اچھی شاعری ہے
__________________
----------
![]() |
|
|
|